بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ ص — Surah Sad
آیت نمبر 33
کل آیات: 88
قرآن کریم ص آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ ص islamicurdubooks.com ↗
رُدُّوۡہَا عَلَیَّ ؕ فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَ الۡاَعۡنَاقِ ﴿۳۳﴾
تو (اس نے حکم دیا کہ) انہیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر لگا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے
ان (گھوڑوں) کو دوباره میرے سامنے ﻻؤ! پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا
پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا
(حکم دیا) ان (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ اور وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے (قطع کرنا شروع کیا)۔
انھیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ٭٭

اللہ تعالیٰ نے جو ایک بڑی نعمت داؤد علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے سلیمان علیہ السلام کو بنا دیا۔ اسی لیے صرف سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ» [ 27- النمل: 16 ] ‏‏‏‏ یعنی داود کے وارث سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی علیہ السلام نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دینا [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سلیمان علیہ السلام کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پردار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بھی پڑ گئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا کہ سلیمان کے پردار گھوڑے تھے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ [سنن ابوداود:4932،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سلیمان علیہ السلام ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد عمر رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کر سکا۔ چنانچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ [صحیح بخاری:596] ‏‏‏‏ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چنانچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لیے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لیے کہ اس کے بعد ہی سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کر دیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چنانچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔

امام ابن جریررحمہ اللہ بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہنچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لیے تھا۔ چنانچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کر دی۔ حضرت ابوقتادہ رحمہ اللہ اور ابو دھما رحمہ اللہ اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔ [مسند احمد:78/5:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

33۔ 1 اس آیت کا مفہوم۔ مطلب ہوگا کہ گھوڑوں کے معانیہ میں حضرت سلیمان ؑ کی عصر کی نماز یا وظیفہ خاص رہ گیا جو اس وقت کرتے تھے جس پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور کہنے لگے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اتنا گم ہوگیا کہ سورج کا پردہ مغرب میں چھپ گیا اور اللہ کی یاد، نماز یا وظیفہ رہ گیا۔ چناچہ اس کی تلافی اور ازالے کے لئے انہوں نے سارے گھوڑے اللہ کی راہ میں قتل کر ڈالے، امام شوکانی اور ابن کثیر وغیرہ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے

📖 القرآن الکریم

(آیت 33) ➊ { رُدُّوْهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًۢا …:} تو انھوں نے حکم دیا کہ انھیں میرے پاس واپس لاؤ۔ جب وہ واپس لائے گئے تو سلیمان علیہ السلام محبت کے ساتھ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ ➋ گھوڑوں کی دوڑ لگوانا اور ان کے جسم پر محبت سے ہاتھ پھیرنا دونوں کام جہاد کا حصہ اور باعث اجر و ثواب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کے دونوں عمل ان کے {” نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ “} ہونے کی مثال کے طور پر ذکر فرمائے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ کروایا کرتے تھے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [ سَابَقَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِيْ قَدْ أُضْمِرَتْ فَأَرْسَلَهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ فَقُلْتُ لِمُوْسٰی فَكَمْ كَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ؟ قَالَ سِتَّةُ أَمْيَالٍ أَوْ سَبْعَةٌ وَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِيْ لَمْ تُضَمَّرْ، فَأَرْسَلَهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَكَانَ أَمَدُهَا مَسْجِدَ بَنِيْ زُرَيْقٍ، قُلْتُ فَكَمْ بَيْنَ ذٰلِكَ؟ قَالَ مِيْلٌ أَوْ نَحْوُهُ وَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَابَقَ فِيْهَا ] [ بخاري، الجہاد، باب غایۃ السبق للخیل المضمرۃ: ۲۸۷۰ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تضمیرشدہ گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا۔ چنانچہ انھیں ”حفیاء“ سے دوڑایا اور ان کی آخری جگہ ”ثنیۃ الوداع“ تھی۔ (ابواسحاق کہتے ہیں کہ) میں نے موسیٰ بن عقبہ سے پوچھا: ”ان کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان چھ یا سات میل کا فاصلہ تھا۔“ اور ان گھوڑوں کو جو تضمیرشدہ نہیں تھے ثنیۃ الوداع سے دوڑایا اور ان کی آخری جگہ مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا: ”ان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟“ تو موسیٰ بن عقبہ نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان ایک میل یا اس کے قریب فاصلہ ہے۔“ اور ابن عمر رضی اللہ عنھما بھی اس مقابلے میں شامل تھے۔“ (تضمیر کا لفظی معنی لاغر کرنا ہے۔ یہ گھوڑوں کی خاص طریقے سے تیاری کو کہتے ہیں، جس میں پہلے انھیں خوب کھلا پلا کر موٹا کیا جاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ ان کی خوراک کم کرکے کچھ وقت کے لیے بند کر دی جاتی ہے۔ اس کے دوران ان کے جسم کی مالش اور تیاری کی جاتی ہے، جس سے وہ بھوک پیاس برداشت کرنے اور زیادہ دیر تک دوڑنے کے قابل ہو جاتے ہیں) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں کی پیشانیوں کے بالوں پر محبت سے ہاتھ بھی پھیرا کرتے تھے، چنانچہ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَلْوِيْ نَاصِيَةَ فَرَسٍ بِإِصْبَعِهِ وَ هُوَ يَقُوْلُ الْخَيْلُ مَعْقُوْدٌ بِنَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ: الْأَجْرُ وَ الْغَنِيْمَةُ ] [مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الخیل و أن الخیر معقود بنواصیھا: ۱۸۷۲ ] ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک گھوڑے کی پیشانی کے بالوں کو اپنی انگلی کے ساتھ مروڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ قیامت کے دن تک خیر باندھ دی گئی ہے، یعنی اجر اور غنیمت۔“ یہ ہے وہ تفسیر جس پر دل کو اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ اس میں کوئی تکلّف نہیں۔ امام طبری، رازی، ابن حزم اور بہت سے ائمہ نے اسے ہی صحیح قرار دیا ہے، ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ چنانچہ طبری نے علی ابن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ آیت: «‏‏‏‏فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ» کے متعلق ان کا قول نقل فرمایا ہے: {”يَقُوْلُ جَعَلَ يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ وَ عَرَاقِبَهَا حُبًّا لَهَا“} یعنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام ان کی گردنوں کے بالوں پر اور ان کی ٹانگوں کے پچھلے حصوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ تنبیہ: بہت سے مفسرین نے ان آیات کی تفسیر ایک اور طریقے سے کی ہے۔ ان کے مطابق ترجمہ و تفسیر یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے سامنے پچھلے پہر اصیل تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے۔ (یہاں عبارت محذوف ہے کہ انھوں نے ان کی دوڑ کا مقابلہ کروایا، جس کی وجہ سے ان کی عصر کی نماز فوت ہو گئی تو) انھوں نے کہا، میں نے مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر پر ترجیح دی، یہاں تک سورج پردے میں چھپ گیا۔ (تو انھوں نے حکم دیا) انھیں میرے پاس واپس لاؤ، تو وہ ان کی پنڈلیاں اور گردنیں تلوار سے کاٹنے لگے۔ مگر اس تفسیر کی صورت میں کئی ایسی چیزیں محذوف ماننا پڑتی ہیں جن کی کوئی دلیل نہیں، مثلاً یہ کہ ان کی عصر کی نماز فوت ہو گئی، یا سورج پردے میں چھپ گیا، پھر تلوار کا اور اس کے ساتھ پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنے کا یہاں نہ کوئی ذکر ہے نہ قرینہ ہے اور نہ ہی ایک پیغمبر سے جہادی گھوڑوں کو اس طرح کاٹنے کی توقع ہو سکتی ہے جن کا کوئی جرم نہ تھا۔ نہ ہی سلیمان علیہ السلام کی ان سے محبت کا باعث مال کی محبت تھا، بلکہ اس محبت کا اصل باعث جہاد سے محبت تھا اور نہ ہی یہ تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی سے منقول ہے، جب کہ پہلی تفسیر صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا ہے۔ مفسر رازی نے اور خصوصاً ابن حزم نے گھوڑوں کو کاٹنے والی تفسیر کی سخت تردید کی ہے۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →