بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ ص — Surah Sad
آیت نمبر 32
کل آیات: 88
قرآن کریم ص آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ ص islamicurdubooks.com ↗
فَقَالَ اِنِّیۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَیۡرِ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّیۡ ۚ حَتّٰی تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ ﴿ٝ۳۲﴾
تو اس نے کہا "میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے" یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہو گئے
تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا
تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے
تو انہوں نے کہا کہ میں مال (گھوڑوں) کی محبت میں اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ وہ (آفتاب) پردہ میں چھپ گیا۔
تو اس نے کہا بے شک میں نے اس مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے دوست رکھا ہے ۔یہاں تک کہ وہ پردے میں چھپ گئے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ٭٭

اللہ تعالیٰ نے جو ایک بڑی نعمت داؤد علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے سلیمان علیہ السلام کو بنا دیا۔ اسی لیے صرف سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ» [ 27- النمل: 16 ] ‏‏‏‏ یعنی داود کے وارث سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی علیہ السلام نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دینا [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ سلیمان علیہ السلام کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پردار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بھی پڑ گئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا کہ سلیمان کے پردار گھوڑے تھے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ [سنن ابوداود:4932،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سلیمان علیہ السلام ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد عمر رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کر سکا۔ چنانچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ [صحیح بخاری:596] ‏‏‏‏ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چنانچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لیے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لیے کہ اس کے بعد ہی سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کر دیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چنانچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔

امام ابن جریررحمہ اللہ بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہنچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لیے تھا۔ چنانچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کر دی۔ حضرت ابوقتادہ رحمہ اللہ اور ابو دھما رحمہ اللہ اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔ [مسند احمد:78/5:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 32) ➊ {فَقَالَ اِنِّيْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ:الْخَيْرِ “} کا معنی تو بھلائی ہے، مگر عموماً اس سے مراد مال ہوتا ہے، جیسا کہ انسان کے متعلق فرمایا: «وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» ‏‏‏‏ [ العادیات: ۸ ] ”اور بے شک وہ مال کی محبت میں یقینا بہت سخت ہے۔“ یہ لفظ عموماً زیادہ مال پر بولا جاتا ہے۔ یہاں {” الْخَيْرِ “} سے مراد وہ اصیل اور تیز رفتار گھوڑے ہیں جو پچھلے پہر ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ {” الْخَيْرِ “} پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے {” حُبَّ الْخَيْرِ “} کا ترجمہ ”اس مال کی محبت“ کیا گیا ہے۔ {” عَنْ “} یہاں سببیہ ہے، جس کا معنی ”کی وجہ سے“ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۱۴ ] ”اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدے کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا۔“ ➋ اس آیت میں سلیمان علیہ السلام کی جہاد سے محبت اور اس کے لیے گھوڑے پالنے اور ان کی تربیت کا ذکر فرمایا ہے، اس مقصد کے لیے انھوں نے بڑی تعداد میں اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑے پال رکھے تھے۔ ایک دن پچھلے پہر ان کے سامنے اعلیٰ نسل کے وہ اصیل گھوڑے پیش کیے گئے جو کھڑے ہونے کی حالت میں اپنی طبیعت کی نفاست اور نزاکت کی وجہ سے تین ٹانگوں پر کھڑے ہوتے تھے، جبکہ چوتھی ٹانگ کے صرف کُھر کا کنارہ زمین پر لگتا تھا، مگر دوڑنے میں بہت تیز رفتار تھے، تو سلیمان علیہ السلام نے اتنے قیمتی گھوڑے رکھنے اور اپنے اوقاتِ عزیزہ ان کے معائنے اور دوڑانے میں صرف کرنے کی وجہ بیان کرنا ضروری سمجھا، تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ یہ محض شاہانہ شان و شوکت کے اظہار کے لیے ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ میں نے اس مال یعنی گھوڑوں کی محبت کو دوست رکھا ہے اور اختیار کیا ہے تو اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کہ ان کے ساتھ جہاد کرکے اپنے رب کا ذکر دنیا بھر میں پھیلاؤں اور اس کا بول سب پر بالا کروں۔ ➌ { حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ:تَوَارَتْ “} اصل میں {”تَوَارَيَتْ“} ہے، {”تَوَارٰي يَتَوَارٰي تَوَارِيًا“} (تفاعل) (چھپ جانا) سے واحد مؤنث غائب ماضی معلوم کا صیغہ ہے، جو گھوڑوں کی جماعت پر بولا گیا ہے۔ یعنی گھوڑوں کی وہ جماعت نگاہ سے پردے میں چھپ گئی۔ {” حَتّٰى “} (یہاں تک کہ) کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس سے پہلے کچھ عبارت محذوف ہے، جو یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے حکم پر ان کی دوڑ لگوائی گئی، یہاں تک کہ وہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے۔
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →