بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 86
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 86
آیت نمبر: 86 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا کُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ یُّلۡقٰۤی اِلَیۡکَ الۡکِتٰبُ اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ ظَہِیۡرًا لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۫۸۶﴾
تم اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے رب کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے)، پس تم کافروں کے مدد گار نہ بنو
آپ کو تو کبھی اس کا خیال بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی جائے گی لیکن یہ آپ کے رب کی مہربانی سے اترا۔ اب آپ کو ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا چاہیئے
اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی ہاں تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں کی پشتی (مدد) نہ کرنا
اور آپ کو اس بات کی امید نہیں تھی کہ آپ پر (یہ) کتاب نازل کی جائے گی۔ یہ تو بس آپ کے پروردگار کی رحمت ہے۔ لہٰذا آپ بھی کافروں کے پشت پناہ نہ بنئے گا۔
اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیر ی طرف کتاب نازل کی جائے گی مگرتیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی) سو تو ہرگز کافروں کا مددگار نہ بن۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جو کرو گے سو بھرو گے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے کہ رسالت کی تبلیغ کرتے رہیں لوگوں کو کلام اللہ سناتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کی طرف واپس لے جانے والا ہے اور وہاں نبوت کی بابت پرستش ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:6] ‏‏‏‏ یعنی ’ امتوں سے اور رسولوں سے سب سے ہم دریافت فرمائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّ‌سُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» [5-المائدة:109] ‏‏‏‏ ’ رسولوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ» ۱؎ [39-الزمر:69] ‏‏‏‏ ’ نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا ‘۔ «مَعَادٍ» سے مراد جنت بھی ہو سکتی ہے موت بھی ہو سکتی ہے۔ دوبارہ کی زندگی بھی ہو سکتی ہے کہ دوبارہ پیدا ہوں اور داخل جنت ہوں۔ صحیح بخاری میں ہے اس سے مراد مکہ ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مکہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش تھی۔

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے ابھی جحفہ ہی میں تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں مکے کا شوق پیدا ہوا پس یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مکے پہنچائے جائیں گے۔ اس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہو حالانکہ پوری سورت مکی ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے بیت المقدس ہے شاید اس کہنے والے کی غرض اس سے بھی قیامت ہے۔ اس لیے کہ بیت المقدس ہی محشر زمین ہے۔ ان تمام اقوال میں جمع کی صورت یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکے کی طرف لوٹنے سے اس کی تفسیر کی ہے جو فتح مکہ سے پوری ہوئی۔ اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے پورا ہونے کی ایک زبردست علامت تھی جیسے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سورۃ «إِذَا جَاءَ نَصْرُ‌ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» [110-النصر:1] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں فرمایا ہے۔ جس کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی موافقت کی تھی۔ اور فرمایا تھا کہ ”تو جو جانتا ہے وہی میں بھی جانتا ہوں۔‏‏‏‏“ یہی وجہ ہے کہ انہی سے اس آیت کی تفسیر میں جہاں مکہ مروی ہے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال بھی مروی ہے اور کبھی قیامت سے تفسیر کی کیونکہ موت کے بعد قیامت ہے اور کبھی جنت سے تفسیر کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹھکانا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ رسالت کا بدل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن و انس کو اللہ کے دین کی دعوت دی اور آپ تمام مخلوق سے زیادہ کلام زیادہ فصیح اور زیادہ افضل تھے۔

پھر فرمایا کہ ’ اپنے مخالفین سے اور جھٹلانے والوں سے کہہ دو کہ ہم میں سے ہدایت والوں کو اور گمراہی والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ کس کا انجام بہتر ہوتا ہے؟ اور دنیا اور آخرت میں بہتری اور بھلائی کس کے حصے میں آتی ہے؟‘ پھر اپنی ایک اور زبردست نعمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وحی اترنے سے پہلے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال بھی نہ گزرا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہوگی۔ یہ تو تجھ پر اور تمام مخلوق پر رب کی رحمت ہوئی کہ اس نے تجھ پر اپنی پاک اور افضل کتاب نازل فرمائی۔ اب تمہیں ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا چاہیئے بلکہ ان سے الگ رہنا چاہیئے۔ ان سے بیزاری ظاہر کردینی چاہیئے اور ان سے مخالفت کا اعلان کر دینا چاہیئے ‘۔

📖 احسن البیان

86-1یعنی نبوت سے قبل آپ کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ آپ کو رسالت کے لئے چنا جائے گا اور آپ پر کتاب الٰہی کا نزول ہوگا۔ 86-2یعنی نبوت و کتاب سے سرفرازی، اللہ کی خاص رحمت کا نتیجہ ہے جو آپ پر ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جسے محنت اور سعی و کاوش سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا رہا، نبوت و رسالت سے مشرف فرماتا رہا، جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سلسلہ الزہب کی آخری کڑی قرار دے کر اسے موقوف فرما دیا 86-3اب اس نعمت اور فضل الٰہی کا شکر آپ اس طرح ادا کریں کہ کافروں کی مدد اور ہمنوائی نہ کریں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 86) ➊ { وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ يُّلْقٰۤى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں جن حالات سے گزر رہے تھے اور جس طرح کفار نے آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا جینا دو بھر کر رکھا تھا، ان حالات میں یہ پیش گوئی کہ آپ کا رب آپ کو یہاں سے ہجرت کے بعد اسی عظیم الشان مقام میں لانے والا ہے، بظاہر ایک ناممکن کام کی پیش گوئی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلانے کے لیے اس احسان کا ذکر فرمایا جو اس سے کہیں بڑا احسان تھا۔ فرمایا، آپ کو تعجب ہوتا ہے اور یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ آپ نہایت باعزت طریقے سے اپنے شہر میں واپس آئیں گے تو ذرا اپنی رسالت پر تو غور کریں، کبھی آپ نے سوچا بھی تھا یا دل میں یہ خیال یا آرزو بھی پیدا ہوئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول بن جائیں گے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ نعمت عطا فرمائی اور رسالت کے لیے چن لیا جو آپ کے خیال تک میں نہ تھی، تو وہ ایسی خبر سے آپ کو کیسے محروم رکھے گا جو آپ کی خواہش ہے اور جس کا آپ شوق رکھتے ہیں۔ ➋ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کا سچا رسول ہونے کی بھی زبردست دلیل ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ رسالت اور نبوت محض اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، وہ جنھیں چنتا ہے انھیں بھی خبر نہیں ہوتی کہ ہمیں اتنی بڑی نعمت ملے گی۔ یہ نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کا طریقہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنی نبوت کا اشتہار شروع کر دیتے ہیں۔ اس سورت میں اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کو نبوت ملنے کا ذکر ہے، وہ معاملہ بھی اچانک ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام کو اس کا وہم و گمان تک نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی جبریل علیہ السلام غار حرا میں اچانک آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا رسول ہونے کی دلیل کے طور پر کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ ایک اُمّی شخص، جس کی عمر کے چالیس سال سب کے سامنے گزرے، جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا، اگرچہ صدق و امانت اور اخلاق حمیدہ سے پہلے بھی متصف تھا، مگر نہ کسی کے خیال میں یہ بات تھی نہ خود اس کے دل میں یہ امید تک پیدا ہوئی تھی کہ اسے ایسی کتاب عطا کی جائے گی جس کی ایک سورت کی مثل اللہ کے سوا پوری کائنات جمع ہو کر بھی نہیں لا سکے گی۔ چنانچہ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ }» [ الشورٰی: ۵۲ ] ”اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“ ایک جگہ یہ صراحت فرمائی کہ یہ غیب کی خبریں، جو ہم آپ کو وحی کر رہے ہیں، اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے نہ آپ کی قوم، فرمایا: «{ تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَاۤ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا }» [ ھود: ۴۹ ] ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ ➌ { فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّلْكٰفِرِيْنَ:} اللہ تعالیٰ نے کتاب و نبوت عطا کرنے کی نعمت یاد دلانے کے بعد پانچ حکم دیے، پہلا یہ کہ آپ کی قوم قریش اور آپ کے بھائی بندوں اور رشتہ داروں میں سے جو لوگ دین کے معاملہ میں آپ کا ساتھ نہیں دے رہے، بلکہ مخالفت پر اتر آئے ہیں، آپ کسی صورت نہ ان کا ساتھ دیں نہ ان کی حمایت کریں۔
← پچھلی آیت (85) پوری سورۃ اگلی آیت (87) →