بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 84
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 84
آیت نمبر: 84 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیۡرٌ مِّنۡہَا ۚ وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجۡزَی الَّذِیۡنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۴﴾
جو کوئی بھَلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھَلائی ہے، اور جو بُرائی لے کر آئے تو بُرائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے
جو شخص نیکی ﻻئے گا اسے اس سے بہتر ملے گا اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے بداعمالی کرنے والوں کو ان کے انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وه کرتے تھے
جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر ہے اور جو بدی لائے بدکام والوں کو بدلہ نہ ملے گا مگر جتنا کیا تھا،
جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کو جو برائیاں کرتے ہیں تو انہیں بدلہ بھی اتنا ہی ملے گا جتنا وہ (برائی) کرتے تھے۔
جو شخص نیکی لے کر آیا تو اس کے لیے اس سے بہتر (صلہ) ہے اور جو برائی لے کرآیا تو جن لوگوں نے برے کام کیے وہ بدلہ نہیں دیے جائیں گے مگر اسی کا جو وہ کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جنت اور آخرت ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ جنت اور آخرت کی نعمت صرف انہی کو ملے گی جن کے دل خوف الٰہی سے بھرے ہوئے ہوں اور دنیا کی زندگی تواضع فروتنی عاجزی اور اخلاق کے ساتھ گزاردیں۔ کسی پر اپنے آپ کو اونچا اور بڑا نہ سمجھیں ادھر ادھر فساد نہ پھیلائیں سرکشی اور برائی نہ کریں۔ کسی کا مال ناحق نہ ماریں اللہ کی زمین پر اللہ کی نافرمانیاں نہ کریں ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اپنے ساتھی کی جوتی کے تسمے سے اچھا ہو تو وہ بھی اسی آیت میں داخل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ فخر غرور کرے۔ اگر صرف بطور زیبائش کے چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جیسے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری تو یہ چاہت ہے کہ میری چادر بھی اچھی ہو میری جوتی بھی اچھی ہو تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں نہیں یہ تو خوبصورتی ہے اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:147] ‏‏‏‏ پھر فرمایا جو ہمارے پاس نیکی لائے گا وہ بہت سی نیکیوں کا ثواب پائے گا۔ یہ مقام فضل ہے اور برائی کا بدلہ صرف اسی کے مطابق سزا ہے۔ یہ مقام عدل ہے اور آیت میں ہے «وَمَنْ جَاءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:90] ‏‏‏‏، ’ جو برائی لے کر آئے گا وہ اندھے منہ آگ میں جائے گا، تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ‘۔

📖 احسن البیان

84-1یعنی کم از کم ہر نیکی کا بدلہ دس گنا تو ضرور ہی ملے گا، اور جس کے لئے اللہ چاہے گا، اس سے بھی زیادہ، کہیں زیادہ، عطا فرمائے گا۔ 84-2یعنی نیکی کا بدلہ تو بڑھا چڑھا کردیا جائے گا لیکن برائی کا بدلہ برائی کے برابر ہی ملے گا۔ یعنی نیکی کی جزا میں اللہ کے فضل و کرم کا اور بدی کی جزا میں اس کے عدل کا مظاہرہ ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 84) {مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا …:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۰) اور سورۂ نمل (۸۹) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (83) پوری سورۃ اگلی آیت (85) →