بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 61
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 61
آیت نمبر: 61 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰہُ وَعۡدًا حَسَنًا فَہُوَ لَاقِیۡہِ کَمَنۡ مَّتَّعۡنٰہُ مَتَاعَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ثُمَّ ہُوَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ مِنَ الۡمُحۡضَرِیۡنَ ﴿۶۱﴾
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟
کیا وه شخص جس سے ہم نے نیک وعده کیا ہے جسے وه قطعاً پانے واﻻ ہے مثل اس شخص کے ہوسکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانیٴ دنیا کی کچھ یونہی سی منفعت دے دی پھر بالﺂخر وه قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا
تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا
کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اور وہ اسے پانے والا بھی ہے۔ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف دنیوی زندگانی کا (چند روزہ) سامان دیا ہے۔ اور پھر قیامت کے دن (سزا کیلئے پکڑ کر) حاضر کیا جائے گا۔
تو کیا وہ شخص جسے ہم نے وعدہ دیا اچھا وعدہ، پس وہ اسے ملنے والا ہے، اس شخص کی طرح ہے جسے ہم نے سامان دیا، دنیا کی زندگی کا سامان، پھر قیامت کے دن وہ حاضر کیے جانے والوں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دنیا اور اخرت کا تقابلی جائزہ ٭٭

اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اس کی رونق کی قلت و ذلت اس کی ناپائیداری بے ثباتی اور برائی بیان فرما رہا ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کی پائیداری دوام عظمت اور قیام کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے آیت «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:96] ‏‏‏‏ ’ تمہارے پاس جو کچھ ہے فنا ہونے والا ہے۔ اور اللہ کے پاس تمام چیزیں بقا والی ہیں ‘۔ «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:198] ‏‏‏‏ ’ اللہ کے پاس جو ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہت ہی بہتر اور عمدہ ہے ‘۔ «وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ» ۱؎ [13-الرعد:26] ‏‏‏‏ ’ آخرت کے مقابلہ میں دنیا تو کچھ بھی نہیں ‘۔ «بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:16،17] ‏‏‏‏ ’ لیکن افسوس کہ لوگ دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور آخرت سے غافل ہو رہے ہیں جو بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والی ہے ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں انگلی ڈبو کر نکال لے پھر دیکھ لے کہ اس کی انگلی پر جو پانی چڑھا ہوا ہے وہ سمندر کے مقابلہ میں کتنا کچھ ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2858] ‏‏‏‏ افسوس کہ اس پر بھی اکثر لوگ اپنی کم علمی اور بےعلمی کے باعث دنیا کے متوالے ہو رہے ہیں۔

خیال کر لو ایک تو وہ جو اللہ پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان و یقین رکھتا ہو اور ایک وہ جو ایمان نہ لایا ہو نتیجے کے اعتبار سے برابر ہو سکتے ہیں؟ ایمان والوں کے ساتھ تو اللہ کا جنت کا اور اپنی بےشمار ان مٹ غیر فانی نعمتوں کا وعدہ ہے اور کافر کے ساتھ وہاں کے عذابوں کا ڈراوا ہے گو دنیا میں کچھ روز عیش ہی منالے۔ مروی ہے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدنا حمزہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم اور ابوجہل کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے جیسے فرمان اللہ ہے کہ جنتی مومن اپنے جنت کے درجوں سے جھانک کر جہنمی کافر کو جہنم کے جیل خانہ میں دیکھ کر کہے گا «وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ» ۱؎ [37-الصافات:57] ‏‏‏‏ ’ اگر مجھ پر میرے رب کا انعام نہ ہوتا تو میں بھی ان عذابوں میں پھنس جاتا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:158] ‏‏‏‏ ’ جنات کو یقین ہے کہ وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

61-1یعنی سزا اور عذاب کا مستحق ہوگا مطلب ہے اہل ایمان، وعدہ الٰہی کے مطابق نعمتوں سے بہرہ ور اور نافرمان عذاب سے دو چار، کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 61){ اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا …:} اس آیت میں مومن و کافر کی زندگیوں کا موازنہ کیا گیا ہے اور سوال کی صورت میں سوچنے کی دعوت دی گئی ہے کہ آیا یہ دونوں زندگیاں کسی صورت برابر ہو سکتی ہیں؟ جب یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتیں تو تم دنیا کے فائدے کے لیے رسول کی پیروی کیوں چھوڑتے ہو؟ دنیا کی نعمتیں مومن و کافر دونوں کو ملتی ہیں، مگر مومن اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند رہ کر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے، جس کی وجہ سے آخرت کی نعمتیں صرف اس کے لیے خاص ہو جاتی ہیں۔ (دیکھیے اعراف: ۳۲) اور ایمان اور عمل صالح والوں سے اللہ تعالیٰ کا یہی وعدۂ حسنہ ہے، جو ہر حال میں مومن کو مل کر رہے گا، کیونکہ اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ }» [ النحل: ۹۷ ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اس کے مقابلے میں کافر ہے، مومن کے متعلق جو فرمایا کہ وہ ہمارے اچھے وعدے کو ملنے والا ہے، تو یہ اشارہ ہے کہ کافر کو بھی شیطان اور اس کے بنائے ہوئے شریک وعدے دلاتے رہتے ہیں، مگر ان کے دلائے ہوئے وعدے اسے کبھی حاصل نہیں ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن شیطان کہے گا: «{ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ۠ }» [ إبراہیم: ۲۲ ] ”بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔“ کافر کو دنیا کی زندگی کا کچھ سامان دیا گیا، ملنا اسے بھی اتنا ہی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، مگر اس نے اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے بجائے اپنی خواہش نفس کے مطابق اس سے فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں وہ ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو قیامت کے دن حاضر کیے جانے والے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں {” الْمُحْضَرِيْنَ “} (حاضر کیے جانے والے) کا لفظ عذاب میں حاضر کیے جانے والوں کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ صافات (۵۷ اور ۱۲۷) اس لفظ میں بھی یہ مفہوم موجود ہے، کیونکہ حاضر اسی کو کیا جاتا ہے جو حاضر نہ ہونا چاہے، جنت میں تو ہر شخص شوق سے جائے گا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو کیا وہ شخص جو مومن ہے، اس وعدے کو سچا جاننے والا ہے جو اللہ نے اس کے صالح اعمال پر اس سے ثواب کی صورت میں کیا ہے، جو لا محالہ اسے ملنے والا ہے، اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو کافر ہے، اللہ کی ملاقات اور اس کے وعدہ و وعید کو جھٹلانے والا ہے۔ سو اسے دنیا کی زندگی میں تھوڑے سے دن کچھ سامان ملنے والا ہے، پھر قیامت کے دن وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہے۔ مجاہد نے فرمایا، یعنی عذاب دیے جانے والوں میں سے ہے۔“ (ابن کثیر)
← پچھلی آیت (60) پوری سورۃ اگلی آیت (62) →