بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 59
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 59
آیت نمبر: 59 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا کَانَ رَبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی حَتّٰی یَبۡعَثَ فِیۡۤ اُمِّہَا رَسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ۚ وَ مَا کُنَّا مُہۡلِکِی الۡقُرٰۤی اِلَّا وَ اَہۡلُہَا ظٰلِمُوۡنَ ﴿۵۹﴾
اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے
تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب کہ وہاں والے ﻇلم وستم پر کمر کس لیں
اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستمگار ہوں
اور آپ کا پروردگار بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ہماری آیتوں کی تلاوت کرے اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں جب تک ان کے باشندے ظالم نہ ہوں۔
اور تیرا رب کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں، یہاں تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول بھیجے جو ان کے سامنے ہماری آیات پڑھے اور ہم کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر جب کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اہل مکہ کو تنبیہہ ٭٭

اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کر کے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرتے تھے نبی علیہ السلام کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی روزیاں کھاتے تھے اور اس کی نمک حرامی کرتے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح تباہ و برباد کر دیا کہ آج ان کا نام لینے والا نہیں رہا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [16-النحل:112-113] ‏‏‏‏، یہاں فرماتا ہے کہ ’ ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اب تک اجڑی پڑی ہیں۔ کچھ یونہی سی آبادی اگرچہ ہو گئی ہو لیکن دیکھو ان کے کھنڈرات سے آج تک وحشت برس رہی ہے ہم ہی ان کے مالک رہ گئے ہیں ‘۔ کعب رحمہ اللہ [تابعی] ‏‏‏‏ کا قول ہے کہ ”الو سے سلیمان علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ”تو کھیتی اناج کیوں نہیں کھاتا؟“ اس نے کہا کہ اس لیے کہ اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے پوچھا ”پانی کیوں نہیں پیتا؟“ کہا اس لیے کہ قوم نوح علیہ السلام اسی میں ڈبودی گئی۔ پوچھا ”ویرانے میں کیوں رہتا ہے؟“ کہا اس لیے کہ وہ اللہ کی میراث ہے۔ پھر کعب رحمہ اللہ نے آیت «وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ» [28-القص:58] ‏‏‏‏ پڑھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل وانصاف کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ وہ کسی کے ظلم سے ہلاک نہیں کرتا پہلے ان پر اپنی حجت ختم کرتا ہے اور ان کا عذر دور کرتا ہے۔ رسولوں کو بھیج کر اپنا کلام ان تک پہنچاتا ہے ‘۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت عام تھی آپ ام القریٰ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اور تمام عرب وعجم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جیسے فرمان ہے آیت «لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [42-الشورى:7] ‏‏‏‏ ’ تاکہ تو مکہ والوں کو اور دوسرے شہر والوں کو ڈرادے ‘ اور فرمایا آیت «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَ‌سُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ» ۱؎ [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ کہہ دے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ اور آیت میں ہے «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ ’ تاکہ اس قرآن سے میں تمہیں بھی ڈرادوں اور ہر اس شخص کو جس تک یہ قرآن پہنچے ‘۔

اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» ۱؎ [11-ھود:17] ‏‏‏‏ ’ اس قرآن کے ساتھ دنیا والوں میں سے جو بھی کفر کریں اس کے وعدے کی جگہ جہنم ہے ‘۔ اور جگہ اللہ کا فرمان ہے آیت «وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:58] ‏‏‏‏، یعنی ’ تمام بستیوں کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک کرنے والے ہیں یا سخت عذاب کرنے والے ہیں ‘۔ پس خبر دی کہ قیامت سے پہلے وہ سب بستیوں کو برباد کر دے گا۔ اور آیت میں ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ‏‏‏‏ کہ ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو عام کر دیا اور تمام جہاں کے لیے کر دیا اور مکہ میں جو کہ تمام دنیا کا مرکز ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ساری دنیا پر اپنی حجت ختم کر دی۔ بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ { میں تمام سیاہ سفید کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:521] ‏‏‏‏ اسی لیے نبوت ورسالت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔ کہا گیا کہ مراد «اُمُّ الْقُرَىٰ» سے اصل اور بڑا قریہ ہے۔

📖 احسن البیان

59-1یعنی تمام حجت کے بغیر کسی کو ہلاک نہیں کرتا، ہر چھوٹے بڑے علاقے میں نبی نہیں آیا، بلکہ مرکزی مقامات پر نبی آتے رہے اور چھوٹے علاقے اس کے زیر اثر میں آ جماتے رہے ہیں۔ 59-2یعنی نبی بھیجنے کے بعد وہ بستی والے ایمان نہ لاتے اور کفر و شرک پر اپنا اصرار جاری رکھتے تو پھر انھیں ہلاک کردیا جاتا، یہی مضمون (وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ) 11۔ ہود:117) میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 59) ➊ { وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان بستیوں کو ہلاک کرنے کا اصول بیان فرمایا اور اس سوال کا جواب دیا کہ ان اقوام کی ہلاکت کے بعد کتنی مدت گزری، کفار کا کفرو شرک اور ان کی سرکشی اور ظلم و زیادتی انتہا کو پہنچ چکی، انھیں کیوں ہلاک نہیں کیا گیا؟ فرمایا یہ تیرے رب کی ربوبیت اور اس کی رحمت ہے کہ وہ کبھی بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا، جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی پیغام پہنچانے والا (رسول) نہ بھیجے، جو ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کر کے ان کا یہ عذر ختم نہ کر دے کہ ہمیں عذاب سے پہلے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔ {” وَ مَا كَانَ “} میں نفی کا استمرار ہے، یعنی ایسا کبھی ہوا ہی نہیں، نہ ہونے والا ہے۔ جیسے دیکھیے سورۂ آل عمران (۷۹) اور یونس (۳۶)۔ ➋ { وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرٰۤى …:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد ایمان نہ لانے والوں پر عذاب کیوں نہیں آتا۔ فرمایا، ہماری یہ بھی عادت ہے کہ ہم بستیوں کو کبھی ہلاک نہیں کرتے، جب تک ان کے رہنے والے ظلم پر اس طرح نہ ڈٹ جائیں کہ ظالم کے لقب کے حق دار بن جائیں۔ اب اس نبی کی آمد پر تمھیں مہلت دی جا رہی ہے کہ تم کفرو شرک اور ظلم پر اصرار کر کے ظالم ٹھہرتے اور عذاب کے مستحق بنتے ہو یا ایمان لا کر رحمت کے حق دار بنتے ہو۔ ➌ ابن کثیر نے فرمایا: ”یہ آیت دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اُمّ القریٰ (مکہ) میں مبعوث ہوئے، وہ عرب و عجم کی تمام بستیوں کی طرف مبعوث تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا }» [ الشورٰی: ۷ ] ”اور اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا، تاکہ تو بستیوں کے مرکز(مکہ)کو ڈرائے اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ارد گرد ہیں۔“ اور فرمایا: «{ قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا }» [ الأعراف: ۱۵۸ ] ”کہہ دے اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔“ (ابن کثیر) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔“ ان میں سے ایک یہ بیان فرمائی ـ: [ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلٰی قَوْمِهِ خَاصَّةً وَ بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَامَّةً ] [بخاري، التیمم، باب: ۳۳۵ ] ”اور ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔“
← پچھلی آیت (58) پوری سورۃ اگلی آیت (60) →