بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 55
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 55
آیت نمبر: 55 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
فِیۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِیۡکٍ مُّقۡتَدِرٍ ﴿٪۵۵﴾
سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب
راستی اور عزت کی بیٹھک میں قدرت والے بادشاه کے پاس
سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور
صداقت و سچائی کے محل میں بڑی عظیم قدرت والے بادشاہ (خدا) کے حضور میں (مقرب ہوں گے)۔
صدق کی مجلس میں، عظیم بادشاہ کے پاس، جو بے حد قدرت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟ جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا ‘۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ }۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں { ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏‏‏‏“

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔ مسند احمد میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ }۔ [صحیح مسلم:1827] ‏‏‏‏ «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔

📖 احسن البیان

55۔ 1 مَقْعَدِ صِدْقٍ عزت کی بیٹھک یا مجلس حق، جس میں گناہ کی بات ہوگی نہ لغویات کا ارتکاب۔ مراد جنت ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 55) ➊ { فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ:} یہاں {” مُقْتَدِرٍ “} بمعنی {”صَادِقٌ“} برائے مبالغہ ہے، جیسے {”عَدْلٌ“} بمعنی {”عَادِلٌ“} برائے مبالغہ ہے اور {” مَقْعَدِ “ } موصوف اپنی صفت {” صِدْقٍ “} (بمعنی {صَادِقٌ}) کی طرف مضاف ہے، جیسے کہا جاتا ہے: {”مَسْجِدُ الْجَامِعِ۔“ ” صِدْقٍ “} کا اصل معنی خبر کا واقع کے مطابق ہونا ہے۔” فلاں شخص صادق ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو بات کہتا ہے وہ واقع میں اسی طرح ہوتی ہے جیسے اس نے کہا۔ پھر یہ لفظ کسی بھی چیز کی تعریف کے لیے اور اس کے اپنے اوصاف میں کامل ہونے کے لیے بولا جانے لگا۔ {” فُلَانٌ رَجُلُ صِدْقٍ“} یعنی وہ رجولیت میں کامل ہے۔ اردو میں کہا جاتا ہے ” فلاں سچ مچ مرد ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ» ‏‏‏‏ [یونس: ۹۳ ] ”اور ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا دیا جو ٹھکانا ہونے میں کامل تھا، سچ مچ کا باعزت ٹھکانا تھا۔ “ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ» [ الشعراء: ۸۴ ] ”اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔“ اور فرمایا: «وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۸۰ ] ”اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا۔“ {” فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی مجلس میں ہوں گے جو مجلس ہونے کے لحاظ سے ہر طرح کامل ہو گی، مجلس کے تمام لوازمات و مناسبات سے آراستہ ہو گی، سچ مچ کی مجلس ہو گی۔ ➋ یاد رہے کہ یہاں {” مَقْعَدِ “} کا ترجمہ جو ”مجلس“ کیا گیا ہے وہ اس کا پورا مفہوم ادا نہیں کرتا، کیونکہ {” قَعْدٌ“} اور {”جَلَسٌ“ } دونوں کا معنی اگرچہ ”بیٹھنا“ ہے، مگر {” مَقْعَدِ “} میں ٹھہرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے جو” مجلس“ میں نہیں پایا جاتا، مثلاً سورۂ توبہ کی آیت (۸۱): «‏‏‏‏فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ» میں {” بِمَقْعَدِهِمْ “} کا معنی صرف بیٹھنا نہیں بلکہ ”بیٹھ رہنا“ ہے اور سورۂ نساء کی آیت (۹۵): «لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» میں {” الْقٰعِدُوْنَ “} کا معنی ”بیٹھ رہنے والے مومن“ ہے۔ اسی طرح سورۂ نور کی آیت (۶۰): «‏‏‏‏وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ» ‏‏‏‏ میں {” الْقَوَاعِدُ “} کا معنی ”بیٹھ رہنے والیاں“ ہے۔ یہاں {” الْقَوَاعِدُ “} کے بجائے {”اَلْجَوَالِسُ“} کا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔ سورۂ ق کی آیت (۱۷): «‏‏‏‏عَنِ الْيَمِيْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» ‏‏‏‏ میں فرشتوں کے مسلسل ساتھ بیٹھے ہونے کا جو مفہوم ادا ہو رہا ہے وہ{ ”جَلِيْسٌ“ } میں نہیں۔ اب اس کے مقابلے میں سورۂ مجادلہ کی آیت(۱۱) دیکھیے، فرمایا: «اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ وَ اِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا» ‏‏‏‏ ”جب تمھیں کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل جاؤ تو کھل جاؤ، اللہ تعالیٰ تمھارے لیے فراخی کر دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ۔“ یہاں {” تَفَسَّحُوْا “} (کھل جاؤ) سے مجلس میں حرکت کا ثبوت ملتا ہے اور {” انْشُزُوْا “} (اٹھ کھڑے ہو) سے ظاہر ہے کہ مجلس میں جلوس ترک بھی ہو سکتا ہے، لیکن {”قُعُوْدٌ“} کا معاملہ یہ نہیں۔ اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ متقی لوگ ” مقعد صدق “ میں ہوں گے جو پائیدار ہو گی۔ ”مجلس صدق “ کے لفظ سے یہ مفہوم ادا نہیں ہوتا۔ مفسر رازی نے یہ بات بہت مفصل اور مدلل لکھی ہے۔ ➌ { عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ:” مَلِيْكٍ”مُلْكٌ“} میں سے {”فَعِيْلٌ“} کا وزن ہے، ملک والا۔ اس میں {”مَلِكٌ“} سے زیادہ مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”عظیم بادشاہ“ کیا گیا ہے۔ {” مُقْتَدِرٍ “} میں {” قَادِرٌ“} یا {” قَدِيْرٌ“} سے زیادہ مبالغہ ہے، جیسا کہ پیچھے {” اَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍ “} کے تحت گزرا ہے، اس لیے ترجمہ ”بے حد قدرت والا“ کیا گیا ہے۔ کسی بھی گھر یا مکان کے مرتبے کا تعین اس جگہ سے ہوتا ہے جہاں وہ واقع ہو، فرعون کی بیوی آسیہ علیھا السلام نے دنیا کی تمام سہولتیں چھن جانے پر اللہ تعالیٰ سے اپنے پاس گھر بنا کر دینے کی دعا کی تھی: «رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ‏‏‏‏ [ التحریم: ۱۱ ] ”اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔“ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں سے {” مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ “} کا ذکر فرمایا ہے، کیونکہ لوگ بادشاہوں کی مجلس میں اور ان کے پڑوس میں رہنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جتنا زیادہ اقتدار والا بادشاہ ہو اتنی ہی اس کے قرب کی خواہش زیادہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کو بشارت سنائی کہ ان کی رہائش بادشاہوں کے بادشاہ کے پاس ہو گی جو سارے اقتدار کا مالک ہے۔ پھر ان کی عزت و شوکت کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ [ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ]
← پچھلی آیت (54) پوری سورۃ اگلی آیت →