بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 63
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 63
آیت نمبر: 63 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
لَا تَجۡعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمۡ کَدُعَآءِ بَعۡضِکُمۡ بَعۡضًا ؕ قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ یَتَسَلَّلُوۡنَ مِنۡکُمۡ لِوَاذًا ۚ فَلۡیَحۡذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمۡ فِتۡنَۃٌ اَوۡ یُصِیۡبَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾
مسلمانو، اپنے درمیان رسولؐ کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے
تم اللہ تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کرلو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے۔ تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں۔ سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے
رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے بیشک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے
اے ایمان والو! اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی طرح نہ بناؤ۔ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لے کر کھسک جاتے ہیں۔ جو لوگ حکمِ خدا سے انحراف کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں یا انہیں کوئی دردناک عذاب نہ پہنچ جائے۔
رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنالو جیسے تمھارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔ سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنے کے آداب ٭٭

لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پکار لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ ’ نام نہ لو بلکہ یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہہ کر پکارو۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عزت وادب کا پاس رہے ‘۔ اسی کے مثل آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» ۱؎ [2-البقرة:104] ‏‏‏‏ ہے اور اسی جیسی آیات «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:2-5] ‏‏‏‏ ہے یعنی ’ ایمان والو! اپنی آوازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پربلند نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی اونچی آوازوں سے نہ بولو جیسے کہ بے تکلفی سے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اگر ایسا کیا تو سب اعمال غارت ہو جائیں گے اور پتہ بھی نہ چلے ‘۔ یہاں تک کہ فرمایا ’ جو لوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس آ جاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا ‘۔ پس یہ سب آداب سکھائے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح بولیں چالیں بلکہ پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشیاں کرنے کے لیے صدقہ کرنے کا بھی حکم تھا۔

ایک مطلب تو اس آیت کا یہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو تم اپنی دعاؤں کی طرح سمجھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مقبول و مستجاب ہے۔ خبردار کبھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دینا کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے منہ سے کوئی کلمہ نکل جائے تو تہس نہس ہو جاؤ ‘۔ اس سے اگلے جملے کی تفسیر میں مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پر بہت بھاری پڑتا تھا جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیتے اس لیے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے۔‏‏‏‏“

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جماعت میں جب منافق ہوتے تو ایک دوسرے کی آڑ لے کر بھاگ جاتے۔ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اللہ کی کتاب سے ہٹ جاتے، صف سے نکل جاتے، مخالفت پر آمادہ ہو جاتے۔ جو لوگ امر رسول، سنت رسول، فرمان رسول، طریقہ رسول اور شرع رسول کے خلاف کریں وہ سزا یاب ہونگے۔ انسان کو اپنے اقوال وافعال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور احادیث سے ملانے چاہئیں جو موافق ہوں اچھے ہیں جو موافق نہ ہوں مردود ہے۔‏‏‏‏“ بخاری مسلم میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2697] ‏‏‏‏ ظاہر یا باطن میں جو بھی ہے شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کرے اس کے دل میں کفر ونفاق، بدعت وبرائی کا بیج بودیا جاتا ہے یا اسے سخت عذاب ہوتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی قتل قید حد وغیر جیسی سزائیں ملتی ہیں یا آخرت میں عذاب اخروی ملے گا۔

مسند احمد میں حدیث ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب وہ روشن ہوئی تو پتنگوں اور پروانوں کا اجتماع ہوگیا اور وہ دھڑا دھڑ اس میں گرنے لگے۔ اب یہ انہیں ہر چند روک رہا ہے لیکن وہ ہیں شوق سے اس میں گرے جاتے ہیں اور اس شخص کے روکنے سے نہیں روکتے۔ یہی حالت میری اور تمہاری ہے کہ تم آگ میں گرنا چاہتے ہو اور میں تمہیں اپنی بانہوں میں لپیٹ لپیٹ کر اس سے روک رہا ہوں کہ آگ میں نہ گھسو، آگ سے بچو لیکن تم میری نہیں مانتے اور اس آگ میں گھسے چلے جا رہے ہو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6483] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

📖 احسن البیان

63-1یہ منافقین کا رویہ ہوتا تھا کہ اجتماع مشاورت سے چپکے سے کھسک جاتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 63) ➊ { لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ …:} مفسرین نے اس آیت کے تین مطلب بیان فرمائے ہیں، پہلا یہ کہ {”دُعَآءَ الرَّسُوْلِ “} کا معنی ہے رسول کا بلانا۔ اس صورت میں لفظ {” دُعَآءَ “} اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں بلائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی طرح معمولی نہ سمجھو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بلائیں تو حاضر ہونا واجب ہوتا ہے، جب کہ آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کا یہ حکم نہیں ہے۔ یہ مفہوم یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اجازت طلب کرنے اور امر جامع میں موجود رہنے کا بیان ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے، تمھارا رسول کو بلانا۔ اس صورت میں {” دُعَآءَ “} اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نام لے کر مت بلاؤ جس طرح تم ایک دوسرے کو نام لے کر بلاتے ہو، بلکہ یا نبی اللہ، یا رسول اللہ، یا ایسے القاب سے بلاؤ جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم ہو اور ایسے لہجے میں مت بلاؤ جس میں تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو، بلکہ آواز نیچی رکھ کر ادب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤ۔ اس معنی کی تائید سورۂ حجرات کی ابتدائی آیات سے ہوتی ہے، فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ }» [ الحجرات: ۲ ] ”اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔“ یہ معنی بھی بہت عمدہ ہے۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ تم رسول کی دعا کو عام لوگوں کی دعا کی طرح مت سمجھو۔ کیونکہ آپ کی دعا قبول شدہ ہے، اگر تمھارے حق میں ہو گئی تو اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں اور اگر تمھارے خلاف ہو گئی تو کوئی جائے پناہ نہیں۔ یہ معنی اگرچہ اپنی جگہ درست ہے، مگر آیت کے الفاظ سے بعید ہے۔ ➋ {قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا:” يَتَسَلَّلُوْنَ “ } آہستہ آہستہ خفیہ طریقے سے نکلتے ہیں، کھسکتے ہیں، جیسے {” تَدَخَّلَ“} اور {” تَدَرَّجَ“} میں آہستہ آہستہ کا مفہوم شامل ہے۔ {” لِوَاذًالَاذَ يَلُوْذُ} سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، ایک دوسرے کی پناہ لینا۔ یہ منافقین کا شیوہ تھا کہ کوئی مسلمان اجازت لے کر نکلتا تو اس کی آڑ لے کر وہ بھی نکل جاتے۔ کھسکنے والوں کو اللہ کی گرفت سے ڈرانا مقصود ہے۔ ➌ {فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ:خَالَفَ يُخَالِفُ خِلَافًا وَ مُخَالَفَةً“} کا معنی پیچھے رہنا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ۠ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ }» [ التوبۃ: ۸۱ ] ”وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہو گئے۔“ {” يُخَالِفُوْنَ “} کے بعد {” عَنْ “} کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے ”سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں۔“ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۲۴، ۲۵) شوکانی نے فرمایا: {” يُخَالِفُوْنَ “} کے بعد {”عَنْ “} لانے کا مطلب یہ ہے کہ {” يُخَالِفُوْنَ “} کے ضمن میں اعراض کا مفہوم شامل ہے، یعنی جو لوگ اس کے حکم سے اعراض کرتے ہیں۔“ زمخشری نے فرمایا: {” يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ “} کا معنی {”يَصُدُّوْنَ عَنْ أَمْرِهِ“} ہے، یعنی جو لوگ اس کے حکم سے دوسروں کو روکتے ہیں۔“ مختصر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پیچھے رہنے کا نتیجہ فتنے میں مبتلا ہونا ہے۔ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے کہ آیت {” وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ “} میں فتنہ سے مراد شرک ہے، یعنی جو شخص جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل نہیں کرتا یا عمل کرنے میں تاخیر کرتا ہے، خطرہ ہے کہ وہ خالص ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور کفر و شرک یا بدعت میں مبتلا ہو جائے گا۔ ➍ { اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ:} دنیا میں اس عذاب کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں، دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۶۵) کی تفسیر۔ ➎ اس آیت میں لفظ{ ” اَوْ “} مانعۃ الخلو ہے، یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ فتنے اور عذابِ الیم میں سے کوئی چیز بھی ان پر نہ آئے، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ دونوںچیزیں ان پر اتریں۔ ➏ جب صرف ایک معاملہ میں رسول کی اطاعت نہ کرنے پر یہ وعید سنائی گئی ہے تو ان لوگوں کو اپنے معاملے پر ضرور غور کرنا چاہیے جنھوں نے رسول کو سرے سے اطاعت کا مستحق ہی نہیں سمجھا، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بے نیاز ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
← پچھلی آیت (62) پوری سورۃ اگلی آیت (64) →