بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 60
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 60
آیت نمبر: 60 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
وَ الۡقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَا یَرۡجُوۡنَ نِکَاحًا فَلَیۡسَ عَلَیۡہِنَّ جُنَاحٌ اَنۡ یَّضَعۡنَ ثِیَابَہُنَّ غَیۡرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیۡنَۃٍ ؕ وَ اَنۡ یَّسۡتَعۡفِفۡنَ خَیۡرٌ لَّہُنَّ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۶۰﴾
اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اُن کے حق میں اچھا ہے، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اور خواہش ہی) نہ رہی ہو وه اگر اپنے کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناه نہیں بشرطیکہ وه اپنا بناؤ سنگھار ﻇاہر کرنے والیاں نہ ہوں، تاہم اگر ان سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے بہت افضل ہے، اور اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے
اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اتار رکھیں جب کہ سنگھار نہ چمکائیں اور ان سے بھی بچنا ان کے لیے اور بہتر ہے، ور اللہ سنتا جانتا ہے،
اور وہ عورتیں جو (بڑھاپے کی وجہ سے) خانہ نشین ہوگئی ہوں جنہیں نکاح کی کوئی آرزو نہ ہو ان کیلئے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اپنے (پردہ کے) کپڑے اتار کر رکھ دیں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والیاں نہ ہوں۔ اور اگر اس سے بھی باز رہیں (اور پاکدامنی سے کام لیں) تو یہ اور بہتر ہے۔ اور اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
اور عورتوں میں سے بیٹھ رہنے والیاں، جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں سو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار دیں، جب کہ وہ کسی قسم کی زینت ظاہر کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ (اس سے بھی) بچیں ان کے لیے زیادہ اچھی ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں ٭٭

اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لیے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ ’ تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے ‘۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لیے عموماً اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔ پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بے فکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے؟ اس لیے گھر کے لونڈی غلام اور چھوٹے بچے بھی بے اطلاع ان وقتوں میں چپ چاپ نہ گھس آئیں۔ ہاں ان خاص وقتوں کے علاوہ انہیں آنے کی اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا آنا جانا تو ضروری ہے باربار کے آنے جانے والے ہیں ہر وقت کی اجازت طلبی ان کے لیے اور نیز تمہارے لیے بھی بڑی حرج کی چیز ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ { بلی نجس نہیں وہ تو تمہارے گھروں میں تمہارے آس پاس گھومنے پھرنے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:75،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ حکم تو یہی ہے اور عمل اس پر بہت کم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتوں پر عموماً لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ ایک تو یہی آیت اور ایک سورۃ نساء کی آیت «وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا» ۱؎ [4-النساء:8] ‏‏‏‏ اور ایک سورۃ الحجرات کی آیت «اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» ۱؎ [49-الحجرات:13] ‏‏‏‏، شیطان لوگوں پر چھا گیا اور انہیں ان آیتوں پر عمل کرنے سے غافل کر دیا گویا ان پر ایمان ہی نہیں میں نے تو اپنی اس لونڈی سے بھی کہہ رکھا ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بے اجازت ہرگز نہ آئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ابوداود:5191،قال الشيخ الألباني:صحيح الإسناد موقوف] ‏‏‏‏ پہلی آیت میں تو ان تین وقتوں میں لونڈی غلاموں اور نابالغ بچوں کو بھی اجازت لینے کا حکم ہے دوسری آیت میں ورثے کی تقسیم کے وقت جو قرابت دار اور یتیم مسکین آجائیں انہیں بنام الٰہی کچھ دے دینے اور ان سے نرمی سے بات کرنے کا حکم ہے اور تیسری آیت میں حسب ونسب پر فخر کرنے بلکہ قابل اکرام خوف الٰہی کے ہونے کا ذکر ہے۔

حضرت شعمی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ہرگز نہیں۔‏‏‏‏“ اس نے کہا پھر لوگوں نے اس پر عمل کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ فرمایا ”اللہ سے توفیق طلب کرنی چاہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت پر عمل کے ترک کی وجہ مالداری اور فراخ دلی ہے۔ پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکا لیتے یا کشادہ گھر کئی کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے ہیں تو بسا اوقات لونڈی غلام بے خبری میں چلے آتے اور میاں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی، کمرے جداگانہ بن گئے، دروازے باقاعدہ لگ گئے، دروازوں پر پردے پڑ گئے تو محفوظ ہو گئے۔ حکم الٰہی کی مصلحت پوری ہوگئی اس لیے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کر دی۔‏‏‏‏“ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہی تین وقت ایسے ہیں کہ انسان کو ذرا فرصت ہوتی ہے گھر میں ہوتا ہے اللہ جانے کس حالت میں ہو اس لیے لونڈی غلاموں کو بھی اجازت کا پابند کر دیا ہے کیونکہ اسی وقت میں عموماً لوگ اپنی گھر والیوں سے ملتے ہیں تاکہ نہا دھو کر بہ آرام گھر سے نکلیں اور نمازوں میں شامل ہوں۔‏‏‏‏“ یہ بھی مروی ہے کہ { ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ کھانا پکایا لوگ بلا اجازت ان کے گھر میں جانے لگے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو نہایت بری بات ہے کہ غلام بے اجازت گھر میں آ جائے ممکن ہے میاں بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوں۔ پس یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اس آیت کے منسوخ نہ ہونے پر اس آیت کے خاتمے کے الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں کہ اسی طرح تین وقتوں میں جن کا بیان اوپر گزرا اجازت مانگنی ضروری ہے لیکن بعد بلوغت تو ہر وقت اطلاع کر کے ہی جانا چاہے، جیسے کہ اور بڑے لوگ اجازت مانگ کر آتے ہیں خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔

جو بڑھیا عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ نہ اب انہیں مرد کی خواہش رہے نہ نکاح کی توقع حیض بند ہو جائے عمر سے اتر جائیں تو ان پر پردے کی وہ پابندیاں نہیں جو اور عورتوں پر ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں آیت «وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ» ۱؎ [24-النور:31] ‏‏‏‏ سے یہ آیت مستثنیٰ ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4111،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایسی عورتوں کو اجازت ہے کہ وہ برقعہ اور چادر اتار دیا کریں صرف دوپٹے میں اور کرتے پاجامے میں رہیں۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی «اَنْ يَّضَعْنَ مِنْ ثِيَابِهِنَّ» ۱؎ [24-النور:60] ‏‏‏‏ ہے۔ مراد اس سے دوپٹے کے اوپر کی چادر ڈالنا ضروری نہیں۔ لیکن مقصود اس سے بھی اظہار زینت نہ ہو۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب اس قسم کے سوالات عورتوں نے کئے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تمہارے لیے بناؤ سنگھار بے شک حلال اور طیب ہے لیکن غیر مردوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے نہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب بالکل بڑھیا پھوس ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام کے ہاتھوں اپنے سر کے بالوں میں مہندی لگوائی جب ان سے سوال کیا گیا تو فرمایا ”میں ان عمر رسیدہ عورتوں میں ہوں جنہیں خواہش نہیں رہی۔‏‏‏‏“ آخر میں فرمایا ’ گو چادر کا نہ لینا ان بڑی عورتوں کے لیے جائز تو ہے مگر تاہم افضل یہی ہے کہ چادروں اور برقعوں میں ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ سننے جاننے والا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

60-1ان سے مراد وہ بوڑھی اور راز کار رفتہ عورتیں ہیں جن کو حیض آنا بند ہوگیا ہو اور ولادت کے قابل نہ رہی ہوں اس عمر میں بالعموم عورت کے اندر مرد کے لئے فطری طور پر جو جنسی کشش ہوتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے نہ وہ کسی مرد سے نکاح کی خواہش مند ہوتی ہیں، نہ مرد ہی ان کے لئے ایسے جذبات رکھتے ہیں۔ ایسی عورتوں کو پردے میں تخفیف کی اجازت دے دی گئی ہے ' کپڑے اتار دیں سے مراد جو شلوار قمیض کے اوپر عورت پردے کے لئے بڑی چادر یا برقعہ وغیرہ کی شکل میں لیتی ہے بشرطیکہ مقصد اپنی زینت اور بناؤ سنگھار کا اظہار نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی عورت اپنی جنسی کشش کھو جانے کے باوجود اگر بناؤ سنگھار کے ذریعے سے ' اپنی جنسیت کو نمایاں کرنے کے مرض میں مبتلا ہو تو اس تخفیف پردہ کے حکم سے مستشنٰی ہوگی اور اس کے لئے مکمل پردہ کرنا ضروری ہوگا۔ 60-2یعنی مذکورہ بوڑھی عورتیں بھی پردے میں تخفیف نہ کریں بلکہ بدستور بڑی چادر یا برقعہ بھی استعمال کرتی رہیں تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 60) ➊ { وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا …:} بچوں کو بالغ ہونے کے بعد اجازت طلب کرنے کی پابندی کے ذکر کے بعد عورتوں کے سن یاس کو پہنچنے کے بعد ان کے لیے پردے کی پابندی میں تخفیف کا حکم بیان فرمایا۔ {” الْقَوَاعِدُ “ ” قَاعِدٌ“} کی جمع ہے، جو مذکر کا صیغہ ہونے کے باوجود عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ {”حَائِضٌ“} اور {”حَامِلٌ“} ہے، یعنی وہ عورتیں جو بڑی عمر کو پہنچ جائیں، انھیں نکاح کی رغبت نہ رہے، نہ دوسروں کو ان سے نکاح کی دلچسپی رہے، ان کے لیے رعایت ہے کہ وہ غیر محرم مردوں سے پردہ نہ کریں تو ان پر گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ اپنی زینت کا اظہار کرنے والی نہ ہوںـ۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ عورتیں جن کے حسن و جمال میں مردوں کے لیے کشش باقی ہو، انھیں پردہ اتارنا جائز نہیں۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ کا قول نقل فرمایا ہے: ”آیت {” وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا “} کا مطلب یہ ہے کہ ایسی عورت پر گناہ نہیں کہ گھر میں قمیص اور دوپٹے کے ساتھ رہے اور بڑی چادر اتار دے، جب تک وہ زینت ظاہر نہ کرے، جسے ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔“ (طبری: ۲۶۴۰۹) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی بوڑھی عورتیں گھر میں تھوڑے کپڑوں میں رہیں تو درست ہے اور پورا پردہ رکھیں تو اور بہتر ہے۔“ گھر سے باہر بھی اگر وہ برقع یا بڑی چادر نہ لیں تو حرج نہیں، بشرطیکہ وہ کسی قسم کی زینت کا اظہار نہ کر رہی ہوں۔ {” بِزِيْنَةٍ “} میں تنوین سے ظاہر ہے کہ بوڑھی عورت کے لیے غیر محرموں کے سامنے کسی بھی طرح کی زینت کا اظہار جائز نہیں۔ ➋ مرد جس عمر کو بھی پہنچ جائے اور جتنا بوڑھا بھی ہو جائے اگر غیر محرم ہے تو عورت کو اس سے پردہ کرنا لازم ہے، بعض عورتوں کا بوڑھوں سے پردہ اتار دینا درست نہیں۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس سے پردہ نہ کرنے کی اجازت نہیں آئی۔ ➌ { وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ:} یعنی اجازت طلب کرنے اور پردہ کرنے کے یہ احکام فتنے کی روک تھام کے ظاہری اسباب ہیں، باقی پردے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے اور جو فتنے اٹھائے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو سنتا اور جانتا ہے اور وہ اسی کے موافق ہر ایک سے معاملہ فرمائے گا۔
← پچھلی آیت (59) پوری سورۃ اگلی آیت (61) →