بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 56
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 56
آیت نمبر: 56 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۵۶﴾
نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور رسولؐ کی اطاعت کرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا
نماز کی پابندی کرو، زکوٰة ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور نماز برپا رکھو اور زکوٰة دو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اس امید پر کہ تم پر رحم ہو،
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ اور رسول(ص) کی اطاعت کرو۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کا حکم مانو، تاکہ تم رحم کیے جاؤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صلوۃ اور حسن سلوک کی ہدایات ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے با ایمان بندوں کو صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ ’ اسی کے لیے نمازیں پڑھتے رہو، اور ساتھ ہی اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ ضعیفوں، مسکینوں، فقیروں کی خبرگیری کرتے رہو۔ مال میں سے اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ نکالتے رہو۔ اور ہر امر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے رہو۔ جس بات کا وہ حکم فرمائے لاؤ جس امر سے وہ روکیں رک جاؤ۔ یقین مانوکہ اللہ کی رحمت کے حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے ‘۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «اُولٰىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [9-التوبة:71] ‏‏‏‏ ’ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور بضرور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ گمان نہ کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ ماننے والے ہم پر غالب آجائیں گے یا ادھر ادھر بھاگ کر ہمارے بے پناہ عذابوں سے بچ جائیں گے۔ ہم تو ان کا اصلی ٹھکانہ جہنم میں مقرر کر چکے ہیں جو نہایت بری جگہ ہے۔ قرار گاہ کے اعتبار اور بازگشت کے اعتبار سے بھی ‘۔

📖 احسن البیان

56-1یہ گویا مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اللہ کی رحمت اور مدد حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے جس پر چل کر صحابہ کرام کو یہ رحمت اور مدد حاصل ہوئی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 56){وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ …:} اس کا عطف {” يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا “} پر ہے، کیونکہ وہ اگرچہ لفظوں میں خبر ہے مگر معنی کے لحاظ سے امر ہے۔ گویا یہ کہا جا رہا ہے: {” اُعْبُدُوْنِيْ وَلَا تُشْرِكُوْا بِيْ شَيْئًا وَأَقِيْمُوا الصَّلاَةَ وَ آتُوا الزَّكَاةَ… “} خبر کے امر کے معنی میں ہونے کی ایک مثال یہ آیت ہے: { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ (10) تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ }آگے فرمایا: «{ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ }» [ الصف: ۱۰ تا ۱۲ ] اس میں {” يَغْفِرْ “} پر جزم اس لیے ہے کہ یہ امر کا جواب ہے، جو {” تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ “} خبر کی صورت میں ہے۔ (ابن عاشور) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافتِ ارضی کے حصول اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حق دار بننے کا طریقہ بیان فرمایا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (یہ بات {” يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا “} واؤ پر عطف سے ظاہر ہے) اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی فرماں برداری کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یہ نہایت جامع آیت ہے، دین کی کوئی بات باقی نہیں رہی جو اس آیت میں نہ آتی ہو۔ اللہ کی توحید کے بعد نماز اور زکوٰۃ کا خاص ذکر کرکے رسول کا ہر حکم ماننے کا حکم دیا۔
← پچھلی آیت (55) پوری سورۃ اگلی آیت (57) →