بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النساء — Surah Nisa
آیت نمبر 62
کل آیات: 176
قرآن کریم النساء آیت 62
آیت نمبر: 62 — سورۃ النساء islamicurdubooks.com ↗
فَکَیۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡکَ یَحۡلِفُوۡنَ ٭ۖ بِاللّٰہِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّ تَوۡفِیۡقًا ﴿۶۲﴾
پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہو جائے
پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعﺚ کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا اراده تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا
کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا
پھر کیسی گزرتی ہے جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی (ان کے کرتوتوں کی وجہ سے) تو آپ کی خدمت میں اللہ کے نام کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو بھلائی اور (فریقین میں) مصالحت کرانا تھا۔
پھر کیسے گزرتی ہے اس وقت جب انھیں کوئی مصیبت اس کی وجہ سے پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا، پھر تیرے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہم نے تو بھلائی اور آپس میں ملانے کے سوا کچھ نہیں چاہا تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر منافقوں کی مذمت میں بیان ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں کے باعث جب تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تیری ضرورت محسوس ہوتی ہے تو دوڑے بھاگے آتے ہیں اور تمہیں خوش کرنے کے لیے عذر معذرت کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور قسمیں کھا کر اپنی نیکی اور صلاحیت کا یقین دلانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے سوا دوسروں کی طرف ان مقدمات کے لے جانے سے ہمارا مقصود صرف یہی تھا کہ ذرا دوسروں کا دل رکھا جائے آپس کا میل جول نبھ جائے ورنہ دل سے کچھ ہم ان کی اچھائی کے معتقد نہیں۔ جیسے اور آیت میں «‏‏‏‏فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ» ۱؎ [5-المائدة:52] ‏‏‏‏ تک بیان ہوا ہے۔ یعنی { تو دیکھے گا کہ بیمار دل یعنی منافق یہود و نصاریٰ کی باہم دوستی کی تمام تر کوششیں کرتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان سے اختلاف کی وجہ سے آفت میں پھنس جانے کا خطرہ ہے پس بہت ممکن ہے اللہ تعالیٰ فتح لائے یا اپنا کوئی حکم نازل فرمائیں اور یہ لوگ ان ارادوں پر پشیمان ہونے لگیں جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ابوبرزہ اسلمی ایک کاہن شخص تھا، یہود اپنے بعض فیصلے اس سے کراتے تھے ایک واقعہ میں مشرکین بھی اس کی طرف دوڑے اس میں یہ آیتیں «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ» ۱؎ [4-النساء:60] ‏‏‏‏ سے «إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا» ۱؎ [4-النساء:62] ‏‏‏‏ تک نازل ہوئیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے لوگ یعنی منافقین کے دلوں میں جو کچھ ہے؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ کو کامل ہے اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مخفی نہیں وہ ان کے ظاہر وباطن کا اسے علم ہے تو ان سے چشم پوشی کر ان کے باطنی ارادوں پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کر ہاں انہیں نفاق اور دوسروں سے شر و فساد وابستہ رہنے سے باز رہنے کی نصیحت کر اور دل میں اترنے والی باتیں ان سے کہ بلکہ ان کے لیے دعا بھی کر۔

📖 احسن البیان

62۔ 1 یعنی جب اپنے اس کرتوت کی وجہ سے عتاب الٰہی کا شکار ہو کر مصیبتوں میں پھنستے ہیں تو پھر آکر کہتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ جانے سے مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں سے ہم فیصلہ کروائیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہمیں انصاف ملے گا بلکہ مقصد صلح اور ملاپ کرانا تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 63،62) یعنی جب اپنے کرتوتوں کے سبب عتاب الٰہی کا شکار ہو کر مصیبتوں میں پھنستے ہیں تو پھر آکر کہتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ جانے سے مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں سے ہم فیصلہ کروائیں گے، یا آپ سے زیادہ ہمیں وہاں سے انصاف ملے گا، بلکہ مقصد صلح اور ملاپ کرانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرچہ ہم ان کے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہیں، جس پر ہم انھیں جزا دیں گے، لیکن اے پیغمبر! آپ ان کے ظاہر کو سامنے رکھتے ہوئے در گزر ہی فرمائیے اور وعظ و نصیحت اور قول بلیغ کے ذریعے سے ان کے باطن کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے دشمنوں کی سازش کو عفو و درگزر، وعظ و نصیحت اور قول بلیغ ہی کے ذریعے سے ناکام بنانے کی سعی کی جانی چاہیے۔ یاد رہے! یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب منافق مغلوب تھے اور اسلام اور اس کے احکام اور عدالتیں غالب تھیں اور منافق دوسرے لوگوں سے فیصلہ کرانے پر پشیمان ہو کر عذر معذرتیں کرتے تھے۔
← پچھلی آیت (61) پوری سورۃ اگلی آیت (63) →