بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النساء — Surah Nisa
آیت نمبر 54
کل آیات: 176
قرآن کریم النساء آیت 54
آیت نمبر: 54 — سورۃ النساء islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ فَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلۡکًا عَظِیۡمًا ﴿۵۴﴾
پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟ اگر یہ بات ہے تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیمؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا
یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے، پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت بھی دی ہے اور بڑی سلطنت بھی عطا فرمائی ہے
یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا
یا پھر وہ لوگوں پر اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ (اگر یہ بات ہے) تو ہم نے آلِ ابراہیم (ع) کو کتاب و حکمت عطا کی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت عطا کی۔
یا وہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، تو ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور ہم نے انھیں بہت بڑی سلطنت عطا فرمائی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یہودیوں کی دشمنی کی انتہا اور اس کی سزا ٭٭

یہاں بطور انکار کے سوال ہوتا ہے کہ کیا وہ ملک کے کسی حصہ کے مالک ہیں؟ یعنی نہیں ہیں، پھر ان کی بخیلی بیان کی جاتی ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ کسی کو ذرا سا بھی نفع پہنچانے کے روادار نہ ہوتے خصوصاً اللہ کے اس آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا بھی نہ دیتے جتنا کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا پردہ ہوتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:100] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم تو خرچ ہو جانے کے خوف سے بالکل ہی روک لیتے ‘ گو ظاہر ہے کہ وہ کم نہیں ہو سکتے تھے لیکن تمہاری کنجوسی تمہیں ڈرا دیتی اسی لیے فرما دیا کہ ’ انسان بڑا ہی بخیل ہے۔ ‘

ان کے ان بخیلانہ مزاج کے بعد ان کا حسد واضح کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جو نبوت کا عظیم تر منصب بخشا ہے چونکہ وہ عرب میں سے ہیں بنی اسرائیل سے نہیں اس لیے ان سے حسد کی آگ میں جل رہے ہیں اور لوگوں کو آپ کی تصدیق سے روک رہے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں «الناس» سے مراد ہم ہیں کوئی اور نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے آل ابراہیم کو جو بنی اسرائیل کے قبائل میں اولاد ابراہیم سے ہیں نبوت دی کتاب نازل فرمائی جینے مرنے کے آداب سکھائے بادشاہت بھی دی اس کے باوجود ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اس انعام و اکرام کو مانا لیکن بعض نے پھر بھی اسے تسلیم نہ کیا اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے روکا حالانکہ وہ بھی بنی اسرائیل ہی تھے تو جبکہ یہ اپنے والوں سے بھی منکر ہو چکے ہیں تو پھر اے نبی آخر الزمان آپ کا انکار ان سے کیا دور ہے۔؟ جب کہ آپ ان میں سے بھی نہیں، یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ بعض اس پر یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے پس یہ کافر اپنے کفر میں بہت سخت اور نہایت پکے ہیں اور ہدایت و حق سے بہت ہی دور ہیں پھر انہیں ان کی سزا سنائی جا رہی ہے کہ جہنم کا جلنا انہیں بس ہے، ان کے کفر و عناد کی ان کی تکذیب اور سرکشی کی یہ سزا کافی ہے۔

📖 احسن البیان

54۔ 1 ام یا بل کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی بلکہ یہ اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر دوسروں میں نبی (یعنی آخری نبی) کیوں بنایا؟ نبوت اللہ کا سب سے بڑا فضل ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 54) مطلب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں مدت دراز تک نبوت اور بادشاہت رہی ہے اور داؤد و سلیمان علیھما السلام اور دوسرے اولوا العزم پیغمبر ہو گزرے ہیں، اب بنو اسماعیل میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دیا گیا ہے تو یہ کیوں حسد کر رہے ہیں؟! یہاں { ”مِنْ فَضْلِهٖ“ } سے مراد نبوت اور دین و دنیا کی وہ عزت ہے جو نبوت کی برکت سے حاصل ہوئی۔ { ”الْكِتٰبَ“ } سے مراد کتاب الٰہی اور { ”وَ الْحِكْمَةَ“ } سے اس کا فہم اور اس پر عمل کرنا مراد ہے اور {”مُلْكًا عَظِيْمًا“} سے مراد سلطنت اور غلبہ و اقتدار ہے۔ (رازی، ابن کثیر)
← پچھلی آیت (53) پوری سورۃ اگلی آیت (55) →