بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النساء — Surah Nisa
آیت نمبر 51
کل آیات: 176
قرآن کریم النساء آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ النساء islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَ الطَّاغُوۡتِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہٰۤؤُلَآءِ اَہۡدٰی مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِیۡلًا ﴿۵۱﴾
کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں
کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا؟ جو بت کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیاده راه راست پر ہیں
کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں،
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (الٰہی) سے کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ جبت (بت) اور طاغوت (شیطان) پر ایمان رکھتے ہیں (انہیں مانتے ہیں) اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایمان لانے والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ بتوں اور باطل معبود پر ایمان لاتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں جو ایمان لائے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

منہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت ٭٭

یہودونصاری کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے ہیں اور کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے یا نصرانی ان کے اس قول کی تردید میں یہ آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:49] ‏‏‏‏ نازل ہوئی اور یہ قول مجاہد رحمہ اللہ کے خیال کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بےگناہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے جو بچے فوت ہو گئے ہیں وہ ہمارے لیے قربت الٰہی کا ذریعہ ہیں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں وہ بچالیں گے پس یہ آیت اتری۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو بےگناہ کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیتا، یہ کہتے تھے کہ جیسے ہمارے بچے بے خطا ہیں ایسے ہیں ہم بھی بےگناہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت دوسروں کو بڑھی چڑھی مدح و ثنا بیان کرنے کے رد میں اتری ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم مدح کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3002] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دوسرے کی مدح و ستائش کرتے ہوئے سن کر فرمایا افسوس تو نے اس اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی ‘ پھر فرمایا ’ اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہی ضرورت کی وجہ سے کسی کی تعریف کرنی بھی ہو تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل یہی ہے کہ کسی کی منہ پر تعریف نہ کی جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2662] ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو کہے میں مومن ہوں وہ کافر ہے اور جو کہے کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے اور جو کہے میں جنتی ہوں جہنمی ہے، ۱؎ [مسند الفاروق:574/2:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں آپ کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ کوئی شخص خود پسندی کرنے لگے اور اپنی سمجھ پر آپ فخر کرنے بیٹھ جائے، ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ہی کم حدیث بیان فرماتے اور بہت کم جمعے ایسے ہوں گے جن میں آپ نے یہ چند حدیثیں نہ سنائی ہوں کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہوتا ہے اسے اپنے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے } اور { یہ مال میٹھا اور سبز رنگ ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی، تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدح و ستائش سے پرہیز کرو اس لیے کہ یہ دوسرے پر چھری پھیرنا ہے } ۱؎ [مسند احمد:93/4،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ یہ پچھلا جملہ ان سے ابن ماجہ میں بھی مروی ہے ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3743،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان صبح کو دین لےکر نکلتا ہے پھر جب کہ وہ لوٹتا ہے تو اس کے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا (‏‏‏‏اس کی وجہ یہ ہوتی ہے) کہ وہ صبح کسی سے اپنا کام نکالنے کے لیے ملا، اس کی تعریف شروع کر دی اور اس کی مدح سرائی شروع کی اور قسمیں کھا کر کہنے لگا آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں حلانکہ نہ وہ اس کے نقصان کا مالک ہے نہ نفع اور بسا اوقات ممکن ہے ان کی تعریفی کلمات کے بعد بھی اس سے اس کا کام نہ نکلے لیکن اس نے تو اللہ کو ناخوش کردیا۔ پھر آپ نے آیت تزکیہ کی تلاوت فرمائی(‏‏‏‏ابن جریر) اور اس کا تفصیلی بیان «فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» ۱؎ [53-النجم:32] ‏‏‏‏‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جسے چاہے پاک کر دے کیونکہ تمام چیزوں کی حقیقت اور اصلیت کا عالم وہی ہے، پھر فرمایا کہ اللہ ایک دھاگے کے وزن کے برابر بھی کسی کی نیکی نہ چھوڑے گا، فتیل کے معنی ہیں کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا دھاگہ اور مروی ہے کہ وہ دھاگہ جسے کوئی اپنی انگلیوں سے بٹ لے۔

پھر فرماتا ہے ان کی افترا پردازی تو دیکھو کہ کس طرح اللہ عزوجل کی اولاد اور اس کے محبوب بننے کے دعویدار ہیں؟ اور کیسی باتیں کر رہے ہیں کہ ہمیں تو صرف چند دن آگ میں رہنا ہو گا کس طرح اپنے بروں کے نیک اعمال پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں؟ حالانکہ ایک کا عمل دوسرے کو کچھ نفع نہیں دے سکتا جیسے ارشاد ہے «تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:134] ‏‏‏‏ ’ ‏‏‏‏یہ ایک گروہ ہے جو گزر چکا ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ‘ پھر فرماتا ہے ان کا یہ کھلا کذب و افترا ہی ان کے لیے کافی ہے «جِبْتِ» کے معنی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جادو اور طاغوت کے معنی شیطان کے مروی ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:462/8] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «جبت» حبش کا لفظ ہے اس کے معنی شیطان کے ہیں، شرک بت اور کاہن کے معنی بھی بتائے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حی بن اخطب ہے، بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف ہے، ایک حدیث میں ہے فال اور پرندوں سے یعنی ان کے نام یا ان کے اڑنے یا بولنے یا ان کے نام سے شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر معاملہ طے کرنا یہ جبت ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:3907،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ حسن کہتے ہیں «جبت» شیطان کی گنگناہٹ ہے، طاغوت کی نسبت پہلے سورہ بقرہ میں تفصیلی ذکر گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، جابر رحمہ اللہ سے جب طاغوت کی نسبت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ کاہن لوگ ہیں جن کے پاس شیطان آتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسانی صورت کے یہ شیاطین ہیں جن کے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور انہیں حاکم مانتے ہیں۔

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی عبادت اللہ سوا کی جائے۔ پھر فرمایا کہ انکی جہالت بے دینی اور خود اپنی کتاب کے ساتھ کفر کی نوبت ہیاں تک پہنچ گئی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں پر ترجیح اور افضلیت دیتے ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ والوں کے پاس آئے تو اہل مکہ نے ان سے کہا تم اہل کتاب اور صاحب علم ہو بھلا بتا ؤ تو ہم بہتر ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا تم کیا ہو؟ اور وہ کیا ہیں؟ تو اہل مکہ نے کہا ہم صلہ رحمی کرتے ہیں تیار اونٹنیاں ذبح کرکے دوسروں کو کھلاتے ہیں، لسی پلاتے ہیں غلاموں کو آزاد کرتے ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صنبور ہیں ہمارے رشتہ ناتے تڑوادیے۔ ان کا ساتھ حاجیوں کے چوروں نے دیا ہے جو قبیلہ غفار میں سے ہیں اب بتا ؤ ہم اچھے یا وہ؟ تو ان دونوں نے کہا تم بہتر ہو اور تم زیادہ سیدھے راستے پرہو اس پر یہ آیت اتری دوسری روایت میں ہے انہی کے بارے میں «‏‏‏‏إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الأَبتَرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [108-الکوثر:3] ‏‏‏‏ اتری ہے۔ بنو وائیل اور بنو نضیر کے چند سردار جب عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آگ لگا رہے تھے اور جنگ عظیم کی تیاری میں تھے اس قوت جب یہ قریش کے پاس آئے تو قریشیوں نے انہیں عالم و درویش جان کر ان سے پوچھا کہ بتاؤ ہمارا دین اچھا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ تو ان لوگوں نے کہا تم اچھے دین والے اور ان سے زیادہ صحیح راستے پر ہو اس پر ہی آیت اتری اور خبر دی گئی کہ یہ لعنتی گروہ ہے اور ان کا ممد و معاون دنیا اور آخرت میں کوئی نہیں اس لیے کہ صرف کفار کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بطور چاپلوسی اور خوشامد کے یہ کلمات اپنی معلومات کے خلاف کہہ رہے ہیں لیکن یاد رکھ لیں کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکتے چنانچہ یہی ہوا زبردست لشکر لے کر سارے عرب کو اپنے ساتھ ملا کر تمام تر قوت و طاقت اکٹھی کر کے ان لوگوں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنی پڑی لیکن بالآخر دنیا نے دیکھ لیا ان کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں یہ خائب و خاسر رہے، نامراد و ناکام پلٹے، دامن مراد خالی رہا بلکہ نامرادی مایوسی اور نقصان عظیم کے ساتھ لوٹنا پڑا۔ «وَرَدَّ اللَّـهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» ‏‏‏‏ [ 33-الأحزاب: 25 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد آپ کی اور اپنی قوت و عزت سے (‏‏‏‏کافروں کو) اوندھے منہ گرا دیا، «فالحمداللہ الکبیر المتعال» ۔

📖 احسن البیان

51۔ 1 اس آیت میں یہودیوں کے ایک اور فعل پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب ہونے کے باوجود یہ (جبت) بت، کاہن یا ساحر (جھوٹے معبودوں) پر ایمان رکھتے اور کفار مکہ کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں جبت کے یہ سارے مزکورہ معنی کیے گئے ہیں ایک حدیث میں آتا ہے " ان العیافۃ والطرق والطیرۃ من الجبت "' پرندے اڑا کر، خط کھینچ کر، بدفالی اور بد شگونی لینا ' یعنی یہ سب شیطانی کام ہیں اور یہود میں یہ چیزیں عام تھیں طاغوت کے ایک معنی شیطان بھی کئے گئے ہیں '، دراصل معبودان باطل کی پرستش، شیطان ہی کی پیروی ہے۔ اس لئے شیطان بھی یقینا طاغوت میں شامل ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 52،51) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ …:} عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «و إن کنتم مرضی أو علی سفر» قبل ح: ۴۵۸۳، معلقًا ] جوہری نے الصحاح میں فرمایا: جبت کا لفظ بت، کاہن، جادوگر اور اس قسم کی دوسری چیزوں پر استعمال ہوتا ہے۔“ اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ پرندوں کو اڑا کر شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کرفال گیری کرنا جبت میں شامل ہے۔ [ أبو داوٗد، الطب، باب فی الخط وزجر الطیر: ۳۹۰۷ ] اور طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ شخص جو گناہ کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ عرب میں بتوں کے ترجمان ہوتے تھے، جو ان کی زبان سے جھوٹ نقل کرتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے، ان کو طاغوت کہا جاتا تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۲)۔ ➋ یہودیوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالفت ہوئی تو انھوں نے مشرکین مکہ سے رابطہ قائم کر لیا اور ان سے کہنے لگے کہ تمھارا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے۔ یہ سب کچھ اس حسد کی وجہ سے تھا کہ نبوت اور ریاستِ دینی ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئی، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کو الزام دیا۔
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →