بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النساء — Surah Nisa
آیت نمبر 103
کل آیات: 176
قرآن کریم النساء آیت 103
آیت نمبر: 103 — سورۃ النساء islamicurdubooks.com ↗
فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ ۚ فَاِذَا اطۡمَاۡنَنۡتُمۡ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ۚ اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتۡ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾
پھر جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو اور جب اطمینان نصیب ہو جائے تو پوری نماز پڑھو نما ز در حقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے
پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو اور جب اطمینان پاؤ تو نماز قائم کرو! یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے
پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب دستور نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے
پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے، اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہوئے) اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو نماز کو پورے طور پر ادا کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر پابندی وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔
پھر جب تم نماز پوری کر لو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر لیٹے ہوئے یاد کرو، پھر جب تم مطمئن ہوجائو تو نماز قائم کرو۔ بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہے جس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صلوٰۃ خوف کے بعد کثرت ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ نماز خوف کے بعد اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو، گو ذکر اللہ کا حکم اور اس کی ترغیب وتاکید اور نمازوں کے بعد بلکہ ہر وقت ہی ہے، لیکن یہاں خصوصیت سے اس لیے بیان فرمایا کہ یہاں بہت بڑی رخصت عنایت فرمائی ہے نماز میں تخفیف کر دی، پھر حالت نماز میں اِدھر اُدھر ہٹنا جانا اور آنا مصلحت کے مطابق جائز رکھا، جیسے حرمت والے مہینوں کے متعلق فرمایا «فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ» ۱؎ [9-التوبة:36] ‏‏‏‏ ’ ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ‘ جب کہ اور اوقات میں بھی ظلم ممنوع ہے لیکن ان کے مہینوں میں اس سے بچاؤ کی مزید تاکید کی ہے۔ تو فرمان ہوتا ہے کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہو، اور جب اطمینان حاصل ہو جائے ڈر خوف نہ رہے تو باقاعدہ خشوع خضوع سے ارکان نماز کو پابندی کے مطابق شرع بجا لاؤ، نماز پڑھنا وقت مقررہ پر منجانب اللہ فرض عین ہے، جس طرح حج کا وقت معین ہے اسی طرح نماز کا وقت بھی مقرر ہے، ایک وقت کے بعد دوسرا پھر دوسرے کے بعد تیسرا۔ پھر فرماتا ہے دشمنوں کی تلاش میں کم ہمتی نہ کرو چستی اور چالاکی سے گھات کی جگہ بیٹھ کر ان کی خبر لو، اگر قتل و زخم ونقصان تمہیں پہنچتا ہے تو کیا انہیں نہیں پہنچتا؟ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا گیا ہے «‏‏‏‏إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ» ۱؎ [3-آل عمران:140] ‏‏‏‏ پس مصیبت اور تکلیف کے پہنچنے میں تم اور وہ برابر ہیں، لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے کہ تمہیں ذات عزاسمہ سے وہ اُمیدیں اور وہ آسرے ہیں جو انہیں نہیں، تمہیں اجر و ثواب بھی ملے گا تمہاری نصرت و تائید بھی ہو گی، جیسے کہ خود باری تعالیٰ نے خبر دی ہے اور وعدہ کیا، نہ اس کی خبر جھوٹی نہ اس کے وعدے ٹلنے والے۔ پس تمہیں بہ نسبت ان کے بہت تگ و دو چاہیئے تمہارے دلوں میں جہاد کا ولولہ ہونا چاہیئے، تمہیں اس کی رغبت کامل ہونی چاہیئے، تمہارے دلوں میں اللہ کے کلمے کو مستحکم کرنے توانا کرنے پھیلانے اور بلند کرنے کی تڑپ ہر وقت موجود رہنی چاہیئے اللہ تعالیٰ جو کچھ مقرر کرتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے جو جاری کرتا ہے جو شرع مقرر کرتا ہے جو کام کرتا ہے سب میں پوری خبر کا مالک صحیح اور سچے علم والا ساتھ ہی حکمت والا بھی ہے، ہر حال میں ہر وقت سزاوار تعریف و حمد وہی ہے۔

📖 احسن البیان

13۔ 1 مراد یہی خوف کی نماز ہے اس میں چونکہ تخفیف کردی گئی ہے، اس لئے اس کی تلافی کے لئے کہا جا رہا کہ کھڑے بیٹھے لیٹے اللہ کا ذکر کرتے رہو۔ 13۔ 2 اس سے مراد ہے کہ جب خوف اور جنگ کی حالت ختم ہوجائے تو پھر نماز اس طریقے کے مطابق پڑھنا ہے جو عام حالات میں پڑھی جاتی ہے۔ 13۔ 3 اس میں نماز کو مقررہ وقت میں پڑھنے کی تاکید ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شرعی عذر کے دو نمازوں کو جمع کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس طرح کم از کم ایک نماز غیر وقت میں پڑھی جائے گی جو اس آیت کے خلاف ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 103) ➊{ فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ …:} یعنی صلاۃ الخوف میں نماز کی حالت میں اذکار پورے نہیں ہو سکتے، اس لیے نماز پوری ہونے پر کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرو، تاکہ تلافی ہو جائے، اس کے علاوہ ہر حال میں ذکر کی کثرت ہونی چاہیے۔ جنگ کے موقع پر تو اللہ تعالیٰ نے اس کا خاص حکم دیا، فرمایا: «{ اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ }» [ الأنفال: ۴۵ ] ”جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ ➋ { فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ:} یعنی جب خوف کی حالت ختم ہو جائے اور دشمن کا کوئی خطرہ نہ رہے تو نماز کو اس کے پورے ارکان و شرائط اور حدود کے ساتھ مقررہ اوقات پر ادا کرو۔ ہاں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھی ہیں، جیسا کہ عرفات، مزدلفہ اور دوسرے سفروں میں جمع کیا ہے، تو سفر میں جمع کرنے کی رعایت بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس سے تو وقت مقرر کرنے کا اختیار ہی نہ تھا۔ اس لیے اس کا وقت وہی ہے۔
← پچھلی آیت (102) پوری سورۃ اگلی آیت (104) →