بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الناس — Surah Nas
آیت نمبر 5
کل آیات: 6
قرآن کریم الناس آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ الناس islamicurdubooks.com ↗
الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ ۙ﴿۵﴾
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے
وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں،
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔
وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭

اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔ صحیح حدیث میں ہے {تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ } ۱؎۔ [صحیح مسلم:2814] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی اور حدیث میں {سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ”سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں“، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے“} ۱؎ [صحیح بخاری:2035] ‏‏‏‏ حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔} ۲؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ‏‏‏‏، یہ حدیث غریب ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے ۳؎، [مسند احمد:71/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے}۔

مسند احمد میں ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے“ }، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو ۱؎ [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] ‏‏‏‏ اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔ قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» ۲؎ [72-الجن:6] ‏‏‏‏ کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔

اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔ جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:112] ‏‏‏‏ یعنی ’اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں‘۔

مسند احمد میں ہے {سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”نماز پڑھی؟“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو“، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، ۱؎ [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] ‏‏‏‏ میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے“، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ”کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے“، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا“، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا“، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام“، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ”تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت“ اور کبھی فرمایا: ”تین سو پندرہ“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» } ۲؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏} ۳؎ [مسند احمد:178/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔ «فَاللهُ اَعْلَمُ»

مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ {ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا“}، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۱؎۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ «الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»

اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین» «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) ➊ { الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ:} وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات سے اللہ کی پناہ مانگے کہ وہ اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈال دے اور اسے راہِ حق سے ہٹا دے اور اس بات سے بھی کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کرانھیںاس کے خلاف بھڑکا دے، جس کے نتیجے میں دین پر عمل کرنے اور اس کی دعوت دینے کے راستے میں وہ اس کے لیے رکاوٹ بن جائیں۔ دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ ہی اس کے شر سے بچا سکتا ہے، اس لیے اسی کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ➋ آدمی کوئی نیکی کرے یا برائی اس کا آغاز دل میں اس کا خیال پیدا ہونے سے ہوتا ہے، خیال جما رہے تو وہ خواہش کو ابھارتا ہے، خواہش سے ارادہ بنتا ہے، ارادہ پختہ ہو جائے تو عزم بنتا ہے، عزم نیت کا باعث ہوتا ہے، نیت اعضا کو عمل کے لیے حرکت میں لے آتی ہے اور آخری مرحلہ اس نیکی یا بدی پر عمل کا ہوتا ہے۔ دل میں پیدا ہونے والا یہ خیال اگر نیکی کا ہو تو رحمان کے مقرر کیے ہوئے فرشتے کی طرف سے ہوتا ہے اور الہام کہلاتا ہے، اگر بدی کا ہو تو وسوسہ کہلاتا ہے اور یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ ان دونوں کا فرق اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ خیال کتاب و سنت کی رو سے نیکی کا کام ہے تو الہام ہے، ورنہ وسوسہ۔ وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم اس لیے دی گئی کہ جہاں سے برائی شروع ہوتی ہے وہیں تم اللہ کی پناہ میں چلے جاؤ، تاکہ اللہ تعالیٰ شروع ہی میں تمھیں اپنی پناہ میں لے لے۔ جس سے نہ وہ وسوسہ دل میں جگہ پکڑے گا اور نہ بعد کے مراحل کی نوبت آئے گی۔ ➌ وسوسہ ڈالنے والوں کا شر صرف ایک ہی قسم کا نہیں ہوتا، بلکہ وہ کئی طرح سے آدمی کو راہِ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ اور دوسرے اہلِ علم نے اس کی کئی صورتیں بیان کی ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ آدمی کو صریح کفرو شرک اور اللہ اور اس کے رسول کی بغاوت اور دشمنی پر آمادہ کرتے ہیں، اگر اس میں ناکام ہوں اور آدمی ایمان پر قائم رہے تو وہ اسے دوسرے شر یعنی بدعت میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدعت میں مبتلا کرنا انھیں آدمی کو بڑے سے بڑے گناہ میں مبتلا کرنے سے بھی زیادہ پسند ہے، کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جسے آدمی نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔ اگر وہ سنت پر قائم رہے تو اسے کسی نہ کسی کبیرہ گناہ سے آلودہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خصوصاً اگر وہ دینی عالم ہو، تاکہ بدنام ہو کر دین کا کام نہ کر سکے۔ اگر اس میں بھی کامیاب نہ ہوں تو چھوٹے گناہوں کی رغبت دلاتے ہیں، تاکہ وہ انھیں معمولی سمجھ کر ان کے بوجھ تلے دب جائے۔ یہ بھی نہ کر سکیں تو نیکی کے کاموں سے ہٹا کر ان کاموں میں لگانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں نہ ثواب ہے نہ عذاب اور اس طرح اس کی عمر برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر وہ اپنے وقت کو بے کار کاموں میں لگانے پر کسی صورت آمادہ نہ ہو تو نیکی کے بڑے کام سے ہٹا کر چھوٹے کام میں لگانے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً دعوت و جہاد سے ہٹا کر نفلی نماز روزے میں لگا دیتے ہیں۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو دل میں ریا یا اپنے عمل پر غرور پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی صورت ان کے قابو میں نہ آئے تو شیطان اور اس کے وہ چیلے بے شمار طریقوں سے اسے بدنام کرنے اور تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ نہ ہو سکے تو اسے غصہ دلا کر فہم و شعور سے بیگانہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس وقت بھی اگر وہ اللہ کی پناہ میں چلا جائے تو ان کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۲۰۰ ] ”اور اگر تجھے شیطان کی طرف سے کوئی چوکا لگے (یعنی شیطان تجھے غصہ دلائے) تو اللہ کی پناہ مانگ۔“ غرض موت تک یہ دشمن اپنی دشمنی سے باز نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آخر وقت تک اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین)
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →