بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 78
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 78
آیت نمبر: 78 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ بِحُکۡمِہٖ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡعَلِیۡمُ ﴿ۙۚ۷۸﴾
یقیناً (اِسی طرح) تیرا رب اِن لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے
آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے سب فیصلے کر دے گا، وه بڑا ہی غالب اور دانا ہے
بیشک تمہارا رب ان کے آپس میں فیصلہ فرماتا ہے اپنے حکم سے اور وہی ہے عزت و الا علم والا،
اور بےشک آپ کا پروردگار اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ وہ بڑا غالب اور بڑا جاننے والا ہے۔
یقینا تیرا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کرے گا اور وہی سب پر غالب، سب کچھ جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا ٭٭

قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل یعنی حاملان تورات وانجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن اللہ ان کے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیئے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آ چکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔

اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو ان کی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کر سکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔

📖 احسن البیان

78-1یعنی قیامت میں ان کے اختلافات کا فیصلہ کر کے حق کو باطل سے ممتاز کر دے گا اور اس کے مطابق جزا و سزا کا اہتمام فرمائے گا یا انہوں نے اپنی کتابوں میں جو تعریفیں کی ہیں، دنیا میں ہی ان کا پردہ چاک کر کے ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 78) ➊ { اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ:} یعنی جس طرح تیرے رب نے دنیا میں ان کے اختلافات اور تحریفات کا بھانڈا پھوڑا ہے، اسی طرح وہ قیامت کے دن بھی اپنے حکم کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ دیکھیے سورۂ زمر (۴۶)۔ ➋ { وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ:} کیونکہ وہ سب پر غالب ہے، اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ وہ سب کچھ جانتا ہے، اس سے کوئی بات مخفی نہیں، اس لیے اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔
← پچھلی آیت (77) پوری سورۃ اگلی آیت (79) →