بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 77
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّہٗ لَہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۷۷﴾
اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے
اور یہ قرآن ایمان والوں کے لیے یقیناً ہدایت اور رحمت ہے
اور بیشک وہ ہدایت اور رحمت ہے مسلمانوں کے لیے،
اور بلاشبہ وہ (قرآن) مؤمنین کیلئے سراپا ہدایت اور رحمت ہے۔
اور بے شک وہ یقینا ایمان والوں کے لیے سراسر ہدایت اور رحمت ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا ٭٭

قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل یعنی حاملان تورات وانجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن اللہ ان کے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیئے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آ چکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔

اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو ان کی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کر سکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔

📖 احسن البیان

77-1مومنوں کا اختصاص اس لئے کہ وہی قرآن سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ انھیں میں وہ بنی اسرائیل بھی ہیں جو ایمان لے آئے تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 77){ وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} اگرچہ یہ قرآن تمام جہانوں کو خبردار کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ (دیکھیے فرقان: ۱) مگر اس سے ہدایت اور رحمت انھی کو حاصل ہوتی ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۲تا۵) اور ایمان والے لوگ ہی ان گمراہیوں سے بچتے ہیں جن میں بنی اسرائیل اور مشرکین عرب مبتلا ہوئے۔ اس قرآن کی بدولت انھیں زندگی کا سیدھا راستہ ملے گا اور اس کی بدولت ان پر اللہ کی وہ رحمتیں ہوں گی جن کا تصور بھی بنی اسرائیل یا کفارِ قریش نہیں کر سکتے، چنانچہ چند ہی سالوں میں وہ لوگ جو سراسر گمراہی میں مبتلا تھے، ہدایت میں دنیا کے امام بن گئے اور ان پر اللہ کی اتنی رحمتیں ہوئیں کہ وہ روئے زمین کے بہت بڑے حصے کے فرماں روا بن گئے۔
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →