بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 45
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 45
آیت نمبر: 45 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ فَاِذَا ہُمۡ فَرِیۡقٰنِ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو متخاصم فریق بن گئے
یقیناً ہم نے ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو پھر بھی وه دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے
اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ کو پوجو تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے جھگڑا کرتے
اور بےشک ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر (اس پیغام کے ساتھ) بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ تو وہ دو فریق (مؤمن و کافر) ہوگئے جو آپس میں جھگڑنے لگے۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ ہو کر جھگڑ رہے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صالح علیہ السلام کی ضدی قوم ٭٭

صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح علیہ السلام کو رسول اللہ مانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لا چکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں۔

اور آیت میں ہے «وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا» [4-النساء:78] ‏‏‏‏ ’ یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے ‘ تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضاء و قدر سے ہے۔ سورۃ یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت «‏‏‏‏قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» [36-يس:18] ‏‏‏‏ ’ ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور سخت سزا دیں گے۔ ‘ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ علیہ السلام صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جا رہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔

📖 احسن البیان

45-1ان سے مراد کافر اور مومن ہیں، جھگڑنے کا مطلب ہر فریق کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ حق پر ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 45) {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا …:} اس کا عطف {” وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ عِلْمًا “} پر ہے اور یہ موسیٰ اور داؤد و سلیمان علیھم السلام کے قصوں کے بعد تیسرا قصہ ہے۔ اس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۳ تا ۷۹)، ہود (۶۱ تا ۶۸)، شعراء (۱۴۱ تا ۱۵۹)، قمر (۲۳ تا ۳۲) اور شمس (۱۱ تا ۱۵) ملکہ سبا اور اس کی قوم عزت و سلطنت کے باوجود سلیمان علیہ السلام کی دعوت پر اسلام لے آئی۔ اب صالح علیہ السلام کی قوم کا ذکر ہوتا ہے جو صالح علیہ السلام کی بعثت پر دو گرہوں میں بٹ گئی۔ ایک مومن و مسلم جو عموماً ”مستضعفين “ (کمزور) تھے، دوسرا کافر و منکر جو ”مستكبرين“ (متکبر لوگ) تھے۔ دو گروہ بنتے ہی ان کے درمیان سخت جھگڑا شروع ہو گیا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ (75) قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِيْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ }» [ الأعراف: ۷۵، ۷۶ ] ”اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، ان لوگوں سے کہا جو کمزور گنے جاتے تھے، ان میں سے انھیں (کہا) جو ایمان لے آئے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ واقعی صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا بے شک ہم جو کچھ دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس پر ایمان لانے والے ہیں۔ وہ لوگ جو بڑے بنے ہوئے تھے، انھوں نے کہا بے شک ہم جس پر تم ایمان لائے ہو، اس کے منکر ہیں۔“ یہی صورت حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ مکہ میں بھی پیدا ہوئی کہ قوم دو گروہوں میں بٹ گئی اور یہ جھگڑا اس وقت تک جاری رہا جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے جزیرۂ عرب پورے کا پورا اسلام کے زیر نگیں نہیں آ گیا اور کفار یا تو ذلیل و خوار ہو کر مردار ہوئے یا اسلام کے سایۂ رحمت میں آگئے۔ یہ قصہ ان حالات کے عین مطابق تھا جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
← پچھلی آیت (44) پوری سورۃ اگلی آیت (46) →