بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 44
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
قِیۡلَ لَہَا ادۡخُلِی الصَّرۡحَ ۚ فَلَمَّا رَاَتۡہُ حَسِبَتۡہُ لُجَّۃً وَّ کَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَیۡہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنۡ قَوَارِیۡرَ ۬ؕ قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾
اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائنچے اٹھا لیے سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے اس پر وہ پکار اٹھی "اے میرے رب، (آج تک) میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کر لی"
اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو، جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں، فرمایا یہ توشیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے، کہنے لگی میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ﻇلم کیا۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرمانبردار بنتی ہوں
اس سے کہا گیا صحن میں آ پھر جب اس نے اسے دیکھا گہرا پانی سمجھی اور اپنی ساقیں کھولیں سلیمان نے فرمایا یہ تو ایک چکنا صحن ہے شیشوں جڑا عورت نے عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب سلیمانے کے ساتھ اللہ کے حضور گردن رکھتی ہوں جو رب سارے جہان کا
اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو (بلوریں فرش کو گہرا) پانی خیال کیا اور (گزرنے کیلئے اس طرح پائیچے اٹھائے کہ) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں۔ آپ نے کہا یہ (پانی نہیں ہے بلکہ) شیشوں سے مرصع محل ہے (اور بلوریں فرش ہے) ملکہ نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔
اس سے کہا گیا اس محل میں داخل ہو جا۔ تو جب اس نے اسے دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا۔ اس نے کہا یہ توشیشوں کا ملائم بنایا ہوا فرش ہے۔ اس (ملکہ) نے کہا اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے فرماں بردار ہو گئی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بلقیس کا تخت آنے کے بعد ٭٭

اس تخت کے آجانے کے بعد سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کر دی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کر دی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی، زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھی۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہو سکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہو گا۔ سلیمان علیہ السلام نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کر سکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض سلیمان علیہ السلام کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئی بات یا بدصورتی نہیں ہے چونکہ بے نکاحی تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہو سکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گر جائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریا سمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اسی وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آ سکتی ہیں۔

سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اس کے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن و انس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بیدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان علیہ السلام اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہو گئی ادھر سے نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چنانچہ سچے دل سے مسلمان ہو گئی۔

ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں سلیمان علیہ السلام جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آ کر اپنے پروں سے سایہ کر لیتے۔ پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کر کے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کر دے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے۔ اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ ان کی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے سلیمان علیہ السلام اس کی صداقت کی آزمائش کے لیے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کر کے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے سلیمان علیہ السلام واپس کر دیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو سلیمان علیہ السلام دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے؟ اس پر تو یہ خاموش ہو گیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے سلیمان علیہ السلام سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئیے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گر پڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کر سکتا۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بے فکر ہو جاؤ میں نے کفایت کر دی آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان علیہ السلام نے اسے پسند کر لیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہو گئی تو یہ ہم سے ہمیشہ کے لیے گئے۔ اس لیے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنا دیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے سلیمان علیہ السلام نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول بال صفا طلا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کر کے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس سیدنا نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نام سے بیان کر دیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کر دیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کر لینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

«صرح» کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چنانچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ» ‏‏‏‏ [40-غافر:36] ‏‏‏‏۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اس کا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے سلیمان علیہ السلام کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی سلیمان علیہ السلام کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آ گیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہو گئی اپنے اگلے شرک و کفر سے توبہ کر لی اور دین سلیمان علیہ السلام کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختارکل ہے۔

📖 احسن البیان

44-1یہ محل شیشے کا بنا ہوا تھا، جس کا صحن اور فرش بھی شیشے کا تھا۔ حضرت سلیمان ؑ نے اپنی نبوت کے اعجازی مظاہرے دکھانے کے بعد مناسب سمجھا کہ اسے اپنی دنیاوی شان و شوکت کی بھی ایک جھلک دکھلا دی جائے جس میں اللہ نے انھیں تاریخ انسانیت میں ممتاز کیا تھا۔ چناچہ اس محل میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا، جب وہ داخل ہونے لگی تو اس نے اپنے پانچے چڑھا لئے۔ شیشے کا فرش اسے پانی معلوم ہوا جس سے اپنے کپڑوں کو بچانے کے لئے اس نے کپڑے سمیٹ لئے۔ 44-2یعنی جب اس پر فرش کی حقیقت واضح ہوئی تو اپنی کوتاہی اور غلطی کا بھی احساس ہوگیا اور اعتراف قصور کرتے ہوئے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا صاف چکنے گھڑے ہوئے پتھروں کو ممرد کہا جاتا ہے اسی سے مراد ہے جو اس خوش شکل بچے کو کہا جاتا ہے جس کے چہرے پر ابھی ڈاڑھی مونچھ نہ ہو جس درخت پر پتے نہ ہوں اسے شجرۃ مرداء کہا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔ لیکن یہاں یہ تعبیر یا جڑاؤ کے معنی میں ہے یعنی شیشوں کا بنا ہوا یا جڑا ہوا محل۔ ملحوظہ: ملکہ سبا بلقیس کے مسلمان ہونے کے بعد کیا ہوا؟ قرآن میں یا کسی صحیح حدیث میں اس کی تفصیل نہیں ملتی تفسیری روایات میں یہ ضرور ملتا ہے کہ ان کا باہم نکاح ہوگیا تھا لیکن جب قرآن و حدیث اس صراحت سے خاموش ہیں تو اس کی بابت خاموشی ہی بہتر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44) ➊ {قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ …:” قَوَارِيْرَ”قَارُوْرَةٌ“} کی جمع ہے، شیشے۔ {” لُجَّةً “} بہت زیادہ اور گہرا پانی۔ {” مُمَرَّدٌ “} ”ملائم، چکنا بنایا ہوا۔“ {” الصَّرْحَ “} کا معنی محل بھی ہے اور صحن بھی۔ یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں۔ پہلی چیز سلیمان علیہ السلام کا خط اور اس کا عجیب و غریب طریقے سے پہنچنا تھا، جس میں اسے تابع فرمان ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری چیز سلیمان علیہ السلام کا اس کے بیش قیمت ہدیوں کو واپس کر دینا اور لشکر کشی کی دھمکی تھی۔ تیسری چیز تقریباً ڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے سے اس کے تخت کا اس کے آنے سے پہلے پہنچ جانا تھا۔ ابتدائی ملاقات اور گفتگو کے بعد اسے سلیمان علیہ السلام کے محل میں چلنے کے لیے کہا گیا، جب اس نے صحن کو دیکھا تو سمجھی کہ یہ گہرا پانی ہے اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا، جیسے گہرے پانی سے گزرنے والا اپنے پائینچے چڑھا لیتا ہے۔ کیونکہ وہ بلور کا فرش تھا جس کی بناوٹ ایسی تھی کہ شیشے کے بجائے گہر ا پانی دکھائی دیتا تھا۔ سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ پانی نہیں بلکہ نہایت صفائی کے ساتھ شیشوں کو جوڑ کر بنایا ہوا چکنا ملائم فرش ہے۔ ➋ محل میں داخلے کے اس واقعہ سے سلیمان علیہ السلام کی کمال حکمت معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے ملکہ سبا کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اختیار فرمائی۔ شیشے کے اس محل اور صحن کا اہتمام سلیمان علیہ السلام نے اس لیے فرمایا کہ ملکہ کو پتا چلے کہ جس ساز و سامان پر اسے اور اس کی قوم کو ناز تھا، یہاں اس سے بہت بڑھ کر سامان موجود ہے اور ساتھ ہی یہ معلوم ہو جائے کہ سورج اور ستاروں کی چمک سے مرعوب ہو کر انھیں رب سمجھ لینا ایسا ہی دھوکا ہے جیسے آدمی چمکتے شیشے کو پانی سمجھ بیٹھے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ـ ”اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان (یعنی سلیمان علیہ السلام) کی عقل کا کمال معلوم ہوا، سمجھی کہ دین میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں وہی صحیح ہے۔“ (موضح) اس چیز نے اسے اس اعتراف پر مجبور کیا جو آگے آ رہا ہے۔ اس میں سلیمان علیہ السلام کی کمال حکمت کے ساتھ ملکہ کی کمال دانائی اور ذہانت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ سلیمان علیہ السلام جو بات اسے اس طریقے سے سمجھانا چاہتے تھے، وہ سمجھ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو ہی اس پر صحیح اثر انداز ہوتی ہے۔ ➌ { قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ …:} فرش کی حقیقت سے آگاہی ملکہ کے لیے توحید سے آگاہی کا ذریعہ بن گئی۔ چنانچہ اس نے کہا، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ اب تک شرک میں مبتلا رہی اور تجھے بھلائے رکھا اور اب میں سلیمان علیہ السلام کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے اسلام لے آئی اور اس کی مکمل فرماں بردار بن گئی۔ تنبیہ: سلیمان علیہ السلام کے اس قصے میں بہت سی باتیں اسرائیلیات سے داخل کر دی گئی ہیں، مثلاً یہ کہ ملکہ سبا کی ماں جنات سے تھی اور یہ کہ سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ اس کے پاؤں تو گدھے کے جسم جیسے ہیں اور اس کی پنڈلیوں پر بہت سے بال ہیں۔ اس پر انھوں نے بلور کا یہ محل بنوایا، تاکہ اس کے کپڑا اٹھانے سے اس کے پاؤں اور پنڈلیوں کو دیکھ سکیں۔ جب اس نے کپڑا اٹھایا اور سلیمان علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ تو نہایت خوب صورت تھی، ہاں! اس کی پنڈلیوں پر بال تھے، انھوں نے جنوں سے پوچھا کہ ان بالوں کا کیا کریں تو انھوں نے بال صفا پاؤڈر ایجاد کیا، چنانچہ سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کر لیا وغیرہ۔ یہ تمام باتیں بالکل بے اصل ہیں، بلکہ سلیمان علیہ السلام جیسے شخص کی ذات پر لگائی گئی کمینی تہمتیں ہیں، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے: «{ نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ }» [ صٓ: ۴۴ ] ”(سلیمان) اچھا بندہ تھا، یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔“ اصل حقیقت یہی ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے جو کچھ بھی کیا اسلام کی دعوت پھیلانے اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کیا اور ان کے یہ تمام واقعات ہمارے لیے سبق ہیں۔
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →