بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 25
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
اَلَّا یَسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ یُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ یَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴿۲۵﴾
کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو
کہ اسی اللہ کے لیے سجدے کریں جو آسمانوں اور زمینوں کے پوشیده چیزوں کو باہر نکالتا ہے، اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ﻇاہر کرتے ہو وه سب کچھ جانتا ہے
کیوں نہیں سجدہ کرتے اللہ کو جو نکالتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو
وہ کیوں اس خدا کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ چیزوں کو باہر لاتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔
تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہدہد کی غیر حاضری ٭٭

ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔

اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (‏‏‏‏80)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہاتھ اونچا اور چالیس(‏‏‏‏40)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔

اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔

جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» ۱؎ [41-فصلت:37] ‏‏‏‏ ’ کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ ‘ آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔ کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «‏‏‏‏سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [13-الرعد:10] ‏‏‏‏ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

25-1یعنی آسمان سے بارش برساتا اور زمین سے اس کی مخفی چیزیں نباتات، معدنیات اور دیگر زمینی خزانے ظاہر فرماتا اور نکالتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 25) ➊ {اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ …: ” الْخَبْءَ “} مصدر بمعنی اسم مفعول {”اَلْمَخْبُوْئُ “} ہے، چھپی ہوئی چیز، یعنی یہ لوگ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی چیز نکالتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا ترجمہ وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے کہ تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے۔ ہُد ہُد نے اس بنیادی حقیقت کے ثبوت کے لیے تین عظیم الشان دلیلیں پیش کیں کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے، اس کے سوا کسی کو سجدہ جائز نہیں۔ پہلی یہ کہ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی مخفی اور پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے۔ آسمانوں کی پوشیدہ چیزوں کے عمو م میں سورج، چاند، ستارے، سیارے، بارش، ہوا اور بجلی وغیرہ سب ہی داخل ہیں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں میں تمام نباتات، پودے، درخت، دریا، چشمے، زیر زمین پانی، تیل، گیس اور بے شمار معدنیات سب آ جاتے ہیں۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ہد ہد کی خوراک عام طور پر وہ کیڑے ہوتے ہیں جو درختوں کی چھال یا زمین کے نیچے چھپے ہوتے ہیں۔ اس بظاہر معمولی سے پرندے نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دلیل اپنی سمجھ اور تجربے کے مطابق دی کہ عبادت اور سجدے کے لائق وہ اللہ ہے جو ہر مخلوق کو اس کی چھپی ہوئی روزی تک رسائی دیتا ہے۔ سورج جسے اپنی گردش ہی سے فرصت نہیں، نہ اس نے کوئی چیز پیدا کی کہ وہ اسے چھپانے یا ظاہر کرنے کا علم یا اختیار رکھتا ہو، وہ عبادت یا سجدے کے لائق کیسے ہو گیا؟ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ہد ہد کی روزی ہے ریت سے کیڑے نکال نکال کر کھانا، نہ دانہ کھائے نہ میوہ، اس کو اللہ کی اسی قدرت سے کام ہے۔“ ➋ {وَ يَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ:} یہ اکیلے اللہ کو سجدہ کرنے کی دوسری دلیل ہے، یعنی سجدے کے لائق وہ ذات ہے جس کا علم اتنا وسیع ہے کہ نہ صرف آسمان و زمین ہی کی پوشیدہ قوتوں اور چیزوں کو جانتا ہے بلکہ وہ سب کچھ بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو یا پوشیدہ رکھتے ہو۔ سورج یا کسی اور مخلوق کو کسی کے ظاہر یا پوشیدہ حالات کی کیا خبر کہ وہ سجدے کے لائق ہو۔
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →