بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 24
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
وَجَدۡتُّہَا وَ قَوۡمَہَا یَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ فَہُمۡ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾
میں نے دیکھا ہے کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے" شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے
میں نے اسے اور اس کی قوم کو، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجده کرتے ہوئے پایا، شیطان نے ان کے کام انہیں بھلے کرکے دکھلا کر صحیح راه سے روک دیا ہے۔ پس وه ہدایت پر نہیں آتے
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمانل ان کی نگاہ میں سنوار کر ان کو سیدھی راہ سے روک دیا تو وہ راہ نہیں پاتے،
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے عملوں کو ان کی نظر میں خوشنما بنا دیا ہے۔ پس اس نے انہیں اصل (سیدھے) راستہ سے ہٹا دیا ہے۔ سو وہ ہدایت نہیں پاتے۔
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کر دیے ہیں، پس انھیں اصل راستے سے روک دیا ہے، پس وہ ہدایت نہیں پاتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہدہد کی غیر حاضری ٭٭

ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔

اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (‏‏‏‏80)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہاتھ اونچا اور چالیس(‏‏‏‏40)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔

اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔

جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» ۱؎ [41-فصلت:37] ‏‏‏‏ ’ کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ ‘ آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔ کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «‏‏‏‏سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [13-الرعد:10] ‏‏‏‏ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

24-1اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پرندوں کو یہ شعور ہے کہ غیب کا علم انبیاء بھی نہیں جانتے، جیسا کہ ہدہد نے حضرت سلیمان ؑ کو کہا کہ میں ایک ایسی اہم خبر لایا ہوں جس سے آپ بھی بیخبر ہیں، اسی طرح وہ اللہ کی وحدانیت کا احساس و شعور بھی رکھتے ہیں۔ اسی لئے یہاں ہدہد نے حیرت واستعجاب کے انداز میں کہا کہ یہ ملکہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے، سورج کی پجاری ہے اور شیطان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ جس نے ان کے لئے سورج کی عبادت کو بھلا کر کے دکھلایا ہوا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) {وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ …:} یعنی ہر قسم کی نعمت میسر ہونے پر لازم تھا کہ وہ ان نعمتوں کے عطا کرنے والے کی عبادت کرتے اور اسی کو سجدہ کرتے، مگر میں نے دیکھا کہ اس کے بجائے وہ اور اس کی قوم سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے ہیں اور انھیں اصل راستے سے روک دیا ہے، لہٰذا وہ ہدایت نہیں پاتے۔ یعنی ان کے ہدایت نہ پانے کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کی نگاہ میں سورج کی پرستش مزین کر دی ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں۔ اب غلط راستے پر چلنے والا کوئی شخص یقین کر لے کہ میں صحیح جا رہا ہوں اور غلطی بتانے والے کی دشمنی پر اتر آئے تو وہ کبھی سیدھے راستے پر نہیں آ سکتا۔ یہ کہہ کر ہد ہد نے گویا سلیمان علیہ السلام کو اس قوم سے جہاد کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ یہاں اعمال مزین کرنے کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی نگاہ میں گناہ کو مزین کرتا ہے۔ دوسری جگہ کفار کے لیے اعمال مزین کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت (۴) میں ہے، کیونکہ مخلوق کے ہر عمل کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا تھا: «{وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ }» [ الصافات: ۹۶ ] ”حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔“
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →