بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 19
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوۡلِہَا وَ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹﴾
سلیمانؑ اس کی بات پر مُسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا "اے میرے رب، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عمل صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر"
اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر ہنس دیئے اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے
تو اس کی بات مسکرا کر ہنسا اور عرض کی اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے اور یہ کہ میں وہ بھلا کام کرو ں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں
وہ (سلیمان) اس کی بات پر مسکرا کر ہنس پڑے۔ اور کہا اے میرے پروردگار! مجھے ہمیشہ توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکریہ ادا کر سکوں جن سے تو نے مجھے اور میرے والدین کو نوازا ہے اور ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند کرے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل کر۔
تو وہ اس کی بات سے ہنستا ہوا مسکرایا اور اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے اور یہ کہ میں نیک عمل کروں، جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔

📖 تفسیر ابن کثیر

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (‏‏‏‏100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے { ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ‏‏‏‏

سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔ جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔

مسند امام احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ } ۱؎ [مسند احمد:419/2:ضعیف] ‏‏‏‏ سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔ مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ } [صحیح بخاری:3019] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

19-1چیونٹی جیسی حقیر مخلوق کی گفتگو سن کر سمجھ لینے سے حضرت سلیمان ؑ کے دل میں شکر گزاری کا احساس پیدا ہوا کہ اللہ نے مجھ پر کتنا انعام فرمایا ہے۔ 19-2اس سے معلوم ہوا کہ جنت مومنوں ہی کا گھر ہے اس میں کوئی بھی اللہ کی رحمت کے بغیر داخل نہیں ہو سکے گا اسی لیے حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدھے سیدھے اور حق کے قریب رہو اور یہ بات جان لو کہ کوئی شخص بھی صرف اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک اللہ کی رحمت مجھے اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی۔ صحیح بخاری۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا:} تبسم بعض اوقات غصے اور ناراضی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے، جیسا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیثِ توبہ میں ہے: [ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ] [ بخاري: ۴۴۱۸ ] کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے، غصے والے کی طرح مسکرانا۔ تبسم کے بعد {” ضَاحِكًا “} اس لیے فرمایا کہ یہ مسکراہٹ ہنسنے کا پیش خیمہ تھی، جو خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ مسکرانے اور ہنسنے کی وجہ ایک تو چیونٹی کی دانش مندی اور اپنی قوم کی خیر خواہی پر تعجب تھا، دوسری وجہ اپنی نیک شہرت پر خوشی تھی کہ چیونٹیاں تک جانتی ہیں کہ سلیمان دانستہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ ➋ { وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْۤ …:} چیونٹی کی آواز سن لینا، پھر اس کی بات سمجھ لینا، پھر اپنی نیک شہرت، یہ سب ایسی چیزیں تھیں کہ سلیمان علیہ السلام کا دل فخر و غرور کے بجائے شکر کے جذبات سے لبریز ہو گیا۔ مگر یہ سوچ کر کہ میں اس نعمت کا اور ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے شکر کی توفیق عطا کرنے کی دعا کی۔ والدین پر نعمت بھی آدمی کے حق میں نعمت ہوتی ہے۔ ➌ { وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ:} عمل صالح وہ ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو اور اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ سلیمان علیہ السلام کو علم عطا ہونے پر عمل کی فکر دامن گیر ہوئی، کیونکہ عمل کے بغیر علم انسان کے خلاف حجت ہوتا ہے۔ ➍ { وَ اَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے صالح بندوں میں شمولیت اور جنّت کا حصول اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [ لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ لَا، وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ ] [ بخاري، المرضٰی، باب تمني المریض الموت: ۵۶۷۳ ] ”کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ کو بھی نہیں؟“ فرمایا: ”نہیں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“ ➎ سلیمان علیہ السلام نے نبی ہو کر صالحین میں داخل ہونے کی دعا کیوں کی؟ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۱)۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →