بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 18
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰی وَادِ النَّمۡلِ ۙ قَالَتۡ نَمۡلَۃٌ یّٰۤاَیُّہَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰکِنَکُمۡ ۚ لَا یَحۡطِمَنَّکُمۡ سُلَیۡمٰنُ وَ جُنُوۡدُہٗ ۙ وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کوچ کر رہا تھا) یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا "“اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو"
جب وه چینوٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ بیخبری میں سلیمان اور اس کا لشکر تمہیں روند ڈالے
یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے ایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ تمہیں کچل نہ ڈالیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جائو، کہیں سلیمان اوراس کے لشکر تمھیں کچل نہ دیں اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (‏‏‏‏100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے { ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ‏‏‏‏

سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔ جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔

مسند امام احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ } ۱؎ [مسند احمد:419/2:ضعیف] ‏‏‏‏ سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔ مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ } [صحیح بخاری:3019] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

18-1اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ حیوانات میں بھی ایک خاص قسم کا شعور موجود ہوتا ہے۔ گو وہ انسانوں سے بہت کم اور مختلف ہے۔ دوسرا، یہ کہ حضرت سلیمان ؑ اتنی عظمت و فضیلت کے باوجود عالم الغیب نہیں تھے۔ اس لئے چیونٹیوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں بیخبر ی میں ہم روند نہ دی جائیں۔ تیسرا یہ کہ حیوانات بھی اس عقیدہ صحیحہ سے بہرہ ور تھے اور ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ جیسا کہ آگے آنے والے ہدہد کے واقعے سے بھی اس کی مذید تائید ہوتی ہے۔ چوتھا یہ کہ حضرت سلیمان ؑ پرندوں کے علاوہ دیگر جانوروں کی بولیاں بھی سمجھتے تھے۔ یہ علم بطور اعجاز اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمایا تھا، جس طرح تسخیر جنات وغیرہ اعجازی شان تھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) {حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ …:} اس آیت سے بہت سے مسائل معلوم ہوتے ہیں: (1) چیونٹیوں کو اللہ تعالیٰ نے اجتماعیت کا شعور بخشا ہے، چنانچہ وہ بستیوں کی صورت میں رہتی ہیں۔ ان کی باقاعدہ ایک ملکہ ہوتی ہے، جس کے احکام کے تحت وہ زندگی بسر کرتی ہیں۔ ان کی بستیوں کے اندر حیرت انگیز ترتیب کے ساتھ مکانات، ان کی دہلیزیں، چھتیں، راستے، غرض سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ آنے والے وقت کے لیے غذا جمع کرتی ہیں اور اسے ایسے طریقے سے محفوظ کرتی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے، چنانچہ وہ غلے کے ہر دانے کو کاٹ کر دو حصوں میں کر دیتی ہیں، تاکہ وہ نمی سے اُگ نہ جائے۔ ان میں پہرے دار، لڑاکا دستے، خوراک جمع کرنے والے اور صفائی کرنے والے، غرض ہر طرح کے مجموعے ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ وادی جس پر سے سلیمان علیہ السلام گزرنے والے تھے ایسی ہی وادی تھی جس میں چیونٹیوں کی بستیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا محل وقوع بیان نہیں فرمایا، نہ ہدایت کے مقصد کے لیے اس کی ضرورت تھی۔ مفسرین میں سے کوئی وہ وادی شام میں بیان کرتا ہے، کوئی طائف میں۔ اصل مقام کوئی بھی نہیں جانتا۔ (2) سلیمان علیہ السلام کے اس وادی کے قریب آنے پر ایک چیونٹی نے کہا: ”اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اس بظاہر حقیر سی مخلوق کا ایک فرد اپنی ساری قوم کے لیے فکر مند ہے اور انھیں بچنے کی تدبیر سے آگاہ کر رہا ہے۔ یہ زندہ قوموں کی علامت ہے۔ جب کسی قوم کے افراد صرف اپنی فکر میں پڑ جائیں تو اس قوم کو ذلت اور بربادی سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی، جیسا کہ اس وقت امتِ مسلمہ کے اکثر افراد کا حال ہو چکا ہے۔ (3) سلیمان علیہ السلام کا عالم الغیب نہ ہونا چیونٹیوں کو بھی معلوم تھا، چنانچہ اس چیونٹی نے کہا، کہیں سلیمان اور اس کے لشکر تمھیں کچل نہ دیں، جب کہ وہ شعور نہ رکھتے ہوں۔ (4) اس میں سلیمان علیہ السلام اور ان کے لشکروں کی تعریف بھی ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے کبھی زیادتی نہیں کرتے، لاعلمی میں کوئی ان کی یلغار میں کچلا جائے تو الگ بات ہے۔ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی شان تھی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَـُٔوْهُمْ فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ }» [ الفتح: ۲۵ ] ”اور اگر کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جنھیں تم نہیں جانتے تھے (اگر یہ نہ ہوتا) کہ تم انھیں روند ڈالو گے تو تم پر لا علمی میں ان کی وجہ سے عیب لگ جائے گا (تو ان پر حملہ کر دیا جاتا)۔“ (5) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عام راستے پر چلنے والوں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ چیونٹیوں وغیرہ کو بچائیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اپنا بچاؤ خود کریں۔ (6) یہ بھی معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام پرندوں کے علاوہ دوسرے جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے، یہ ان کا معجزہ تھا۔ (7) چیونٹی کی آواز آدمی کو سنائی نہیں دیتی، سلیمان علیہ السلام نے سن لی، یہ چیونٹی کی بولی سمجھنے کے علاوہ مزید معجزہ ہے۔ (8) معجزات کے بعض منکروں نے لکھا ہے کہ ”وادی النمل“ بنو نمل قبیلے کا مسکن تھی اور یہ نملہ چیونٹی نہیں تھی بلکہ اس قبیلے کا ایک آدمی تھا۔ مگر یہ قرآن کی بدترین تحریف ہے، کیونکہ چیونٹی کے قول {” وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ “} سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عام چیونٹیاں تھیں جو زمین پر رینگتی پھرتی ہیں، کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی لشکر انسانوں سے بھری ہوئی وادی کو کچلتا ہوا گزر جائے اور اسے پتا ہی نہ چلے۔ علاوہ ازیں اس صورت میں آیت کا اس علم سے کوئی تعلق نہیں رہتا جس کے عطا ہونے پر سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے شکر نعمت کی توفیق مانگ رہے ہیں۔ نہ تاریخ میں بنو نمل نامی قبیلے کا کوئی وجود پایا جاتا ہے، نہ عربی زبان میں۔ بنو کلب قبیلے کے آدمی کو کلب یا بنو اسد قبیلے کے آدمی کو اسد کہا جاتا ہے کہ بنو نمل قبیلے کے آدمی کو نملہ کہا جائے!! معجزات کے منکروں کی مشکل یہ ہے کہ وہ قرآن کا صاف انکار کرنے کی جرأت نہیں رکھتے، اس لیے اس کے معانی میں تحریف کرتے رہتے ہیں۔
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →