بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النجم — Surah Najm
آیت نمبر 62
کل آیات: 62
قرآن کریم النجم آیت 62
آیت نمبر: 62 — سورۃ النجم islamicurdubooks.com ↗
فَاسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ وَ اعۡبُدُوۡا ﴿٪ٛ۶۲﴾
جھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ
اب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور (اسی) کی عبادت کرو
تو اللہ کے لیے سجدہ اور اس کی بندگی کرو
پس اللہ کے لئے سجدہ کرو اور(اسی کی) عبادت کرو۔
تو اللہ کو سجدہ کرو اور (اس کی) بندگی کرو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

”نذیر“ کا مفہوم ، نذیر کہتے کسے ہیں ٭٭

یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں، قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی، نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے، نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔‘

«نذیر» عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:46] ‏‏‏‏ ’ میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں۔ ‘ حدیث میں ہے { تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:9482] ‏‏‏‏ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آ جائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آ رہی ہے، فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏ ’ قیامت قریب آ چکی۔‘

مسند احمد کی حدیث میں ہے { لوگو! گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو، سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے، تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ } اور حدیث میں ہے { میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لیے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لیے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں، بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے اور ہنسی کرنے لگتے ہیں۔ چاہیئے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «سَمَد» گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے «سَامِدُوْنَ» کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں، علی اور حسن رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ ’ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ ‘۔

صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، مسلمانوں نے، مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7462] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے }، راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے۔ [مسند احمد:400/6:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:959:حسن] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

62۔ 1 یہ مشرکین اور مکذبین کی توبیخ کے لئے حکم دیا۔ یعنی جب ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قرآن کو ماننے کی بجائے، اس کا مذاق و استخفاف کرتے ہیں اور ہمارے پیغمبر کے وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہو رہا ہے، تو اے مسلمانو! تم اللہ کی بارگاہ میں جھک کر اور اس کی عبادت و اطاعت کا مظاہرہ کرکے قرآن کی تعظیم و توقیر کا اہتمام کرو۔ چناچہ اس حکم کی تعمیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ نے سجدہ کیا، حتی کہ اس وقت مجلس میں موجود کفار نے بھی سجدہ کیا۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 62) ➊ { فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا:} یعنی رسول کے اس ڈرانے کا حق یہ ہے کہ تم اپنا تمام تر تکبر اور غفلت ترک کر کے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ اور اپنے بنائے ہوئے تمام شریکوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کرو۔ ➋ یہ سورت مکہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور پہلی سورت ہے جس میں سجدہ کی آیت نازل ہوئی۔ اس کی تاثیر اور زورِ بیان کا یہ عالم ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عام مجمع میں پڑھا، جس میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین بھی موجود تھے تو مسلمانوں کے ساتھ مشرکین بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے۔ صحیح بخاری میں اس کے متعلق دو احادیث آئی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ أَوَّلُ سُوْرَةٍ أُنْزِلَتْ فِيْهَا سَجْدَةٌ وَالنَّجْمِ قَالَ فَسَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ مَنْ خَلْفَهُ، إِلاَّ رَجُلاً رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ذٰلِكَ قُتِلَ كَافِرًا، وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ النجم، باب: «فاسجدوا للہ واعبدوا» : ۴۸۶۳ ] ”پہلی سورت جس میں سجدہ کی آیت نازل ہوئی {” وَ النَّجْمِ “} تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے جتنے لوگ تھے سب نے سجدہ کیا، سوائے ایک آدمی کے۔ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے مٹی کی ایک مٹھی پکڑی اور اس پر سجدہ کر لیا۔ پھر میں نے بعد میں دیکھا کہ وہ کافر ہونے کی حالت میں قتل ہوا اور وہ امیہ بن خلف تھا۔“ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُوْنَ وَالْمُشْرِكُوْنَ وَالْجِنُّ وَالإِْنْسُ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ النجم، باب: «‏‏‏‏فاسجدوا للہ واعبدوا» ‏‏‏‏: ۴۸۶۲ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس نے سجدہ کیا۔“
← پچھلی آیت (61) پوری سورۃ اگلی آیت →