بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المزمل — Surah Muzzammil
آیت نمبر 15
کل آیات: 20
قرآن کریم المزمل آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ المزمل islamicurdubooks.com ↗
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ﴿ؕ۱۵﴾
تم لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا
بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے واﻻ رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا
بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے کہ تم پر حاضر ناظر ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے
ہم نے تمہاری طرف ایک رسول(ص) بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فر عون کی طرف ایک رسول(ع) بھیجا تھا۔
بلاشبہ ہم نے تمھاری طرف ایک پیغام پہنچانے والا بھیجا جو تم پر گواہی دینے والا ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک پیغام پہنچانے والا بھیجا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔

اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭

پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭

طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔

📖 احسن البیان

2۔ 1 یعنی اہل مکہ کو ڈرا، اگر وہ ایمان نہ لائیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15تا19) ➊ { اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا…:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمھاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمھارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہو گا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا؟ ➋ { شَاهِدًا عَلَيْكُمْ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی شہادت دیں گے کہ انھوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہ بھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انھی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِّنْ أُمَّتِيْ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُوْلُ يَا رَبِّ! أُصَيْحَابِيْ، فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِيْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَكَ فَأَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: «‏‏‏‏وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ» فَيُقَالُ إِنَّ هٰؤُلاَءِ لَمْ يَزَالُوْا مُرْتَدِّيْنَ عَلٰی أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ ] [بخاري، التفسیر، باب: «وکنت علیھم شھیدا…» : ۴۶۲۵ ] ”میری امت کے کچھ آدمی لائے جائیں گے اور انھیں بائیں طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا: ”اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔“ کہا جائے گا: ”آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا۔“ تو میں وہی کہوں گا جو عبد صالح(عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: «‏‏‏‏وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ» [ المائدۃ: ۱۱۷ ] ”میں ان پر اس وقت تک شہادت دینے والا تھا جب تک میں ان میں موجود تھا، پھرجب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو خود ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر شہادت دینے والا ہے۔“ کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ لوگ اس وقت سے اپنی ایڑیوں پر پھرے رہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ {” شَاهِدًا عَلَيْكُمْ “} سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے تمام احوال دیکھتے، سنتے اور جانتے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر شہادت ہو نہیں سکتی، ان لوگوں کا استدلال درست نہیں۔ علاوہ ازیں شہادت کے لیے خود دیکھنا اور سننا بھی ضروری نہیں، بلکہ اگر ایسے ذریعے سے کوئی بات معلوم ہو جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو تو اس پر بھی شہادت دی جا سکتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت(۱۴۳) کی تفسیر۔ ➌ {” شِيْبًا”أَشْيَبُ“} کی جمع ہے، سفید بالوں والا۔ {”شَابَ يَشِيْبُ شَيْبًا“} (ض) سفید بالوں والا ہونا۔ {” الْوِلْدَانَ”وَلِيْدٌ“} کی جمع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کی ہولناکی سے بچے بوڑھے ہو جائیں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ! يَقُوْلُ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، فَيُنَادٰی بِصَوْتٍ إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَی النَّارِ قَالَ يَا رَبِّ! وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ، أُرَاهُ قَالَ، تِسْعَمِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِيْنَ فَحِيْنَئِذٍ تَضَعُ الْحَامِلُ حَمْلَهَا وَيَشِيْبُ الْوَلِيْدُ «‏‏‏‏وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ» فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَی النَّاسِ حَتّٰی تَغَيَّرَتْ وُجُوْهُهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ تِسْعَ مِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِيْنَ، وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ، ثُمَّ أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِيْ جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِيْ جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «وتری الناس سکٰرٰی» : ۴۷۴۱ ] ”اللہ عزوجل قیامت کے دن آدم علیہ السلام سے کہیں گے: ”اے آدم!“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے پروردگار! میں بار بار حاضر ہوں تیری فرماں برداری کے لیے۔“ پھر (انھیں) آواز دی جائے گی: ”اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے جہنم کی جماعت نکالو۔“ وہ پوچھیں گے: ”اے میرے رب! جہنم کی جماعت کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔“ تو اس وقت حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے «‏‏‏‏وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۲ ] ”اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ بے ہوش ہیں، حالانکہ وہ بے ہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے۔“ یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری، حتیٰ کہ ان کے چہروں کے رنگ بدل گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سے ایک ہوگا۔ لوگوں کے مقابلے میں تمھاری تعداد اس طرح ہے جیسے سفید بیل کے پہلو میں ایک سیاہ بال یا سیاہ بیل کے پہلو میں ایک سفید بال ہوتا ہے۔“ آیت اور حدیث میں بچوں کے بوڑھے ہونے کے ذکر سے اس دن کی بے پناہ سختی اور ہولناکی کا اظہار ہو رہا ہے، کیونکہ عام غم سے آدمی کے بال فوراً سفید نہیں ہوتے۔ یقینا وہ انتہائی غیر معمولی شدت اور ہولناکی ہوگی جو بچوں کے بالوں کو بھی سفید کر دے گی۔ ➍ { السَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ: ”باء“ ”فِيْ“} کے معنی میں ہے، یعنی ا س دن میں آسمان پھٹ جائے گا، یا ” باء“ سببیہ ہے، یعنی اس دن کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن کی شدت سے آسمان جیسی عظیم مخلوق پھٹ جائے گی تو دوسری چیزوں کا کیا حال ہوگا اور اگر کفر پر قائم رہے تو تم اس دن سے کس طرح بچو گے؟ آسمان کے مقابلے میں تمھاری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →