رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16] ، یعنی ’ ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، یعنی ’ راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ ‘ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ ‘ اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:733]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5046] ابن جریج میں ہے کہ { ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔} یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ } یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے { قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو } ۱؎ [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور { ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے } ۱؎ [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ { اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:793] سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:775] پھر فرماتا ہے ’ ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ ‘ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ ۱؎ [مسند احمد:222/2:ضعیف] صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592] مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ ۱؎ [مسند احمد:118/6:صحیح] ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
اے کپڑے میں لپٹنے والے (1)
(آیت 1) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ: ” الْمُزَّمِّلُ “} اصل میں {”اَلْمُتَزَمِّلُ“} تھا، تاء کو زاء سے بدل کر زاء میں ادغام کر دیا، کپڑے میں لپٹنے والا۔ یہ باب لازم ہے۔ ➋ { يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ:} ”اے کپڑے میں لپٹنے والے!“ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ ان آیات کے اترنے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے میں لپٹ کر لیٹے ہوئے تھے۔ اس خطاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت لطف و کرم اور محبت کا اظہار ہے، کیونکہ اہلِ عرب کا طریقہ ہے کہ وہ مخاطب سے نرمی اور محبت سے بات کرنا چاہتے ہوں تو ایسے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں جو مخاطب کی اس وقت کی حالت پر دلالت کر رہا ہو، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا: [ قُمْ أَبَا تُرَابٍ! ] [ بخاري، الصلاۃ، باب نوم الرجال في المسجد: ۴۴۱ ] ”مٹی والے! اٹھ کھڑا ہو۔“ ➌ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چادر میں لیٹنے کی وجہ کیا تھی؟ اس میں تین قول ہیں، پہلا یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ پہلی وحی: «اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» کے نزول کے موقع پر جب فرشتے نے آپ کو تین مرتبہ زور سے دبایا تو آپ گھر میں خدیجہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے اور فرمایا: [ زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ ] [ بخاري، الوحي، باب کیف کان بدء الوحي: ۳ ] ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ اسی طرح جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ کچھ عرصہ تک وحی بند رہنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اتری تو آپ نے اس کے متعلق بیان فرمایا: ”میں چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ میں اس سے ڈر گیا اور واپس آکر کہا: [ زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ ] تو اللہ عزوجل نے {” يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ “} سے لے کر {” وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ “} تک آیات اتاریں۔“ [ بخاري، الوحي، باب کیف کان بدء الوحي: ۴ ] ان دونوں موقعوں پر {”زَمِّلُوْنِيْ“} کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرشتے کی ملاقات اور وحی کے اترنے سے جو رعب اور خوف طاری ہوتا تھا اس کی وجہ سے آپ کپڑا لپیٹ لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے اس بار گراں کو اٹھانے کے لیے تیار کرنے کی خاطر آپ کو قیام اللیل کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام اللیل کے ساتھ آپ کو وحی کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، چنانچہ بعد میں وحی تسلسل اور کثرت سے اترنے لگی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ” اے چادر میں لپٹ کر سونے والے! سستی اور سونے کا وقت گیا، رات کو قیام کر …۔“ تیسرا قول یہ ہے کہ قریش مکہ دارالندوہ میں جمع ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی ایسا نام طے کرنے لگے جسے سن کر لوگ آپ کے پاس آنے سے باز رہیں۔ کسی نے کہا کاہن ہے، کچھ دوسرے کہنے لگے کاہن نہیں ہے۔ کسی نے دیوانہ کہا، اس کی بھی تردید ہو گئی۔ کچھ بولے جادو گر ہے، دوسروں نے کہا جادوگر نہیں ہے۔ غرض مشرکین اس قسم کی باتیں کرکے چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ کو بہت صدمہ ہوا اور اس پریشانی اور غم کی حالت میں آپ چادر لپیٹ کر لیٹ گئے۔ جبریل علیہ السلام آئے اور فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ» ”اے کپڑے میں لپٹنے والے!“ اور فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ”اے کمبل میں لپٹنے والے!“ مقصد یہ ہے کہ آپ ان کی باتوں سے بد دل اور رنجیدہ ہو کر چادر لپیٹ کر نہ لیٹ جائیں بلکہ رات کو قیام کریں، اس سے آپ میں یہ بارگراں اٹھانے کی قوت پیدا ہو گی، ان لوگوں کی باتوں پر صبر کریں اور ان سے اچھے طریقے سے علیحدگی اختیار کریں۔ ابن کثیر نے یہ قول جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما کی روایت سے مسند بزار سے نقل کیا ہے، مگر اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن ہے جس کے متعلق تقریب میں ہے: {”مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ وَ قَدْ رُمِيَ بِالرَّفْضِ“} ”اس پر احادیث گھڑنے کی تہمت ہے اور رافضیت کا الزام بھی ہے۔“
رات کو(نماز میں) کھڑے رہا کیجئے مگر (پوری رات نہیں بلکہ) تھوڑی رات۔
عبدالسلام بن محمد
رات کو قیام کر مگر تھوڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16] ، یعنی ’ ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، یعنی ’ راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ ‘ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ ‘ اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:733]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5046] ابن جریج میں ہے کہ { ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔} یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ } یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے { قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو } ۱؎ [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور { ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے } ۱؎ [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ { اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:793] سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:775] پھر فرماتا ہے ’ ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ ‘ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ ۱؎ [مسند احمد:222/2:ضعیف] صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592] مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ ۱؎ [مسند احمد:118/6:صحیح] ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 2تا4) ➊ {قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا …:} تھوڑا حصہ چھوڑ کر ساری رات کا قیام کر۔ {” نِصْفَهٗۤ “ ” الَّيْلَ “} سے بدل ہے، مگر اس {” الَّيْلَ “} سے جس میں سے {” قَلِيْلًا “} کا استثنا ہو چکا ہے۔ {” قَلِيْلًا “} کا لفظ چونکہ مجمل ہے، اس لیے اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر جس حصے کا قیام کرنا ہے وہ کتنا ہونا چاہیے۔ فرمایا رات کا نصف قیام کریں یا نصف سے کچھ کم کرلیں یا نصف سے زیادہ کرلیں۔ اس سورت کی آخری آیت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ان آیات کے نزول کے بعد رات کی دو تہائی کے قریب اور رات کے نصف اور رات کی تہائی کے برابر قیام کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ” نصف سے کچھ کم“ کا مطلب ثلث اور ”نصف سے زیادہ“ کا مطلب دو ثلث کے قریب ہے۔ {” مِنْهُ “} اور {” عَلَيْهِ “} کی ضمیریں { ” نِصْفَهٗۤ “ } کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ اس تقریر سے وہ سوال حل ہو جاتا ہے کہ {” اِلَّا قَلِيْلًا “} کے بعد {” اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا “} میں تکرار ہے۔ اس سوال کا ایک اور حل یہ ہے کہ {” قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا “} کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ ”رات کا قیام کر مگر کسی رات رہ جائے تو مضائقہ نہیں۔“ {” نِصْفَهٗۤ “} سے یہ بیان شروع ہوتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ قیام میں گزارنا ہے، یہ تفسیر بھی درست ہے۔ ➋ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل کا حکم دے کر اس کی تاکید فرمائی ہے۔ تہجد، وتر، قیام رمضان اور تراویح سب قیام اللیل ہی کے نام ہیں۔ اہلِ علم میں اختلاف ہے کہ یہ نماز فرض ہے یا سنت اور اگر فرض ہے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی یا پوری امت پر فرض ہے؟قرطبی میں ہے کہ حسن اور ابنِ سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کو نماز ہر مسلم پر فرض ہے خواہ بکری کا دودھ دوہنے کے برابر پڑھے، مگر اکثر علماء فرماتے ہیں اور صحیح بھی یہی ہے کہ قیام اللیل امت پر فرض نہیں بلکہ یہ ایسی سنت ہے جس کی بہت تاکید کی گئی۔ سورۂ مزمل کے آخر میں فرمایا: «اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَيِ الَّيْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ» [ المزمل: ۲۰ ] یعنی آپ کے ساتھیوں کی ایک جماعت بھی آپ کے ساتھ اتنا قیام کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ کی صرف ایک جماعت قیام کرتی تھی، اگر یہ فرض ہوتا تو ایک جماعت کے بجائے تمام صحابہ قیام کرتے۔ صحیحین میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کو ارکان دین بتائے اور نمازوں میں سے دن رات میں صرف پانچ نمازیں فرض بتائیں، اس نے پوچھا: ”کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی کچھ فرض ہے؟“ تو آپ نے فرمایا: [ لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ] [ بخاري، الإیمان، باب الزکاۃ من الإسلام: ۴۶۔ مسلم: ۱۱ ] ”نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے پڑھو۔“ صحیحین ہی میں عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ ایک رمضان میں تین راتیں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جماعت کی صورت میں قیام میں شریک ہوتے رہے۔ چوتھی رات آپ باہر تشریف نہیں لائے اور فرمایا: [ أَنِّيْ خَشِيْتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ ] [ بخاري، التھجد، باب تحریض النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۱۱۲۹۔ مسلم: ۷۶۱ ] ”میں اس بات سے ڈرا کہ تم پر (یہ نماز) فرض نہ ہو جائے۔“ اگر قیام اللیل فرض ہوتا تو آپ اس کے ان پر (یہ نماز) فر ض ہو جانے سے کیوں ڈرتے؟ رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قیام اللیل فرض تھا یا نہیں تو اس کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷۹) کی تفسیر۔ فرض نہ ہونے کے باوجود قیام اللیل کی تاکید و فضیلت قرآن و حدیث میں بہت آئی ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوْبَةِ الصَّلَاةُ فِيْ جَوْفِ اللَّيْلِ ] [ مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم: ۲۰۳ /۱۱۶۳] ”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن اور متقی بندوں کی شان میں فرمایا: «تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ» [ السجدۃ: ۱۶ ] ”ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“ اور فرمایا: «كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ» [ الذاریات: ۱۷ ] ”وہ رات کے تھوڑے حصے میں سویا کرتے تھے۔“ اور فرمایا: «وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [ بني إسرائیل: ۷۹ ] ”اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔“ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَّمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِيْنَ وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِيْنَ وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِيْنَ ] [ أبو داوٗد، تفریع أبواب شھر رمضان، باب تحزیب القرآن: ۱۳۹۸، وقال الألباني صحیح ] ”جو شخص دس آیات کے ساتھ قیام کرے وہ غافلین میں نہیں لکھا جاتا، جو سو آیات کے ساتھ قیام کرے وہ قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جاتا ہے اور جو ہزار آیات کے ساتھ قیام کرے وہ مقنطرین (خزانے والوں) میں لکھا جاتا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَحِمَ اللّٰهُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلّٰی وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِيْ وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللّٰهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَإِنْ أَبٰی نَضَحَتْ فِيْ وَجْهِهِ الْمَاءَ] [أبوداوٗد، التطوع، باب قیام اللیل: ۱۳۰۸، وقال الألباني حسن صحیح ] ”اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو رات کو اٹھا، نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا (اور اس نے بھی نماز پڑھی)، اگر اس نے انکار کیاتو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے جو رات کو اٹھی اور نماز پڑھی، خاوند کو جگایا (اور اس نے بھی نماز پڑھی)، اگر اس نے انکار کیا تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔“ رات کے اوقات میں سے بھی رات کے آخری حصے میں قیام کی فضیلت زیادہ ہے۔ عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ فِيْ جَوْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُوْنَ مِمَّنْ يَّذْكُرُ اللّٰهَ فِيْ تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ ] [ ترمذي، الدعوات، باب: ۳۵۷۹، و صححہ الألباني في صحیح الجامع ] ”رب تعالیٰ بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے، اگر تو یہ کر سکے کہ اس وقت اللہ کا ذکر کرنے والوں میں سے ہو تو یہ کام کر۔“ قیام اللیل کا سب سے بہتر طریقہ داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے۔ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَی اللّٰهِ صَلاَةُ دَاوٗدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَكَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ ثُلُثَهُ وَ يَنَامُ سُدُسَهُ ] [ بخاري، التھجد، باب من نام عند السحر: ۱۱۳۱ ] ”اللہ تعالیٰ کو نمازوں میں سے سب سے محبوب نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے، وہ رات کا نصف سو جاتے اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتے اور چھٹا حصہ سو جاتے۔“ ➌ {” وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ “} اور قرآن کو ٹھہرٹھہر کر پڑھ۔ {” تَرْتِيْلًا “} مصدر تاکید کے لیے ہے، خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔ اس میں بتایا ہے کہ رات کے قیام میں پڑھنا کیا ہے؟ سو حکم ہوا کہ قرآن پڑھیں اور خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ ترتیل میں کئی چیزیں شامل ہیں، ان میں سے پہلی یہ ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر پورے غور و فکر کے ساتھ تلاوت کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم کے مطابق خوب ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کیا کرتے تھے۔ حفصہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ وَ كَانَ يَقْرَأُ بِالسُّوْرَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتّٰی تَكُوْنَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا ] [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جواز النافلۃ قائمًا و قاعدًا…: ۷۳۳ ] ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورت کی تلاوت کرتے اور اسے اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ اس سے لمبی سورت سے بھی لمبی ہو جاتی۔“ دوسری چیز جو ترتیل میں شامل ہے، یہ ہے کہ ہر لفظ الگ الگ سمجھ میں آئے، چنانچہ یعلیٰ بن مملک نے ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت اور نماز کے متعلق سوال کیا، انھوں نے پہلے آپ کی رات کی نماز کا حال بیان کیا: [ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهٗ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُّفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا ] [ ترمذي، فضائل القرآن، باب ما جاء کیف کانت قراء ۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ۲۹۲۳ ] ”پھر ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کی صفت بیان کی تو انھوں نے ایسی قراء ت بیان کی جس کا ایک ایک حرف واضح کیا گیا تھا۔“ تیسری چیز ہر آیت پرٹھہرنا ہے، بعض لوگ ایک ہی سانس میں وقف کے بغیر آیت کے ساتھ آیت ملائے جاتے ہیں اور اسے کمال سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سنت کے خلاف ہے، جیسا کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهٗ وَ فِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ دَاوٗدَ: يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهٗ آيَةً آيَةً يَقْرَأُ: «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ثُمَّ يَقِفُ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ثُمَّ يَقِفُ ] [ ترمذي، القرائات، باب في فاتحۃ الکتاب: ۲۹۲۷۔ أبو داوٗد: ۴۰۰۱، وصححہ الألباني في صحیح الجامع الصغیر ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قراء ت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے۔“ اور ابو داؤد کی روایت میں ہے: ”آپ اپنی قراء ت ایک ایک آیت الگ کر کے پڑھتے تھے۔“ آپ {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “} پڑھتے اور ٹھہر جاتے، پھر {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} پڑھتے اور ٹھہر جاتے۔“ چوتھی چیز یہ ہے کہ حروف مدّہ کو لمبا کرکے پڑھا جائے۔ قتادہ فرماتے ہیں: [ سُئِلَ أَنَسٌ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ كَانَتْ مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» يَمُدُّ بِبِسْمِ اللّٰهِ وَ يَمُدُّ بِالرَّحْمٰنِ وَ يَمُدُّ بِالرَّحِيْمِ ] [ بخاري، فضائل القرآن، باب مد القراءۃ: ۵۰۴۶ ] ”انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”آپ کی قراء ت کھینچ کھینچ کر ہوتی تھی۔“ پھر انھوں نے {” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} پڑھی۔ وہ {” بِسْمِ اللّٰهِ “} کو لمبا کر کے پڑھتے تھے اور {” الرَّحْمٰنِ “} کو لمبا کرکے پڑھتے اور {”الرَّحِيْمِ “} کو لمبا کر کے پڑھتے تھے۔“ پانچویں یہ کہ قرآن کو خوب صورت لہجے اور خوش آوازی سے پڑھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: {وأسروا قولکم…}: ۷۵۲۷ ] ”جو شخص قرآن کو خوبصورت لہجے اور خوش آوازی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔“ غرض ترتیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کو خوب غور و فکر کے ساتھ، ٹھہر ٹھہر کر، الفاظ کی واضح ادائیگی کے ساتھ اور حروف مدّہ کو لمبا کرکے جس قدر خوش آوازی کے ساتھ ہو سکے پڑھا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16] ، یعنی ’ ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، یعنی ’ راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ ‘ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ ‘ اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:733]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5046] ابن جریج میں ہے کہ { ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔} یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ } یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے { قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو } ۱؎ [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور { ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے } ۱؎ [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ { اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:793] سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:775] پھر فرماتا ہے ’ ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ ‘ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ ۱؎ [مسند احمد:222/2:ضعیف] صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592] مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ ۱؎ [مسند احمد:118/6:صحیح] ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو
مولانا محمد جوناگڑھی
یا اس پر بڑھا دے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کر
احمد رضا خان بریلوی
یا اس پر کچھ بڑھاؤ اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو
علامہ محمد حسین نجفی
یا اس سے کچھ بڑھا دیجئے! اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (اور واضح کر کے) پڑھا کیجئے! ۔
عبدالسلام بن محمد
یا اس سے زیادہ کرلے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16] ، یعنی ’ ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، یعنی ’ راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ ‘ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ ‘ اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:733]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5046] ابن جریج میں ہے کہ { ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔} یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ } یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے { قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو } ۱؎ [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور { ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے } ۱؎ [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ { اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:793] سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:775] پھر فرماتا ہے ’ ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ ‘ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ ۱؎ [مسند احمد:222/2:ضعیف] صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592] مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ ۱؎ [مسند احمد:118/6:صحیح] ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
4۔ 1 یعنی یہ قیام نصف رات سے کچھ کم (ثلث) یا کچھ زیادہ (دو ثلث) ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ 4۔ 2 چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ کی قرأت ترتیل کے ساتھ ہی تھی اور آپ نے اپنی امت کو بھی ترتیل کے ساتھ، یعنی ٹھہر ٹھہر پڑھنے کی تلقین کی ہے۔
یقیناً ہم تجھ پر بہت بھاری بات عنقریب نازل کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم آپ(ص) پر ایک بھاری کلام ڈالنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16] ، یعنی ’ ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، یعنی ’ راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ ‘ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ ‘ اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:733]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5046] ابن جریج میں ہے کہ { ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔} یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ } یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے { قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو } ۱؎ [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور { ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے } ۱؎ [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ { اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:793] سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:775] پھر فرماتا ہے ’ ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ ‘ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ ۱؎ [مسند احمد:222/2:ضعیف] صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592] مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ ۱؎ [مسند احمد:118/6:صحیح] ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
5۔ 1 رات کا قیام چونکہ نفس انسانی کے لئے بالعموم گراں ہے، اس لئے یہ جملہ خاص طور پر فرمایا کہ ہم اس سے بھی بھاری بات تجھ پر نازل کریں گے، یعنی، قرآن، جس کے احکام و فرائض پر عمل، اس کی حدود کی پابندی اور اس کی تبلیغ اور دعوت، ایک بھاری جانفسانی کا عمل ہے۔ بعض نے ثقالت سے وہ بوجھ مراد لیا ہے جو وحی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑتا تھا جس سے سخت سردی میں بھی آپ پسینے سے شرابور ہوجاتے تھے۔
(آیت 5) ➊ { اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ …:} اس آیت میں اور اس کے بعد والی دو آیتوں میں رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ وحی الٰہی کا بھاری بوجھ اٹھانے کی استعداد پیدا کرنے کے لیے رات کا قیام اور اس میں پورے غورو فکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہایت ضرور ی ہے۔ ➋ { ” قَوْلًا ثَقِيْلًا “} (بھاری کلام) سے مراد وحی الٰہی ہے جو اترتے وقت بھی بھاری ہے، ہر کلام اور ہر چیز سے بھاری ہے، اس پر عمل بھاری ہے اور اسے تمام دنیا تک پہنچانے کا فریضہ بھی بہت بھاری ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: (1) نزول وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بوجھ پڑتا تھا، جسے برداشت کرنا آپ پر بہت بھاری تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ سخت سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوتی اور جب وہ حالت ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینا ٹپک رہا ہوتا۔ [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي: ۲ ] زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی ران میری ران پر تھی، آپ کی ران کا اتنا بوجھ تھا، قریب تھا کہ وہ میری ران کو کچل دے۔ [ دیکھیے بخاري: ۲۸۳۲ ] عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوتے، آپ پر وحی اترتی تو اونٹنی زمین پر گردن رکھ دیتی۔ [ دیکھیے مسند أحمد: 118/6، ح: ۲۴۹۲۱ ] (2) یہ کلام دوسرے تمام کلاموں سے بھاری ہے، باقی سب کلام اس کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔ (3) اس کے احکام پر عمل کرنا بھاری ہے۔ فرائض پنج گانہ اور دوسرے احکام بجا لانا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا نفس پر بہت بھاری ہے۔ (4) یہ اس لیے بھی بھاری ہے کہ اسے تمام دنیا کے لوگوں تک پہنچانے کا حکم ہے جو نہایت دشوار کام ہے۔ اس کے لیے آپ کو لوگوں کی مخالفت، طعن و ملامت، ٹھٹھا و مذاق، گالی گلوچ، جسمانی ایذا، قتل کی سازشیں اور ہجرت و جہاد سب کچھ برداشت کرنا ہوگا۔
درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بہت درست کر دینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک رات کا اٹھنا وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہے اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک رات کا اٹھنا سخت روندتا ہے (اور سخت کوفت کا باعث ہے) مگر ذکر (خدا اور قرآن خوانی) کیلئے زیادہ موزوں اور ٹھیک ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ رات کو اٹھنا(نفس کو) کچلنے میں زیادہ سخت اور بات کرنے میں زیادہ درستی والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16] ، یعنی ’ ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، یعنی ’ راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ ‘ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ ‘ اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:733]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5046] ابن جریج میں ہے کہ { ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔} یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ } یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے { قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو } ۱؎ [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور { ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے } ۱؎ [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ { اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:793] سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:775] پھر فرماتا ہے ’ ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ ‘ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ ۱؎ [مسند احمد:222/2:ضعیف] صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592] مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ ۱؎ [مسند احمد:118/6:صحیح] ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
6۔ 1 دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دن کے مقابلے میں رات کو قرآن زیادہ واضح اور حضور قلب کے لئے زیادہ موثر ہے، اس لئے کہ اس وقت دوسری آوازیں خاموش ہوتی ہیں۔ فضا میں سکون غالب ہوتا ہے اس وقت نمازی جو پڑھتا ہے وہ آوازوں کے شور اور دنیا کے ہنگاموں کے نذر نہیں ہوتا بلکہ نمازی اس سے خوب محفوظ ہوتا اور اس کی اثر آفرینی کو محسوس کرتا ہے۔
(آیت 6) ➊ {اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ …: ” نَاشِئَةَ الَّيْلِ “} (رات کا اٹھنا) {”نَشَأَ يَنْشَأُ“} (ف، ک) کا مصدر بروزن {”عَافِيَةٌ“} اور {”كَاذِبَةٌ“} ہے۔ {” نَشَأَ مِنْ مَّكَانِهِ“} وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ {” وَطْاً “ ”وَطِئَ يَطَأُ“} (س) کا مصدر ہے، پاؤں سے روندنا، کچلنا۔ {” اَقْوَمُ “} زیادہ سیدھا، زیادہ درست۔ {” قِيْلًا “ ” قَوْلاً“} کی طرح مصدر ہے۔ ➋ یعنی رات کا اٹھنا طبیعت پر بہت بھاری اور نفس کو کچلنے میں دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ واضح رہے کہ جو لوگ زیادہ سے زیادہ جسمانی ایذا برداشت کر لیتے ہیں بے خوابی کی ایذا کے سامنے ان کے حوصلے بھی جواب دے جاتے ہیں۔ نیند جیسی مرغوب چیز چھوڑ کر قیام کا مشکل ترین عمل کرنے سے نفس میں مشقت اٹھانے کی اتنی قوت پیدا ہو گی کہ وہ وحی الٰہی کو اٹھانے اور تبلیغ رسالت کے بھاری بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ {” اَقْوَمُ قِيْلًا “} رات کو جب ہر طرف خاموشی ہوتی ہے اور لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں اس وقت اٹھ کر آدمی اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس مبارک وقت میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہوتی جو اس کی توجہ خراب کرے، اس وقت منہ سے نکلنے والے الفاظ زبان اور دل دونوں سے نکل رہے ہوتے ہیں اور اس عمل میں کسی دکھاوے یا سناوے کی آمیزش بھی نہیں ہوتی، کیونکہ کوئی دوسرا نہ دیکھتا ہے نہ سن رہا ہوتا ہے، اس لیے اسے بات کرنے میں زیادہ درست قرار دیا۔ پھر رات کا آخری حصہ خاص قبولیت کا وقت بھی ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالٰی كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقٰی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُوْلُ مَنْ يَّدْعُوْنِيْ فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ؟ مَنْ يَّسْأَلُنِيْ فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَّسْتَغْفِرُنِيْ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ ] [بخاري، التہجد، باب الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل: ۱۱۴۵۔ مسلم: ۷۵۸ ] ”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری ثلث باقی ہوتا ہے، فرماتا ہے: ”کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش کی درخواست کرے اور میں اسے بخشوں؟“
پھر فرماتا ہے ’ دن میں تجھے بہت فراغت ہے، نیند کر سکتے ہو، سو بیٹھ سکتے ہو، راحت حاصل کر سکتے ہو، نوافل بکثرت ادا کر سکتے ہو، اپنے دنیوی کام کاج پورے کر سکتے ہو، پھر رات کو آخرت کے کام کے لیے خاص کر لو۔ ‘ اس بناء پر یہ حکم اس وقت تھا جب رات کی نماز فرض تھی پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور بطور تخفیف کے اس میں کمی کر دی اور فرمایا ’ تھوڑی سی رات کا قیام کرو۔ ‘ اس فرمان کے بعد عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے آیت «إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» ۱؎ [73-المزمل:20] تک پڑھا اور آیت «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، کی بھی تلاوت کی۔ آپ کا یہ قول ہے بھی ٹھیک۔ مسند احمد میں ہے کہ سعید بن ہشام رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مدینہ کی طرف چلے تاکہ وہاں کے اپنے مکانات بیچ ڈالیں اور ان کی قیمت سے ہتھیار وغیرہ خرید کر جہاد میں جائیں اور رومیوں سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ یا تو روم فتح ہو یا شہادت ملے، مدینہ شریف میں اپنی قوم والوں سے ملے اور اپنا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا ”سنو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم میں سے چھ شخصوں نے بھی ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کو طلاق دے دیں مکانات وغیرہ بیچ ڈالیں اور راہ اللہ کھڑے ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا جس طرح میں کرتا ہوں کیا اس طرح کرنے میں تمہارے لیے اچھائی نہیں ہے؟ خبردار ایسا نہ کرنا اپنے اس ارادے سے باز آ جاؤ۔“ یہ حدیث سن کر سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنا ارادہ ترک کیا اور وہیں اسی جماعت سے کہا کہ تم گواہ رہنا میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا۔
اب سعید چلے گئے پھر جب اس جماعت سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ یہاں سے جانے کے بعد میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت دریافت تو انہوں نے کہا اس مسئلے کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتا سکتی ہیں تم وہیں جاؤ اور ام المؤمنین ہی سے دریافت کرو اور ام المؤمنین سے جو سنو وہ ذرا مجھ سے کہہ جانا۔ میں حکیم بن افلح رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا تم مجھے ام المؤمنین کی خدمت میں لے چلو۔ انہوں نے فرمایا: میں وہاں نہیں جاؤں گا اس لیے کہ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپس میں لڑنے والی جماعتوں یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلین کے بارے میں آپ دخل نہ دیجئیے لیکن انہوں نے نہ مانا اور دخل دیا۔ میں نے انہیں قسم دی اور کہا کہ نہیں آپ مجھے ضرور وہاں لے چلئے خیر بمشکل تمام وہ راضی ہوئے اور میں ان کے ساتھ گیا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا صاحبہ نے حکیم رضی اللہ عنہ کی آواز پہچان لی اور کہا: کیا حکیم ہے؟ جواب دیا گیا کہ ہاں! میں حکیم بن افلح ہوں۔ پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہا: سعید بن ہشام پوچھا: ہشام کون؟ عامر کے لڑکے؟ کہا: ہاں! عامر کے لڑکے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا عامر بہت اچھا آدمی تھا اللہ اس پر رحم کرے، میں نے کہا ام المومنین مجھے بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا تھے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا: بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۔
اب میں نے اجازت مانگنے کا قصد کیا لیکن فوراً ہی یاد آ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا حال بھی دریافت کر لوں، اس سوال کے جواب میں ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے سورۃ مزمل نہیں پڑھی؟ میں نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا: سنو اس سورت کے اول حصے میں قیام الیل فرض ہوا اور سال بھر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تہجد کی نماز بطور فرضیت کے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ قدموں پر ورم آ گیا، بارہ ماہ کے بعد اس سورت کے خاتمہ کی آیتیں اتریں اور اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی فرضیت اٹھ گئی اور عملی صورت باقی رہ گئی۔ میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن خیال آیا کہ وتر کا مسئلہ بھی دریافت کر لوں تو میں نے کہا: ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت سے بھی آگاہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، سنو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک وضو کا پانی وغیرہ تیار ایک طرف رکھ دیا کرتے تھے جب بھی اللہ چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلتی اٹھتے مسواک کرتے وضو کرتے اور آٹھ رکعت پڑھتے بیچ میں تشہد میں بالکل نہ بیٹھتے آٹھویں رکعت پوری کر کے آپ التحیات میں بیٹھتے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتے دعا کرتے اور زور سے سلام پھیرتے کہ ہم بھی سن لیں پھر بیٹھے بیٹھے ہی دو رکعت اور ادا کرتے (اور ایک وتر پڑھتے) بیٹا یہ سب مل کر گیارہ رکعت ہوئیں، اب جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہوئے اور بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات وتر پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کیں بس بیٹا یہ نو رکعت ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی نماز کو پڑھتے تو پھر اس پر مداومت کرتے ہاں اگر کسی شغل یا نیند یا دکھ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کو بارہ رکعت ادا فرما لیا کرتے میں نہیں جانتی کہ کسی ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن صبح تک پڑھا ہو اور نہ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے۔ اب میں ام المؤمنین سے رخصت ہو کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وہاں کے تمام سوال جواب دوہرائے آپ نے سب کی تصدیق کی اور فرمایا اگر میری بھی آمد و رفت ام المؤمنین کے پاس ہوتی تو جا کر خود اپنے کانوں سن آتا۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:746]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد ٭٭
ابن جریر میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بوریا رکھ دیا کرتی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز پڑھتے لوگوں نے کہیں یہ خبر سن لی اور رات کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے کے لیے وہ بھی آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر باہر نکلے چونکہ شفقت و رحمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت پر تھی اور ساتھ ہی ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو یہ نماز فرض ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمانے لگے کہ لوگو! ان ہی اعمال کی تکلیف اٹھاؤ جن کی تم میں طاقت ہو اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہ تھکے گا البتہ تم عمل کرنے سے تھک جاؤ گے سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر دوام ہو سکے۔ ادھر قرآن کریم میں یہ آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے قیام الیل شروع کیا یہاں تک کہ رسیاں باندھنے لگے کہ نیند نہ آ جائے، آٹھ مہینے اسی طرح گزر گئے ان کی اس کوشش کو جو وہ اللہ کی رضا مندی کی طلب میں کر رہے تھے دیکھ کر اللہ نے بھی ان پر رحم کیا اور اسے فرض عشاء کی طرف لوٹا دیا اور قیام الیل چھوڑ دیا۔ یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی ہے لیکن اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ زبیدی ضعیف ہے اصل حدیث بغیر سورۃ مزمل کے نازل ہونے کے ذکر کی صحیح میں بھی ہے اور اس حدیث کے الفاظ کے تسلسل سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی حالانکہ دراصل یہ سورت مکہ شریف میں اتری ہے، اسی طرح اس روایت میں ہے کہ آٹھ مہینے کے بعد اس کی آخری آیتیں نازل ہوئیں یہ قول بھی غریب ہے، صحیح وہی ہے جو بحوالہ مسند پہلے گزر چکا کہ سال بھر کے بعد آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ابن ابی حاتم میں منقول ہے کہ سورۃ مزمل کی ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثل رمضان شریف کے قیام کے قیام کرتے رہے اور اس سورت کی اول آخر کی آیتوں کے اترنے میں تقریباً سال بھر کا فاصلہ تھا۔ ابواسامہ سے بھی ابن جریر میں اسی طرح مروی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اور تہجد ٭٭
ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سال بھر تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیوں پر ورم آ گیا پھر آیت «فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْه» ۱؎ [73-المزمل:20] ، نازل ہوئی اور لوگوں نے راحت پائی۔ حسن بصری اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن ابی حاتم میں بہ روایت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سولہ مہینے کا فاصلہ مروی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک سال یا دو سال تک قیام کرتے رہے پنڈلیاں اور قدم سوج گئے پھر آخری سورت کی آیتیں اتریں اور تخفیف ہو گئی۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ دس سال کا فاصلہ بتاتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35174:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت کے حکم کے مطابق ایمانداروں نے قیام الیل شروع کیا لیکن بڑی مشقت پڑتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور آیت «عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک آیتیں نازل فرما کر وسعت کر دی اور تنگی نہ رکھی۔ «فَلَهُ الْحَمْدُ» پھر فرمان ہے ’ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ اور اس کی عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ ‘ یعنی امور دنیا سے فارغ ہو کر دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ بہ کثرت اس کا ذکر کر، اس کی طرف مائل اور سراسر راغب ہو جا، جیسے اور جگہ ہے «فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ» ۱؎ [94-الشرح:7] ، یعنی ’ جب اپنے شغل سے فارغ ہو تو ہماری عبادت محنت سے بجا لاؤ، اخلاص، فارغ البالی، کوشش، محنت، دل لگی اور یکسوئی سے اللہ کی طرف جھک جاؤ۔ ‘ ایک حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «تتبل» سے منع فرمایا } یعنی بال بچے اور دنیا کو چھوڑ دینے سے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1082،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ] یہاں مطلب یہ ہے کہ علائق دنیوی سے کٹ کر اللہ کی عبادت میں توجہ اور انہماک کا وقت بھی ضرور نکالا کرو۔ وہ مالک ہے، وہ متصرف ہے مشرق مغرب سب اس کے قبضہ میں ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، تو جس طرح صرف اسی اللہ کی عبادت کرتا ہے اسی طرح صرف اسی پر بھروسہ بھی رکھ۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ ‘ یہی مضمون آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] میں بھی ہے، اس معنی کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ عبادت، اطاعت، توکل اور بھروسہ کے لائق ایک اس کی پاک ذات ہے۔
7۔ 1 یعنی رات کو نماز اور تلاوت زیادہ مفید اور موثر ہے، یعنی اس پر ہمیشگی کر، دن ہو یا رات، اللہ کی تسبیح و تمحید اور تکبیر و تہلیل کرتا رہ۔
(آیت 7){ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا: ” سَبْحًا “} اور{ ”سِبَاحَةٌ “} (ف) کا اصل معنی تیرنا ہے، جیسے فرمایا: «وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا» [ النازعات: ۳ ] ”اور جو تیرنے والے ہیں! تیزی سے تیرنا۔ “ مراد ادھر ادھر آنا جانا، کام کاج اور مشغولیت ہے، یعنی دن کے وقت آپ کو گھر کے کام، فکر معاش، تبلیغ دین، مہمان نوازی، مسلمانوں کے معاملات کی اصلاح اور جہاد فی سبیل اللہ، غرض بے شمار مصروفیات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنا مشغول وقت گزارا ہے ایسا مشغول وقت گزارنے والا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ ایسی مشغولیت میں دن کے وقت ذکر الٰہی، قیام اور تلاوت کے لیے الگ وقت نکالنا ممکن نہیں تھا، اس لیے خاص ان کاموں کے لیے رات کو اٹھنے کی تاکید فرمائی۔
اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کیجئے اور (سب سے کٹ کر) اسی کی طرف متوجہ ہو جائیے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے منقطع ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ دن میں تجھے بہت فراغت ہے، نیند کر سکتے ہو، سو بیٹھ سکتے ہو، راحت حاصل کر سکتے ہو، نوافل بکثرت ادا کر سکتے ہو، اپنے دنیوی کام کاج پورے کر سکتے ہو، پھر رات کو آخرت کے کام کے لیے خاص کر لو۔ ‘ اس بناء پر یہ حکم اس وقت تھا جب رات کی نماز فرض تھی پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور بطور تخفیف کے اس میں کمی کر دی اور فرمایا ’ تھوڑی سی رات کا قیام کرو۔ ‘ اس فرمان کے بعد عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے آیت «إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» ۱؎ [73-المزمل:20] تک پڑھا اور آیت «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، کی بھی تلاوت کی۔ آپ کا یہ قول ہے بھی ٹھیک۔ مسند احمد میں ہے کہ سعید بن ہشام رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مدینہ کی طرف چلے تاکہ وہاں کے اپنے مکانات بیچ ڈالیں اور ان کی قیمت سے ہتھیار وغیرہ خرید کر جہاد میں جائیں اور رومیوں سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ یا تو روم فتح ہو یا شہادت ملے، مدینہ شریف میں اپنی قوم والوں سے ملے اور اپنا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا ”سنو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم میں سے چھ شخصوں نے بھی ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کو طلاق دے دیں مکانات وغیرہ بیچ ڈالیں اور راہ اللہ کھڑے ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا جس طرح میں کرتا ہوں کیا اس طرح کرنے میں تمہارے لیے اچھائی نہیں ہے؟ خبردار ایسا نہ کرنا اپنے اس ارادے سے باز آ جاؤ۔“ یہ حدیث سن کر سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنا ارادہ ترک کیا اور وہیں اسی جماعت سے کہا کہ تم گواہ رہنا میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا۔
اب سعید چلے گئے پھر جب اس جماعت سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ یہاں سے جانے کے بعد میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت دریافت تو انہوں نے کہا اس مسئلے کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتا سکتی ہیں تم وہیں جاؤ اور ام المؤمنین ہی سے دریافت کرو اور ام المؤمنین سے جو سنو وہ ذرا مجھ سے کہہ جانا۔ میں حکیم بن افلح رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا تم مجھے ام المؤمنین کی خدمت میں لے چلو۔ انہوں نے فرمایا: میں وہاں نہیں جاؤں گا اس لیے کہ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپس میں لڑنے والی جماعتوں یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلین کے بارے میں آپ دخل نہ دیجئیے لیکن انہوں نے نہ مانا اور دخل دیا۔ میں نے انہیں قسم دی اور کہا کہ نہیں آپ مجھے ضرور وہاں لے چلئے خیر بمشکل تمام وہ راضی ہوئے اور میں ان کے ساتھ گیا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا صاحبہ نے حکیم رضی اللہ عنہ کی آواز پہچان لی اور کہا: کیا حکیم ہے؟ جواب دیا گیا کہ ہاں! میں حکیم بن افلح ہوں۔ پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہا: سعید بن ہشام پوچھا: ہشام کون؟ عامر کے لڑکے؟ کہا: ہاں! عامر کے لڑکے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا عامر بہت اچھا آدمی تھا اللہ اس پر رحم کرے، میں نے کہا ام المومنین مجھے بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا تھے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا: بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۔
اب میں نے اجازت مانگنے کا قصد کیا لیکن فوراً ہی یاد آ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا حال بھی دریافت کر لوں، اس سوال کے جواب میں ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے سورۃ مزمل نہیں پڑھی؟ میں نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا: سنو اس سورت کے اول حصے میں قیام الیل فرض ہوا اور سال بھر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تہجد کی نماز بطور فرضیت کے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ قدموں پر ورم آ گیا، بارہ ماہ کے بعد اس سورت کے خاتمہ کی آیتیں اتریں اور اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی فرضیت اٹھ گئی اور عملی صورت باقی رہ گئی۔ میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن خیال آیا کہ وتر کا مسئلہ بھی دریافت کر لوں تو میں نے کہا: ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت سے بھی آگاہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، سنو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک وضو کا پانی وغیرہ تیار ایک طرف رکھ دیا کرتے تھے جب بھی اللہ چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلتی اٹھتے مسواک کرتے وضو کرتے اور آٹھ رکعت پڑھتے بیچ میں تشہد میں بالکل نہ بیٹھتے آٹھویں رکعت پوری کر کے آپ التحیات میں بیٹھتے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتے دعا کرتے اور زور سے سلام پھیرتے کہ ہم بھی سن لیں پھر بیٹھے بیٹھے ہی دو رکعت اور ادا کرتے (اور ایک وتر پڑھتے) بیٹا یہ سب مل کر گیارہ رکعت ہوئیں، اب جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہوئے اور بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات وتر پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کیں بس بیٹا یہ نو رکعت ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی نماز کو پڑھتے تو پھر اس پر مداومت کرتے ہاں اگر کسی شغل یا نیند یا دکھ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کو بارہ رکعت ادا فرما لیا کرتے میں نہیں جانتی کہ کسی ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن صبح تک پڑھا ہو اور نہ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے۔ اب میں ام المؤمنین سے رخصت ہو کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وہاں کے تمام سوال جواب دوہرائے آپ نے سب کی تصدیق کی اور فرمایا اگر میری بھی آمد و رفت ام المؤمنین کے پاس ہوتی تو جا کر خود اپنے کانوں سن آتا۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:746]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد ٭٭
ابن جریر میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بوریا رکھ دیا کرتی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز پڑھتے لوگوں نے کہیں یہ خبر سن لی اور رات کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے کے لیے وہ بھی آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر باہر نکلے چونکہ شفقت و رحمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت پر تھی اور ساتھ ہی ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو یہ نماز فرض ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمانے لگے کہ لوگو! ان ہی اعمال کی تکلیف اٹھاؤ جن کی تم میں طاقت ہو اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہ تھکے گا البتہ تم عمل کرنے سے تھک جاؤ گے سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر دوام ہو سکے۔ ادھر قرآن کریم میں یہ آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے قیام الیل شروع کیا یہاں تک کہ رسیاں باندھنے لگے کہ نیند نہ آ جائے، آٹھ مہینے اسی طرح گزر گئے ان کی اس کوشش کو جو وہ اللہ کی رضا مندی کی طلب میں کر رہے تھے دیکھ کر اللہ نے بھی ان پر رحم کیا اور اسے فرض عشاء کی طرف لوٹا دیا اور قیام الیل چھوڑ دیا۔ یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی ہے لیکن اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ زبیدی ضعیف ہے اصل حدیث بغیر سورۃ مزمل کے نازل ہونے کے ذکر کی صحیح میں بھی ہے اور اس حدیث کے الفاظ کے تسلسل سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی حالانکہ دراصل یہ سورت مکہ شریف میں اتری ہے، اسی طرح اس روایت میں ہے کہ آٹھ مہینے کے بعد اس کی آخری آیتیں نازل ہوئیں یہ قول بھی غریب ہے، صحیح وہی ہے جو بحوالہ مسند پہلے گزر چکا کہ سال بھر کے بعد آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ابن ابی حاتم میں منقول ہے کہ سورۃ مزمل کی ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثل رمضان شریف کے قیام کے قیام کرتے رہے اور اس سورت کی اول آخر کی آیتوں کے اترنے میں تقریباً سال بھر کا فاصلہ تھا۔ ابواسامہ سے بھی ابن جریر میں اسی طرح مروی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اور تہجد ٭٭
ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سال بھر تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیوں پر ورم آ گیا پھر آیت «فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْه» ۱؎ [73-المزمل:20] ، نازل ہوئی اور لوگوں نے راحت پائی۔ حسن بصری اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن ابی حاتم میں بہ روایت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سولہ مہینے کا فاصلہ مروی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک سال یا دو سال تک قیام کرتے رہے پنڈلیاں اور قدم سوج گئے پھر آخری سورت کی آیتیں اتریں اور تخفیف ہو گئی۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ دس سال کا فاصلہ بتاتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35174:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت کے حکم کے مطابق ایمانداروں نے قیام الیل شروع کیا لیکن بڑی مشقت پڑتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور آیت «عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک آیتیں نازل فرما کر وسعت کر دی اور تنگی نہ رکھی۔ «فَلَهُ الْحَمْدُ» پھر فرمان ہے ’ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ اور اس کی عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ ‘ یعنی امور دنیا سے فارغ ہو کر دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ بہ کثرت اس کا ذکر کر، اس کی طرف مائل اور سراسر راغب ہو جا، جیسے اور جگہ ہے «فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ» ۱؎ [94-الشرح:7] ، یعنی ’ جب اپنے شغل سے فارغ ہو تو ہماری عبادت محنت سے بجا لاؤ، اخلاص، فارغ البالی، کوشش، محنت، دل لگی اور یکسوئی سے اللہ کی طرف جھک جاؤ۔ ‘ ایک حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «تتبل» سے منع فرمایا } یعنی بال بچے اور دنیا کو چھوڑ دینے سے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1082،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ] یہاں مطلب یہ ہے کہ علائق دنیوی سے کٹ کر اللہ کی عبادت میں توجہ اور انہماک کا وقت بھی ضرور نکالا کرو۔ وہ مالک ہے، وہ متصرف ہے مشرق مغرب سب اس کے قبضہ میں ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، تو جس طرح صرف اسی اللہ کی عبادت کرتا ہے اسی طرح صرف اسی پر بھروسہ بھی رکھ۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ ‘ یہی مضمون آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] میں بھی ہے، اس معنی کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ عبادت، اطاعت، توکل اور بھروسہ کے لائق ایک اس کی پاک ذات ہے۔
8۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔
(آیت 8) {وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ …: ” بَتَلَ يَبْتُلُ“} (ن،ض) قطع کرنا۔ {”تَبَتُّلٌ“} منقطع ہونا۔اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ رات کو خاص طورپر اٹھ کر قیام، تلاوت اور ذکر الٰہی کے علاوہ دن رات کے ہر وقت میں بھی اللہ کا ذکر جاری رکھ اور اپنی تمام تر توجہ مخلوق سے ہٹا کر اپنے رب ہی کی طرف رکھ۔ اس مطلب کا قرینہ یہ ہے کہ اس میں ذکر و تبتل کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں فرمایا، عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ أَحْيَانِهٖ ] [ مسلم، الحیض، باب ذکر اللّٰہ تعالٰی في حال الجنابۃ وغیرھا: ۳۷۳ ] ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔“ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دن کی لمبی چوڑی مصروفیات سے فارغ ہو کر رات کو خاص طور پر اپنے رب کا ذکر کر اور ہر کام سے کلی طور پر منقطع ہو کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجا، جیسا کہ سورۂ انشراح میں فرمایا: «فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (7) وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ» [ الانشراح: 8،7 ] ” جب تو فارغ ہو تو محنت کر اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کر۔“ اس مطلب کا قرینہ شروع سورت سے آیات کا سیاق ہے۔ دونوں مطلب ہی درست ہیں، پہلے مطلب کی صورت میں عام ذکر و تبتل مراد ہو گا، جو دوسرے اشغال کے ساتھ بھی جاری رہتا ہے اور دوسرے میں خاص، جو دوسرے کام چھوڑ کر رات کی تنہائی میں یکسوئی سے ادا ہوتا ہے۔
وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو
مولانا محمد جوناگڑھی
مشرق ومغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کار ساز بنالے
احمد رضا خان بریلوی
وہ پورب کا رب اور پچھم کا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ
علامہ محمد حسین نجفی
وہ مشرق و مغرب کا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ پس اسی کو اپنا کارساز بنائیے۔
عبدالسلام بن محمد
مشرق و مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سو اس کو کارساز بنالے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ دن میں تجھے بہت فراغت ہے، نیند کر سکتے ہو، سو بیٹھ سکتے ہو، راحت حاصل کر سکتے ہو، نوافل بکثرت ادا کر سکتے ہو، اپنے دنیوی کام کاج پورے کر سکتے ہو، پھر رات کو آخرت کے کام کے لیے خاص کر لو۔ ‘ اس بناء پر یہ حکم اس وقت تھا جب رات کی نماز فرض تھی پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور بطور تخفیف کے اس میں کمی کر دی اور فرمایا ’ تھوڑی سی رات کا قیام کرو۔ ‘ اس فرمان کے بعد عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے آیت «إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» ۱؎ [73-المزمل:20] تک پڑھا اور آیت «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ، کی بھی تلاوت کی۔ آپ کا یہ قول ہے بھی ٹھیک۔ مسند احمد میں ہے کہ سعید بن ہشام رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مدینہ کی طرف چلے تاکہ وہاں کے اپنے مکانات بیچ ڈالیں اور ان کی قیمت سے ہتھیار وغیرہ خرید کر جہاد میں جائیں اور رومیوں سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ یا تو روم فتح ہو یا شہادت ملے، مدینہ شریف میں اپنی قوم والوں سے ملے اور اپنا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا ”سنو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم میں سے چھ شخصوں نے بھی ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کو طلاق دے دیں مکانات وغیرہ بیچ ڈالیں اور راہ اللہ کھڑے ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا جس طرح میں کرتا ہوں کیا اس طرح کرنے میں تمہارے لیے اچھائی نہیں ہے؟ خبردار ایسا نہ کرنا اپنے اس ارادے سے باز آ جاؤ۔“ یہ حدیث سن کر سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنا ارادہ ترک کیا اور وہیں اسی جماعت سے کہا کہ تم گواہ رہنا میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا۔
اب سعید چلے گئے پھر جب اس جماعت سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ یہاں سے جانے کے بعد میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت دریافت تو انہوں نے کہا اس مسئلے کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتا سکتی ہیں تم وہیں جاؤ اور ام المؤمنین ہی سے دریافت کرو اور ام المؤمنین سے جو سنو وہ ذرا مجھ سے کہہ جانا۔ میں حکیم بن افلح رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا تم مجھے ام المؤمنین کی خدمت میں لے چلو۔ انہوں نے فرمایا: میں وہاں نہیں جاؤں گا اس لیے کہ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپس میں لڑنے والی جماعتوں یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلین کے بارے میں آپ دخل نہ دیجئیے لیکن انہوں نے نہ مانا اور دخل دیا۔ میں نے انہیں قسم دی اور کہا کہ نہیں آپ مجھے ضرور وہاں لے چلئے خیر بمشکل تمام وہ راضی ہوئے اور میں ان کے ساتھ گیا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا صاحبہ نے حکیم رضی اللہ عنہ کی آواز پہچان لی اور کہا: کیا حکیم ہے؟ جواب دیا گیا کہ ہاں! میں حکیم بن افلح ہوں۔ پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہا: سعید بن ہشام پوچھا: ہشام کون؟ عامر کے لڑکے؟ کہا: ہاں! عامر کے لڑکے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا عامر بہت اچھا آدمی تھا اللہ اس پر رحم کرے، میں نے کہا ام المومنین مجھے بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا تھے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا: بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۔
اب میں نے اجازت مانگنے کا قصد کیا لیکن فوراً ہی یاد آ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا حال بھی دریافت کر لوں، اس سوال کے جواب میں ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے سورۃ مزمل نہیں پڑھی؟ میں نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا: سنو اس سورت کے اول حصے میں قیام الیل فرض ہوا اور سال بھر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تہجد کی نماز بطور فرضیت کے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ قدموں پر ورم آ گیا، بارہ ماہ کے بعد اس سورت کے خاتمہ کی آیتیں اتریں اور اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی فرضیت اٹھ گئی اور عملی صورت باقی رہ گئی۔ میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن خیال آیا کہ وتر کا مسئلہ بھی دریافت کر لوں تو میں نے کہا: ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت سے بھی آگاہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، سنو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک وضو کا پانی وغیرہ تیار ایک طرف رکھ دیا کرتے تھے جب بھی اللہ چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلتی اٹھتے مسواک کرتے وضو کرتے اور آٹھ رکعت پڑھتے بیچ میں تشہد میں بالکل نہ بیٹھتے آٹھویں رکعت پوری کر کے آپ التحیات میں بیٹھتے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتے دعا کرتے اور زور سے سلام پھیرتے کہ ہم بھی سن لیں پھر بیٹھے بیٹھے ہی دو رکعت اور ادا کرتے (اور ایک وتر پڑھتے) بیٹا یہ سب مل کر گیارہ رکعت ہوئیں، اب جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہوئے اور بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات وتر پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کیں بس بیٹا یہ نو رکعت ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی نماز کو پڑھتے تو پھر اس پر مداومت کرتے ہاں اگر کسی شغل یا نیند یا دکھ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کو بارہ رکعت ادا فرما لیا کرتے میں نہیں جانتی کہ کسی ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن صبح تک پڑھا ہو اور نہ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے۔ اب میں ام المؤمنین سے رخصت ہو کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وہاں کے تمام سوال جواب دوہرائے آپ نے سب کی تصدیق کی اور فرمایا اگر میری بھی آمد و رفت ام المؤمنین کے پاس ہوتی تو جا کر خود اپنے کانوں سن آتا۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:746]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد ٭٭
ابن جریر میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بوریا رکھ دیا کرتی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز پڑھتے لوگوں نے کہیں یہ خبر سن لی اور رات کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے کے لیے وہ بھی آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر باہر نکلے چونکہ شفقت و رحمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت پر تھی اور ساتھ ہی ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو یہ نماز فرض ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمانے لگے کہ لوگو! ان ہی اعمال کی تکلیف اٹھاؤ جن کی تم میں طاقت ہو اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہ تھکے گا البتہ تم عمل کرنے سے تھک جاؤ گے سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر دوام ہو سکے۔ ادھر قرآن کریم میں یہ آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے قیام الیل شروع کیا یہاں تک کہ رسیاں باندھنے لگے کہ نیند نہ آ جائے، آٹھ مہینے اسی طرح گزر گئے ان کی اس کوشش کو جو وہ اللہ کی رضا مندی کی طلب میں کر رہے تھے دیکھ کر اللہ نے بھی ان پر رحم کیا اور اسے فرض عشاء کی طرف لوٹا دیا اور قیام الیل چھوڑ دیا۔ یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی ہے لیکن اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ زبیدی ضعیف ہے اصل حدیث بغیر سورۃ مزمل کے نازل ہونے کے ذکر کی صحیح میں بھی ہے اور اس حدیث کے الفاظ کے تسلسل سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی حالانکہ دراصل یہ سورت مکہ شریف میں اتری ہے، اسی طرح اس روایت میں ہے کہ آٹھ مہینے کے بعد اس کی آخری آیتیں نازل ہوئیں یہ قول بھی غریب ہے، صحیح وہی ہے جو بحوالہ مسند پہلے گزر چکا کہ سال بھر کے بعد آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ابن ابی حاتم میں منقول ہے کہ سورۃ مزمل کی ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثل رمضان شریف کے قیام کے قیام کرتے رہے اور اس سورت کی اول آخر کی آیتوں کے اترنے میں تقریباً سال بھر کا فاصلہ تھا۔ ابواسامہ سے بھی ابن جریر میں اسی طرح مروی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اور تہجد ٭٭
ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سال بھر تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیوں پر ورم آ گیا پھر آیت «فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْه» ۱؎ [73-المزمل:20] ، نازل ہوئی اور لوگوں نے راحت پائی۔ حسن بصری اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن ابی حاتم میں بہ روایت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سولہ مہینے کا فاصلہ مروی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک سال یا دو سال تک قیام کرتے رہے پنڈلیاں اور قدم سوج گئے پھر آخری سورت کی آیتیں اتریں اور تخفیف ہو گئی۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ دس سال کا فاصلہ بتاتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35174:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت کے حکم کے مطابق ایمانداروں نے قیام الیل شروع کیا لیکن بڑی مشقت پڑتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور آیت «عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک آیتیں نازل فرما کر وسعت کر دی اور تنگی نہ رکھی۔ «فَلَهُ الْحَمْدُ» پھر فرمان ہے ’ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ اور اس کی عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ ‘ یعنی امور دنیا سے فارغ ہو کر دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ بہ کثرت اس کا ذکر کر، اس کی طرف مائل اور سراسر راغب ہو جا، جیسے اور جگہ ہے «فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ» ۱؎ [94-الشرح:7] ، یعنی ’ جب اپنے شغل سے فارغ ہو تو ہماری عبادت محنت سے بجا لاؤ، اخلاص، فارغ البالی، کوشش، محنت، دل لگی اور یکسوئی سے اللہ کی طرف جھک جاؤ۔ ‘ ایک حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «تتبل» سے منع فرمایا } یعنی بال بچے اور دنیا کو چھوڑ دینے سے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1082،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ] یہاں مطلب یہ ہے کہ علائق دنیوی سے کٹ کر اللہ کی عبادت میں توجہ اور انہماک کا وقت بھی ضرور نکالا کرو۔ وہ مالک ہے، وہ متصرف ہے مشرق مغرب سب اس کے قبضہ میں ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، تو جس طرح صرف اسی اللہ کی عبادت کرتا ہے اسی طرح صرف اسی پر بھروسہ بھی رکھ۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ ‘ یہی مضمون آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] میں بھی ہے، اس معنی کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ عبادت، اطاعت، توکل اور بھروسہ کے لائق ایک اس کی پاک ذات ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9) {رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ …:} یعنی مشر ق و مغرب کا مالک و مربی وہی ہے، ہر وقت اسی کا ذکر کرو، عبادت بھی اسی کی کرو اور بھروسا بھی اسی پر رکھو، جب وہ معبود اور وکیل ہے تو تمام دنیا سے بے پروا ہوجانے میں فکر کس بات کی؟ عبادت و توکل دونوں کو اللہ کے لیے خاص کرنے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے، جیسے فرمایا: «فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [ ہود: ۱۲۳] ”سو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا رکھ۔“ اور فرمایا: «اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» [ الفاتحۃ: ۴ ] ”ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔“ {” وَكِيْلًا “ ”وَكَلَ يَكِلُ“} (ض) سپرد کرنا۔ وکیل وہ ہے جس کے سپرد کوئی کام کر دیا جائے، یعنی اپنی پوری جدو جہد کے باوجود اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھو اور اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دو۔
اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو کچھ وه کہیں تو سہتا ره اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ ره
احمد رضا خان بریلوی
اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انہیں اچھی طرح چھوڑ دو
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان (کفار) کی باتوں پر صبر کیجئے! اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہو جائیے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور انھیں چھوڑ دے، خوبصورت طریقے سے چھوڑنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10){ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ …:} یعنی ایک اللہ کو اپنا سہارا بنانے، ان کے معبودوں کو یکسر چھوڑنے اور اس عمل کی دعوت و تبلیغ پر یہ آپ کو جو کچھ بھی کہیں آپ صبر کریں، خواہ یہ آپ کو جھوٹا کہیں یا دیوانہ یا کاہن یا شاعر، یا محمد کے بجائے مذمم کہیں، غرض کچھ بھی کہیں یا جو بھی بہتان باندھیں آپ صبر کریں، انتقام کے چکر میں نہ پڑیں، نہ ان کی بد سلوکی کا شکوہ کریں۔ خوبصورت طریقے سے الگ ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ لڑ جھگڑ کر اور بد زبانی کرکے نہیں بلکہ نہایت حسن سلوک، صبر اور شرافت کے ساتھ ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ دوسری بات یہ کہ ایسی علیحدگی نہ ہو کہ ان سے بائیکاٹ کر دیں اور بول چال ختم کرکے دعوت ہی سے کنارہ کش ہوجائیں۔ تیسری یہ کہ ظاہری کنارہ کشی کے باوجود ان کی خیر خواہی و ہمدردی اور ہدایت و رہنمائی میں کسی قسم کی کمی نہ کریں۔
اِن جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو اور اِنہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت پر رہنے دو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسوده حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے
احمد رضا خان بریلوی
اور مجھ پر چھوڑو ان جھٹلانے والے مالداروں کو اور انہیں تھوڑی مہلت دو
علامہ محمد حسین نجفی
اور مجھے اور ان جھٹلانے والے اہلِ دولت کو چھوڑ دیجئے اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیجئے!
عبدالسلام بن محمد
اور چھوڑ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو جو خوش حال ہیں اور انھیں تھوڑی سی مہلت دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11){ وَ ذَرْنِيْ وَ الْمُكَذِّبِيْنَ …:} یعنی جب تم نے مجھے اپنا وکیل بنا لیا اور اپنا سب کچھ میرے سپرد کر دیا تو ان خوش حال جھٹلانے والوں کا معاملہ بھی مجھ پر چھوڑ دو جن کی نعمت و خوش حالی ایمان لانے کے بجائے ان کے انکار کا باعث بن گئی ہے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا، آپ انھیں تھوڑی مہلت دیں۔ تھوڑی مہلت سے مراد دنیا ہی میں تھوڑی مہلت ہے، جیسا کہ کفار مکہ کو جھٹلانے کی سزا جلد ہی میدان بدر میں مل گئی۔ اس کے علاوہ اگر زیادہ سے زیادہ مہلت بھی ہو تو دنیا میں زندہ رہنے تک ہے جو یقینا بالکل کم ہے، پھر اس کے بعد میں جانوں اور یہ جانیں، آپ ایک طرف ہو جائیں۔
ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ،
علامہ محمد حسین نجفی
ہمارے پاس ان کیلئے بیٹریاں اور دوزخ کی آگ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور سخت بھڑکتی ہوئی آگ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13،12) {اِنَّ لَدَيْنَاۤ اَنْكَالًا …: ” اَنْكَالًا “ نِكْلٌ“} (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، جانور کے پاؤں کی زنجیر اور لگام کے لوہے والے حصے کو کہتے ہیں۔ {” جَحِيْمًا “ ”جَحْمَةٌ“} (آگ کا سخت بھڑکنا) سے مشتق ہے۔(راغب) {” ذَا غُصَّةٍ “} جو گلے میں پھنس جائے، نہ نگل سکے نہ اگل سکے۔
اور حلق میں اٹکنے واﻻ کھانا ہے اور درد دینے واﻻ عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور گلے میں پھنستا کھانا اور دردناک عذاب
علامہ محمد حسین نجفی
اور گلے میں پھنس جانے والی غذا اور دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا اور درد ناک عذاب۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
13۔ 1 ذَا غُصَّۃ حلق میں اٹک جانے والا، نہ حلق سے نیچے اترے اور نہ باہر نکلے۔ یہ زَ قُّوْم کا کھانا ہوگا۔ ضَرِیْع ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو سخت بدبو دار اور زہریلی ہوتی ہے۔
یہ اُس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرا جائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن تھرتھرائیں گے زمین اور پہاڑ اور پہاڑ ہوجائیں گے ریتے کا ٹیلہ بہتا ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے بکھر نے والے تودے بن جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن زمین اور پہاڑ کانپیں گے اور پہاڑ گرائی ہوئی ریت کے ٹیلے ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
14۔ 1 یعنی یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن زمین پہاڑ بھونچال سے تہ وبالا ہوجائیں گے اور بڑے بڑے پر ہیبت پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح بےحثییت ہوجائیں گے۔ کثیب ریت کا ٹیلا، مھیلا کا معنی بھربھری پیروں کے نچیے سے نکل جانے والی ریت۔
(آیت 14) {يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ …: ” كَثِيْبًا “} ریت کا ٹیلہ۔ {” مَهِيْلًا “} (گرایا ہوا) {”هَالَ يَهِيْلُ هَيْلًا“} سے اسم مفعول ہے۔ {”هَالَ التُّرَابَ أَوِ الرَّمْلَ“} اس نے مٹی یا ریت کو گرایا۔ یعنی وہ عذاب اس دن ہو گا جب سخت زلزلے سے پہاڑ لرز اٹھیں گے، پھر اس زلزلے کی شدت سے ان کی سختی اور ذرات کی باہمی بندش ختم ہو جائے گی اور وہ ٹھوس پہاڑوں کے بجائے ریت کے ٹیلوں کی صورت میں بدل جائیں گے، جو خود بخود اس طرح نیچے گر رہی ہو گی جیسے کوئی اسے گرا رہا ہو۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر پہاڑوں پر اس کے بعد گزرنے والی کیفیات بھی ذکر ہوئی ہیں کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے، پھر بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے، پھر زمین چٹیل میدان بن جائے گی۔ مزید دیکھیے سورۂ نبا (۲۰) کی تفسیر۔
تم لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے واﻻ رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے کہ تم پر حاضر ناظر ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے تمہاری طرف ایک رسول(ص) بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فر عون کی طرف ایک رسول(ع) بھیجا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے تمھاری طرف ایک پیغام پہنچانے والا بھیجا جو تم پر گواہی دینے والا ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک پیغام پہنچانے والا بھیجا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
2۔ 1 یعنی اہل مکہ کو ڈرا، اگر وہ ایمان نہ لائیں۔
(آیت 15تا19) ➊ { اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا…:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمھاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمھارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہو گا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا؟ ➋ { شَاهِدًا عَلَيْكُمْ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی شہادت دیں گے کہ انھوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہ بھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انھی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِّنْ أُمَّتِيْ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُوْلُ يَا رَبِّ! أُصَيْحَابِيْ، فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِيْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَكَ فَأَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: «وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ» فَيُقَالُ إِنَّ هٰؤُلاَءِ لَمْ يَزَالُوْا مُرْتَدِّيْنَ عَلٰی أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ ] [بخاري، التفسیر، باب: «وکنت علیھم شھیدا…» : ۴۶۲۵ ] ”میری امت کے کچھ آدمی لائے جائیں گے اور انھیں بائیں طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا: ”اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔“ کہا جائے گا: ”آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا۔“ تو میں وہی کہوں گا جو عبد صالح(عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: «وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ» [ المائدۃ: ۱۱۷ ] ”میں ان پر اس وقت تک شہادت دینے والا تھا جب تک میں ان میں موجود تھا، پھرجب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو خود ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر شہادت دینے والا ہے۔“ کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ لوگ اس وقت سے اپنی ایڑیوں پر پھرے رہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ {” شَاهِدًا عَلَيْكُمْ “} سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے تمام احوال دیکھتے، سنتے اور جانتے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر شہادت ہو نہیں سکتی، ان لوگوں کا استدلال درست نہیں۔ علاوہ ازیں شہادت کے لیے خود دیکھنا اور سننا بھی ضروری نہیں، بلکہ اگر ایسے ذریعے سے کوئی بات معلوم ہو جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو تو اس پر بھی شہادت دی جا سکتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت(۱۴۳) کی تفسیر۔ ➌ {” شِيْبًا “ ”أَشْيَبُ“} کی جمع ہے، سفید بالوں والا۔ {”شَابَ يَشِيْبُ شَيْبًا“} (ض) سفید بالوں والا ہونا۔ {” الْوِلْدَانَ “ ”وَلِيْدٌ“} کی جمع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کی ہولناکی سے بچے بوڑھے ہو جائیں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ! يَقُوْلُ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، فَيُنَادٰی بِصَوْتٍ إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَی النَّارِ قَالَ يَا رَبِّ! وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ، أُرَاهُ قَالَ، تِسْعَمِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِيْنَ فَحِيْنَئِذٍ تَضَعُ الْحَامِلُ حَمْلَهَا وَيَشِيْبُ الْوَلِيْدُ «وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ» فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَی النَّاسِ حَتّٰی تَغَيَّرَتْ وُجُوْهُهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ تِسْعَ مِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِيْنَ، وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ، ثُمَّ أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِيْ جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِيْ جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «وتری الناس سکٰرٰی» : ۴۷۴۱ ] ”اللہ عزوجل قیامت کے دن آدم علیہ السلام سے کہیں گے: ”اے آدم!“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے پروردگار! میں بار بار حاضر ہوں تیری فرماں برداری کے لیے۔“ پھر (انھیں) آواز دی جائے گی: ”اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے جہنم کی جماعت نکالو۔“ وہ پوچھیں گے: ”اے میرے رب! جہنم کی جماعت کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔“ تو اس وقت حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے «وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ» [ الحج: ۲ ] ”اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ بے ہوش ہیں، حالانکہ وہ بے ہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے۔“ یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری، حتیٰ کہ ان کے چہروں کے رنگ بدل گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سے ایک ہوگا۔ لوگوں کے مقابلے میں تمھاری تعداد اس طرح ہے جیسے سفید بیل کے پہلو میں ایک سیاہ بال یا سیاہ بیل کے پہلو میں ایک سفید بال ہوتا ہے۔“ آیت اور حدیث میں بچوں کے بوڑھے ہونے کے ذکر سے اس دن کی بے پناہ سختی اور ہولناکی کا اظہار ہو رہا ہے، کیونکہ عام غم سے آدمی کے بال فوراً سفید نہیں ہوتے۔ یقینا وہ انتہائی غیر معمولی شدت اور ہولناکی ہوگی جو بچوں کے بالوں کو بھی سفید کر دے گی۔ ➍ { السَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ: ”باء“ ”فِيْ“} کے معنی میں ہے، یعنی ا س دن میں آسمان پھٹ جائے گا، یا ” باء“ سببیہ ہے، یعنی اس دن کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن کی شدت سے آسمان جیسی عظیم مخلوق پھٹ جائے گی تو دوسری چیزوں کا کیا حال ہوگا اور اگر کفر پر قائم رہے تو تم اس دن سے کس طرح بچو گے؟ آسمان کے مقابلے میں تمھاری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔
(پھر دیکھ لو کہ جب) فرعون نے اُس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا
احمد رضا خان بریلوی
تو فرعون نے اس رسول کا حکم نہ مانا تو ہم نے اسے سخت گرفت سے پکڑا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب فرعون نے رسول(ع) کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے بڑا سخت پکڑا۔
عبدالسلام بن محمد
سو فرعون نے اس پیغام پہنچانے والے کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے پکڑ لیا، نہایت سخت پکڑنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
16۔ 1 اس میں اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی وہی ہوسکتا ہے۔ جو فرعون کا موسیٰ ؑ کی تکذیب کی وجہ سے ہوا۔
اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اُس دن کیسے بچ جاؤ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناه پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا
احمد رضا خان بریلوی
پھر کیسے بچو گے اگر کفر کرو اس دن جو بچوں کو بوڑھا کردے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تم نے کفر اختیار کیا تو اس دن کے عذاب سے کیونکر بچوگے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر تم کیسے بچو گے اگر تم نے کفر کیا، اس دن سے جو بچوں کو بوڑھے کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
17۔ 1 قیامت والے دن کی ہولناکی بیان کی کہ واقع اس دن بچے بوڑھے ہوجائیں گے یا تمثیل کے طور پر کہا گیا۔
اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جا رہا ہوگا؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن آسمان پھٹ جائے گا اللہ تعالیٰ کا یہ وعده ہو کر ہی رہنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
آسمان اس کے صدمے سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہنا،
علامہ محمد حسین نجفی
جس کی سختی سے آسمان پھٹ جائے گا (اور یہ) اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں آسمان پھٹ جانے والا ہے، اس کا وعدہ ہمیشہ سے (پورا) ہو کر رہنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ ‘ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے ‘، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ ‘ اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ’ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ‘ اور دوسرے معنی یہ کہ ’ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ ‘ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
18۔ 1 یہ یوم کی دوسری صفت ہے اس دن ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا 18۔ 2 یعنی اللہ نے جو بعث بعد الموت، حساب کتاب اور جنت دوزخ کا وعدہ کیا ہوا ہے یہ یقینا لامحالہ ہو کر رہنا ہے۔
یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک یہ نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راه اختیار کرے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک یہ ایک بڑی نصیحت ہے پس جو چاہے وہ اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ بنا لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیغام نصیحت و عبرت اور قیام الیل ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ یہ سورۃ عقلمندوں کے لیے سراسر نصیحت و عبرت ہے جو بھی طالب ہدایت ہو وہ مرضی مولا سے ہدایت کا راستہ پا لے گا اور اپنے رب کی طرف پہنچ جانے کا ذریعہ حاصل کر لے گا۔ ‘ جیسے دوسری سورۃ میں فرمایا «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا» ۱؎ [76-الإنسان:30] ’ تمہاری چاہت کام نہیں آتی وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے، صحیح علم والا اور پوری حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ کا اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت کا کبھی دو تہائی رات تک قیام میں مشغول رہنا، کبھی آدھی رات اسی میں گزرنا، کبھی تہائی رات تک تہجد پڑھنا اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے گو تمہارا مقصد ٹھیک اس وقت کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور ہے بھی وہ مشکل کام۔ ‘ کیونکہ رات دن کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو ہے کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں کبھی رات چھوٹی دن بڑا، کبھی دن چھوٹا رات بڑی، اللہ جانتا ہے کہ اس کو بنانے کی طاقت تم میں نہیں تو اب رات کی نماز اتنی ہی پڑھو جتنی تم باآسانی پڑھ سکو کوئی وقت مقرر نہیں کہ فرضاً اتنا وقت تو لگانا ہی ہو گا۔ یہاں صلٰوۃ کی تعبیر قرأت سے کی ہے جیسے سورۃ سبحان میں کی ہے «وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ نہ تو بہت بلند کر نہ بالکل پست کر۔‘
نماز میں سورۂ فاتحہ ٭٭
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کے اصحاب نے اس آیت سے استدلال کر کے یہ مسئلہ لیا ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ہی کا پڑھنا متعین نہیں اسے پڑھے خواہ اور کہیں سے پڑھ لے گو ایک ہی آیت پڑھے کافی ہے اور پھر اس مسئلہ کی مضبوطی اس حدیث سے کی ہے جس میں ہے کہ بہت جلدی جلدی نماز ادا کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”پھر پڑھ جو آسان ہو تیرے ساتھ قرآن سے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:397]
یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے اور جمہور نے انہیں یہ جواب دیا ہے کہ بخاری و مسلم کی عبادہ بن صامت والی حدیث میں آ چکا ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز نہیں ہے مگر یہ کہ تو سورۃ فاتحہ پڑھے۔ } [صحیح بخاری:756] اور صحیح مسلم شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ بالکل ادھوری محض ناکارہ ناقص اور ناتمام ہے۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:385] صحیح ابن خزیمہ میں بھی ان ہی کی روایت سے ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔ } ۱؎ [صحیح ابن خریمه:490:صحیح] (پس ٹھیک قول جمہور کا ہی ہے کہ ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا لازمی اور متعین ہے)۔
مکہ میں جہاد کی پیشن گوئی ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ کو معلوم ہے کہ اس امت میں عذر والے لوگ بھی ہیں جو قیام الیل کے ترک پر معذور ہیں۔ ‘ مثلاً بیمار کہ جنہیں اس کی طاقت نہیں، مسافر جو روزی کی تلاش میں ادھر ادھر جا رہے ہیں، مجاہد جو اہم تر شغل میں مشغول ہیں۔ یہ آیت بلکہ یہ پوری سورت مکی ہے، مکہ شریف میں نازل ہوئی اس وقت جہاد فرض نہیں تھا بلکہ مسلمان نہایت پست حالت میں تھے پھر غیب کی یہ خبر دینا اور اسی طرح ظہور میں بھی آنا کہ مسلمانوں جہاد میں پوری طرح مشغول ہوئے یہ نبوت کی اعلیٰ اور بہترین دلیل ہے۔ تو ان معذورات کے باعث تمہیں رخصت دی جاتی ہے کہ جتنا قیام تم سے با آسانی کیا جا سکے کر لیا کرو۔
ابورجاء محمد رحمہ اللہ نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ”اے ابوسعید! اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو پورے قرآن کا حافظ ہے لیکن تہجد نہیں پڑھتا صرف فرض نماز پڑھتا ہے؟“ آپ نے فرمایا ”اس نے قرآن کو تکیہ بنا لیا اس پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک غلام کے لیے فرمایا کہ «وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ» [12-یوسف:68] ’ وہ ہمارے علم کو جاننے والا ہے ‘ اور فرمایا «وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:91] ’ تم وہ سکھائے گئے ہو جسے نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ ‘ میں نے کہا، ابوسعید! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ’ جو قرآن آسانی سے تم پڑھ سکو پڑھو۔ ‘ فرمایا: ”ہاں ٹھیک تو ہے پانچ آیتیں ہی پڑھ لو۔“ پس بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حافظ قرآن کا رات کی نماز میں کچھ نہ کچھ قیام کرنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک حق و واجب تھا، ایک حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو صبح تک سویا رہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جس کے کان میں شیطان پیشاب کر جاتا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:1144] اس کا تو ایک تو یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عشاء کے فرض بھی نہ پڑھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو رات کو نفلی قیام نہ کرے۔ سنن کی حدیث میں ہے { اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1416،قال الشيخ الألباني:صحیح] دوسری روایت میں ہے { جو وتر نہیں پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1419،قال الشيخ الألباني:ضعیف] حسن بصری رحمہ اللہ کے قول سے بھی زیادہ غریب قول ابوبکر بن عبدالعزیز حنبلی رحمہ اللہ کا ہے جو کہتے ہیں کہ رمضان کے مہینے کا قیام فرض ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (یہ یاد رہے کہ صحیح مسلک یہی ہے کہ تہجد کی نماز نہ تو رمضان میں واجب ہے، نہ غیر رمضان میں۔ رمضان کی بابت بھی حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے «وَقِیَامَ لَیُلِهٖ تَطَوُّعاً» یعنی اللہ نے اس کے قیام کو نفلی قرار دیا ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم) طبرانی کی حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں بہت مرفوعاً مروی ہے کہ { گو سو ہی آیتیں ہوں۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:10940:ضعیف] لیکن یہ حدیث بہت غریب ہے صرف معجم طبرانی میں ہی میں نے اسے دیکھا ہے۔
پھر ارشاد ہے کہ ’ فرض نمازوں کی حفاظت کرو اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کیا کرو۔ ‘ یہ آیت ان حضرات کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں فرضیت زکوٰۃ کا حکم مکہ شریف میں ہی نازل ہو چکا تھا ہاں کتنی نکالی جائے؟ نصاب کیا ہے؟ وغیرہ یہ سب مدینہ میں بیان ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما،عکرمہ مجاہد، حسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف کا فرمان ہے کہ ”اس آیت نے اس سے پہلے کے حکم رات کے قیام کو منسوخ کر دیا۔“ ان دونوں حکموں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ اس میں جو اختلاف ہے اس کا بیان اوپر گزر چکا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”پانچ نمازیں دن رات میں فرض ہیں۔“ اس نے پوچھا: اس کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی سب نوافل ہیں۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:46] پھر فرماتا ہے ’ اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ ‘ یعنی راہ اللہ صدقہ خیرات کرتے رہو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بہت بہتر اور اعلیٰ اور پورا بدلہ دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرة:245] ’ ایسا کون ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے اور اللہ اسے بہت کچھ بڑھائے چڑھائے۔‘ تم جو بھی نیکیاں کر کے بھیجو گے وہ تمہارے لیے اس چیز سے جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے بہت ہی بہتر اور اجر و ثواب میں بہت ہی زیادہ ہے۔ ابو یعلیٰ موصلی کی روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ایک مرتبہ پوچھا: ”تم میں سے ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: ”اور سوچ لو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہی بات ہے فرمایا: ”سنو تمہارا مال وہ ہے جسے تم راہ اللہ دے کر اپنے لیے آگے بھیج دو اور جو چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارا مال نہیں وہ تو تمہارے وارثوں کا مال ہے۔“ } یہ حدیث بخاری شریف اور نسائی میں بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6442] پھر فرمان ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو اور اپنے تمام کاموں میں استغفار کیا کرو جو استغفار کرے وہ مغفرت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ اللہ مغفرت کرنے والا اور مہربانیوں والا ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ مزمل کی تفسیر ختم ہوئی۔
اے نبیؐ، تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے، اُسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کر سکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو اُسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہونگے، کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں، اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے اور رات دن کا پورا اندازه اللہ تعالیٰ کو ہی ہے، وه (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے پس اس نے تم پر مہربانی کی لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو، وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدمی رات، کبھی تہائی اور ایک جماعت تمہارے ساتھ والی اور اللہ رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اے مسلمانو! تم سے رات کا شمار نہ ہوسکے گا تو اس نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو اسے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ تم میں سے بیمار ہوں گے اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے اور کچھ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوں گے تو جتنا قرآن میسر ہو پڑھو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ کو اچھا قرض دو اور اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے، اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول (ص)) یقیناً آپ(ص) کا پروردگار جانتا ہے کہ آپ(ص) کبھی رات کی دو تہائی کے قریب، کبھی نصف شب اور کبھی ایک تہائی (نماز کیلئے) قیام کرتے ہیں اور ایک گروہ آپ کے ساتھیوں میں سے بھی اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ ٹھہراتا ہے (انہیں چھوٹا بڑا کرتا ہے) وہ جانتا ہے کہ تم لوگ (اس) وقت پر پوری طرح حاوی نہیں ہو سکتے (شمار نہیں کر سکتے) تو اس نے تمہارے حال پر توجہ (مہربانی) فرمائی تو اب جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو اتنا ہی پڑھ لیا کرو وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم میں کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اللہ کے فضل (روزی) کی تلاش میں زمین میں سفر کریں گے اور دوسرے لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے پس اتنا قرآن پڑھو جتنا میسر ہو اور نماز قائم کرو (پابندی سے پڑھو) اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرضۂ حسنہ دو اور تم لوگ جو کچھ بھلائی (نیک عمل) اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے وہی تمہارے لئے بہتر ہے اس کا ثواب بہت بڑا ہے اور اللہ سے مغفرت طلب کرو بےشک اللہ بڑا بخشنے والا اوربڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ تیرا رب جانتا ہے کہ تو رات کے دو تہائی کے قریب اور اس کا نصف اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتا ہے اور ان لوگوں کی ایک جماعت بھی جو تیرے ساتھ ہیں اور اللہ رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم ہرگز اس کی طاقت نہیں رکھو گے، سو اس نے تم پر مہربانی فرمائی تو قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو۔ اس نے جان لیا کہ یقینا تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض دو، اچھا قرض دینا اور جو نیکی بھی تم اپنی جانوں کے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں پائو گے کہ وہ بہتر اور ثواب میں کہیں بڑی ہے اور اللہ سے بخشش مانگو، بلاشبہ اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیغام نصیحت و عبرت اور قیام الیل ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ یہ سورۃ عقلمندوں کے لیے سراسر نصیحت و عبرت ہے جو بھی طالب ہدایت ہو وہ مرضی مولا سے ہدایت کا راستہ پا لے گا اور اپنے رب کی طرف پہنچ جانے کا ذریعہ حاصل کر لے گا۔ ‘ جیسے دوسری سورۃ میں فرمایا «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا» ۱؎ [76-الإنسان:30] ’ تمہاری چاہت کام نہیں آتی وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے، صحیح علم والا اور پوری حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ کا اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت کا کبھی دو تہائی رات تک قیام میں مشغول رہنا، کبھی آدھی رات اسی میں گزرنا، کبھی تہائی رات تک تہجد پڑھنا اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے گو تمہارا مقصد ٹھیک اس وقت کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور ہے بھی وہ مشکل کام۔ ‘ کیونکہ رات دن کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو ہے کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں کبھی رات چھوٹی دن بڑا، کبھی دن چھوٹا رات بڑی، اللہ جانتا ہے کہ اس کو بنانے کی طاقت تم میں نہیں تو اب رات کی نماز اتنی ہی پڑھو جتنی تم باآسانی پڑھ سکو کوئی وقت مقرر نہیں کہ فرضاً اتنا وقت تو لگانا ہی ہو گا۔ یہاں صلٰوۃ کی تعبیر قرأت سے کی ہے جیسے سورۃ سبحان میں کی ہے «وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ نہ تو بہت بلند کر نہ بالکل پست کر۔‘
نماز میں سورۂ فاتحہ ٭٭
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کے اصحاب نے اس آیت سے استدلال کر کے یہ مسئلہ لیا ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ہی کا پڑھنا متعین نہیں اسے پڑھے خواہ اور کہیں سے پڑھ لے گو ایک ہی آیت پڑھے کافی ہے اور پھر اس مسئلہ کی مضبوطی اس حدیث سے کی ہے جس میں ہے کہ بہت جلدی جلدی نماز ادا کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”پھر پڑھ جو آسان ہو تیرے ساتھ قرآن سے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:397]
یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے اور جمہور نے انہیں یہ جواب دیا ہے کہ بخاری و مسلم کی عبادہ بن صامت والی حدیث میں آ چکا ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز نہیں ہے مگر یہ کہ تو سورۃ فاتحہ پڑھے۔ } [صحیح بخاری:756] اور صحیح مسلم شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ بالکل ادھوری محض ناکارہ ناقص اور ناتمام ہے۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:385] صحیح ابن خزیمہ میں بھی ان ہی کی روایت سے ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔ } ۱؎ [صحیح ابن خریمه:490:صحیح] (پس ٹھیک قول جمہور کا ہی ہے کہ ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا لازمی اور متعین ہے)۔
مکہ میں جہاد کی پیشن گوئی ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ کو معلوم ہے کہ اس امت میں عذر والے لوگ بھی ہیں جو قیام الیل کے ترک پر معذور ہیں۔ ‘ مثلاً بیمار کہ جنہیں اس کی طاقت نہیں، مسافر جو روزی کی تلاش میں ادھر ادھر جا رہے ہیں، مجاہد جو اہم تر شغل میں مشغول ہیں۔ یہ آیت بلکہ یہ پوری سورت مکی ہے، مکہ شریف میں نازل ہوئی اس وقت جہاد فرض نہیں تھا بلکہ مسلمان نہایت پست حالت میں تھے پھر غیب کی یہ خبر دینا اور اسی طرح ظہور میں بھی آنا کہ مسلمانوں جہاد میں پوری طرح مشغول ہوئے یہ نبوت کی اعلیٰ اور بہترین دلیل ہے۔ تو ان معذورات کے باعث تمہیں رخصت دی جاتی ہے کہ جتنا قیام تم سے با آسانی کیا جا سکے کر لیا کرو۔
ابورجاء محمد رحمہ اللہ نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ”اے ابوسعید! اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو پورے قرآن کا حافظ ہے لیکن تہجد نہیں پڑھتا صرف فرض نماز پڑھتا ہے؟“ آپ نے فرمایا ”اس نے قرآن کو تکیہ بنا لیا اس پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک غلام کے لیے فرمایا کہ «وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ» [12-یوسف:68] ’ وہ ہمارے علم کو جاننے والا ہے ‘ اور فرمایا «وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ» ۱؎ [6-الأنعام:91] ’ تم وہ سکھائے گئے ہو جسے نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ ‘ میں نے کہا، ابوسعید! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ’ جو قرآن آسانی سے تم پڑھ سکو پڑھو۔ ‘ فرمایا: ”ہاں ٹھیک تو ہے پانچ آیتیں ہی پڑھ لو۔“ پس بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حافظ قرآن کا رات کی نماز میں کچھ نہ کچھ قیام کرنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک حق و واجب تھا، ایک حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو صبح تک سویا رہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جس کے کان میں شیطان پیشاب کر جاتا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:1144] اس کا تو ایک تو یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عشاء کے فرض بھی نہ پڑھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو رات کو نفلی قیام نہ کرے۔ سنن کی حدیث میں ہے { اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1416،قال الشيخ الألباني:صحیح] دوسری روایت میں ہے { جو وتر نہیں پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1419،قال الشيخ الألباني:ضعیف] حسن بصری رحمہ اللہ کے قول سے بھی زیادہ غریب قول ابوبکر بن عبدالعزیز حنبلی رحمہ اللہ کا ہے جو کہتے ہیں کہ رمضان کے مہینے کا قیام فرض ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (یہ یاد رہے کہ صحیح مسلک یہی ہے کہ تہجد کی نماز نہ تو رمضان میں واجب ہے، نہ غیر رمضان میں۔ رمضان کی بابت بھی حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے «وَقِیَامَ لَیُلِهٖ تَطَوُّعاً» یعنی اللہ نے اس کے قیام کو نفلی قرار دیا ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم) طبرانی کی حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں بہت مرفوعاً مروی ہے کہ { گو سو ہی آیتیں ہوں۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:10940:ضعیف] لیکن یہ حدیث بہت غریب ہے صرف معجم طبرانی میں ہی میں نے اسے دیکھا ہے۔
پھر ارشاد ہے کہ ’ فرض نمازوں کی حفاظت کرو اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کیا کرو۔ ‘ یہ آیت ان حضرات کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں فرضیت زکوٰۃ کا حکم مکہ شریف میں ہی نازل ہو چکا تھا ہاں کتنی نکالی جائے؟ نصاب کیا ہے؟ وغیرہ یہ سب مدینہ میں بیان ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما،عکرمہ مجاہد، حسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف کا فرمان ہے کہ ”اس آیت نے اس سے پہلے کے حکم رات کے قیام کو منسوخ کر دیا۔“ ان دونوں حکموں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ اس میں جو اختلاف ہے اس کا بیان اوپر گزر چکا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”پانچ نمازیں دن رات میں فرض ہیں۔“ اس نے پوچھا: اس کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی سب نوافل ہیں۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:46] پھر فرماتا ہے ’ اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ ‘ یعنی راہ اللہ صدقہ خیرات کرتے رہو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بہت بہتر اور اعلیٰ اور پورا بدلہ دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرة:245] ’ ایسا کون ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے اور اللہ اسے بہت کچھ بڑھائے چڑھائے۔‘ تم جو بھی نیکیاں کر کے بھیجو گے وہ تمہارے لیے اس چیز سے جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے بہت ہی بہتر اور اجر و ثواب میں بہت ہی زیادہ ہے۔ ابو یعلیٰ موصلی کی روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ایک مرتبہ پوچھا: ”تم میں سے ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: ”اور سوچ لو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہی بات ہے فرمایا: ”سنو تمہارا مال وہ ہے جسے تم راہ اللہ دے کر اپنے لیے آگے بھیج دو اور جو چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارا مال نہیں وہ تو تمہارے وارثوں کا مال ہے۔“ } یہ حدیث بخاری شریف اور نسائی میں بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6442] پھر فرمان ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو اور اپنے تمام کاموں میں استغفار کیا کرو جو استغفار کرے وہ مغفرت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ اللہ مغفرت کرنے والا اور مہربانیوں والا ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ مزمل کی تفسیر ختم ہوئی۔
20۔ 1 جب سورت کے آغاز میں نصف رات یا اس سے کم یا زیادہ قیام کا حکم دیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت رات کو قیام کرتی کبھی دو تہائی سے کم یا زیادہ کبھی نصف رات کبھی ثلث رات جیسا کہ یہاں ذکر ہے۔ لیکن ایک تو رات کا یہ قیام نہایت گراں تھا دوسرے وقت کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ نصف رات ہوئی یا ثلث اس لیے اللہ نے اس آیت میں تخفیف کا حکم نازل فرمایا جس میں فرمایا کہ بعض کے نزدیک ترک قیام کی اجازت ہے۔ 20۔ 2 یعنی اللہ تورات کی گھڑیاں گن سکتا ہے کتنی گزر گئی ہیں اور کتنی باقی ہیں تمہارے لیے یہ اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ 20۔ 3 جب تمہارے لئے رات کے گزرنے کا صحیح اندازہ ممکن ہی نہیں، تو تم مقررہ اوقات تک نماز تہجد میں مشغول بھی کس طرح رہ سکتے ہو۔ 20۔ 4 یعنی تجارت اور کاروبار کے لئے سفر کرنا اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا پڑے گا۔ 20۔ 5 اسی طرح جہاد میں بھی پُر مشقت سفر اور مشقتیں کرنی پڑتی ہیں، اور یہ تینوں چیزیں، بیماری، سفر اور جہاد نوبت بہ نوبت ہر ایک کو لاحق ہوتی ہیں اس لیے اللہ نے قیام اللیل کے حکم میں تخفیف کردی ہے کیونکہ تینوں حالتوں میں یہ نہایت مشکل اور بڑا صبر آزما کام ہے۔ 20۔ 6 اسباب تخفیف کے ساتھ تخفیف کا یہ حکم دوبارہ بطور تاکید بیان کردیا گیا۔ 20۔ 7 یعنی پانچوں نمازوں کی جو فرض ہیں۔ 20۔ 8 یعنی اللہ کی راہ میں حسب ضرورت و توفیق خرچ کرو، اسے قرض حسنہ سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک اجر وثواب عطا فرمائے گا نفلی نمازیں، صدقات و خیرات اور دیگر نیکیاں جو بھی کرو گے اللہ کے ہاں ان کا بہترین اجر پاؤ گے اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی اور نصف حصہ مدنی ہے۔
(آیت 20) ➊ { اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ …:} سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا: ”آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے متعلق بتائیں؟“ انھوں نے فرمایا:” تم {” يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ “} نہیں پڑھتے؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ تو انھوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع حصے میں قیام اللیل فرض فرمایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ایک سال قیام کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا آخری حصہ بارہ ماہ تک آسمان میں روکے رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصے میں تخفیف نازل فرمائی اور قیام اللیل فرض ہونے کے بعد نفل ہو گیا۔“ [ مسلم، صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب جامع صلاۃ اللیل…: ۷۴۶ ] سورۂ مزمل کے اوّل اور آخر کے نزول کے متعلق سند کے لحاظ سے یہی بات سب سے زیادہ صحیح ہے۔ صحیح مسلم کی اسی روایت کے آخر میں ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے بھی عائشہ رضی اللہ عنھا کی بات کو درست قرار دیا، اس لیے بعض روایات میں آٹھ ماہ یا سولہ ماہ کا جو ذکر آیا ہے وہ روایات مرجوح ہیں اور سعید بن جبیر(تابعی) کا قول کہ سورۂ مزمل کا آخری حصہ دس سال بعد نازل ہوا، یہ عائشہ اور ابنِ عباس رضی اللہ عنھم جیسے جلیل القدرصحابہ کے ثابت شدہ فرمان کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ ہمارے دور کے بعض لوگوں نے عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنھم کے صحیح قول کو چھوڑ کر ایک تابعی سعید بن جبیر کے قول کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ سورۂ مزمل کے آغاز کے مضمون سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی، جب کہ آخری آیت میں جہاد اور زکوٰۃ کا ذکر ہے جو مدینہ میں فرض ہوئے، اس لیے اس کے اوّل و آخر میں دس سال کی مدت کا فاصلہ ہی ہونا چاہیے۔ حالانکہ یہ بات ہی غلط ہے کہ مکی سورتوں میں جہاد یا زکوٰۃ کا ذکر نہیں، اگرچہ عملاً جہاد مدینہ میں شروع ہوا اور زکوٰۃ کا نصاب وغیرہ مدینہ میں مقرر ہوا مگر مکی سورتوں میں جہاد کا ذکر بھی ہے اور زکوٰۃ کا بھی۔ مزید دیکھیے اسی آیت کا فائدہ (۷) اور (۸)۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال تک تقریباً دو تہائی رات یا نصف یا ثلث قیام کرتے رہے اور صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے اتباع میں اتنا قیام کرتی رہی، گھڑیاں موجود نہیں تھیں، اسی خیال سے کہ حکم کی تعمیل میں کوتاہی نہ ہو جائے زیادہ سے زیادہ قیام کی کوشش کرتے مگر رات کے نصف یا ثلث کا صحیح اندازہ ان کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو دن رات کا خالق ہے اور جسے دن رات کا خوب اندازہ ہے کہ رات کبھی لمبی ہوتی ہے کبھی چھوٹی، کبھی گرمی میں آتی ہے کبھی سردی میں، وہ خوب جانتا ہے کہ تم ہمیشہ یہ عمل ہرگز نہیں کر سکو گے، اس لیے اس نے مہربانی فرما کر آسانی فرما دی، اب جتنا آسانی سے قیام کر سکتے ہو کرو۔ ➌ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہرگز یہ طاقت نہیں رکھتے کہ ہمیشہ رات کا دو ثلث یا نصف یا ثلث قیام کر سکیں تو پھر بعض بزرگوں کے متعلق جو حکایات بیان کی جاتی ہیں کہ انھوں نے چالیس (۴۰) سال تک عشاء اور فجر کی نماز ایک وضو سے پڑھی، ان کے متعلق غور کرنا چاہیے کہ جس کام کی طاقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ میں بھی ہر گز نہیں وہ ان لوگوں میں کیسے آگئی؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات کو گیارہ یا تیرہ رکعات پڑھتے تھے، مگر ان بزرگوں کا کمال بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ہر رات ہزار ہزار رکعات پڑھتے تھے۔ اب یا تو ان حکایات کو جھوٹا ماننا پڑے گا یا ماننا پڑے گا کہ ان بزرگوں کی پوری کوشش تھی کہ ہر کام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھ کر دکھائیں۔ ➍ {فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ: ”أَيْ فَصَلُّوْا مَا تَيَسَّرَ لَكُمْ مِّنْ قِيَامِ اللَّيْلِ“} ”یعنی رات کا قیام جتنا آسانی سے ہو سکتا ہے اتنی نماز پڑھو۔“ قراء ت کا لفظ بول کر نماز مراد لی گئی ہے، جیسا کہ اس کے دوسرے ارکان مثلاً قیام، رکعت اور سجدہ بول کر نماز مراد لی جاتی ہے۔ تو مطلب یہ کہ جتنا قیام آسانی سے کر سکتے ہو کرو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ” جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لو“ کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں ضروری نہیں کہ سورۂ فاتحہ ہی پڑھی جائے، آسانی سے جو آیت بھی پڑھ سکتا ہے پڑھ لے، نماز ہوجائے گی، مگر یہ بات درست نہیں۔ یہاں یہ ذکر ہی نہیں کہ نماز میں آسانی سے جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھ لو، بلکہ آیت کے سیاق سے صاف ظاہر ہے کہ {” مِنَ الْقُرْاٰنِ “} سے مراد رات کا قیام ہے، یعنی تم اتنا لمبا قیام نہیں کر سکتے تو آسانی سے جتنا قیام کر سکتے ہو کر لو۔ نماز کے متعلق جز بول کر کل مراد لینا عام ہے۔ مثلاً قیام، رکعت، سجدہ سب نماز کے اجزا ہیں، مگر ان میں سے ہر لفظ بول کر پوری نماز مراد لی جاتی ہے۔ {” فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ “} میں بھی قرآن بول کر نماز مراد لی گئی ہے۔ صاحب روح المعانی آلوسی حنفی لکھتے ہیں: {”أَيْ فَصَلُّوْا مَا تَيَسَّرَ لَكُمْ مِّنْ قِيَامِ اللَّيْلِ عُبِّرَ عَنِ الصَّلَاةِ بِالْقِرَاءَةِ كَمَا عُبِّرَ عَنْهَا بِسَائِرِ أَرْكَانِهَا“} ”یعنی تم جتنا آسانی سے رات کا قیام کر سکتے ہو کرو، یہاں قراء ت بول کر نماز مراد لی گئی ہے، جس طرح باقی ارکانِ نماز بول کر نماز مراد لی جاتی ہے۔“ اگر صرف الفاظ کو لیا جائے تو یہ معنی ہو گا کہ تم اتنے لمبے قیام کی طاقت ہر گز نہیں رکھتے، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو، خواہ نماز میں یا نماز کے بغیر، اتنا ہی رات کو پڑھ لیا کرو۔ صاحب روح المعانی نے اس معنی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، مگر پہلا معنی ہی زیادہ درست ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ کوئی بھی آیت پڑھ لیں تو نماز ہو جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے صحیحین میں اور تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ] [ بخاري، الأذان، باب و جوب القراءۃ…: ۷۵۶۔ مسلم: ۳۹۴ ] ”جو شخص سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں ہے۔“ ہاں اگر کسی شخص کو سورۂ فاتحہ بھی یاد نہیں تو وہ {”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَإِلاَّ بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ“} پڑھتا رہے اور رکوع میں چلا جائے۔ [ دیکھیے أبو داوٗد، الصلاۃ، باب ما یجزیٔ الأمي…: ۸۳۲ و حسنہ الألباني ] ➎ {عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى …:} قیام اللیل میں تخفیف کی وجہ پہلے یہ بیان فرمائی تھی کہ رات کے دو ثلث، نصف یا ثلث کے اندازے کے ساتھ ہمیشہ اتنا لمبا قیام کرنا تمھاری طاقت سے باہر ہے، اس لیے جتنا قیام آسانی سے کر سکتے ہو کرو۔ اب طاقت سے باہر ہونے کی تین وجہیں بیان فرمائیں جو ہر شخص کو پیش آسکتی ہیں، پہلی وجہ بیماری ہے، اس میں بڑھاپا اور ہرقسم کی جسمانی معذوری شامل ہے۔ دوسری وجہ اللہ کا فضل یعنی رزق تلاش کرنے کے لیے سفر ہے، اس میں طلب علم، زیارتِ احباب اور دوسرے تمام جائز مقاصد کے لیے سفر شامل ہے۔ تیسری وجہ اللہ کی راہ میں لڑائی ہے، اس میں جنگ کے علاوہ اس کی تیاری اور پہرا سبھی کچھ شامل ہے۔ یہ اسباب بیان کرنے کے بعد دوبارہ فرمایا: «فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» یعنی ان عذروں کی وجہ سے جتنا قیام آسانی سے کر سکو کرو۔ ➏ {” تَيَسَّرَ مِنْهُ “} کی تعیین میں وہ حدیث بہت مناسب معلوم ہوتی ہے جو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِيْنَ وَ مَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِيْنَ وَ مَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِيْنَ ] [ أبو داوٗد، تفریع أبواب شھر رمضان، باب تحزیب القرآن: ۱۳۹۸، وصححہ الألباني ] ”جو شخص دس آیات کے ساتھ قیام کرے وہ غافلوں سے نہیں لکھا جاتا، جو سو آیات کے ساتھ قیام کرے وہ قانتین(عبادت گزاروں) میں لکھا جاتا ہے اور جو ہزار آیات کے ساتھ قیام کرے وہ بڑے خزانے والوں میں لکھا جاتا ہے۔“ اس آیت اور حدیث سے تخفیف کے باوجود کم از کم دس آیات کے ساتھ قیام اللیل کی تاکید صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ ➐ { ” وَ اٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} (اور کچھ دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں لڑائی کر رہے ہوں گے) کے متعلق حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، کیونکہ یہ آیت بلکہ ساری سورت مکہ میں اتری جب کہ جہاد شروع نہیں ہوا تھا، اس وقت یہ پیش گوئی غیب کی ایک خبر ہے جو ایک نبی ہی کے ذریعے سے دی جاتی ہے۔ ➑ {” وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ “} سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ مکہ میں فرض ہو چکی تھی، اگرچہ مختلف چیزوں کے نصاب کی تعیین مدینہ میں جا کر ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ قیام اللیل جتنا آسانی سے ہو سکے کرو، مگر فرض نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی ہر گز نہ کرو۔ ➒ {وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} زکوٰۃ کے بعد قرض حسنہ سے مراد نفلی صدقات ہیں، پھر زکوٰۃ ہو یا نفلی صدقات یا خیر کا کوئی بھی عمل وہ قیامت کے دن دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ کی صورت میں واپس ملیں گے۔ ➓ {وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ:} یعنی کوئی بھی عمل ہو اس کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو، عمل پر پھول مت جاؤ۔ سورۂ ذاریات میں متقین کے متعلق فرمایا: «كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ (17) وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ» [ الذاریات: ۱۷،۱۸] ”وہ رات کو بہت کم سوتے تھے اور سحریوں کے وقت استغفار کرتے تھے۔“ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو تین دفعہ استغفار کرتے۔ [ مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ: ۵۹۱ ]