بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المطففين — Surah Mutaffifin
آیت نمبر 31
کل آیات: 36
قرآن کریم المطففين آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ المطففين islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمُ انۡقَلَبُوۡا فَکِہِیۡنَ ﴿۫ۖ۳۱﴾
اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے
اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے
اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے
اور جب اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو دل لگیاں کرتے ہوئے لوٹتے تھے۔
اور جب اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے تو خوش گپیاں کرتے ہوئے واپس آتے تھے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

31۔ 1 یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا، اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 32،31){ وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ …: ” فَكِهِيْنَ”فَكِهٌ“} کی جمع بروزن {”فَرِحٌ“} ہے، ہنسنے ہنسانے کے لیے باتیں بنانے والے، خوش گپیاں کرنے والے، یعنی گھر واپس آتے ہوئے بھی اہلِ ایمان کو موضوع بنا کر خوب باتیں بناتے، خوش گپیاں کرتے تھے اور انھیں گمراہ قرار دیتے تھے۔
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →