بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
المطففين
سورۃ المطففين — 36 آیات
قرآن کریم Surah 83
وَیۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی
احمد رضا خان بریلوی
کم تولنے والوں کی خرابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے (ڈنڈی مارنے) والوں کے لئے۔
عبدالسلام بن محمد
بڑی ہلاکت ہے ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭

نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» ۱؎ [83-المطففين:1] ‏‏‏‏ ہے۔“ پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ’ یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ ‘ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔ قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ ‘ اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:152] ‏‏‏‏ ’ ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» ۱؎ [55-الرحمن:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ ‘ شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ’ لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا ‘۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6531] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ ۱؎ [مسند احمد:31/2:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2864] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:254/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:157/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف] ‏‏‏‏ سنن ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» ، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» ، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔
(آیت 1){ وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ: ”اَلتَّطْفِيْفُ“} ماپ یا تول میں کمی کرنا۔ ماپ تول کے علاوہ لین دین کے جتنے بھی دیگر پیمانے ہیں ان میں کمی بھی {”اَلتَّطْفِيْفُ“} ہے۔ {”اَلطَّفِيْفُ“} بالکل تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔ ”صاع“ بھرا ہوا ہو، مگر پورا بھرنے سے کم ہو تو اس کمی کو {”طَفَّ الصَّاعُ“} کہتے ہیں۔ چونکہ ماپ تول میں کمی کرنے والا کوئی بڑا مال نہیں چراتا بلکہ تھوڑی سی چیز چراتا ہے، اس لیے اسے {”اَلْمُطَفِّفُ“} کہتے ہیں۔ یہ فعل کمینگی کی انتہا ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اتنی تھوڑی تھوڑی چیز کی چوری کرنے والا شخص بڑا مال اڑانے سے بھی پرہیز کرنے والا نہیں، صرف اپنی کم ہمتی یا پکڑے جانے کے خوف سے اتنی چوری پر صبر کیے بیٹھا ہے، ورنہ اس کی طبیعت کے فاسد ہو جانے اور امانت سے خالی ہو جانے میں کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کرنے والوں کو {” وَيْلٌ “} کی وعید سنائی ہے، جس کا معنی ہلاکت ہے۔ آخرت میں ہونے والی ہلاکت کا تو کچھ شمار ہی نہیں، اس کی کچھ تفصیل اسی سورت میں آرہی ہے، اگرچہ وہ مکذبین (جھٹلانے والوں) کے لیے ہے، مگر یہ فعل بھی آخرت کی تکذیب ہی سے سرزد ہوتا ہے، جبکہ دنیا میں اس سے ہونے والی ہلاکت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی، حدیث لمبی ہے، اس کا ایک فقرہ یہ ہے: [ وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ، إِلاَّ أُخِذُوْا بِالسِّنِيْنَ، وَشِدَّةِ الْمَؤُوْنَةِ، وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ ] [ ابن ماجہ، الفتن، باب العقوبات: ۴۰۱۹ ] ”جو قوم بھی ماپ تول میں کمی کرتی ہے اسے قحط سالیوں، سخت مشقت اور حکمرانوں کے ظلم کے ساتھ پکڑ لیا جاتا ہے۔“شیخ البانی رحمہ اللہ نے مستدرک حاکم کی سند کی وجہ سے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ [ دیکھیے سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۰۶ ] شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب کا ایک سبب یہ بھی تھا۔ تنبیہ: ترمذی کی روایت کہ”ویل جہنم کی ایک وادی ہے … “ صحیح نہیں۔ [ دیکھیے ضعیف ترمذي، سورۃ الأنبیاء: ۳۳۸۹ ]
الَّذِیۡنَ اِذَا اکۡتَالُوۡا عَلَی النَّاسِ یَسۡتَوۡفُوۡنَ ۫﴿ۖ۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ کہ جب اوروں سے ناپ لیں پورا لیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جب وہ (اپنے لئے) لوگوں سےناپ کر لیں تو پورا لیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ کہ جب لوگوں سے ماپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭

نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» ۱؎ [83-المطففين:1] ‏‏‏‏ ہے۔“ پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ’ یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ ‘ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔ قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ ‘ اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:152] ‏‏‏‏ ’ ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» ۱؎ [55-الرحمن:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ ‘ شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ’ لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا ‘۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6531] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ ۱؎ [مسند احمد:31/2:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2864] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:254/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:157/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف] ‏‏‏‏ سنن ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» ، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» ، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اِذَا کَالُوۡہُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡہُمۡ یُخۡسِرُوۡنَ ﴿ؕ۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب انہیں ناپ تول کردی کم کردیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب انھیں ماپ کر، یا انھیں تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭

نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» ۱؎ [83-المطففين:1] ‏‏‏‏ ہے۔“ پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ’ یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ ‘ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔ قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ ‘ اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:152] ‏‏‏‏ ’ ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» ۱؎ [55-الرحمن:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ ‘ شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ’ لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا ‘۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6531] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ ۱؎ [مسند احمد:31/2:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2864] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:254/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:157/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف] ‏‏‏‏ سنن ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» ، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» ، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏
3۔ 1 یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کردیا جاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن،
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ وہ (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا یہ لوگ یقین نہیں رکھتے کہ وہاٹھائے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭

نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» ۱؎ [83-المطففين:1] ‏‏‏‏ ہے۔“ پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ’ یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ ‘ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔ قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ ‘ اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:152] ‏‏‏‏ ’ ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» ۱؎ [55-الرحمن:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ ‘ شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ’ لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا ‘۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6531] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ ۱؎ [مسند احمد:31/2:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2864] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:254/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:157/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف] ‏‏‏‏ سنن ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» ، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» ، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4){ اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ …:} یعنی اگر وہ سمجھتے کہ ہمیں ایک دن پیش ہو کر حساب دینا ہے تو کبھی ماپ تول میں کمی نہ کرتے۔
لِیَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اس عظیم دن کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
ایک عظمت والے دن کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
ایک بڑے (سخت) دن کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
ایک بہت بڑے دن کے لیے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭

نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» ۱؎ [83-المطففين:1] ‏‏‏‏ ہے۔“ پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ’ یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ ‘ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔ قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ ‘ اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:152] ‏‏‏‏ ’ ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» ۱؎ [55-الرحمن:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ ‘ شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ’ لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا ‘۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6531] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ ۱؎ [مسند احمد:31/2:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2864] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:254/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:157/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف] ‏‏‏‏ سنن ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» ، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» ، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6،5){ لِيَوْمٍ عَظِيْمٍ …:} ”ایک بڑے دن کے لیے“ بڑا دن اس لیے کہ اس کی مقدار ہی پچاس ہزار سال ہے۔ (دیکھیے معارج: ۴) اور اس لیے بھی بڑا ہے کہ پیشی عام عدالت میں بھی گھبراہٹ کا باعث ہوتی ہے، اس دن تو رب العالمین کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [ تُدْنَی الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتّٰی تَكُوْنَ مِنْهُ كَمِقْدَارِ مِيْلٍ فَيَكُوْنُ النَّاسُ عَلٰی قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَّكُوْنُ إِلٰی كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّكُوْنُ إِلٰی رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّكُوْنُ إِلٰی حَقْوَيْهِ وَ مِنْهُمْ مَنْ يُّلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا قَالَ وَ أَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلٰی فِيْهِ ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب في صفۃ یوم القیامۃ …: ۲۸۶۴ ] ”قیامت کے دن سورج مخلوق کے قریب ہو جائے گا یہاں تک کہ ان سے ایک میل کی مقدار کی طرح ہوگا۔ تو لوگ اپنے اعمال کے اندازے کے مطابق پسینے میں ہوں گے، جو ان میں سے بعض کے ٹخنوں تک ہوگا، بعض کے گھٹنوں تک، بعض کی کمر تک اور بعض کو پسینا لگام کی طرح لگام ڈال لے گا۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے منہ کی طرف اشارہ فرمایا۔“ ابن عمر رضی اللہ عنھما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کانوں کے نصف تک پسینے کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت پڑھی: «‏‏‏‏يَوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ”جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے۔“ [ بخاري، التفسیر، باب: «یوم یقوم الناس…» : ۴۹۳۸ ]
یَّوۡمَ یَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن تمام لوگ ربُ العالمین کی بارگاہ میں پیشی کیلئے کھڑے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭

نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» ۱؎ [83-المطففين:1] ‏‏‏‏ ہے۔“ پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ’ یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ ‘ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔ قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ ‘ اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:152] ‏‏‏‏ ’ ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» ۱؎ [55-الرحمن:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ ‘ شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ’ لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا ‘۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6531] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ ۱؎ [مسند احمد:31/2:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2864] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:254/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:157/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:987] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف] ‏‏‏‏ سنن ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» ، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» ، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡفُجَّارِ لَفِیۡ سِجِّیۡنٍ ؕ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، یقیناً بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال سِجِّينٌ میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک کافروں کی لکھت سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! بےشک بدکاروں کا نامۂ اعمال سِجِّین (قید خانہ کے دفتر) میں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، بے شک نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ یقینا دائمی سخت قید کے دفتر میں ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
7۔ 1 سِجِیْن بعض کہتے ہیں سِجْن (قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے لکھی ہوئی کتاب قرار دی ہے۔
(آیت 7تا11){ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ …: ” كَلَّاۤ “} یعنی یہ بات ہر گز نہیں کہ تم جس طرح چاہو اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے ماپ تول میں کمی کرتے رہو اور وہ وقت ہی نہ آئے کہ تم سے اس ظلم کے متعلق باز پرس ہو۔ نہیں، بلکہ نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔{” سِجِّيْنٍ”سِجْنٌ “} سے مبالغہ ہے، جس کا معنی قید خانہ ہے۔ قاموس میں ہے: {”اَلسِّجِّيْنُ الدَّائِمُ الشَّدِيْدُ“} یعنی دائمی سخت قید۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے نام اور ان کے اعمال محفوظ ہیں (گویا یہ دائمی قید والوں کا رجسٹر ہے)، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود{” سِجِّيْنٍ “} کی وضاحت کی ہے کہ وہ {” كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ “} یعنی ایک واضح لکھی ہوئی کتاب ہے، جس میں کوئی کمی بیشی یا ردّ و بدل نہیں ہو سکتا کہ کوئی نام یا عمل داخل کر دیا جائے یا مٹا دیا جائے۔ {” وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ “} سے معلوم ہوا کہ ماپ تول میں کمی کرنے والے درحقیقت قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا سِجِّیۡنٌ ؕ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تجھے کیا معلوم سِجِّينٌ کیا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور تو کیا جانے سجین کیسی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تمہیں کیا معلوم کہ سِجِّین کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہدائمی سخت قید کا دفتر کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ ؕ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک کتاب ہے لکھی ہوئی
مولانا محمد جوناگڑھی
(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے (جس میں بدکاروں کے عمل درج ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
ایک کتاب ہے، واضح لکھی ہوئی ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
الَّذِیۡنَ یُکَذِّبُوۡنَ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے رہے
احمد رضا خان بریلوی
جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو جزا و سزا کے دن (قیامت) کو جھٹلاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو جزا کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَا یُکَذِّبُ بِہٖۤ اِلَّا کُلُّ مُعۡتَدٍ اَثِیۡمٍ ﴿ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے صرف وہی جھٹلاتا ہےجو حد سے آگے نکل جانے واﻻ (اور) گناه گار ہوتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسے نہ جھٹلائے گا مگر ہر سرکش
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس دن کو نہیں جھٹلاتا مگر وہ شخص جو حد سے گزر نے والا (اور) گنہگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسے کوئی نہیں جھٹلاتا مگر ہر حد سے نکل جانے والا، سخت گناہ گار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ؕ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہے اگلوں کی کہانیاں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کہ جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے زمانے والوں کے افسانے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
13۔ 1 یعنی اس کا گناہوں میں مصروفیت اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّا بَلۡ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے
احمد رضا خان بریلوی
کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زَنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر جو وہ کماتے تھے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
(3) یعنی یہ قرآن کہانیاں نہیں، جیسا کہ کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس کے رسول پر جبرائیل ؑ امین کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے۔ (4) یعنی ان کے دل اس قرآن اور وحی الہٰی پر ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ان کے دلوں پر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے پردے پڑگئے ہیں اور وہ زنگ آلود ہوگئے ہیں رین گناہوں کی وہ سیاہی ہے جو مسلسل ارتکاب گناہ کی وجہ سے اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔ حدیث میں ہے " بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے، اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو وہ سیاہی دور کردی جاتی ہے، اور اگر توبہ کے بجائے، گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی پڑھتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہی وہ رین ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ (ترمذی، باب تفسیر سورة المطففین، ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکرالذنوب۔ مسند أحمد 297/2)
(آیت 14) ➊ {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ …:” كَلَّا “} ”ہر گز نہیں“ مطلب یہ ہے کہ اس جھٹلانے والے کے آیات کو جھٹلانے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں یا ان کے حق ہونے میں کوئی شبہ ہے، بلکہ اس کی بداعمالیاں سیاہ زنگ کی صورت میں اس کے دل پر غالب آچکی ہیں، اسے نہ حق حق نظر آتا ہے نہ باطل باطل۔ مستشرقین اور منکرین حدیث کی طرح پہلے منکرین کا بھی یہی حال تھا کہ اگر قرآن میں کوئی نئی بات آتی تو کہتے: «‏‏‏‏مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ» ‏‏‏‏ [ القصص: ۳۶ ] ”ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ دادا میں سنی ہی نہیں۔“ اور اگر وہ بات پہلی کتابوں میں موجود ہوتی توکہتے یہ وہاں سے سرقہ کیا گیا ہے، یعنی {” اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ “} کہ یہ تو پہلوں کی کہانیاں ہیں۔ «قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ» [ التوبۃ: ۳۰ ] ” اللہ انھیں مارے، کدھر بہکائے جا رہے ہیں۔“ ➋ { رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ:أَيْ رَكِبَهَا كَمَا يَرْكَبُ الصَّدْأُ وَ غَلَبَهَا“} (زمخشری) ”یعنی ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے اور غالب آگیاہے جیسے زنگ چڑھ جاتا ہے۔“ {” رَانَ “} کا فاعل {” مَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ “} ہے، یعنی جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے وہ زنگ بن کر ان کے دلوں پر چھا گیا ہے۔ گناہ کا خاصہ ہے کہ اگر بار بار کیا جائے اور توبہ نہ کی جائے تو پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيْئَةً نُكِتَتْ فِيْ قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَ تَابَ سُقِلَ قَلْبُهُ وَ إِنْ عَادَ زِيْدَ فِيْهَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَهُ وَهُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَكَرَ اللّٰهُ: «كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ‏‏‏‏ ] [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ ویل للمطففین: ۳۳۳۴ ] ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگ جاتا ہے، جب باز آجائے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کرے تو داغ بڑھا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سیاہ داغ اس کے پورے دل پر غالب آجاتا ہے۔ یہی وہ ”ران“ ہے جو اللہ عزوجل نے ذکر فرمایا ہے: «‏‏‏‏كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ‏‏‏‏ ” ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر، جو وہ کماتے تھے۔“ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
کَلَّاۤ اِنَّہُمۡ عَنۡ رَّبِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُوۡنَ ﴿ؕ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں بیشک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز (ایسا نہیں کہ جزا وسزا نہ ہو) یہ لوگ اس دن اپنے پروردگار (کی رحمت سے) (محجوب اور محروم) رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، بے شک وہ اس دن یقینا اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
15۔ 1 ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔
(آیت 15تا17) {كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ …:} یہ کافر جو کہتے ہیں کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو دنیا کی طرح وہاں بھی پروردگار کی نوازشیں ہمیں پر ہوں گی، ان کا یہ کہنا ہر گز درست نہیں، انھیں تو پروردگار کے قریب تک نہیں آنے دیا جائے گا، بلکہ وہ حجاب میں رکھے جائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس دن نافرمان اللہ تعالیٰ سے محجوب ہوں گے اور اہلِ ایمان کو وہ نظر آئے گا۔ اگر دیدار الٰہی کے منکروں کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی کو بھی نظر نہیں آئے گا تو یہ آیت بے معنی ہو جاتی ہے۔ دوسری جگہ صریح الفاظ میں فرمایا: «‏‏‏‏وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ (22) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ‏‏‏‏ [ القیامۃ: 23،22 ] ”کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدارہے جو ایمان والوں کو حاصل ہوگی۔ (اللہ اپنے فضل سے ہمیں بھی اپنا دیدار نصیب فرمائے) اس کے ساتھ انھیں کھانے پینے، نکاح وغیرہ یعنی جنت کی دوسری نعمتیں بھی میسر ہوں گی۔ نافرمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلا عذاب یہ ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ پھر وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ [ أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْھُمَا ]
ثُمَّ اِنَّہُمۡ لَصَالُوا الۡجَحِیۡمِ ﴿ؕ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر بیشک انہیں جہنم میں داخل ہونا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر یہ لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں یقینا داخل ہونے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ یُقَالُ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿ؕ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وه جسے تم جھٹلاتے رہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر کہا جائے گا، یہ ہے وہ جسے تم جھٹلاتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر (ان سے) کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کہا جائے گا یہی ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق» ، «فِسِّيقٌ» ، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ» ، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔ پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ ‘ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ ‘ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] ‏‏‏‏ اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔ اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [95-التين:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ ‘ غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13] ‏‏‏‏ ’ جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ ‘ «کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ’ ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ ‘ «ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے { «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ ‘

یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:24] ‏‏‏‏ ’ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ’ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔‘

ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ } ۱؎ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:297/2:حسن] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:23،22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘ صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ { ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔ } حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡاَبۡرَارِ لَفِیۡ عِلِّیِّیۡنَ ﴿ؕ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، بے شک نیک آدمیوں کا نامہ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً یقیناً نیکو کاروں کا نامہٴ اعمال عِلِّیین میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں بیشک نیکوں کی لکھت سب سے اونچا محل علیین میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزا و سزا نہ ہو) یقیناً نیکو کاروں کا نامۂ اعمال علیین (بلند مرتبہ لوگوں کے دفتر) میں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، بے شک نیک لوگوں کا اعمال نامہ یقینا بہت ہی اونچے لوگوں کے دفتر میں ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
18۔ 1 عِلَیِئیْنُ، (بلندی سے ہے یہ عِلَیِئیْنُ کے برعکس، آسمانوں میں یا سدرۃ المُنْتَہٰی یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہوتے ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
(آیت 18تا21){ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ …:” كَلَّاۤ “} یعنی یہ بات ہر گز نہیں کہ نافرمانوں کا یہ حال ہوگا تو نیکوں سے بھی یہی سلوک ہو۔ {” عِلِّيِّيْنَ “} اور {” عِلِّيُّوْنَ”عِلِّيٌّ“} کی جمع ہیں جو {”عُلُوٌّ“} سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ”بہت ہی اونچا شخص“ اور {” عِلِّيُّوْنَ “} کا معنی ہے ”بہت ہی اونچے لوگ۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہ ایک کتاب ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور ان کے اعمال واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں، ان میں کوئی ردّ و بدل یا کمی بیشی ممکن نہیں۔ {” يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ “} یعنی اس کی نگرانی کے لیے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ چونکہ وہ نیک لوگوں کا دفتر ہے، اس لیے اس کو دیکھنے کے لیے انھی مقرب لوگوں کو وہاں حاضر ہونے کی اجازت ہے جن کا وہ دفتر ہے۔ اس صورت میں ابرار ہی مقرب ہیں۔
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا عِلِّیُّوۡنَ ﴿ؕ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تجھے کیا پتہ کہ عِلِّیین کیا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہیں کیا معلوم کہ علیین (بلند مرتبہ لوگوں کا دفتر) کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ بہت ہی اونچے لوگوں کا دفترکیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ ﴿ۙ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک لکھی ہوئی کتاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(وه تو) لکھی ہوئی کتاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے (جس میں نیکو کاروں کے عمل درج ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
ایک کتاب ہے، واضح لکھی ہوئی ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یَّشۡہَدُہُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ؕ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
مقرب (فرشتے) اس کا مشاہده کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ مقرب جس کی زیارت کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جس کامشاہدہ مقرب فرشتے کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جس کے پاس مقرب (فرشتے )حاضر رہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک نیکوکار ضرور چین میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک نیکوکار لوگ عیش و آرام میں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک نیک لوگ یقینا بڑی نعمت میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23،22){ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ…:} یہاں سے نیک لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ ہے۔ تختوں پر بیٹھے کبھی دوزخیوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے کہ رب تعالیٰ نے انھیں کتنی بڑی مصیبت سے بچایا ہے، کبھی جنت کی نعمتوں کا نظارہ کرتے ہوں گے اور کبھی دیدار الٰہی سے آنکھوں کو شاد کام کر رہے ہوں گے۔
عَلَی الۡاَرَآئِکِ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
تختوں پر دیکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اونچی مسندوں پر بیٹھ کر دیکھ رہے ہونگے (نظارے کر رہے ہوں گے)۔
عبدالسلام بن محمد
تختوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تَعۡرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ نَضۡرَۃَ النَّعِیۡمِ ﴿ۚ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تروتازگی پہچان لے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہنچانے
علامہ محمد حسین نجفی
تم ان کے چہروں پر راحت و آرام کی شادابی محسوس کرو گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان کے چہروں میں نعمت کی تازگی پہچانے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24) {تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِ:} دنیا میں خوش حال لوگوں کے چہروں کی تازگی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ صاحب آسائش لوگ ہیں، اسی طرح جنتی لوگوں کے چہرے جنت کی نعمتوں سے ایسے ترو تازہ، پر رونق اور خوش و خرم ہوں گے کہ دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ وہ کس قدر نعمت اور عیش و آرام میں ہیں۔
یُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِیۡقٍ مَّخۡتُوۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ سربمہر خالص شراب پلائے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
نتھری شراب پلائے جائیں گے جو مہُر کی ہوئی رکھی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
انہیں سر بمہر عمدہ شراب (طہور) پلائی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
انھیں ایسی خالص شراب پلائی جائے گی جس پر مہر لگی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26،25){ يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ …: ” رَحِيْقٍ “} خالص شراب جس میں کھوٹ نہ ہو۔ {” مَخْتُوْمٍ “} اگرچہ جنت میں شراب کی نہریں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ» [ محمد: ۱۵ ] ”اور شراب کی کئی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہیں“ مگر یہ ایک خاص شراب ہوگی، جو برتنوں میں بند ہوگی، جن پر مہر مٹی یا راکھ کے بجائے کستوری کی ہوگی۔ {” خِتٰمُهٗ مِسْكٌ “} کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ پیتے وقت آخری گھونٹ کے ساتھ کستوری جیسی خوشبو آئے گی نہ کہ دنیا کی شراب کی طرح بدبو کا بھبھوکا اٹھے گا۔
خِتٰمُہٗ مِسۡکٌ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکَ فَلۡیَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
جس پر مشک کی مہر ہوگی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئے
احمد رضا خان بریلوی
اس کی مہُر مشک پر ہے، اور اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والے
علامہ محمد حسین نجفی
جس پر مشک کی مہر ہوگی۔ اس چیز میں سبقت لے جانے والوں کو سبقت (اور رغبت) کرنی چاہیے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی مہر کستوری ہو گی اور اسی (کو حاصل کرنے) میں ان لوگوں کو مقابلہ کرنا لازم ہے جو (کسی چیز کے حاصل کرنے میں) مقابلہ کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
26۔ 1 یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61؀) 37۔ الصافات:61)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مِزَاجُہٗ مِنۡ تَسۡنِیۡمٍ ﴿ۙ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس کی آمیزش تسنیم کی ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ور اس (شراب میں) تسنیم کی آمیزش ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
27۔ 1 اس میں تسنیم شراب کی امیزش ہوگی جو جنت کے بلائی علاقوں سے ایک چشمے کے ذریعے سے آئے گی۔ یہ جنت کی بہترین اور اعلیٰ شراب ہوگی۔
(آیت 28،27) {وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍ …: ”مِزَاجٌ“} آمیزش، ملونی، وہ چیز جو دوسری چیز میں لذت بڑھانے یا خوشبو پیدا کرنے یا تیزی کم کرنے کے لیے ملاتے ہیں، مثلاً کسی پھل کا جوس یا روح کیوڑا، الائچی، گلاب، کستوری وغیرہ یا ٹھنڈا میٹھا پانی یا دودھ وغیرہ، یہ صرف مثال ہے، جنت کی نعمتوں کی کیفیت اور لذت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، یا وہ جانیں گے جنھیں وہ حاصل ہوں گی۔ {” تَسْنِيْمٍ “} باب تفعیل کا مصدر ہے۔ {”سَنِمَ“ (س) ”سَنَّمَ، تَسَنَّمَ أَيْ تَرَفَّعَ“} بلند ہونا، اونچی جگہ سے گرنا۔ یہ {”تَسْطِيْحٌ“} (ہموار ہونے) کی ضد ہے۔ (قاموس) {” تَسْنِيْمٍ “} جنت کے ایک چشمے کا نام ہے، جس کا پانی اہل جنت پر اوپر سے گر رہا ہوگا، یعنی وہ رحیق مختوم میں اس چشمے کا پانی ملا کر پییں گے جو اوپر سے گر رہا ہو گا۔ (طبری) یا اس چشمے کا نام تسنیم اس لیے ہے کہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ اور اونچے درجے کا مشروب ہے جو مقربین کو برابر پینے کے لیے ملے گا اور ابرار کو رحیق مختوم میں آمیزش کے لیے دیا جائے گا۔
عَیۡنًا یَّشۡرَبُ بِہَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ؕ۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
(یعنی) وه چشمہ جس کا پانی مقرب لوگ پیئں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ چشمہ جس سے مقربانِ بارگاہ پیتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پئیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جو ایک چشمہ ہے، جس سے مقرب لوگ پییں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭

بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ’ تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ ‘ پھر اس کی تاکید کی کہ ’ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ ‘ پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ ‘ اور یہ بھی معنی ہیں کہ ’ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ ‘ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں‘ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:61] ‏‏‏‏ ’ ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ ‘ «تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا کَانُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَضۡحَکُوۡنَ ﴿۫ۖ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو مجرم لوگ تھے وہ (دارِ دنیا میں) اہلِ ایمان پر ہنستے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے،ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
29۔ 1 یعنی انہیں حقیر جانتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
(آیت 29){ اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا …: ” يَضْحَكُوْنَ “} ”ہنسا کرتے تھے “کہ ان پر کیا پاگل پن سوار ہے کہ دنیا کی نقد لذتوں کو چھوڑ کر کل کی ان دیکھی خیالی لذتوں کے وعدوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ {” كَانُوْا “} اور {” يَضْحَكُوْنَ “} کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ یہ ان کا ہمیشہ کا مشغلہ تھا۔ یہ صرف مکہ کے مشرکین کی بات نہیں، آج کے ملحد اور بے دین بھی مسلمانوں کو رجعت پسند، دقیانوسی، تنگ نظر، تاریک خیال اور اس قسم کے طنزیہ خطابات دے کر خوش ہوتے اور اپنے دل کا بخار نکالتے رہتے ہیں۔ بہت سے شاعروں نے بھی جنت اور اہلِ جنت پر چوٹیں کی ہیں، ان سب کو ان آیات کے مضمون سے ڈرنا چاہیے۔
وَ اِذَا مَرُّوۡا بِہِمۡ یَتَغَامَزُوۡنَ ﴿۫ۖ۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کےاشارے کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب وہ ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو آنکھیں مارا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ ان کے پاس سے گزرتے تو ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30) {وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ يَتَغَامَزُوْنَ:يَتَغَامَزُوْنَ”غَمْزٌ“} ابروؤں اور پلکوں کے ساتھ اشارہ کرنا، یعنی یہ مجرم لوگ اہل ایمان کی کتاب و سنت کے مطابق ہیئت و لباس، طرز گفتگو، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کے حصول کے لیے محنت دیکھ کر ان کی تحقیر کرنے اور مذاق اڑانے کے لیے ایک دوسرے کو آنکھیں مارتے تھے کہ یہی وہ سر پھرے لوگ ہیں جنھوں نے خیالی جنت کے لیے اپنے آپ کو دنیا کی لذتوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔
وَ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمُ انۡقَلَبُوۡا فَکِہِیۡنَ ﴿۫ۖ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو دل لگیاں کرتے ہوئے لوٹتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے تو خوش گپیاں کرتے ہوئے واپس آتے تھے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
31۔ 1 یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا، اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے (ابن کثیر)
(آیت 32،31){ وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ …: ” فَكِهِيْنَ”فَكِهٌ“} کی جمع بروزن {”فَرِحٌ“} ہے، ہنسنے ہنسانے کے لیے باتیں بنانے والے، خوش گپیاں کرنے والے، یعنی گھر واپس آتے ہوئے بھی اہلِ ایمان کو موضوع بنا کر خوب باتیں بناتے، خوش گپیاں کرتے تھے اور انھیں گمراہ قرار دیتے تھے۔
وَ اِذَا رَاَوۡہُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان (اہلِ ایمان) کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب انھیں دیکھتے تو کہا کرتے تھے بلاشبہ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَیۡہِمۡ حٰفِظِیۡنَ ﴿ؕ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حالانکہ وہ اُن پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ وہ انکے نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ وہ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
33۔ 1 یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصر کرتے رہیں۔
(آیت 33){ وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَ:} یہ ان لوگوں کی حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ انھیں تو اپنے انجام کی فکر ہونی چاہیے تھی، اہلِ ایمان پر طنز کرنے اور مذاق اڑانے کا انھیں کیا حق تھا اور کس نے انھیں ان کی نگرانی پر مقرر کیا تھا؟
فَالۡیَوۡمَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡکُفَّارِ یَضۡحَکُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو آج ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پس آج اہلِ ایمان کافروں (اور منکروں) پر ہنستے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34){ فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} یعنی قیامت کے دن معاملہ الٹ ہو جائے گا، اب اہلِ ایمان کفار پر ہنستے ہوں گے کہ یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ خود گمراہ ہونے کے باوجود ہمیں گمراہ کہتے تھے اور واضح دلائل کے باوجود نہ انھوں نے پیدا کرنے والے کا حق پہچانا اور نہ آخرت کی فکر کی اور یہ جانتے ہوئے بھی دنیا کی لذتوں میں مست رہے کہ یہ عارضی ہیں۔
عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۙ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اونچی مسندوں پر بیٹھے ہوئے (ان کی حالت) دیکھ رہے ہونگے۔
عبدالسلام بن محمد
تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 35){ عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ:} جہنمیوں کی بری حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ مزید وضاحت کے لیے اس سورت کی آیت (۲۳) کی تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔
ہَلۡ ثُوِّبَ الۡکُفَّارُ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿٪۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مل گیا نا کافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا
احمد رضا خان بریلوی
کیوں کچھ بدلا ملا کافروں کو اپنے کیے کا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا کافروں کو ان کے کئے ہوئے (کرتوتوں) کا پورا بدلہ مل گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا کافروں کو اس کا بدلہ دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘ یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
36۔ 1 کافروں کو، جو کچھ وہ کرتے تھے، اس کا بدلہ دے دیا گیا ہے۔
(آیت 36){ هَلْ ثُوِّبَ …:} کافر جو جو کچھ کرتے تھے جہنم میں انھیں ہر چیز کا بدلا مل گیا، ایک مسلمانوں سے مذاق رہ گیا تھا، آج مسلمانوں کے ان سے جوابی مذاق کے ساتھ وہ بدلا بھی پورا ہو گیا۔ {” هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ “} میں سوال بھی کافروں کو ذلیل کرنے کے لیے ہے، پوچھنے کے لیے نہیں۔ ان آیات سے ملتی جلتی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون کی آیات (۱۰۸ تا ۱۱۱)۔