بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المرسلات — Surah Mursalat
آیت نمبر 25
کل آیات: 50
قرآن کریم المرسلات آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ المرسلات islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ کِفَاتًا ﴿ۙ۲۵﴾
کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟
کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ کیا،
کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟

📖 تفسیر ابن کثیر

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی ‘۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ’ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا ‘، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ’ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا ‘۔ پھر فرمایا ’ کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 25تا28) ➊ { اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا …: ” كِفَاتًا”كَفَتَ يَكْفِتُ“} (ض) (سمیٹنا، جمع کرنا) سے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی سمیٹنے والی۔ {” رَوَاسِيَ”رَاسِيَةٌ“} کی جمع ہے اور {”رَسَا يَرْسُوْ“} (ن) زمین میں گڑا ہوا ہونا، مراد پہاڑ ہیں۔{ ” شٰمِخٰتٍ “} بلند۔ {” فُرَاتًا “} بہت ہی میٹھا۔ زمین زندوں کو سمیٹتی ہے، وہ اسی پر زندگی گزارتے ہیں، وہ ان کی غلاظتیں سنبھالتی ہے اور مردوں کو بھی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اگر زمین مرنے والے انسانوں اور دوسرے جانداروں کو نہ سمیٹتی تو تعفن سے زندگی دشوار ہو جاتی۔ اس آیت سے مردوں کو سنبھالنے کے لیے دفن کی دلیل ملتی ہے، جو قومیں اپنے مردوں کو جلاتی ہیں ان کی راکھ اورہڈیاں بھی زمین ہی کے سپرد ہوتی ہیں۔ ➋ { وَ جَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ …:} زمین بجائے خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک بہت بڑا نشان ہے، پھر اس پر بلند و بالا پہاڑ اور انسان کے پینے کے لیے نہایت میٹھا پانی اللہ کی قدرت کے اتنے بڑے عجائب ہیں کہ ان کو دیکھ کر بھی جو لوگ آخرت کو جھٹلاتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مخلوق کو دوبارہ بنانا ممکن نہیں، ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن بہت بڑی خرابی اور ہلاکت ہے۔
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →