بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المرسلات — Surah Mursalat
آیت نمبر 20
کل آیات: 50
قرآن کریم المرسلات آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ المرسلات islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ نَخۡلُقۡکُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾
کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا
کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا
کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا
کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدانہیں کیا؟
کیا ہم نے تمھیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟

📖 تفسیر ابن کثیر

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی ‘۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ’ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا ‘، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ’ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا ‘۔ پھر فرمایا ’ کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20تا24) ➊ { اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ …:} اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر پانی یعنی منی کے قطرے سے پیدا فرمایا، پھر اسے ایک محفوظ ٹھکانے یعنی ماں کے رحم میں رکھا، جو تین اطراف سے ہڈیوں سے گھرا ہوا ہے۔ حمل قرار پاتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی سے رحم میں جمایا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کا اتنا انتظام ہوتا ہے کہ شدید حادثے کے بغیر اس کا اسقاط نہیں ہو سکتا۔ ➋ { اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ:} ”اس اندازے تک جو معلوم ہے“ یعنی نو ماہ یا اس سے کم یا زیادہ، جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ وہ اتنے مہینوں، دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں پیدا ہو گا، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں۔ ➌ {فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ:} یعنی ہم نے ایک ایسی مدت مقرر کی جس میں بچے کی ساخت مکمل ہو جاتی ہے، نہ کوئی چیز ضرورت سے زائد بنتی ہے اور نہ کوئی ضروری چیز رہ جاتی ہے۔ جب تک اس کے لیے رحم کے اندر رہنا ضروری ہوتا ہے وہ اس میں رہتا ہے اور جب باہر آنا ضروری ہوتا ہے تو وہ باہر آجاتا ہے۔ یہ مدت ہم نے مقرر کی ہے اور ہم کتنا ٹھیک اندازہ کرنے والے ہیں۔ {” فَقَدَرْنَا “} کا دوسرا ترجمہ ”ہم قادر ہوئے “ بھی ہو سکتا ہے، یعنی ہم نے پانی کی ایک بوند کو بتدریج ترقی دیتے دیتے کامل و عاقل انسان بنا دیا، اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہم کیا خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔ (اشرف الحواشی) ➍ { وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ:} ایک حقیر قطرے سے اپنی تخلیق کو دیکھنے کے بعد جو لوگ آخرت کے دن کو ناممکن قرار دے کر جھٹلاتے ہیں ان کے لیے اس دن بڑی ہلاکت اور بربادی ہے۔
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →