بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الممتحنة — Surah Mumtahanah
آیت نمبر 4
کل آیات: 13
قرآن کریم الممتحنة آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ الممتحنة islamicurdubooks.com ↗
قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ ۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِہِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۫ کَفَرۡنَا بِکُمۡ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَکَ وَ مَاۤ اَمۡلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ رَبَّنَا عَلَیۡکَ تَوَکَّلۡنَا وَ اِلَیۡکَ اَنَبۡنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۴﴾
تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا "ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ" مگر ابراہیمؑ کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اِس سے مستثنیٰ ہے) کہ "میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کر لینا میرے بس میں نہیں ہے" (اور ابراہیمؑ و اصحاب ابراہیمؑ کی دعا یہ تھی کہ) "اے ہمارے رب، تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے
(مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ﻇاہر ہوگئی لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے
بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا بیشک ہم بیزار ہیں تم سے اور ان سے جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہارے منکر ہوئے اور ہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ظاہر ہوگئی ہمیشہ کے لیے جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں ضرور تیری مغفرت چاہوں گا اور میں اللہ کے سامنے تیر ے کسی نفع کا مالک نہیں اے ہمارے رب ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے
یقیناً تم لوگوں کیلئے (جنابِ) ابراہیم(ع) اوران کے ساتھیوں میں ایک عمدہ نمونہ ہے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے بھی جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو ہم تمہارے (اور تمہارے دین کے) منکر ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کیلئے عداوت اور بغض پیدا ہوگیا یہاں تک کہ تم اللہ واحد (لا شریک لہٗ) پر ایمان لاؤ۔ ہاں البتہ ابراہیم (ع) نے اپنے (منہ بولے) باپ (اور اصل چچا) سے صرف یہ کہا تھا کہ میں تمہارے لئے مغفرت طلب کروں گا مگر میں اللہ کے سامنے تمہارے لئے کسی نفع کا مالک و مختار نہیں ہوں اے ہمارے پروردگار! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہے اور تیری ہی طرف لَوٹنا ہے۔
یقینا تمھارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمھیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اﷲپرایمان لاؤ، مگر ابراہیم کااپنے باپ سے کہنا(تمھارے لیے نمونہ نہیں)کہ بے شک میں تیرے لیے بخشش کی دعا ضرور کروں گا اور میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز (کے دلوانی) کا مالک نہیں ہوں،اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عصبیت دین ایمان جز لاینفک ہیں ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کفار سے موالات اور دوستی نہ کرنے کی ہدایت فرما کر ان کے سامنے اپنے خلیل اور ان کے اصحاب کا نمونہ پیش کر رہا ہے کہ انہوں نے صاف طور پر اپنے رشتہ کنبے اور قوم کے لوگوں سے برملا فرما دیا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم پوجتے ہو ان سے بیزار، بری الذمہ اور الگ تھلگ ہیں، ہم تمہارے دین اور طریقے سے متنفر ہیں، جب تک تم اسی طریقے اور اسی مذہب پر ہو، تم ہمیں اپنا دشمن سمجھو، ناممکن ہے کہ برادری کی وجہ سے ہم تمہارے اس کفر کے باوجود تم سے بھائی چارہ اور دوستانہ تعلقات رکھیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تم اللہ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لے آؤ اس کی توحید کو مان لو اور اسی ایک کی عبادت شروع کر دو اور جن جن کو تم نے اللہ کا شریک اور ساجھی ٹھہرا رکھا ہے اور جن جن کی پوجا پاٹ میں مشغول ہو ان سب کو ترک کر دو اپنی اس روش کفر اور طریق شرک سے ہٹ جاؤ، تم پھر بیشک ہمارے بھائی ہو، ہمارے عزیز ہو، ورنہ ہم میں تم میں کوئی اتحاد و اتفاق نہیں، ہم تم سے اور تم ہم سے علیحدہ ہو، ہاں یہ یاد رہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے جو استغفار کا وعدہ کیا تھا اور پھر اسے پورا کیا اس میں ان کی اقتداء نہیں، اس لیے کہ یہ استغفار اس وقت تک رہا جس وقت تک کہ اپنے والد کا دشمن اللہ ہونا ان پر وضاحت کے ساتھ ظاہر نہ ہوا تھا جب انہیں یقینی طور پر اس کی اللہ سے دشمنی کھل گئی تو اس سے صاف بیزاری ظاہر کر دی، بعض مومن اپنے مشرک ماں باپ کے لیے دعا و استغفار کرتے تھے اور سند میں ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کے لیے دعا مانگنا پیش کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فرمان «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّـهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبہ:113-114] ‏‏‏‏ پوری دو آیتوں تک نازل فرمایا اور یہاں بھی اسوہ ابراہیمی میں سے اس کا استثناء کر لیا کہ اس بات میں ان کی پیروی تمہارے لیے ممنوع ہے اور ابراہیم علیہ السلام کے اس استغفار کی تفصیل بھی کر دی اور اس کا خاص سبب اور خاص وقت بھی بیان فرما دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، مقاتل بن حیان، ضحاک رحمہا اللہ علیہم وغیرہ نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ قوم سے براءت کر کے اب اللہ کی بارگاہ میں آتے ہیں اور جناب باری میں عاجزی اور انکساری سے عرض کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ تمام کاموں میں ہمارا بھروسہ اور اعتماد تیری ہی پاک ذات پر ہے، ہم اپنے تمام کام تجھے سونپتے ہیں، تیری طرف رجوع و رغبت کرتے ہیں، دار آخرت میں بھی ہمیں تیری ہی جانب لوٹنا ہے۔

📖 احسن البیان

4۔ 1 کفار سے عدم اتحاد کے مسئلے کی وضاحت کے لئے حضرت ابراہیم ؑ کی مثال دی جا رہی ہے کہ ایسا نمونہ جس کی پیروی کی جائے 4۔ 2 یعنی شرک کی وجہ سے ہمارا اور تمہارا کوئی تعلق نہیں، اللہ کے پرستاروں کا بھلا غیر اللہ کے پجاریوں سے کیا تعلق۔ 4۔ 3 یعنی علیحدگی اور بیزاری اس وقت تک رہے گی جب تک کفر و شرک چھوڑ کر توحید کو نہیں اپنالو گے۔ 4۔ 4 مطلب یہ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی ایک قابل تقلید نمونہ ہے، البتہ ان کے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے، کیونکہ ان کا یہ فعل اس وقت ہے جب ان کو اپنے باپ کی بابت علم نہیں تھا، چناچہ جب ان پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی اظہار نجات کردیا، جیسا کہ (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ 114۔) 9۔ التوبہ:114) میں ہے۔ 4۔ 5 توکل کا مطلب ہے امکانی حد تک ظاہری اسباب و وسائل اختیار کرنے کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کردیا جائے یہ ہے اس لیے توکل کا یہ مفہوم بھی غلط ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اونٹ کو باہر کھڑا کرکے اندر آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو کہا میں اونٹ اللہ کے سپرد کر آیا ہوں آپ نے فرمایا یہ توکل نہیں ہے۔ اعقل وتوکل۔ پہلے اسے کسی چیز سے باندھ پھر اللہ پر بھروسہ کر۔ ترمذی۔ انابت کا مطلب ہے اللہ کی طرف رجوغ کرنا

📖 القرآن الکریم

(آیت 4) ➊ {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗ:اُسْوَةٌ “} اور {”قُدْوَةٌ“} کے معنی ہیں جس کی پیروی کی جائے، نمونہ (اچھا ہو یا برا)، اس لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو اسوۂ حسنہ فرمایا۔ یعنی اللہ کے دشمن کفار و مشرکین کے ساتھ دوستی کے سلسلے میں تمھارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں پہلے سے ایک اچھا نمونہ موجود تھا جو تمھارے پیش نظر رہنا چاہیے تھا۔ {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗ “} سے مراد ان پر ایمان لانے والے ساتھی ہیں۔ ➋ { اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ …:” بُرَءٰٓؤُا “ ” بَرِيْءٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”كَرِيْمٌ“} کی جمع {”كُرَمَاءُ“} ہے۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھی تمھارے لیے اس بات میں نمونہ ہیں کہ انھوں نے اپنی مشرک قوم سے، ان کے شرک سے اور ان کے معبودوں سے بری اور لاتعلق ہونے کا اعلان کر دیا۔ {” وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ “} میں {”مَا “} مصدریہ بھی ہو سکتا ہے اور موصولہ بھی۔ ➌ {كَفَرْنَا بِكُمْ:} ہم تمھیں نہیں مانتے، نہ تمھارے دین کو، نہ تمھارے خداؤں کو اور نہ ان کی عبادت کو۔ ➍ { وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا …:} یعنی ہمارے اللہ پر ایمان لانے اور تمھارے کفر پر قائم رہنے کے بعد ہمارے اور تمھارے درمیان کھلی دشمنی اور دلی بغض ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا ہے، یہاں تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان لے آؤ۔ ➎ { اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ:} یعنی ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے، سوائے اس بات کے جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہی کہ میں تمھارے لیے بخشش کی دعا ضرور کروں گا۔ اس بات میں وہ تمھارے لیے نمونہ نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں ان کی پیروی جائز ہے۔ مشرکین کے لیے استغفار کی ممانعت اور ابراہیم علیہ السلام کے استغفار کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیات (114،113) کی تفسیر۔ ➏ { وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ:} یعنی میں تمھارے لیے استغفار ضرور کروں گا، مگر میں تمھارے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کے دلوانے کا مالک نہیں، وہ چاہے گا تو تمھیں بخش دے گا چاہے تو عذاب دے گا۔ معلوم ہوا کہ یہ اختیار پیغمبروں کے پاس بھی نہیں کہ وہ جسے چاہیں بخشوا لیں، خواہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے والد ہوں یا نوح علیہ السلام کا بیٹا یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب ہوں۔ ➐ { رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا:} یہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا کلام ہے جو {” اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ …“} سے پہلے کلام کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ان چیزوں میں شامل ہے جن میں ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی پیروی کا حکم ہے۔ گویا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے یہ کہا: «‏‏‏‏اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ ...... حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ» ‏‏‏‏ اور اپنے رب سے یہ کہا: «‏‏‏‏رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا ...... اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ یہ دونوں باتیں کہنے میں وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں اور ہمیں ان کی پیروی کا حکم ہے۔ ➑ {وَ اِلَيْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ:اَنَبْنَا”أَنَابَ يُنِيْبُ إِنَابَةً “} (افعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم کا صیغہ ہے۔ {” الْمَصِيْرُ “ ” صَارَ يَصِيْرُ “} سے مصدر میمی ہے۔ {” عَلَيْكَ “} اور {” اِلَيْكَ “} پہلے آنے سے قصر کا مفہوم حاصل ہو رہا ہے کہ اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا، کسی اور پر نہیں اور تیری ہی طرف رجوع کیا، کسی اور کی طرف نہیں، (تو نے ہی سب کو پیدا کیا) اور (آخر کار) تیری ہی طرف واپس آنا ہے۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →