اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا جوئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم اُن کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس کو ماننے سے وہ انکار کر چکے ہیں اور اُن کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کو صرف اِس قصور پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ پر ایمان لائے ہو تم چھپا کر اُن کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے وہ یقیناً راہ راست سے بھٹک گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ تم تو دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو اور وه اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آچکا ہے کفر کرتے ہیں، پیغمبر کو اور خود تمہیں بھی محض اس وجہ سے جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو، اگر تم میری راه میں جہاد کے لیے اور میری رضا مندی کی طلب میں نکلتے ہو (تو ان سے دوستیاں نہ کرو)، تم ان کے پاس محبت کا پیغام پوشیده پوشیده بھیجتے ہو اور مجھے خوب معلوم ہے جو تم نے چھپایا اور وه بھی جو تم نے ﻇاہر کیا، تم میں سے جو بھی اس کام کو کرے گا وه یقیناً راه راست سے بہک جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمہارے پاس آیا گھر سے جدا کرتے ہیں رسول کو اور تمہیں اس پر کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے، اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا چاہنے کو تو ان سے دوستی نہ کرو تم انہیں خفیہ پیامِ محبت بھیجتے ہو، اور میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو، اور تم میں جو ایسا کرے بیشک وہ سیدھی راہ سے بہکا،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تم میرے اور اپنے دشمن کو اپنا ایسا (جگری) دوست نہ بناؤ کہ ان سے محبت کا اظہار کرنے لگو حالانکہ وہ اس (دینِ) حق کے منکر ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے اور وہ رسولِ خدا(ص) کو اور خود تم کو محض اس بنا پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لائے ہو (یہ سب کچھ کرو) اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری خوشنودی حاصل کرنے کیلئے (اپنے گھروں سے) نکلے ہو؟ تم چھپ کر ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہواور جو تم میں سے ایسا کرے وہ راہِ راست سے بھٹک گیا۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ، تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ یقینا انھوں نے اس حق سے انکار کیا جو تمھارے پاس آیا ہے، وہ رسول کو اور خود تمھیں اس لیے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو، جو تمھارا رب ہے، اگر تم میرے راستے میں جہاد کے لیے اور میری رضا تلاش کرنے کے لیے نکلے ہو۔ تم ان کی طرف چھپا کر دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں زیادہ جاننے والا ہوں جو کچھ تم نے چھپایا اور جو تم نے ظاہر کیا اور تم میں سے جو کوئی ایسا کرے تو یقینا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاطب رضی اللہ عنہ کا قصہ ٭٭
سیدنا حاطب بن ابوبلتہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس سورت کی شروع کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہوا کہ حاطب رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سے تھے بدر کی لڑائی میں بھی آپ نے مسلمانوں کے لشکر میں شرکت کی تھی ان کے بال بچے اور مال و دولت مکہ میں ہی تھا اور یہ خود قریش سے نہ تھے صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے اس وجہ سے مکہ میں انہیں امن حاصل تھا، اب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ شریف میں تھے یہاں تک کہ جب اہل مکہ نے عہد توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی کرنا چاہی تو آپ کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اچانک دبوچ لیں تاکہ خونریزی نہ ہونے پائے اور مکہ شریف پر قبضہ ہو جائے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ باری تعالیٰ ہماری تیاری کی خبریں ہمارے پہنچنے تک اہل مکہ کو نہ پہنچیں، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اس موقعہ پر ایک خط اہل مکہ کے نام لکھا اور ایک قریشیہ عورت کے ہاتھ اسے چلتا کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارادے اور مسلمانوں کی لشکر کشی کی خبر درج تھی، آپ کا ارادہ اس سے صرف یہ تھا کہ میرا کوئی احسان قریش پر رہ جائے جس کے باعث میرے بال بچے اور مال دولت محفوظ رہیں، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو چکی تھی ناممکن تھا کہ قریشیوں کو کسی ذریعہ سے بھی اس ارادے کا علم ہو جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پوشیدہ راز سے مطلع فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیچھے اپنے سوار بھیجے راستہ میں اسے روکا گیا اور خط اس سے حاصل کر لیا گیا، یہ مفصل واقعہ صحیح احادیث میں پوری طرح آ چکا ہے۔
مسند احمد میں ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اور زبیر رضی اللہ عنہ اور مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوا کر فرمایا تم یہاں سے فوراً کوچ کرو روضہ خاخ میں جب تم پہنچو گے تو تمہیں ایک سانڈنی سوار عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہے تم اسے قبضہ میں کر کے یہاں لے آؤ، ہم تینوں گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت تیز رفتاری سے روانہ ہو گئے، روضہ خاخ میں جب پہنچے تو فی الواقع ہمیں ایک سانڈنی سوار عورت دکھائی دی ہم نے اس سے کہا کہ جو خط تیرے پاس ہے وہ ہمارے حوالے کر، اس نے صاف انکار کر دیا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں، ہم نے کہا غلط کہتی ہے تیرے پاس یقیناً خط ہے اگر تو راضی خوشی نہ دے گی تو ہم جامہ تلاشی کر کے جبراً وہ خط تجھ سے چھینیں گے، اب تو وہ عورت سٹ پٹائی اور آخر اس نے اپنی چٹیا کھول کر اس میں سے وہ پرچہ نکال کر ہمارے حوالے کیا ہم اسی وقت وہاں سے واپس روانہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے پیش کر دیا، پڑھنے پر معلوم ہوا کہ حاطب نے اسے لکھا ہے اور یہاں کی خبر رسانی کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں سے کفار مکہ کو آگاہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: حاطب! یہ کیا حرکت ہے؟ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! جلدی نہ کیجئے، میری بھی سن لیجئے، میں قریشیوں میں ملا ہوا تھا خود قریشیوں میں سے نہ تھا، پر آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھ ہجرت کی جتنے اور مہاجرین ہیں ان سب کے قرابت دار مکہ میں موجود ہیں جو ان کے بال بچے وغیرہ مکہ میں رہ گئے ہیں وہ ان کی حمایت کرتے ہیں لیکن میرا کوئی رشتہ دار نہیں جو میرے بچوں کی حفاظت کرے اس لیے میں نے چاہا کہ قریشیوں کے ساتھ کوئی سلوک و احسان کروں جس سے میرے بچوں کی حفاظت وہ کریں اور جس طرح اوروں کے نسب کی وجہ سے ان کا تعلق ہے میرے احسان کی وجہ سے میرا تعلق ہو جائے۔ یا رسول اللہ! میں نے کوئی کفر نہیں کیا نہ، اپنے دین سے مرتد ہوا ہوں، نہ اسلام کے بعد کفر سے راضی ہوا ہوں، بس اس خط کی وجہ سے صرف اپنے بچوں کی حفاظت کا حیلہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم سے جو واقعہ حاطب بیان کرتے ہیں وہ بالکل حرف بہ حرف سچا ہے کہ اپنے نفع کی خاطر ایک غلطی کر بیٹھے ہیں نہ کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا یا کفار کی مدد کرنا ان کے پیش نظر ہو“، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اس موقعہ پر موجود تھے اور یہ واقعات آپ کے سامنے ہوئے آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمانے لگے یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم نہیں؟ کہ یہ بدری صحابی ہیں اور بدر والوں پر اللہ تعالیٰ نے جھانکا اور فرمایا جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا“، یہ روایت اور بھی بہت سی حدیث کی کتابوں میں ہے۔ [صحیح بخاری:4274]
صحیح بخاری شریف کتاب المغازی میں اتنا اور بھی ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری اور کتاب التفسیر میں ہے کہ عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی بارے میں آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّي وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ تُلقونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَقَد كَفَروا بِما جاءَكُم مِنَ الحَقِّ يُخرِجونَ الرَّسولَ وَإِيّاكُم أَن تُؤمِنوا بِاللَّهِ رَبِّكُم إِن كُنتُم خَرَجتُم جِهادًا في سَبيلي وَابتِغاءَ مَرضاتي تُسِرّونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَأَنا أَعلَمُ بِما أَخفَيتُم وَما أَعلَنتُم وَمَن يَفعَلهُ مِنكُم فَقَد ضَلَّ سَواءَ السَّبيلِ» [60-الممتحنة:1] ، اتری لیکن راوی کو شک ہے کہ آیت کے اترنے کا بیان سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا ہے یا حدیث میں ہے، امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ یہ آیت اسی میں اتری ہے؟ تو سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا یہ لوگوں کی بات میں ہے میں نے اسے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے حفظ کیا ہے اور ایک حرف بھی نہیں چھوڑا اور میرا خیال ہے کہ میرے سوا کسی اور نے اسے حفظ بھی نہیں رکھا۔ بخاری مسلم کی ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے نام کے بدلے سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہ کا نام ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ اس عورت کے پاس حاطب کا خط ہے، اس عورت کی سواری کو بٹھا کر اس کے انکار پر ہر چند ٹٹولا گیا لیکن کوئی پرچہ ہاتھ نہ لگا آخر جب ہم عاجز آ گئے اور کہیں سے پرچہ نہ ملا تو ہم نے اس عورت سے کہا کہ اس میں تو مطلق شک نہیں کہ تیرے پاس پرچہ ہے گو ہمیں نہیں ملتا لیکن تیرے پاس ہے ضرور، یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غلط ہو اب اگر تو نہیں دیتی تو ہم تیرے کپڑے اتار کر ٹٹولیں گے، جب اس نے دیکھ لیا کہ انہیں پختہ یقین ہے اور یہ لئے بغیر نہ ٹلیں گے تو اس نے اپنا سر کھول کر اپنے بالوں میں سے پرچہ نکال کر ہمیں دے دیا ہم اسے لے کر واپس خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا: اس نے اللہ، اس کے رسول کی اور مسلمانوں کی خیانت کی مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیجئیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا اور انہوں نے وہ جواب دیا جو اوپر گزر چکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے فرما دیا کہ انہیں کچھ نہ کہو اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی وہ فرمایا جو پہلے بیان ہوا کہ بدری صحابہ میں سے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت واجب کر دی ہے جسے سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور فرمانے لگے اللہ کو اور اس کے رسول کو ہی کامل علم ہے، [صحیح بخاری:6939] یہ حدیث ان الفاظ سے صحیح بخاری کتاب المغازی میں غزوہ بدر کے ذکر میں ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مکہ جانے کا ارادہ اپنے چند ہم راز صحابہ کبار رضی اللہ عنہم کے سامنے تو ظاہر کیا تھا جن میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ بھی تھے باقی عام طور پر مشہور تھا کہ خیبر جا رہے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب ہم خط کو سارے سامان میں ٹٹول چکے اور نہ ملا تو سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہ نے کہا شاید اس کے پاس کوئی پرچہ ہی نہیں اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ناممکن ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ بول سکتے ہیں، نہ ہم نے جھوٹ کہا، جب ہم نے اسے دھمکایا تو اس نے ہم سے کہا: تمہیں اللہ کا خوف نہیں؟ کیا تم مسلمان نہیں؟ ایک روایت میں ہے کہ اس نے پرچہ اپنے جسم میں سے نکالا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ بدر میں موجود تو ضرور تھے لیکن عہد شکنی کی اور دشمنوں میں ہماری خبر رسانی کی اور روایت میں ہے کہ یہ عورت قبیلہ مزینہ کی عورت تھی، بعض کہتے ہیں اس کا نام سارہ تھا، اولاد عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اسے کچھ دینا کیا تھا اور اس نے اپنے بالوں تلے کاغذ رکھ کر اوپر سے سرگوندھ لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھوڑ سواروں سے فرما دیا تھا کہ اس کے پاس حاطب کا دیا ہوا اس مضمون کا خط ہے، آسمان سے اس کی خبر اے اللہ کے رسول! کے پاس آئی تھی، بنو احمد کے حلیفہ میں یہ عورت پکڑی گئی تھی، اس عورت نے ان سے کہا تھا کہ تم منہ پھیر لو میں نکال دیتی ہوں انہوں نے منہ پھیر لیا پھر اس نے نکال کر حوالہ کیا، اس روایت میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کے جواب میں یہ بھی ہے کہ اللہ کی قسم میں اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں کوئی تغیر تبدل میرے ایمان میں نہیں ہوا، اور اسی بارے میں اس سورت کی آیتیں ابراہیم کے قصہ «قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ في إِبراهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَآءُ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَداوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبراهيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَنَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ رَبَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ» [60-الممتحنة:4] ، کے ختم تک اتریں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس عورت کو اس کی اجرت کے دس درہم سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے دیئے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خط کے حاصل کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور حجفہ میں یہ ملی تھی۔
مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانو! مشرکین اور کفار کو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومن بندوں سے لڑنے والے ہیں، جن کے دل تمہاری عداوت سے پر ہیں تمہیں ہرگز لائق نہیں کہ ان سے دوستی اور محبت میل ملاپ اور اپنایت رکھو تمہیں اس کے خلاف حکم دیا گیا ہے ارشاد ہے «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا لا تَتَّخِذُوا اليَهودَ وَالنَّصارىٰ أَولِياءَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِي القَومَ الظّالِمينَ» [5-المائدة:52] ، اے ایماندارو! یہود و نصاریٰ سے دوستی مت گانٹھو وہ آپس میں ہی ایک دوسروں کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی ان سے موالات و محبت کرے وہ انہی میں سے شمار ہو گا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس میں کس قدر ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ» ۱؎ [5-المائدہ:57] مسلمانو! ان اہل کتاب اور کفار سے دوستیاں نہ کرو جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھ رہے ہیں اگر تم میں ایمان ہے تو ذات باری سے ڈرو۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّـهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا» [4-النساء:144] مسلمانو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں نہ کرو کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا کھلا الزام ثابت کر لو۔ ایک اور جگہ فرمایا «لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكافِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ في شَيءٍ إِلّا أَن تَتَّقوا مِنهُم تُقاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ» [3-آل عمران:28] ’ مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنوں کے علاوہ کافروں سے دوستیاں نہ کریں جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں ہاں بطور دفع الوقتی اور بچاؤ کے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے اور اللہ کی طرف ہی تم کو لوٹ کر جانا ہے ‘، اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کا عذر قبول فرما لیا کہ اپنے مال و اولاد کے بچاؤ کی خاطر یہ کام ان سے ہو گیا تھا۔
مسند احمد میں ہے کہ { ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مثالیں بیان فرمائیں ایک اور تین اور پانچ اور سات اور نو اور گیارہ پھر ان میں سے یہ تفصیل صرف ایک ہی بیان کی باقی سب چھوڑ دیں، فرمایا: ”ایک ضعیف مسکین قوم تھی جس پر زور آور ظالم قوم چڑھائی کر کے آ گئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کمزوروں کی مدد کی اور انہیں اپنے دشمن پر غالب کر دیا، غالب آ کر ان میں رعونت سما گئی اور انہوں نے ان پر مظالم شروع کر دیئے جس پر اللہ تعالیٰ ان سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہو گیا“ }۔ [مسند احمد:407/5:ضعیف] پھر مسلمانوں کو ہوشیار کرتا ہے کہ تم ان دشمنان دین سے کیوں موّدت و محبت رکھتے ہو؟ حالانکہ یہ تم سے بدسلوکی کرنے میں کسی موقعہ پر کمی نہیں کرتے کیا یہ تازہ واقعہ بھی تمہارے ذہن سے ہٹ گیا کہ انہوں نے تمہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جبراً وطن سے نکال باہر کیا اور اس کی کوئی اور وجہ نہ تھی سوائے اس کے کہ تمہاری توحید اور فرمانبرداریِ رسول ان پر گراں گزرتی تھی۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [85-البروج:8] یعنی ’ مومنوں سے صرف اس بنا پر مخاصمت اور دشمنی ہے کہ وہ اللہ برتر بزرگ پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّـهُ» [22-الحج:40] ’ یہ لوگ محض اس وجہ سے ناحق جلا وطن کئے گئے کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر سچ مچ تم میری راہ کے جہاد کو نکلے ہو اور میری رضا مندی کے طالب ہو تو ہرگز ان کفار سے جو تمہارے اور میرے دشمن ہیں میرے دین کو اور تمہارے جان و مال کو نقصان پہنچا رہے ہیں دوستیاں نہ پیدا کرو، بھلا کس قدر غلطی ہے کہ تم ان سے پوشیدہ طور پر دوستانہ رکھو؟ کیا یہ پوشیدگی اللہ سے بھی پوشیدہ رہ سکتی ہے؟ جو ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے، دلوں کے بھید اور نفس کے وسوسے بھی جس کے سامنے کھلے ہوئے ہیں ‘۔
بس سن لو جو بھی ان کفار سے موالات و محبت رکھے وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا۔ تم نہیں دیکھ رہے؟ کہ ان کافروں کا اگر بس چلے، اگر انہیں کوئی موقعہ مل جائے تو نہ اپنے ہاتھ پاؤں سے تمہیں نقصان پہنچانے میں دریغ کریں، نہ برا کہنے سے اپنی زبانیں روکیں، جو ان کے امکان میں ہو گا وہ کر گزریں گے بلکہ تمام تر کوشش اس امر پر صرف کر دیں گے کہ تمہیں بھی اپنی طرح کافر بنا لیں، پس جب کہ ان کی اندرونی اور بیرونی دشمنی کا حال تمہیں بخوبی معلوم ہے، پھر کیا اندھیر ہے؟ کہ تم اپنے دشمنوں کو دوست سمجھ رہے ہو اور اپنی راہ میں خود کانٹے بو رہے ہو، غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کو کافروں پر اعتماد کرنے اور ان سے ایسے گہرے تعلقات رکھنے اور دلی میل رکھنے سے روکا جا رہا ہے اور وہ باتیں یاد دلائی جا رہی ہیں جو ان سے علیحدگی پر آمادہ کر دیں۔ تمہاری قرابتیں اور رشتہ داریاں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، اگر تم اللہ کو ناراض کر کے انہیں خوش کرو اور چاہو کہ تمہیں نفع ہو یا نقصان ہٹ جائے یہ بالکل خام خیالی ہے، نہ اللہ کی طرف کے نقصان کو کوئی ٹال سکے، نہ اس کے دیئے ہوئے نفع کو کوئی روک سکے، اپنے والوں سے ان کے کفر پر جس نے موافقت کی وہ برباد ہوا، گو رشتہ دار کیسا ہی ہو کچھ نفع نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں“، جب وہ جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ” «إِنَّ أَبِي وَأَبَاك فِي النَّار» سن میرا باپ اور تیرا باپ دونوں ہی جہنمی ہیں۔“ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں اور سنن ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:203]
اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ (1) تم دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو (2) اور وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آچکا ہے کفر کرتے ہیں، پیغمبر کو اور خود تمہیں بھی محض اس وجہ سے جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو (3) اگر تم میری راہ میں جہاد کے لئے اور میری رضامندی کی طلب میں نکلتے ہو (تو ان سے دوستیاں نہ کرو (4) ان کے پاس محبت کا پیغام پوشیدہ بھیجتے ہو اور مجھے خوب معلوم ہے جو تم نے چھپایا وہ بھی جو تم نے ظاہر کیا، تم میں سے جو بھی اس کام کو کرے گا وہ یقیناً راہ راست سے بہک جائے گا (5)۔
سورۂ حشر میں منافقین کی کفار اہل کتاب کے ساتھ دوستی اور اس کے برے انجام کا بیان تھا، اس سورت میں مشرکین کے ساتھ دوستی سے منع فرمایا، خصوصاً ان مہاجرین کو جن کے بیوی بچے یا عزیز مکہ میں رہ گئے تھے اور وہ اس خیال سے مشرکین سے تعلق قائم رکھنا چاہتے تھے کہ مشرکین اس وجہ سے ان کے بیوی بچوں اور عزیزوں کا خیال رکھیں گے۔ ۶ ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفارِ قریش کے درمیان دس سال کے لیے صلح کا جو معاہدہ ہوا اس کی ایک شق یہ تھی کہ جو قبائل چاہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بن جائیں اور جو چاہیں کفارِ قریش کے حلیف بن جائیں اور کوئی فریق دوسرے فریق کے حلیف پر نہ حملہ کرے اور نہ حملہ کرنے والوں کی مدد کرے۔ چنانچہ مکہ کے قریب رہنے والے قبائل میں سے بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے اور بنو خزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بن گئے۔ ابھی معاہدے کو تقریباً ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا کہ بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔ قریش نے آدمیوں اور اسلحہ سے ان کی مدد کی، وہ بھاگ کر حرم میں آئے تو انھوں نے وہاں بھی انھیں نہیں چھوڑا بلکہ قتل کر دیا۔ بنو خزاعہ کا ایک وفد فریاد لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ پہنچا۔ یہ قریش کی صریح عہد شکنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سزا دینے اور مکہ پر حملہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور اس کے لیے خفیہ طور پر تیاری شروع کر دی۔ مقصد یہ تھا کہ اچانک حملے میں کفار مزاحمت نہیں کر سکیں گے اور کشت و خون کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسلمانوں کی قیمتی جانیں بھی محفوظ رہیں گی اور کفار میں سے جن کی قسمت میں سعادت لکھی ہو گی مسلمان ہو سکیں گے اور آگے چل کر اسلام کی سربلندی میں حصہ لے سکیں گے۔ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ ایک مہاجر صحابی تھے اور بدری تھے، مکہ میں ان کی اولاد اور مال اسباب تھا۔ وہ اصلاً قریش میں سے نہیں تھے، بلکہ ان کے حلیف تھے۔ انھوں نے قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کی اطلاع دینے کے لیے ان کی طرف ایک خط لکھا اور ایک عورت کے ہاتھ بھیج دیا۔ صحیح بخاری میں اس کی تفصیل آئی ہے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے، زبیر اور مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا کہ تم چلتے جاؤ یہاں تک روضۂ خاخ (خاخ نامی باغ) تک جا پہنچو، وہاں اونٹنی پر سوار ایک عورت ہوگی، اس سے خط لے آؤ۔ چنانچہ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم اس باغ کے پاس جا پہنچے۔ دیکھا تو اونٹنی پر سوار وہ عورت وہاں تھی، ہم نے اس سے کہا: ”خط نکال۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس کوئی خط نہیں۔“ ہم نے کہا: ”تم ہر صورت خط نکالو گی یا ہم تمھارے کپڑے اتاریں گے۔“ چنانچہ اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کے دے دیا۔ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے کچھ لوگوں کے نام ہے، جو مشرکین میں سے تھے۔ اس میں انھوں نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امور کی خبر دی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا حَاطِبُ! مَا هٰذَا؟ ] ”حاطب! یہ کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مجھ پر جلدی نہ کریں، میں ایسا آدمی تھا جو قریش کے ساتھ جڑا ہوا تھا، ان کا حلیف تھا، اصلاً ان میں سے نہیں تھا اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی وہاں کئی قرابتیں ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اپنے اہل و عیال اور اموال کی حفاظت رکھتے ہیں۔ تو میں نے چاہا کہ جب میرا ان سے کوئی نسبی رشتہ نہیں تو میں ان پر ایک احسان کردوں جس کی وجہ سے وہ میرے گھر والوں کی حفاظت رکھیں۔ میں نے یہ کام نہ اپنے دین سے مرتد ہونے کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ ] ”سن لو! اس نے یقینا تم سے سچ کہا ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ اللّٰهَ اطَّلَعَ عَلٰی مَنْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ اعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ] ”یہ تو بدر میں شریک ہوا ہے اور تجھے کیا معلوم شاید اللہ نے بدر میں شریک ہونے والوں کو جھانک کر کہا ہو کہ تم جو چاہو کرو، کیونکہ میں نے تمھیں بخش دیا ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرما دی: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ ........ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ........ تو یقینا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔“ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الفتح: ۴۲۷۴ ] (آیت 1) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ: ” عَدُوٌّ “ ”عَدَا يَعْدُوْ عَدْوًا وَعَدَاوَةً“} سے{ ” فَعُوْلٌ “} بمعنی {”فَاعِلٌ“ } کے وزن پر ہے، دشمن۔ {”فَعِيْلٌ“} اور {” فَعُوْلٌ “} دونوں صیغے واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث کے لیے ایک ہی لفظ کے ساتھ آ جاتے ہیں، اس لیے ترجمہ ”میرے دشمنوں“ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کے بجائے کہ کفار اور مشرکین کو دوست نہ بناؤ، یہ فرمایا کہ میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ پھر {” عَدُوِّيْ “} (میرے دشمنوں) کا ذکر پہلے کیا اور {” عَدُوَّكُمْ “} (اپنے دشمنوں) کا ذکر بعد میں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر و مشرک کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کی دشمنی کی بنیاد نہ وطن ہے نہ نسب اور نہ مال، بلکہ انھوں نے مسلمانوں کی دشمنی صرف اللہ تعالیٰ کی دشمنی کی وجہ سے اختیار کر رکھی ہے۔ اللہ کی دشمنی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی توحید، اس کے دین اور اس کے رسول کو نہیں مانتے، اس لیے انھوں نے ان کی شدید مخالفت اور دشمنی اختیار کر رکھی ہے۔ {” عَدُوِّيْ “} کو {” عَدُوَّكُمْ “} سے پہلے لانے کی مناسبت یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے دین کے دشمن پہلے ہیں، پھر اس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ آیت میں کفار و مشرکین کی عداوت کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع فرمایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر کفار کی دوستی سے منع کیا گیا ہے اور ساتھ ہی دوستی سے ممانعت کی کوئی نہ کوئی وجہ بیان کی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۸)، نساء (۱۴۴)، مائدہ (57،51) اور سورۂ توبہ (24،23) ان تمام وجوہات میں بنیادی بات یہی ہے کہ وہ تمھارے اور تمھارے دین کے دشمن ہیں، جب تک تم کافر نہ ہو جاؤ وہ کبھی تمھارے دوست نہیں ہو سکتے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۰) اور سورۂ نساء (۸۹)۔ ➋ { تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ {”اَلْمَوَدَّةُ “ ” تُلْقُوْنَ “} کا مفعول بہ ہے اور اس پر ”باء“ تاکید کے لیے آئی ہے، اس صورت میں معنی یہ ہے کہ تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو۔ دوسرا معنی یہ کہ {” تُلْقُوْنَ “} کا مفعول بہ محذوف ہے: {”أَيْ تُلْقُوْنَ إِلَيْهِمُ الْأَخْبَارَ بِالْمَوَدَّةِ“} ”یعنی تم دوستی کی وجہ سے ان کی طرف خبریں پہنچاتے ہو (جن کا اللہ کے دشمنوں اور تمھارے دشمنوں کو کسی صورت علم نہیں ہونا چاہیے)۔“ ➌ { وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ:} یعنی انھوں نے تو وہ حق ماننے ہی سے انکار کر دیا ہے جو تمھارے پاس آیا ہے اور تم ہو کہ ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ ➍ {يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ: ” اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ “} سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی انھوں نے صرف کفر اور معمولی دشمنی ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ رشتہ داری اور محبت کے تمام سلسلے قطع کر کے رسول کو اور تمھیں اتنی ایذا دی کہ تم سب کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا، صرف اس وجہ سے کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔ اس جملے کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ بروج (۸) اور سورۂ حج (۴۰) {” يُخْرِجُوْنَ “} مضارع کا صیغہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ انھوں نے تمھیں نکالا ہے بلکہ وہ تمھیں نکالنے پر ابھی تک قائم ہیں اور اب بھی تمھیں تمھارے گھروں میں واپس نہیں آنے دے رہے۔ اس میں مسلمانوں کو کفار کی دشمنی کے لیے ابھارا گیا ہے کہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ وہ تمھارے رسول کو اور تمھیں نکال رہے ہیں اور تم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہو۔ ➎ { اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ …: ” جِهَادًا “} اور {” ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِيْ “} دونوں {” خَرَجْتُمْ “} کے مفعول لہ ہیں اور {” اِنْ كُنْتُمْ “} شرط کی جزا محذوف ہے جو آیت کے پہلے جملے {” لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ “} سے معلوم ہو رہی ہے، یعنی اگر تم میرے راستے میں جہاد کے لیے اور میری رضا تلاش کرنے کے لیے نکلے ہو تو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔ ➏ { تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ …:} یعنی تم پر تعجب ہے کہ تم چھپ کر ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں ان باتوں کو جو تم نے چھپائیں اور جو ظاہر کیں تم سے اور ہر ایک سے بڑھ کر جاننے والا ہوں۔ سو تمھیں یہ سوچ کر بھی ایسی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے کہ تمھارا مالک تمھارے ہر کام سے پوری طرح آگاہ ہے اور تم اپنی کوئی حرکت اس سے کسی طرح بھی نہیں چھپا سکتے۔ ➐ {وَ مَنْ يَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ:} یعنی یہ صرف حاطب رضی اللہ عنہ یا کسی مہاجر کی مشرکینِ مکہ کے ساتھ دوستی کا معاملہ نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں میں سے جو بھی یہ کام کرے گا وہ یقینا سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ ➑ اس آیت سے مخلصین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا اظہار بھی ہو رہا ہے کہ اتنی بڑی غلطی کرنے والوں کو {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ خطاب ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی معصیت اور گناہ کی وجہ سے آدمی کافر نہیں ہوتا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب رضی اللہ عنہ کی غلطی سے درگزر فرمایا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی آدمی کے معاملات میں اس کی سابقہ زندگی کو بھی مدِ نظر رکھا جائے گا۔
اُن کا رویہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پا جائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہو جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر وه تم پر کہیں قابو پالیں تو وه تمہارے (کھلے) دشمن ہو جائیں اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور (دل سے) چاہنے لگیں کہ تم بھی کفر کرنے لگ جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اگر تمہیں پائیں تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ دراز کریں گے اور ان کی تمنا ہے کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ
علامہ محمد حسین نجفی
اگر یہ لوگ تم پر قابو پا جائیں تو وہ تمہارے دشمن ہی ہوں گے اور برائی کے ساتھ (تمہیں آزار پہنچانے کیلئے) تمہاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں گے اور اپنی زبانیں بھی اور وہ چاہیں گے کہ کاش تم کافر ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اگر وہ تمھیں پائیں تو تمھارے دشمن ہوں گے اور اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں تمھاری طرف برائی کے ساتھ بڑھائیں گے اور چاہیں گے کاش! تم کفر کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاطب رضی اللہ عنہ کا قصہ ٭٭
سیدنا حاطب بن ابوبلتہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس سورت کی شروع کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہوا کہ حاطب رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سے تھے بدر کی لڑائی میں بھی آپ نے مسلمانوں کے لشکر میں شرکت کی تھی ان کے بال بچے اور مال و دولت مکہ میں ہی تھا اور یہ خود قریش سے نہ تھے صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے اس وجہ سے مکہ میں انہیں امن حاصل تھا، اب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ شریف میں تھے یہاں تک کہ جب اہل مکہ نے عہد توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی کرنا چاہی تو آپ کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اچانک دبوچ لیں تاکہ خونریزی نہ ہونے پائے اور مکہ شریف پر قبضہ ہو جائے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ باری تعالیٰ ہماری تیاری کی خبریں ہمارے پہنچنے تک اہل مکہ کو نہ پہنچیں، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اس موقعہ پر ایک خط اہل مکہ کے نام لکھا اور ایک قریشیہ عورت کے ہاتھ اسے چلتا کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارادے اور مسلمانوں کی لشکر کشی کی خبر درج تھی، آپ کا ارادہ اس سے صرف یہ تھا کہ میرا کوئی احسان قریش پر رہ جائے جس کے باعث میرے بال بچے اور مال دولت محفوظ رہیں، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو چکی تھی ناممکن تھا کہ قریشیوں کو کسی ذریعہ سے بھی اس ارادے کا علم ہو جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پوشیدہ راز سے مطلع فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیچھے اپنے سوار بھیجے راستہ میں اسے روکا گیا اور خط اس سے حاصل کر لیا گیا، یہ مفصل واقعہ صحیح احادیث میں پوری طرح آ چکا ہے۔
مسند احمد میں ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اور زبیر رضی اللہ عنہ اور مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوا کر فرمایا تم یہاں سے فوراً کوچ کرو روضہ خاخ میں جب تم پہنچو گے تو تمہیں ایک سانڈنی سوار عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہے تم اسے قبضہ میں کر کے یہاں لے آؤ، ہم تینوں گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت تیز رفتاری سے روانہ ہو گئے، روضہ خاخ میں جب پہنچے تو فی الواقع ہمیں ایک سانڈنی سوار عورت دکھائی دی ہم نے اس سے کہا کہ جو خط تیرے پاس ہے وہ ہمارے حوالے کر، اس نے صاف انکار کر دیا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں، ہم نے کہا غلط کہتی ہے تیرے پاس یقیناً خط ہے اگر تو راضی خوشی نہ دے گی تو ہم جامہ تلاشی کر کے جبراً وہ خط تجھ سے چھینیں گے، اب تو وہ عورت سٹ پٹائی اور آخر اس نے اپنی چٹیا کھول کر اس میں سے وہ پرچہ نکال کر ہمارے حوالے کیا ہم اسی وقت وہاں سے واپس روانہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے پیش کر دیا، پڑھنے پر معلوم ہوا کہ حاطب نے اسے لکھا ہے اور یہاں کی خبر رسانی کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں سے کفار مکہ کو آگاہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: حاطب! یہ کیا حرکت ہے؟ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! جلدی نہ کیجئے، میری بھی سن لیجئے، میں قریشیوں میں ملا ہوا تھا خود قریشیوں میں سے نہ تھا، پر آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھ ہجرت کی جتنے اور مہاجرین ہیں ان سب کے قرابت دار مکہ میں موجود ہیں جو ان کے بال بچے وغیرہ مکہ میں رہ گئے ہیں وہ ان کی حمایت کرتے ہیں لیکن میرا کوئی رشتہ دار نہیں جو میرے بچوں کی حفاظت کرے اس لیے میں نے چاہا کہ قریشیوں کے ساتھ کوئی سلوک و احسان کروں جس سے میرے بچوں کی حفاظت وہ کریں اور جس طرح اوروں کے نسب کی وجہ سے ان کا تعلق ہے میرے احسان کی وجہ سے میرا تعلق ہو جائے۔ یا رسول اللہ! میں نے کوئی کفر نہیں کیا نہ، اپنے دین سے مرتد ہوا ہوں، نہ اسلام کے بعد کفر سے راضی ہوا ہوں، بس اس خط کی وجہ سے صرف اپنے بچوں کی حفاظت کا حیلہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم سے جو واقعہ حاطب بیان کرتے ہیں وہ بالکل حرف بہ حرف سچا ہے کہ اپنے نفع کی خاطر ایک غلطی کر بیٹھے ہیں نہ کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا یا کفار کی مدد کرنا ان کے پیش نظر ہو“، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اس موقعہ پر موجود تھے اور یہ واقعات آپ کے سامنے ہوئے آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمانے لگے یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم نہیں؟ کہ یہ بدری صحابی ہیں اور بدر والوں پر اللہ تعالیٰ نے جھانکا اور فرمایا جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا“، یہ روایت اور بھی بہت سی حدیث کی کتابوں میں ہے۔ [صحیح بخاری:4274]
صحیح بخاری شریف کتاب المغازی میں اتنا اور بھی ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری اور کتاب التفسیر میں ہے کہ عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی بارے میں آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّي وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ تُلقونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَقَد كَفَروا بِما جاءَكُم مِنَ الحَقِّ يُخرِجونَ الرَّسولَ وَإِيّاكُم أَن تُؤمِنوا بِاللَّهِ رَبِّكُم إِن كُنتُم خَرَجتُم جِهادًا في سَبيلي وَابتِغاءَ مَرضاتي تُسِرّونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَأَنا أَعلَمُ بِما أَخفَيتُم وَما أَعلَنتُم وَمَن يَفعَلهُ مِنكُم فَقَد ضَلَّ سَواءَ السَّبيلِ» [60-الممتحنة:1] ، اتری لیکن راوی کو شک ہے کہ آیت کے اترنے کا بیان سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا ہے یا حدیث میں ہے، امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ یہ آیت اسی میں اتری ہے؟ تو سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا یہ لوگوں کی بات میں ہے میں نے اسے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے حفظ کیا ہے اور ایک حرف بھی نہیں چھوڑا اور میرا خیال ہے کہ میرے سوا کسی اور نے اسے حفظ بھی نہیں رکھا۔ بخاری مسلم کی ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے نام کے بدلے سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہ کا نام ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ اس عورت کے پاس حاطب کا خط ہے، اس عورت کی سواری کو بٹھا کر اس کے انکار پر ہر چند ٹٹولا گیا لیکن کوئی پرچہ ہاتھ نہ لگا آخر جب ہم عاجز آ گئے اور کہیں سے پرچہ نہ ملا تو ہم نے اس عورت سے کہا کہ اس میں تو مطلق شک نہیں کہ تیرے پاس پرچہ ہے گو ہمیں نہیں ملتا لیکن تیرے پاس ہے ضرور، یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غلط ہو اب اگر تو نہیں دیتی تو ہم تیرے کپڑے اتار کر ٹٹولیں گے، جب اس نے دیکھ لیا کہ انہیں پختہ یقین ہے اور یہ لئے بغیر نہ ٹلیں گے تو اس نے اپنا سر کھول کر اپنے بالوں میں سے پرچہ نکال کر ہمیں دے دیا ہم اسے لے کر واپس خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا: اس نے اللہ، اس کے رسول کی اور مسلمانوں کی خیانت کی مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیجئیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا اور انہوں نے وہ جواب دیا جو اوپر گزر چکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے فرما دیا کہ انہیں کچھ نہ کہو اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی وہ فرمایا جو پہلے بیان ہوا کہ بدری صحابہ میں سے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت واجب کر دی ہے جسے سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور فرمانے لگے اللہ کو اور اس کے رسول کو ہی کامل علم ہے، [صحیح بخاری:6939] یہ حدیث ان الفاظ سے صحیح بخاری کتاب المغازی میں غزوہ بدر کے ذکر میں ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مکہ جانے کا ارادہ اپنے چند ہم راز صحابہ کبار رضی اللہ عنہم کے سامنے تو ظاہر کیا تھا جن میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ بھی تھے باقی عام طور پر مشہور تھا کہ خیبر جا رہے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب ہم خط کو سارے سامان میں ٹٹول چکے اور نہ ملا تو سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہ نے کہا شاید اس کے پاس کوئی پرچہ ہی نہیں اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ناممکن ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ بول سکتے ہیں، نہ ہم نے جھوٹ کہا، جب ہم نے اسے دھمکایا تو اس نے ہم سے کہا: تمہیں اللہ کا خوف نہیں؟ کیا تم مسلمان نہیں؟ ایک روایت میں ہے کہ اس نے پرچہ اپنے جسم میں سے نکالا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ بدر میں موجود تو ضرور تھے لیکن عہد شکنی کی اور دشمنوں میں ہماری خبر رسانی کی اور روایت میں ہے کہ یہ عورت قبیلہ مزینہ کی عورت تھی، بعض کہتے ہیں اس کا نام سارہ تھا، اولاد عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اسے کچھ دینا کیا تھا اور اس نے اپنے بالوں تلے کاغذ رکھ کر اوپر سے سرگوندھ لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھوڑ سواروں سے فرما دیا تھا کہ اس کے پاس حاطب کا دیا ہوا اس مضمون کا خط ہے، آسمان سے اس کی خبر اے اللہ کے رسول! کے پاس آئی تھی، بنو احمد کے حلیفہ میں یہ عورت پکڑی گئی تھی، اس عورت نے ان سے کہا تھا کہ تم منہ پھیر لو میں نکال دیتی ہوں انہوں نے منہ پھیر لیا پھر اس نے نکال کر حوالہ کیا، اس روایت میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کے جواب میں یہ بھی ہے کہ اللہ کی قسم میں اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں کوئی تغیر تبدل میرے ایمان میں نہیں ہوا، اور اسی بارے میں اس سورت کی آیتیں ابراہیم کے قصہ «قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ في إِبراهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَآءُ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَداوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبراهيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَنَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ رَبَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ» [60-الممتحنة:4] ، کے ختم تک اتریں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس عورت کو اس کی اجرت کے دس درہم سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے دیئے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خط کے حاصل کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور حجفہ میں یہ ملی تھی۔
مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانو! مشرکین اور کفار کو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومن بندوں سے لڑنے والے ہیں، جن کے دل تمہاری عداوت سے پر ہیں تمہیں ہرگز لائق نہیں کہ ان سے دوستی اور محبت میل ملاپ اور اپنایت رکھو تمہیں اس کے خلاف حکم دیا گیا ہے ارشاد ہے «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا لا تَتَّخِذُوا اليَهودَ وَالنَّصارىٰ أَولِياءَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِي القَومَ الظّالِمينَ» [5-المائدة:52] ، اے ایماندارو! یہود و نصاریٰ سے دوستی مت گانٹھو وہ آپس میں ہی ایک دوسروں کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی ان سے موالات و محبت کرے وہ انہی میں سے شمار ہو گا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس میں کس قدر ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ» ۱؎ [5-المائدہ:57] مسلمانو! ان اہل کتاب اور کفار سے دوستیاں نہ کرو جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھ رہے ہیں اگر تم میں ایمان ہے تو ذات باری سے ڈرو۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّـهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا» [4-النساء:144] مسلمانو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں نہ کرو کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا کھلا الزام ثابت کر لو۔ ایک اور جگہ فرمایا «لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكافِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ في شَيءٍ إِلّا أَن تَتَّقوا مِنهُم تُقاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ» [3-آل عمران:28] ’ مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنوں کے علاوہ کافروں سے دوستیاں نہ کریں جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں ہاں بطور دفع الوقتی اور بچاؤ کے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے اور اللہ کی طرف ہی تم کو لوٹ کر جانا ہے ‘، اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کا عذر قبول فرما لیا کہ اپنے مال و اولاد کے بچاؤ کی خاطر یہ کام ان سے ہو گیا تھا۔
مسند احمد میں ہے کہ { ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مثالیں بیان فرمائیں ایک اور تین اور پانچ اور سات اور نو اور گیارہ پھر ان میں سے یہ تفصیل صرف ایک ہی بیان کی باقی سب چھوڑ دیں، فرمایا: ”ایک ضعیف مسکین قوم تھی جس پر زور آور ظالم قوم چڑھائی کر کے آ گئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کمزوروں کی مدد کی اور انہیں اپنے دشمن پر غالب کر دیا، غالب آ کر ان میں رعونت سما گئی اور انہوں نے ان پر مظالم شروع کر دیئے جس پر اللہ تعالیٰ ان سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہو گیا“ }۔ [مسند احمد:407/5:ضعیف] پھر مسلمانوں کو ہوشیار کرتا ہے کہ تم ان دشمنان دین سے کیوں موّدت و محبت رکھتے ہو؟ حالانکہ یہ تم سے بدسلوکی کرنے میں کسی موقعہ پر کمی نہیں کرتے کیا یہ تازہ واقعہ بھی تمہارے ذہن سے ہٹ گیا کہ انہوں نے تمہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جبراً وطن سے نکال باہر کیا اور اس کی کوئی اور وجہ نہ تھی سوائے اس کے کہ تمہاری توحید اور فرمانبرداریِ رسول ان پر گراں گزرتی تھی۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [85-البروج:8] یعنی ’ مومنوں سے صرف اس بنا پر مخاصمت اور دشمنی ہے کہ وہ اللہ برتر بزرگ پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّـهُ» [22-الحج:40] ’ یہ لوگ محض اس وجہ سے ناحق جلا وطن کئے گئے کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر سچ مچ تم میری راہ کے جہاد کو نکلے ہو اور میری رضا مندی کے طالب ہو تو ہرگز ان کفار سے جو تمہارے اور میرے دشمن ہیں میرے دین کو اور تمہارے جان و مال کو نقصان پہنچا رہے ہیں دوستیاں نہ پیدا کرو، بھلا کس قدر غلطی ہے کہ تم ان سے پوشیدہ طور پر دوستانہ رکھو؟ کیا یہ پوشیدگی اللہ سے بھی پوشیدہ رہ سکتی ہے؟ جو ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے، دلوں کے بھید اور نفس کے وسوسے بھی جس کے سامنے کھلے ہوئے ہیں ‘۔
بس سن لو جو بھی ان کفار سے موالات و محبت رکھے وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا۔ تم نہیں دیکھ رہے؟ کہ ان کافروں کا اگر بس چلے، اگر انہیں کوئی موقعہ مل جائے تو نہ اپنے ہاتھ پاؤں سے تمہیں نقصان پہنچانے میں دریغ کریں، نہ برا کہنے سے اپنی زبانیں روکیں، جو ان کے امکان میں ہو گا وہ کر گزریں گے بلکہ تمام تر کوشش اس امر پر صرف کر دیں گے کہ تمہیں بھی اپنی طرح کافر بنا لیں، پس جب کہ ان کی اندرونی اور بیرونی دشمنی کا حال تمہیں بخوبی معلوم ہے، پھر کیا اندھیر ہے؟ کہ تم اپنے دشمنوں کو دوست سمجھ رہے ہو اور اپنی راہ میں خود کانٹے بو رہے ہو، غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کو کافروں پر اعتماد کرنے اور ان سے ایسے گہرے تعلقات رکھنے اور دلی میل رکھنے سے روکا جا رہا ہے اور وہ باتیں یاد دلائی جا رہی ہیں جو ان سے علیحدگی پر آمادہ کر دیں۔ تمہاری قرابتیں اور رشتہ داریاں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، اگر تم اللہ کو ناراض کر کے انہیں خوش کرو اور چاہو کہ تمہیں نفع ہو یا نقصان ہٹ جائے یہ بالکل خام خیالی ہے، نہ اللہ کی طرف کے نقصان کو کوئی ٹال سکے، نہ اس کے دیئے ہوئے نفع کو کوئی روک سکے، اپنے والوں سے ان کے کفر پر جس نے موافقت کی وہ برباد ہوا، گو رشتہ دار کیسا ہی ہو کچھ نفع نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں“، جب وہ جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ” «إِنَّ أَبِي وَأَبَاك فِي النَّار» سن میرا باپ اور تیرا باپ دونوں ہی جہنمی ہیں۔“ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں اور سنن ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:203]
2۔ 1 یعنی تمہارے خلاف ان کے دلوں میں تو اس طرح بغض وعناد ہے اور تم ہو کہ ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہو۔
(آیت 2) ➊ { اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً …:} اس میں پچھلی آیت کے آخری جملے کی وجہ بیان فرمائی ہے، یعنی تم میں سے جو شخص اس توقع پر کفار و مشرکین سے دوستی رکھے اور ان کی طرف خفیہ پیغام بھیجے کہ وہ مشکل وقت میں اس کے کام آئیں گے یا اس کے اہل و عیال کا خیال رکھیں گے، تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک کر غلط راستے پر چل پڑا ہے، کیونکہ ان کافروں کے دلوں میں تمھارے لیے اس قدر بغض و عناد ہے کہ وہ تمھیں زندہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے، کسر صرف اتنی ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا اور تم ان کے قابو میں نہیں آ رہے۔ اگر کسی وقت ان کا بس چل جائے اور تم ان کے قابو میں آجاؤ تو وہ پہلے کی طرح تمھارے دشمن ہی ہوں گے اور اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ تمھاری طرف بڑھائیں گے، تم پر دست درازی اور زبان درازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، جیسا کہ فرمایا: «كَيْفَ وَ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً» [ التوبۃ: ۸ ] ”(مشرکین کے کسی عہد کا اعتبار) کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ اگر تم پر غالب آ جائیں تو تمھارے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد کا۔“ ➋ { وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ: ” لَوْ “} مصدریہ ہے: {”أَيْ وَدُّوْا كُفْرَكُمْ“} یعنی ان کی خواہش یہی ہوگی کہ تم کافر ہو جاؤ، اس کے بغیر وہ تم سے کسی طرح بھی راضی نہیں ہوں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (120،109) اور سورۂ نساء (۸۹)۔
قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد اُس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا، اور و ہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہاری قرابتیں، رشتہداریاں، اور اوﻻد تمہیں قیامت کے دن کام نہ آئیں گی، اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہرگز کام نہ آئیں گے تمہیں تمہارے رشتے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن، تمہیں ان سے الگ کردے گا اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے رشتہ دار اور تمہاری اولاد قیامت کے دن تمہارے کام نہ آئیں گے اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
قیامت کے دن ہرگز نہ تمھاری رشتہ داریاں تمھیں فائدہ دیں گی اور نہ تمھاری اولاد، وہ تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاطب رضی اللہ عنہ کا قصہ ٭٭
سیدنا حاطب بن ابوبلتہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس سورت کی شروع کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہوا کہ حاطب رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سے تھے بدر کی لڑائی میں بھی آپ نے مسلمانوں کے لشکر میں شرکت کی تھی ان کے بال بچے اور مال و دولت مکہ میں ہی تھا اور یہ خود قریش سے نہ تھے صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے اس وجہ سے مکہ میں انہیں امن حاصل تھا، اب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ شریف میں تھے یہاں تک کہ جب اہل مکہ نے عہد توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی کرنا چاہی تو آپ کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اچانک دبوچ لیں تاکہ خونریزی نہ ہونے پائے اور مکہ شریف پر قبضہ ہو جائے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ باری تعالیٰ ہماری تیاری کی خبریں ہمارے پہنچنے تک اہل مکہ کو نہ پہنچیں، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اس موقعہ پر ایک خط اہل مکہ کے نام لکھا اور ایک قریشیہ عورت کے ہاتھ اسے چلتا کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارادے اور مسلمانوں کی لشکر کشی کی خبر درج تھی، آپ کا ارادہ اس سے صرف یہ تھا کہ میرا کوئی احسان قریش پر رہ جائے جس کے باعث میرے بال بچے اور مال دولت محفوظ رہیں، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو چکی تھی ناممکن تھا کہ قریشیوں کو کسی ذریعہ سے بھی اس ارادے کا علم ہو جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پوشیدہ راز سے مطلع فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیچھے اپنے سوار بھیجے راستہ میں اسے روکا گیا اور خط اس سے حاصل کر لیا گیا، یہ مفصل واقعہ صحیح احادیث میں پوری طرح آ چکا ہے۔
مسند احمد میں ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اور زبیر رضی اللہ عنہ اور مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوا کر فرمایا تم یہاں سے فوراً کوچ کرو روضہ خاخ میں جب تم پہنچو گے تو تمہیں ایک سانڈنی سوار عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہے تم اسے قبضہ میں کر کے یہاں لے آؤ، ہم تینوں گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت تیز رفتاری سے روانہ ہو گئے، روضہ خاخ میں جب پہنچے تو فی الواقع ہمیں ایک سانڈنی سوار عورت دکھائی دی ہم نے اس سے کہا کہ جو خط تیرے پاس ہے وہ ہمارے حوالے کر، اس نے صاف انکار کر دیا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں، ہم نے کہا غلط کہتی ہے تیرے پاس یقیناً خط ہے اگر تو راضی خوشی نہ دے گی تو ہم جامہ تلاشی کر کے جبراً وہ خط تجھ سے چھینیں گے، اب تو وہ عورت سٹ پٹائی اور آخر اس نے اپنی چٹیا کھول کر اس میں سے وہ پرچہ نکال کر ہمارے حوالے کیا ہم اسی وقت وہاں سے واپس روانہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے پیش کر دیا، پڑھنے پر معلوم ہوا کہ حاطب نے اسے لکھا ہے اور یہاں کی خبر رسانی کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں سے کفار مکہ کو آگاہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: حاطب! یہ کیا حرکت ہے؟ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! جلدی نہ کیجئے، میری بھی سن لیجئے، میں قریشیوں میں ملا ہوا تھا خود قریشیوں میں سے نہ تھا، پر آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھ ہجرت کی جتنے اور مہاجرین ہیں ان سب کے قرابت دار مکہ میں موجود ہیں جو ان کے بال بچے وغیرہ مکہ میں رہ گئے ہیں وہ ان کی حمایت کرتے ہیں لیکن میرا کوئی رشتہ دار نہیں جو میرے بچوں کی حفاظت کرے اس لیے میں نے چاہا کہ قریشیوں کے ساتھ کوئی سلوک و احسان کروں جس سے میرے بچوں کی حفاظت وہ کریں اور جس طرح اوروں کے نسب کی وجہ سے ان کا تعلق ہے میرے احسان کی وجہ سے میرا تعلق ہو جائے۔ یا رسول اللہ! میں نے کوئی کفر نہیں کیا نہ، اپنے دین سے مرتد ہوا ہوں، نہ اسلام کے بعد کفر سے راضی ہوا ہوں، بس اس خط کی وجہ سے صرف اپنے بچوں کی حفاظت کا حیلہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم سے جو واقعہ حاطب بیان کرتے ہیں وہ بالکل حرف بہ حرف سچا ہے کہ اپنے نفع کی خاطر ایک غلطی کر بیٹھے ہیں نہ کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا یا کفار کی مدد کرنا ان کے پیش نظر ہو“، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اس موقعہ پر موجود تھے اور یہ واقعات آپ کے سامنے ہوئے آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمانے لگے یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم نہیں؟ کہ یہ بدری صحابی ہیں اور بدر والوں پر اللہ تعالیٰ نے جھانکا اور فرمایا جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا“، یہ روایت اور بھی بہت سی حدیث کی کتابوں میں ہے۔ [صحیح بخاری:4274]
صحیح بخاری شریف کتاب المغازی میں اتنا اور بھی ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری اور کتاب التفسیر میں ہے کہ عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی بارے میں آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّي وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ تُلقونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَقَد كَفَروا بِما جاءَكُم مِنَ الحَقِّ يُخرِجونَ الرَّسولَ وَإِيّاكُم أَن تُؤمِنوا بِاللَّهِ رَبِّكُم إِن كُنتُم خَرَجتُم جِهادًا في سَبيلي وَابتِغاءَ مَرضاتي تُسِرّونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَأَنا أَعلَمُ بِما أَخفَيتُم وَما أَعلَنتُم وَمَن يَفعَلهُ مِنكُم فَقَد ضَلَّ سَواءَ السَّبيلِ» [60-الممتحنة:1] ، اتری لیکن راوی کو شک ہے کہ آیت کے اترنے کا بیان سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا ہے یا حدیث میں ہے، امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ یہ آیت اسی میں اتری ہے؟ تو سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا یہ لوگوں کی بات میں ہے میں نے اسے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے حفظ کیا ہے اور ایک حرف بھی نہیں چھوڑا اور میرا خیال ہے کہ میرے سوا کسی اور نے اسے حفظ بھی نہیں رکھا۔ بخاری مسلم کی ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے نام کے بدلے سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہ کا نام ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ اس عورت کے پاس حاطب کا خط ہے، اس عورت کی سواری کو بٹھا کر اس کے انکار پر ہر چند ٹٹولا گیا لیکن کوئی پرچہ ہاتھ نہ لگا آخر جب ہم عاجز آ گئے اور کہیں سے پرچہ نہ ملا تو ہم نے اس عورت سے کہا کہ اس میں تو مطلق شک نہیں کہ تیرے پاس پرچہ ہے گو ہمیں نہیں ملتا لیکن تیرے پاس ہے ضرور، یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غلط ہو اب اگر تو نہیں دیتی تو ہم تیرے کپڑے اتار کر ٹٹولیں گے، جب اس نے دیکھ لیا کہ انہیں پختہ یقین ہے اور یہ لئے بغیر نہ ٹلیں گے تو اس نے اپنا سر کھول کر اپنے بالوں میں سے پرچہ نکال کر ہمیں دے دیا ہم اسے لے کر واپس خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا: اس نے اللہ، اس کے رسول کی اور مسلمانوں کی خیانت کی مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیجئیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا اور انہوں نے وہ جواب دیا جو اوپر گزر چکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے فرما دیا کہ انہیں کچھ نہ کہو اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی وہ فرمایا جو پہلے بیان ہوا کہ بدری صحابہ میں سے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت واجب کر دی ہے جسے سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور فرمانے لگے اللہ کو اور اس کے رسول کو ہی کامل علم ہے، [صحیح بخاری:6939] یہ حدیث ان الفاظ سے صحیح بخاری کتاب المغازی میں غزوہ بدر کے ذکر میں ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مکہ جانے کا ارادہ اپنے چند ہم راز صحابہ کبار رضی اللہ عنہم کے سامنے تو ظاہر کیا تھا جن میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ بھی تھے باقی عام طور پر مشہور تھا کہ خیبر جا رہے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب ہم خط کو سارے سامان میں ٹٹول چکے اور نہ ملا تو سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہ نے کہا شاید اس کے پاس کوئی پرچہ ہی نہیں اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ناممکن ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ بول سکتے ہیں، نہ ہم نے جھوٹ کہا، جب ہم نے اسے دھمکایا تو اس نے ہم سے کہا: تمہیں اللہ کا خوف نہیں؟ کیا تم مسلمان نہیں؟ ایک روایت میں ہے کہ اس نے پرچہ اپنے جسم میں سے نکالا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ بدر میں موجود تو ضرور تھے لیکن عہد شکنی کی اور دشمنوں میں ہماری خبر رسانی کی اور روایت میں ہے کہ یہ عورت قبیلہ مزینہ کی عورت تھی، بعض کہتے ہیں اس کا نام سارہ تھا، اولاد عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اسے کچھ دینا کیا تھا اور اس نے اپنے بالوں تلے کاغذ رکھ کر اوپر سے سرگوندھ لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھوڑ سواروں سے فرما دیا تھا کہ اس کے پاس حاطب کا دیا ہوا اس مضمون کا خط ہے، آسمان سے اس کی خبر اے اللہ کے رسول! کے پاس آئی تھی، بنو احمد کے حلیفہ میں یہ عورت پکڑی گئی تھی، اس عورت نے ان سے کہا تھا کہ تم منہ پھیر لو میں نکال دیتی ہوں انہوں نے منہ پھیر لیا پھر اس نے نکال کر حوالہ کیا، اس روایت میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کے جواب میں یہ بھی ہے کہ اللہ کی قسم میں اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں کوئی تغیر تبدل میرے ایمان میں نہیں ہوا، اور اسی بارے میں اس سورت کی آیتیں ابراہیم کے قصہ «قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ في إِبراهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَآءُ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَداوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبراهيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَنَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ رَبَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ» [60-الممتحنة:4] ، کے ختم تک اتریں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس عورت کو اس کی اجرت کے دس درہم سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے دیئے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خط کے حاصل کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور حجفہ میں یہ ملی تھی۔
مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانو! مشرکین اور کفار کو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومن بندوں سے لڑنے والے ہیں، جن کے دل تمہاری عداوت سے پر ہیں تمہیں ہرگز لائق نہیں کہ ان سے دوستی اور محبت میل ملاپ اور اپنایت رکھو تمہیں اس کے خلاف حکم دیا گیا ہے ارشاد ہے «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا لا تَتَّخِذُوا اليَهودَ وَالنَّصارىٰ أَولِياءَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِي القَومَ الظّالِمينَ» [5-المائدة:52] ، اے ایماندارو! یہود و نصاریٰ سے دوستی مت گانٹھو وہ آپس میں ہی ایک دوسروں کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی ان سے موالات و محبت کرے وہ انہی میں سے شمار ہو گا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس میں کس قدر ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ» ۱؎ [5-المائدہ:57] مسلمانو! ان اہل کتاب اور کفار سے دوستیاں نہ کرو جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھ رہے ہیں اگر تم میں ایمان ہے تو ذات باری سے ڈرو۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّـهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا» [4-النساء:144] مسلمانو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں نہ کرو کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا کھلا الزام ثابت کر لو۔ ایک اور جگہ فرمایا «لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكافِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ في شَيءٍ إِلّا أَن تَتَّقوا مِنهُم تُقاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ» [3-آل عمران:28] ’ مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنوں کے علاوہ کافروں سے دوستیاں نہ کریں جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں ہاں بطور دفع الوقتی اور بچاؤ کے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے اور اللہ کی طرف ہی تم کو لوٹ کر جانا ہے ‘، اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کا عذر قبول فرما لیا کہ اپنے مال و اولاد کے بچاؤ کی خاطر یہ کام ان سے ہو گیا تھا۔
مسند احمد میں ہے کہ { ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مثالیں بیان فرمائیں ایک اور تین اور پانچ اور سات اور نو اور گیارہ پھر ان میں سے یہ تفصیل صرف ایک ہی بیان کی باقی سب چھوڑ دیں، فرمایا: ”ایک ضعیف مسکین قوم تھی جس پر زور آور ظالم قوم چڑھائی کر کے آ گئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کمزوروں کی مدد کی اور انہیں اپنے دشمن پر غالب کر دیا، غالب آ کر ان میں رعونت سما گئی اور انہوں نے ان پر مظالم شروع کر دیئے جس پر اللہ تعالیٰ ان سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہو گیا“ }۔ [مسند احمد:407/5:ضعیف] پھر مسلمانوں کو ہوشیار کرتا ہے کہ تم ان دشمنان دین سے کیوں موّدت و محبت رکھتے ہو؟ حالانکہ یہ تم سے بدسلوکی کرنے میں کسی موقعہ پر کمی نہیں کرتے کیا یہ تازہ واقعہ بھی تمہارے ذہن سے ہٹ گیا کہ انہوں نے تمہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جبراً وطن سے نکال باہر کیا اور اس کی کوئی اور وجہ نہ تھی سوائے اس کے کہ تمہاری توحید اور فرمانبرداریِ رسول ان پر گراں گزرتی تھی۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [85-البروج:8] یعنی ’ مومنوں سے صرف اس بنا پر مخاصمت اور دشمنی ہے کہ وہ اللہ برتر بزرگ پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّـهُ» [22-الحج:40] ’ یہ لوگ محض اس وجہ سے ناحق جلا وطن کئے گئے کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر سچ مچ تم میری راہ کے جہاد کو نکلے ہو اور میری رضا مندی کے طالب ہو تو ہرگز ان کفار سے جو تمہارے اور میرے دشمن ہیں میرے دین کو اور تمہارے جان و مال کو نقصان پہنچا رہے ہیں دوستیاں نہ پیدا کرو، بھلا کس قدر غلطی ہے کہ تم ان سے پوشیدہ طور پر دوستانہ رکھو؟ کیا یہ پوشیدگی اللہ سے بھی پوشیدہ رہ سکتی ہے؟ جو ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے، دلوں کے بھید اور نفس کے وسوسے بھی جس کے سامنے کھلے ہوئے ہیں ‘۔
بس سن لو جو بھی ان کفار سے موالات و محبت رکھے وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا۔ تم نہیں دیکھ رہے؟ کہ ان کافروں کا اگر بس چلے، اگر انہیں کوئی موقعہ مل جائے تو نہ اپنے ہاتھ پاؤں سے تمہیں نقصان پہنچانے میں دریغ کریں، نہ برا کہنے سے اپنی زبانیں روکیں، جو ان کے امکان میں ہو گا وہ کر گزریں گے بلکہ تمام تر کوشش اس امر پر صرف کر دیں گے کہ تمہیں بھی اپنی طرح کافر بنا لیں، پس جب کہ ان کی اندرونی اور بیرونی دشمنی کا حال تمہیں بخوبی معلوم ہے، پھر کیا اندھیر ہے؟ کہ تم اپنے دشمنوں کو دوست سمجھ رہے ہو اور اپنی راہ میں خود کانٹے بو رہے ہو، غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کو کافروں پر اعتماد کرنے اور ان سے ایسے گہرے تعلقات رکھنے اور دلی میل رکھنے سے روکا جا رہا ہے اور وہ باتیں یاد دلائی جا رہی ہیں جو ان سے علیحدگی پر آمادہ کر دیں۔ تمہاری قرابتیں اور رشتہ داریاں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، اگر تم اللہ کو ناراض کر کے انہیں خوش کرو اور چاہو کہ تمہیں نفع ہو یا نقصان ہٹ جائے یہ بالکل خام خیالی ہے، نہ اللہ کی طرف کے نقصان کو کوئی ٹال سکے، نہ اس کے دیئے ہوئے نفع کو کوئی روک سکے، اپنے والوں سے ان کے کفر پر جس نے موافقت کی وہ برباد ہوا، گو رشتہ دار کیسا ہی ہو کچھ نفع نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں“، جب وہ جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ” «إِنَّ أَبِي وَأَبَاك فِي النَّار» سن میرا باپ اور تیرا باپ دونوں ہی جہنمی ہیں۔“ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں اور سنن ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:203]
3۔ 1 یعنی جس اولاد کے لئے تم کفار کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہے ہو، یہ تمہارے کچھ کام نہ آئے گی، پھر اس کی وجہ سے تم کافروں سے دوستی کرکے کیوں اللہ کو ناراض کرتے ہو۔ قیامت والے دن جو چیز کام آئے گی، وہ تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے، اس کا اہتمام کرو۔ 3۔ 2 دوسرے معنی ہیں تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ یعنی اہل اطاعت کو جنت میں اور اہل معصیت کو جہنم میں داخل کرے گا، بعض کہتے ہیں آپس میں جدائی کا مطلب کہ ایک دوسرے سے بھا گیں گے۔
(آیت 3) ➊ { لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ: ”أَرْحَامٌ“ ”رَحْمٌ“} کی جمع ہے، رشتہ داری۔ مراد {”ذُوُوا الْأَرْحَامِ“} ہے، رشتہ دار۔ یعنی وہ رشتہ دار اور اولاد جن کی خاطر تم اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہو قیامت کے دن وہ تمھیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں دیں گے کہ تمھیں اس گناہ کی سزا سے یہ کہہ کر بچا لیں کہ انھوں نے ہماری خاطر یہ غلطی کی تھی۔ ➋ {يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ قیامت کے دن تمھارے درمیان اور تمھارے ارحام و اولاد کے درمیان جدائی ڈال دے گا، کسی کو کسی کا ہوش نہ ہوگا، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ (34) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِيْهِ (35) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِيْهِ (36) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ» [ عبس: ۳۴ تا ۳۷ ] ”جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ(سے)۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا بنا دے گی۔“ پچھلی آیت میں ان لوگوں کا حال بتایا جن سے دوستی کی جا رہی ہے اور اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جن کی خاطر کفار سے دوستی کی جا رہی ہے۔ ➌ {وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ:} اس میں فرماں برداروں کے لیے وعدہ اور نافرمانوں کے لیے وعید ہے۔
تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا "ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ" مگر ابراہیمؑ کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اِس سے مستثنیٰ ہے) کہ "میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کر لینا میرے بس میں نہیں ہے" (اور ابراہیمؑ و اصحاب ابراہیمؑ کی دعا یہ تھی کہ) "اے ہمارے رب، تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ﻇاہر ہوگئی لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا بیشک ہم بیزار ہیں تم سے اور ان سے جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہارے منکر ہوئے اور ہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ظاہر ہوگئی ہمیشہ کے لیے جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں ضرور تیری مغفرت چاہوں گا اور میں اللہ کے سامنے تیر ے کسی نفع کا مالک نہیں اے ہمارے رب ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً تم لوگوں کیلئے (جنابِ) ابراہیم(ع) اوران کے ساتھیوں میں ایک عمدہ نمونہ ہے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے بھی جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو ہم تمہارے (اور تمہارے دین کے) منکر ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کیلئے عداوت اور بغض پیدا ہوگیا یہاں تک کہ تم اللہ واحد (لا شریک لہٗ) پر ایمان لاؤ۔ ہاں البتہ ابراہیم (ع) نے اپنے (منہ بولے) باپ (اور اصل چچا) سے صرف یہ کہا تھا کہ میں تمہارے لئے مغفرت طلب کروں گا مگر میں اللہ کے سامنے تمہارے لئے کسی نفع کا مالک و مختار نہیں ہوں اے ہمارے پروردگار! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہے اور تیری ہی طرف لَوٹنا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا تمھارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمھیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اﷲپرایمان لاؤ، مگر ابراہیم کااپنے باپ سے کہنا(تمھارے لیے نمونہ نہیں)کہ بے شک میں تیرے لیے بخشش کی دعا ضرور کروں گا اور میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز (کے دلوانی) کا مالک نہیں ہوں،اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عصبیت دین ایمان جز لاینفک ہیں ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کفار سے موالات اور دوستی نہ کرنے کی ہدایت فرما کر ان کے سامنے اپنے خلیل اور ان کے اصحاب کا نمونہ پیش کر رہا ہے کہ انہوں نے صاف طور پر اپنے رشتہ کنبے اور قوم کے لوگوں سے برملا فرما دیا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم پوجتے ہو ان سے بیزار، بری الذمہ اور الگ تھلگ ہیں، ہم تمہارے دین اور طریقے سے متنفر ہیں، جب تک تم اسی طریقے اور اسی مذہب پر ہو، تم ہمیں اپنا دشمن سمجھو، ناممکن ہے کہ برادری کی وجہ سے ہم تمہارے اس کفر کے باوجود تم سے بھائی چارہ اور دوستانہ تعلقات رکھیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تم اللہ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لے آؤ اس کی توحید کو مان لو اور اسی ایک کی عبادت شروع کر دو اور جن جن کو تم نے اللہ کا شریک اور ساجھی ٹھہرا رکھا ہے اور جن جن کی پوجا پاٹ میں مشغول ہو ان سب کو ترک کر دو اپنی اس روش کفر اور طریق شرک سے ہٹ جاؤ، تم پھر بیشک ہمارے بھائی ہو، ہمارے عزیز ہو، ورنہ ہم میں تم میں کوئی اتحاد و اتفاق نہیں، ہم تم سے اور تم ہم سے علیحدہ ہو، ہاں یہ یاد رہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے جو استغفار کا وعدہ کیا تھا اور پھر اسے پورا کیا اس میں ان کی اقتداء نہیں، اس لیے کہ یہ استغفار اس وقت تک رہا جس وقت تک کہ اپنے والد کا دشمن اللہ ہونا ان پر وضاحت کے ساتھ ظاہر نہ ہوا تھا جب انہیں یقینی طور پر اس کی اللہ سے دشمنی کھل گئی تو اس سے صاف بیزاری ظاہر کر دی، بعض مومن اپنے مشرک ماں باپ کے لیے دعا و استغفار کرتے تھے اور سند میں ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کے لیے دعا مانگنا پیش کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فرمان «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّـهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبہ:113-114] پوری دو آیتوں تک نازل فرمایا اور یہاں بھی اسوہ ابراہیمی میں سے اس کا استثناء کر لیا کہ اس بات میں ان کی پیروی تمہارے لیے ممنوع ہے اور ابراہیم علیہ السلام کے اس استغفار کی تفصیل بھی کر دی اور اس کا خاص سبب اور خاص وقت بھی بیان فرما دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، مقاتل بن حیان، ضحاک رحمہا اللہ علیہم وغیرہ نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ قوم سے براءت کر کے اب اللہ کی بارگاہ میں آتے ہیں اور جناب باری میں عاجزی اور انکساری سے عرض کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ تمام کاموں میں ہمارا بھروسہ اور اعتماد تیری ہی پاک ذات پر ہے، ہم اپنے تمام کام تجھے سونپتے ہیں، تیری طرف رجوع و رغبت کرتے ہیں، دار آخرت میں بھی ہمیں تیری ہی جانب لوٹنا ہے۔
4۔ 1 کفار سے عدم اتحاد کے مسئلے کی وضاحت کے لئے حضرت ابراہیم ؑ کی مثال دی جا رہی ہے کہ ایسا نمونہ جس کی پیروی کی جائے 4۔ 2 یعنی شرک کی وجہ سے ہمارا اور تمہارا کوئی تعلق نہیں، اللہ کے پرستاروں کا بھلا غیر اللہ کے پجاریوں سے کیا تعلق۔ 4۔ 3 یعنی علیحدگی اور بیزاری اس وقت تک رہے گی جب تک کفر و شرک چھوڑ کر توحید کو نہیں اپنالو گے۔ 4۔ 4 مطلب یہ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی ایک قابل تقلید نمونہ ہے، البتہ ان کے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے، کیونکہ ان کا یہ فعل اس وقت ہے جب ان کو اپنے باپ کی بابت علم نہیں تھا، چناچہ جب ان پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی اظہار نجات کردیا، جیسا کہ (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ 114۔) 9۔ التوبہ:114) میں ہے۔ 4۔ 5 توکل کا مطلب ہے امکانی حد تک ظاہری اسباب و وسائل اختیار کرنے کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کردیا جائے یہ ہے اس لیے توکل کا یہ مفہوم بھی غلط ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اونٹ کو باہر کھڑا کرکے اندر آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو کہا میں اونٹ اللہ کے سپرد کر آیا ہوں آپ نے فرمایا یہ توکل نہیں ہے۔ اعقل وتوکل۔ پہلے اسے کسی چیز سے باندھ پھر اللہ پر بھروسہ کر۔ ترمذی۔ انابت کا مطلب ہے اللہ کی طرف رجوغ کرنا
(آیت 4) ➊ {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗ: ” اُسْوَةٌ “} اور {”قُدْوَةٌ“} کے معنی ہیں جس کی پیروی کی جائے، نمونہ (اچھا ہو یا برا)، اس لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو اسوۂ حسنہ فرمایا۔ یعنی اللہ کے دشمن کفار و مشرکین کے ساتھ دوستی کے سلسلے میں تمھارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں پہلے سے ایک اچھا نمونہ موجود تھا جو تمھارے پیش نظر رہنا چاہیے تھا۔ {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗ “} سے مراد ان پر ایمان لانے والے ساتھی ہیں۔ ➋ { اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ …:” بُرَءٰٓؤُا “ ” بَرِيْءٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”كَرِيْمٌ“} کی جمع {”كُرَمَاءُ“} ہے۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھی تمھارے لیے اس بات میں نمونہ ہیں کہ انھوں نے اپنی مشرک قوم سے، ان کے شرک سے اور ان کے معبودوں سے بری اور لاتعلق ہونے کا اعلان کر دیا۔ {” وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ “} میں {”مَا “} مصدریہ بھی ہو سکتا ہے اور موصولہ بھی۔ ➌ {كَفَرْنَا بِكُمْ:} ہم تمھیں نہیں مانتے، نہ تمھارے دین کو، نہ تمھارے خداؤں کو اور نہ ان کی عبادت کو۔ ➍ { وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا …:} یعنی ہمارے اللہ پر ایمان لانے اور تمھارے کفر پر قائم رہنے کے بعد ہمارے اور تمھارے درمیان کھلی دشمنی اور دلی بغض ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا ہے، یہاں تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان لے آؤ۔ ➎ { اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ:} یعنی ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے، سوائے اس بات کے جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہی کہ میں تمھارے لیے بخشش کی دعا ضرور کروں گا۔ اس بات میں وہ تمھارے لیے نمونہ نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں ان کی پیروی جائز ہے۔ مشرکین کے لیے استغفار کی ممانعت اور ابراہیم علیہ السلام کے استغفار کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیات (114،113) کی تفسیر۔ ➏ { وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ:} یعنی میں تمھارے لیے استغفار ضرور کروں گا، مگر میں تمھارے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کے دلوانے کا مالک نہیں، وہ چاہے گا تو تمھیں بخش دے گا چاہے تو عذاب دے گا۔ معلوم ہوا کہ یہ اختیار پیغمبروں کے پاس بھی نہیں کہ وہ جسے چاہیں بخشوا لیں، خواہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے والد ہوں یا نوح علیہ السلام کا بیٹا یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب ہوں۔ ➐ { رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا:} یہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا کلام ہے جو {” اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ …“} سے پہلے کلام کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ان چیزوں میں شامل ہے جن میں ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی پیروی کا حکم ہے۔ گویا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے یہ کہا: «اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ ...... حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ» اور اپنے رب سے یہ کہا: «رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا ...... اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» یہ دونوں باتیں کہنے میں وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں اور ہمیں ان کی پیروی کا حکم ہے۔ ➑ {وَ اِلَيْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ: ” اَنَبْنَا “ ”أَنَابَ يُنِيْبُ إِنَابَةً “} (افعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم کا صیغہ ہے۔ {” الْمَصِيْرُ “ ” صَارَ يَصِيْرُ “} سے مصدر میمی ہے۔ {” عَلَيْكَ “} اور {” اِلَيْكَ “} پہلے آنے سے قصر کا مفہوم حاصل ہو رہا ہے کہ اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا، کسی اور پر نہیں اور تیری ہی طرف رجوع کیا، کسی اور کی طرف نہیں، (تو نے ہی سب کو پیدا کیا) اور (آخر کار) تیری ہی طرف واپس آنا ہے۔
اے ہمارے رب، ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا دے اور اے ہمارے رب، ہمارے قصوروں سے درگزر فرما، بے شک تو ہی زبردست اور دانا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے، بیشک تو ہی غالب، حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ہمارے رب ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ہمارے پروردگار! ہمیں کافروں کیلئے فتنہ نہ بنا اور ہمیں بخش دے اے ہمارے پروردگار! یقیناً تو غالب (اور) بڑی حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب !ہمیں ان لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا جنھوں نے کفر کیا اور ہمیں بخش دے اے ہمارے رب !یقینا تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کی دعا ٭٭
پھر کہتے ہیں الٰہی تو ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا، یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ ہم پر غالب آ کر ہمیں مصیبت میں مبتلا کر دیں، اسی طرح یہ بھی نہ ہو کہ تیری طرف سے ہم پر کوئی عتاب و عذاب نازل ہو اور وہ ان کے اور بہکنے کا سبب بنے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو اللہ انہیں عذاب کیوں کرتا؟ اگر یہ کسی میدان میں جیت گئے تو بھی ان کے لیے یہ فتنہ کا سبب ہو گا وہ سمجھیں گے کہ ہم اس لیے غالب آئے کہ ہم ہی حق پر ہیں، اسی طرح اگر یہ ہم پر غالب آ گئے تو ایسا نہ ہو کہ ہمیں تکلیفیں پہنچا پہنچا کر تیرے دین سے برگشتہ کر دیں۔ پھر دعا مانگتے ہیں کہ الٰہی ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے، ہماری پردہ پوشی کر اور ہمیں معاف فرما، تو عزیز ہے تیری جناب میں پناہ لینے والا نامراد نہیں پھرتا، تیرے در پر دستک دینے والا خالی ہاتھ نہیں جاتا، تو اپنی شریعت کے تقرر میں، اپنے اقوال و افعال میں اور قضاء و قدر کے مقدر کرنے میں حکمتوں والا ہے، تیرا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ پھر بطور تاکید کے وہی پہلی بات دہرائی جاتی ہے کہ ان میں تمہارے لیے نیک نمونہ ہے جو بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے آنے کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہو اسے ان کی اقتداء میں آگے بڑھ کر قدم رکھنا چاہیئے اور جو احکام اللہ سے روگردانی کرے وہ جان لے کہ اللہ اس سے بےپرواہ ہے، وہ لائق حمد و ثناء ہے، مخلوق اس خالق کی تعریف میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ ہے «إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-ابراھیم:8] ”اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ کفر پر اور اللہ کے نہ ماننے پر اتر آئیں تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ سب سے غنی سب سے بے نیاز اور سب سے بےپرواہ ہے اور وہ تعریف کیا گیا ہے“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غنی اسے کہا جاتا ہے جو اپنی غنا میں کامل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر طرح سے بے نیاز اور بالکل بےپرواہ ہے کسی اور کی ذات ایسی نہیں، اس کا کوئی ہمسر نہیں اس کے مثل کوئی اور نہیں، وہ پاک ہے، اکیلا ہے، سب پر حاکم، سب پر غالب، سب کا بادشاہ ہے، حمید ہے یعنی مخلوق اسے سراہ رہی ہے، اپنے جمیع اقوال میں تمام افعال میں وہ ستائشوں اور تعریفوں والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سوا کوئی پالنے والا نہیں، رب وہی ہے معبود وہی ہے۔
5۔ 1 یعنی کافروں کو ہم پر غلبہ وتسلط عطا نہ فرما اس طرح وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور یوں ہم ان کے لیے فتنے کا باعث بن جائیں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے ہاتھوں یا اپنی طرف سے ہمیں کسی سزا سے دو چار نہ کرنا اس طرح بھی ہمارا وجود ان کے لیے فتنہ بن جائے گا وہ کہیں گے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ان کو یہ تکلیف کیوں پہنچتی؟
(آیت 5) ➊ {رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۸۵) کی تفسیر۔ ➋ { وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا …:} پہلی تمام دعائیں حرفِ عطف کے بغیر ہیں اور یہ واؤ عطف کے ساتھ ہے، کیونکہ پہلی تمام دعاؤں میں دنیوی زندگی میں اپنے دین کی اصلاح اور اس پر استقامت مانگی گئی ہے اور اس میں اخروی زندگی کی اصلاح کی درخواست ہے۔ دونوں کے درمیان مغایرت کی وجہ سے درمیان میں واؤ عطف لائی گئی ہے۔ (ابن عاشور)
اِنہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر اُس شخص کے لیے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو اِس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تمہارے لیے ان میں اچھا نمونہ (اور عمده پیروی ہے خاص کر) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو، اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور سزا وار حمد وﺛنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارے لیے ان میں اچھی پیروی تھی اسے جو اللہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو اور جو منہ پھیرے تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک تمہارے لئے ان لوگوں کے اندر عمدہ نمونہ موجود ہے جو اللہ اور روزِ آخرت کا امیدوار ہے (اعتقاد رکھتا ہے) اور جو رُوگردانی کرے تو اللہ بےنیاز ہے اور حمد کا سزاوار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلا شبہ یقینا تمھارے لیے ان میں اچھا نمونہ تھا، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور جو کوئی منہ پھیرے تو یقینا اللہ ہی وہ ذات ہے جو بے پروا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کی دعا ٭٭
پھر کہتے ہیں الٰہی تو ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا، یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ ہم پر غالب آ کر ہمیں مصیبت میں مبتلا کر دیں، اسی طرح یہ بھی نہ ہو کہ تیری طرف سے ہم پر کوئی عتاب و عذاب نازل ہو اور وہ ان کے اور بہکنے کا سبب بنے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو اللہ انہیں عذاب کیوں کرتا؟ اگر یہ کسی میدان میں جیت گئے تو بھی ان کے لیے یہ فتنہ کا سبب ہو گا وہ سمجھیں گے کہ ہم اس لیے غالب آئے کہ ہم ہی حق پر ہیں، اسی طرح اگر یہ ہم پر غالب آ گئے تو ایسا نہ ہو کہ ہمیں تکلیفیں پہنچا پہنچا کر تیرے دین سے برگشتہ کر دیں۔ پھر دعا مانگتے ہیں کہ الٰہی ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے، ہماری پردہ پوشی کر اور ہمیں معاف فرما، تو عزیز ہے تیری جناب میں پناہ لینے والا نامراد نہیں پھرتا، تیرے در پر دستک دینے والا خالی ہاتھ نہیں جاتا، تو اپنی شریعت کے تقرر میں، اپنے اقوال و افعال میں اور قضاء و قدر کے مقدر کرنے میں حکمتوں والا ہے، تیرا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ پھر بطور تاکید کے وہی پہلی بات دہرائی جاتی ہے کہ ان میں تمہارے لیے نیک نمونہ ہے جو بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے آنے کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہو اسے ان کی اقتداء میں آگے بڑھ کر قدم رکھنا چاہیئے اور جو احکام اللہ سے روگردانی کرے وہ جان لے کہ اللہ اس سے بےپرواہ ہے، وہ لائق حمد و ثناء ہے، مخلوق اس خالق کی تعریف میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ ہے «إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-ابراھیم:8] ”اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ کفر پر اور اللہ کے نہ ماننے پر اتر آئیں تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ سب سے غنی سب سے بے نیاز اور سب سے بےپرواہ ہے اور وہ تعریف کیا گیا ہے“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غنی اسے کہا جاتا ہے جو اپنی غنا میں کامل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر طرح سے بے نیاز اور بالکل بےپرواہ ہے کسی اور کی ذات ایسی نہیں، اس کا کوئی ہمسر نہیں اس کے مثل کوئی اور نہیں، وہ پاک ہے، اکیلا ہے، سب پر حاکم، سب پر غالب، سب کا بادشاہ ہے، حمید ہے یعنی مخلوق اسے سراہ رہی ہے، اپنے جمیع اقوال میں تمام افعال میں وہ ستائشوں اور تعریفوں والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سوا کوئی پالنے والا نہیں، رب وہی ہے معبود وہی ہے۔
6۔ 1 یعنی ابراہیم ؑ کے اور ان کے ساتھی اہل ایمان میں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔ 6۔ 2 کیونکہ ایسے ہی لوگ اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں، یہی لوگ حالات و واقعات سے عبرت پکڑتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ 6 ۔ 3 یعنی حضرت ابراہیم ؑ کے اسوے کو اپنانے سے گریز کرے۔
(آیت 6) ➊ { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ …:} اس سے پہلے {” قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ “} میں یہی بات ذکر ہوئی ہے، لامِ قسم کے ساتھ اسے دوبارہ لانے سے ایک تو اس حکم کی تاکید مقصود ہے اور ایک اس کے بعد {” لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ “} لا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھی ان لوگوں کے لیے نمونہ نہیں جن کی ساری جد و جہد دنیا کے لیے ہے، بلکہ وہ صرف ان لوگوں کے لیے نمونہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں۔ ➋ { لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (۲۱) کی تفسیر۔ ➌ { وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} یعنی جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت کی امید سے منہ موڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھی اس کی کوئی پروا نہیں، کیونکہ وہ تو غنی و حمید ہے اور غنی و حمید بھی ایسا کہ اس کے سوا کوئی غنی و حمید ہے ہی نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ فاطر (۱۵)، حج (۶۴) اور حدید (۲۴) کی تفسیر۔
بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور اُن لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا عجب کہ عنقریب ہی اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے۔ اللہ کو سب قدرتیں ہیں اور اللہ (بڑا) غفور رحیم ہے
احمد رضا خان بریلوی
قریب ہے کہ اللہ تم میں اور ان میں جو ان میں سے تمہارے دشمن ہیں دوستی کردے اور اللہ قادر ہے اور بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بہت ممکن ہے کہ اللہ تمہارے درمیان اور ان لوگون کے درمیان جن سے (آج) تمہاری دشمنی ہے کبھی محبت پیدا کر دے اور اللہ بڑی قدرت والا ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
قریب ہے کہ اللہ تمھارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم ان میں سے دشمنی رکھتے ہو، دوستی پیدا کر دے اور اللہ بہت قدرت رکھنے والاہے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار سے محبت کی ممانعت کی دوبارہ تاکید ٭٭
کافروں سے محبت رکھنے کی ممانعت اور ان کی بغض و عداوت کے بیان کے بعد اب ارشاد ہوتا ہے کہ بسا اوقات ممکن ہے کہ ابھی ابھی اللہ تم میں اور ان میں میل ملاپ کرا دے، بغض، نفرت اور فرقت کے بعد محبت موّدت اور الفت پیدا کر دے، کون سی چیز ہے جس پر اللہ قادر نہ ہو؟ وہ متبائن اور مختلف چیزوں کو جمع کر سکتا ہے، عداوت و قساوت کے بعد دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دینا اس کے ہاتھ ہے۔ جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا» [3-آل عمران:103] الخ ’ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہو گئے جیسے ماں جائے بھائی ہوں تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ ‘ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم متفرق تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کر دیا۔“ } [صحیح بخاری:4330]
قرآن کریم میں ہے «هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [8-الأنفال:63] ’ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد سے مومنوں کو ساتھ کر کے، اے نبی! تیری مدد کی اور ایمان داروں میں آپس میں وہ محبت اور یکجہتی پیدا کر دی کہ اگر روئے زمین کی دولت خرچ کرتے اور یگانگت پیدا کرنا چاہتے تو وہ نہ کر سکتے یہ الفت منجانب اللہ تھی جو عزیز و حکیم ہے ‘۔ { ایک حدیث میں ہے دوستوں کی دوستی کے وقت بھی اس بات کو پیش نظر رکھو کہ کیا عجب اس سے کسی وقت دشمنی ہو جائے اور دشمنوں کی دشمنی میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو کیا خبر کب دوستی ہو جائے۔ } [سنن ترمذي:1997،قال الشيخ الألباني:صحیح] عرب شاعر کہتا ہے «وَقَدْ يَجْمَع اللَّه الشَّتِيتَيْنِ بَعْد مَا» «يَظُنَّانِ كُلّ الظَّنّ أَنْ لَا تَلَاقِيَا» یعنی ایسے دو دشمنوں میں بھی جو ایک سے ایک جدا ہوں اور اس طرح کہ دل میں گرہ دے لی ہو کہ ابد الآباد تک اب کبھی نہ ملیں گے اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کر دیتا ہے اور اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ گویا کبھی دو نہ تھے، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، کافر جب توبہ کریں تو اللہ قبول فرما لے گا جب وہ اس کی طرف جھکیں وہ انہیں اپنے سائے میں لے لے گا، کوئی سا گناہ ہو اور کوئی سا گنہگار ہو مالک کی طرف جھکا ادھر اس کی رحمت کی آغوش کھلی۔
مقاتل بن حیان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کی صاحبزادی صاحبہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا تھا اور یہی مناکحت حجت کا سبب بن گئی، لیکن یہ قول کچھ جی کو نہیں لگتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نکاح فتح مکہ سے بہت پہلے ہوا تھا اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا اسلام بالاتفاق فتح مکہ کی رات کا ہے، بلکہ اس سے بہت اچھی توجیہ تو وہ ہے جو ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کو کسی باغ کے پھلوں کا عامل بنا رکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد یہ آ رہے تھے کہ راستے میں ذوالحمار مرتد مل گیا، آپ نے اس سے جنگ کی اور باقاعدہ لڑے، پس مرتدین سے پہلے پہل لڑائی لڑنے والے مجاہد فی الدین آپ رضی اللہ عنہ ہیں، ابن شہاب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انہی کے بارے میں یہ آیت «عَسَى اللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً وَاللَّهُ قَدِيرٌ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [الممتحنہ:7] ، اتری ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میری تین درخواستیں ہیں اگر اجازت ہو تو عرض کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو“ اس نے کہا، اول تو یہ کہ مجھے اجازت دیجئیے کہ جس طرح میں کفر کے زمانے میں مسلمانوں سے مسلسل جنگ کرتا رہا اب اسلام کے زمانہ میں کافروں سے برابر لڑائی جاری رکھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منظور فرمایا، پھر کہا: میرے لڑکے معاویہ کو اپنا منشی بنا لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی منظور فرمایا [ اس پر جو کلام ہے وہ پہلے گزر چکا ہے ] اور میری بہترین عرب بچی ام حبیبہ کو آپ اپنی زوجیت میں قبول فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی منظور فرما لیا۔ } [صحیح مسلم:2501] [ اس پر بھی کلام پہلے گزر چکا ہے ] ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جن کفار نے تم سے مذہبی لڑائی نہیں کی، نہ تمہیں جلا وطن کیا جیسے عورتیں اور کمزور لوگ وغیرہ ان کے ساتھ سلوک و احسان اور عدل و انصاف کرنے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ایسے باانصاف لوگوں سے محبت رکھتا ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مشرک ماں آئیں یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح نامہ ہو چکا تھا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھتی ہیں کہ میری ماں آئی ہوئی ہیں اور اب تک وہ اس دین سے الگ ہیں کیا مجھے جائز ہے کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں،جاؤ ان سے صلہ رحمی کرو۔“ [صحیح بخاری:2620]
مسند کی اس روایت میں ہے کہ ان کا نام قتیلہ تھا، یہ مکہ سے گوہ، پنیر اور گھی بطور تحفہ لے کر آئی تھیں، لیکن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنی مشرکہ ماں کو نہ تو اپنے گھر میں آنے دیا، نہ یہ تحفہ ہدیہ قبول کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت پر ہدیہ بھی لیا اور اپنے ہاں ٹھہرایا بھی، بزار کی حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ام رومان تھا اور وہ اسلام لا چکی تھیں اور ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائی تھیں، ہاں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی والدہ ام رومان نہ تھیں، چنانچہ ان کا نام قتیلہ اوپر کی حدیث میں مذکور ہے۔ [مسندبزار2/365ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«مُقْسِطِينَ» کی تفسیر سورۃ الحجرات میں گزر چکی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، حدیث میں ہے «مُقْسِطِينَ» وہ لوگ ہیں جو عدل کے ساتھ حکم کرتے ہیں گو اہل و عیال کا معاملہ ہو یا زیر دستوں کا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ [صحیح مسلم:1827] پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ممانعت تو ان لوگوں کی دوستی سے ہے جو تمہاری عداوت سے تمہارے مقابل نکل کھڑے ہوئے، تم سے صرف تمہارے مذہب کی وجہ سے لڑے جھگڑے، تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا، تمہارے دشمنوں کی مدد کی۔ پھر مشرکین سے اتحاد و اتفاق، دوستی، یکجہتی رکھنے والے کو دھمکاتا ہے اور اس کا گناہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے والے ظالم گناہ گار ہیں اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [5-المائدہ:51] یہودیوں نصرانیوں سے دوستی کرنے والا ہمارے نزدیک انہی جیسا ہے۔
7۔ 1 یعنی ان کو مسلمان کرکے تمہارا بھائی اور ساتھی بنا دے، جس سے تمہارے مابین عداوت، دوستی اور محبت میں تبدیل ہوجائے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، فتح مکہ کے بعد لوگ فوج در فوج مسلمان ہونا شروع ہوگئے اور ان کے مسلمان ہوتے ہی نفرتیں، محبت میں تبدیل ہوگئیں، جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے، وہ دست وبازو بن گئے۔
(آیت 7) ➊ {عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَ الَّذِيْنَ عَادَيْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً:} اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے مشرک رشتہ داروں سے قطع تعلق کا جو حکم دیا اس کے مطابق اپنے عزیزوں سے ناتا توڑنا اگرچہ نہایت مشکل کام تھا مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور کسی قرابت کی پروا نہیں کی، اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کو دیکھ کر اس آیت کے ساتھ ان کی دلجوئی فرمائی اور انھیں بشارت دی کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن کے ساتھ دین کی وجہ سے تمھاری دشمنی ہے دوستی پیدا کر دے، تمھارے یہ عزیز مسلمان ہو جائیں اور دشمنی پھر محبت میں بدل جائے۔ ➋ { وَ اللّٰهُ قَدِيْرٌ:} بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو مکہ سے نکالا، مدینہ میں بھی چین نہ لینے دیا، بدر و احد، خندق اور دوسرے معرکے برپا کیے وہ دوبارہ دوست بن جائیں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے لیے دلوں کو پھیر دینا کچھ مشکل نہیں۔ چنانچہ ان آیات کے نزول کے بعد تھوڑی مدت ہی گزری تھی کہ مکہ فتح ہو گیا، قریش اور دوسرے قبائل فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور سوائے ان کفار کے جو قتل ہوگئے تھے، آخر کار سب مسلمان ہو گئے، حتیٰ کہ جزیرۂ عرب میں کوئی مشرک باقی نہ رہا۔ ابو سفیان اور دوسرے قریشی سردار جو مسلمانوں کے خلاف لڑتے آئے تھے، اب اسلام کی سربلندی کے لیے سربکف ہو کر لڑنے لگے۔ ➌ {وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی مشرکین نے اب تک اہلِ ایمان سے جو عداوت رکھی اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت و رحمت کی وجہ سے اس سے درگزر فرما کر انھیں ایمان لانے اور مسلمانوں کے دوست بن جانے کی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔
اللہ تمیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو، بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگون نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے ساتھ انصاف کرو بےشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار سے محبت کی ممانعت کی دوبارہ تاکید ٭٭
کافروں سے محبت رکھنے کی ممانعت اور ان کی بغض و عداوت کے بیان کے بعد اب ارشاد ہوتا ہے کہ بسا اوقات ممکن ہے کہ ابھی ابھی اللہ تم میں اور ان میں میل ملاپ کرا دے، بغض، نفرت اور فرقت کے بعد محبت موّدت اور الفت پیدا کر دے، کون سی چیز ہے جس پر اللہ قادر نہ ہو؟ وہ متبائن اور مختلف چیزوں کو جمع کر سکتا ہے، عداوت و قساوت کے بعد دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دینا اس کے ہاتھ ہے۔ جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا» [3-آل عمران:103] الخ ’ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہو گئے جیسے ماں جائے بھائی ہوں تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ ‘ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم متفرق تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کر دیا۔“ } [صحیح بخاری:4330]
قرآن کریم میں ہے «هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [8-الأنفال:63] ’ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد سے مومنوں کو ساتھ کر کے، اے نبی! تیری مدد کی اور ایمان داروں میں آپس میں وہ محبت اور یکجہتی پیدا کر دی کہ اگر روئے زمین کی دولت خرچ کرتے اور یگانگت پیدا کرنا چاہتے تو وہ نہ کر سکتے یہ الفت منجانب اللہ تھی جو عزیز و حکیم ہے ‘۔ { ایک حدیث میں ہے دوستوں کی دوستی کے وقت بھی اس بات کو پیش نظر رکھو کہ کیا عجب اس سے کسی وقت دشمنی ہو جائے اور دشمنوں کی دشمنی میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو کیا خبر کب دوستی ہو جائے۔ } [سنن ترمذي:1997،قال الشيخ الألباني:صحیح] عرب شاعر کہتا ہے «وَقَدْ يَجْمَع اللَّه الشَّتِيتَيْنِ بَعْد مَا» «يَظُنَّانِ كُلّ الظَّنّ أَنْ لَا تَلَاقِيَا» یعنی ایسے دو دشمنوں میں بھی جو ایک سے ایک جدا ہوں اور اس طرح کہ دل میں گرہ دے لی ہو کہ ابد الآباد تک اب کبھی نہ ملیں گے اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کر دیتا ہے اور اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ گویا کبھی دو نہ تھے، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، کافر جب توبہ کریں تو اللہ قبول فرما لے گا جب وہ اس کی طرف جھکیں وہ انہیں اپنے سائے میں لے لے گا، کوئی سا گناہ ہو اور کوئی سا گنہگار ہو مالک کی طرف جھکا ادھر اس کی رحمت کی آغوش کھلی۔
مقاتل بن حیان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کی صاحبزادی صاحبہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا تھا اور یہی مناکحت حجت کا سبب بن گئی، لیکن یہ قول کچھ جی کو نہیں لگتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نکاح فتح مکہ سے بہت پہلے ہوا تھا اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا اسلام بالاتفاق فتح مکہ کی رات کا ہے، بلکہ اس سے بہت اچھی توجیہ تو وہ ہے جو ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کو کسی باغ کے پھلوں کا عامل بنا رکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد یہ آ رہے تھے کہ راستے میں ذوالحمار مرتد مل گیا، آپ نے اس سے جنگ کی اور باقاعدہ لڑے، پس مرتدین سے پہلے پہل لڑائی لڑنے والے مجاہد فی الدین آپ رضی اللہ عنہ ہیں، ابن شہاب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انہی کے بارے میں یہ آیت «عَسَى اللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً وَاللَّهُ قَدِيرٌ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [الممتحنہ:7] ، اتری ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میری تین درخواستیں ہیں اگر اجازت ہو تو عرض کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو“ اس نے کہا، اول تو یہ کہ مجھے اجازت دیجئیے کہ جس طرح میں کفر کے زمانے میں مسلمانوں سے مسلسل جنگ کرتا رہا اب اسلام کے زمانہ میں کافروں سے برابر لڑائی جاری رکھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منظور فرمایا، پھر کہا: میرے لڑکے معاویہ کو اپنا منشی بنا لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی منظور فرمایا [ اس پر جو کلام ہے وہ پہلے گزر چکا ہے ] اور میری بہترین عرب بچی ام حبیبہ کو آپ اپنی زوجیت میں قبول فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی منظور فرما لیا۔ } [صحیح مسلم:2501] [ اس پر بھی کلام پہلے گزر چکا ہے ] ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جن کفار نے تم سے مذہبی لڑائی نہیں کی، نہ تمہیں جلا وطن کیا جیسے عورتیں اور کمزور لوگ وغیرہ ان کے ساتھ سلوک و احسان اور عدل و انصاف کرنے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ایسے باانصاف لوگوں سے محبت رکھتا ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مشرک ماں آئیں یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح نامہ ہو چکا تھا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھتی ہیں کہ میری ماں آئی ہوئی ہیں اور اب تک وہ اس دین سے الگ ہیں کیا مجھے جائز ہے کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں،جاؤ ان سے صلہ رحمی کرو۔“ [صحیح بخاری:2620]
مسند کی اس روایت میں ہے کہ ان کا نام قتیلہ تھا، یہ مکہ سے گوہ، پنیر اور گھی بطور تحفہ لے کر آئی تھیں، لیکن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنی مشرکہ ماں کو نہ تو اپنے گھر میں آنے دیا، نہ یہ تحفہ ہدیہ قبول کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت پر ہدیہ بھی لیا اور اپنے ہاں ٹھہرایا بھی، بزار کی حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ام رومان تھا اور وہ اسلام لا چکی تھیں اور ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائی تھیں، ہاں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی والدہ ام رومان نہ تھیں، چنانچہ ان کا نام قتیلہ اوپر کی حدیث میں مذکور ہے۔ [مسندبزار2/365ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«مُقْسِطِينَ» کی تفسیر سورۃ الحجرات میں گزر چکی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، حدیث میں ہے «مُقْسِطِينَ» وہ لوگ ہیں جو عدل کے ساتھ حکم کرتے ہیں گو اہل و عیال کا معاملہ ہو یا زیر دستوں کا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ [صحیح مسلم:1827] پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ممانعت تو ان لوگوں کی دوستی سے ہے جو تمہاری عداوت سے تمہارے مقابل نکل کھڑے ہوئے، تم سے صرف تمہارے مذہب کی وجہ سے لڑے جھگڑے، تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا، تمہارے دشمنوں کی مدد کی۔ پھر مشرکین سے اتحاد و اتفاق، دوستی، یکجہتی رکھنے والے کو دھمکاتا ہے اور اس کا گناہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے والے ظالم گناہ گار ہیں اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [5-المائدہ:51] یہودیوں نصرانیوں سے دوستی کرنے والا ہمارے نزدیک انہی جیسا ہے۔
8۔ 1 یہ ان کافروں کے بارے میں ہدایت دی جا رہی ہے جو مسلمانوں سے محض دین السلام کی وجہ سے بغض و عداوت نہیں رکھتے اور اس بنیاد پر مسلمانوں سے نہیں لڑتے، یہ پہلی شرط ہے۔ 8۔ 2 یعنی تمہارے ساتھ ایسا رویہ بھی اختیار نہیں کیا کہ تم ہجرت پر مجبور ہوجاؤ، یہ دوسری شرط ہے۔ ایک تیسری شرط یہ ہے جو اگلی آیت سے واضح ہوتی ہے، کہ وہ مسلمانوں کے خلاف دوسرے کافروں کو کسی قسم کی مدد بھی نہ پہنچائیں مشورے اور رائے سے اور نہ ہتھیار وغیرہ کے ذریعے سے۔ 8۔ 3 یعنی ایسے کافروں سے احسان اور انصاف کا معاملہ کرنا ممنوع نہیں ہے جیسے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مشرکہ ماں کی بابت صلہ رحمی یعنی حسن سلوک کرنے کا پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلی امک۔ صحیح مسلم۔ اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ 8۔ 4 اس میں انصاف کرنے کی ترغیب ہے حتی کہ کافروں کے ساتھ بھی حدیث میں انصاف کرنے والوں کی فضیلت یوں بیان ہوئی ہے۔ ان المقسطین عند اللہ علی منبر من نور عن یمین الرحمن عز وجل وکلتا یدیہ یمین الذین یعدلون فی حکمھم واھلیھم وماولوا۔ صحیح مسلم کتاب الامارہ۔ انصاف کرنے والے نور کے منبروں پر ہوں گے جو رحمن کے دائیں جانب ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں جو اپنے فیصلوں میں اپنے اہل میں اور اپنی رعایا میں انصاف کا اہتمام کرتے ہیں۔
(آیت 8) {لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ …:} اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک محارب جو مسلمانوں سے ضد اور عناد رکھتے تھے، انھیں ایذا دینے، ان کے گھروں سے نکالنے اور ان سے لڑنے میں سرگرم تھے، یا ایسے لوگوں کی پشت پناہی اور مدد کرتے تھے۔ دوسرے مُسالم جو کافر تو تھے مگر روادار تھے، غیر جانبدار بن کر رہے، مسلمانوں کو نہ کوئی دکھ پہنچایا اور نہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ ان میں مکہ کے اردگرد رہنے والے کئی قبائل تھے، جیسے بنو خزاعہ اور بنو حارث وغیرہ جو مسلمانوں کے حلیف تھے یا کفار قریش کے مقابلے میں مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ اہلِ مکہ میں بھی اس طرح کے کئی لوگ تھے، خصوصاً بنو ہاشم اور بنو مطلب کے اکثر لوگوں کی ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ تھیں۔ مہاجرین کی بہت سی رشتہ دار عورتیں اور بچے جو مکہ میں تھے اور ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر ان سے انس اور تعلق رکھتے تھے۔ مسلمانوں کی دلی خواہش ایسے لوگوں سے تعلق رکھنے کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں ایسے لوگوں سے نیک سلوک اور ان کے حق میں انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما بیان کرتی ہیں کہ میری ماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (معاہدۂ صلح کے دوران حسنِ سلوک کی) امید رکھتے ہوئے میرے پاس آئی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا میں اس سے حسن سلوک کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ ابن عیینہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: «لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ» ”اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی۔“ [بخاري، الأدب، باب صلۃ الوالد المشرک: ۵۹۷۸ ] اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی حلہ عطا فرمایا، انھوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [ بخاري، الأدب، باب صلۃ الأخ المشرک: ۵۹۸۱ ]
وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے اُن سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تمہیں شہر سے نکال دیئے اور شہر سے نکالنے والوں کی مدد کی جو لوگ ایسے کفار سے محبت کریں وه (قطعاً) ﻇالم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ تمہیں انہی سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تو صرف تمہیں ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکا لنے میں ایک دوسرے کی مدد کی اور جو ان سے دوستی کرے گا وہی ظالم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ تو تمھیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا اور تمھارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار سے محبت کی ممانعت کی دوبارہ تاکید ٭٭
کافروں سے محبت رکھنے کی ممانعت اور ان کی بغض و عداوت کے بیان کے بعد اب ارشاد ہوتا ہے کہ بسا اوقات ممکن ہے کہ ابھی ابھی اللہ تم میں اور ان میں میل ملاپ کرا دے، بغض، نفرت اور فرقت کے بعد محبت موّدت اور الفت پیدا کر دے، کون سی چیز ہے جس پر اللہ قادر نہ ہو؟ وہ متبائن اور مختلف چیزوں کو جمع کر سکتا ہے، عداوت و قساوت کے بعد دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دینا اس کے ہاتھ ہے۔ جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا» [3-آل عمران:103] الخ ’ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہو گئے جیسے ماں جائے بھائی ہوں تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ ‘ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم متفرق تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کر دیا۔“ } [صحیح بخاری:4330]
قرآن کریم میں ہے «هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [8-الأنفال:63] ’ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد سے مومنوں کو ساتھ کر کے، اے نبی! تیری مدد کی اور ایمان داروں میں آپس میں وہ محبت اور یکجہتی پیدا کر دی کہ اگر روئے زمین کی دولت خرچ کرتے اور یگانگت پیدا کرنا چاہتے تو وہ نہ کر سکتے یہ الفت منجانب اللہ تھی جو عزیز و حکیم ہے ‘۔ { ایک حدیث میں ہے دوستوں کی دوستی کے وقت بھی اس بات کو پیش نظر رکھو کہ کیا عجب اس سے کسی وقت دشمنی ہو جائے اور دشمنوں کی دشمنی میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو کیا خبر کب دوستی ہو جائے۔ } [سنن ترمذي:1997،قال الشيخ الألباني:صحیح] عرب شاعر کہتا ہے «وَقَدْ يَجْمَع اللَّه الشَّتِيتَيْنِ بَعْد مَا» «يَظُنَّانِ كُلّ الظَّنّ أَنْ لَا تَلَاقِيَا» یعنی ایسے دو دشمنوں میں بھی جو ایک سے ایک جدا ہوں اور اس طرح کہ دل میں گرہ دے لی ہو کہ ابد الآباد تک اب کبھی نہ ملیں گے اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کر دیتا ہے اور اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ گویا کبھی دو نہ تھے، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، کافر جب توبہ کریں تو اللہ قبول فرما لے گا جب وہ اس کی طرف جھکیں وہ انہیں اپنے سائے میں لے لے گا، کوئی سا گناہ ہو اور کوئی سا گنہگار ہو مالک کی طرف جھکا ادھر اس کی رحمت کی آغوش کھلی۔
مقاتل بن حیان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کی صاحبزادی صاحبہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا تھا اور یہی مناکحت حجت کا سبب بن گئی، لیکن یہ قول کچھ جی کو نہیں لگتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نکاح فتح مکہ سے بہت پہلے ہوا تھا اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا اسلام بالاتفاق فتح مکہ کی رات کا ہے، بلکہ اس سے بہت اچھی توجیہ تو وہ ہے جو ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کو کسی باغ کے پھلوں کا عامل بنا رکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد یہ آ رہے تھے کہ راستے میں ذوالحمار مرتد مل گیا، آپ نے اس سے جنگ کی اور باقاعدہ لڑے، پس مرتدین سے پہلے پہل لڑائی لڑنے والے مجاہد فی الدین آپ رضی اللہ عنہ ہیں، ابن شہاب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انہی کے بارے میں یہ آیت «عَسَى اللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً وَاللَّهُ قَدِيرٌ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [الممتحنہ:7] ، اتری ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میری تین درخواستیں ہیں اگر اجازت ہو تو عرض کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو“ اس نے کہا، اول تو یہ کہ مجھے اجازت دیجئیے کہ جس طرح میں کفر کے زمانے میں مسلمانوں سے مسلسل جنگ کرتا رہا اب اسلام کے زمانہ میں کافروں سے برابر لڑائی جاری رکھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منظور فرمایا، پھر کہا: میرے لڑکے معاویہ کو اپنا منشی بنا لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی منظور فرمایا [ اس پر جو کلام ہے وہ پہلے گزر چکا ہے ] اور میری بہترین عرب بچی ام حبیبہ کو آپ اپنی زوجیت میں قبول فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی منظور فرما لیا۔ } [صحیح مسلم:2501] [ اس پر بھی کلام پہلے گزر چکا ہے ] ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جن کفار نے تم سے مذہبی لڑائی نہیں کی، نہ تمہیں جلا وطن کیا جیسے عورتیں اور کمزور لوگ وغیرہ ان کے ساتھ سلوک و احسان اور عدل و انصاف کرنے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ایسے باانصاف لوگوں سے محبت رکھتا ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مشرک ماں آئیں یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح نامہ ہو چکا تھا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھتی ہیں کہ میری ماں آئی ہوئی ہیں اور اب تک وہ اس دین سے الگ ہیں کیا مجھے جائز ہے کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں،جاؤ ان سے صلہ رحمی کرو۔“ [صحیح بخاری:2620]
مسند کی اس روایت میں ہے کہ ان کا نام قتیلہ تھا، یہ مکہ سے گوہ، پنیر اور گھی بطور تحفہ لے کر آئی تھیں، لیکن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنی مشرکہ ماں کو نہ تو اپنے گھر میں آنے دیا، نہ یہ تحفہ ہدیہ قبول کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت پر ہدیہ بھی لیا اور اپنے ہاں ٹھہرایا بھی، بزار کی حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ام رومان تھا اور وہ اسلام لا چکی تھیں اور ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائی تھیں، ہاں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی والدہ ام رومان نہ تھیں، چنانچہ ان کا نام قتیلہ اوپر کی حدیث میں مذکور ہے۔ [مسندبزار2/365ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«مُقْسِطِينَ» کی تفسیر سورۃ الحجرات میں گزر چکی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، حدیث میں ہے «مُقْسِطِينَ» وہ لوگ ہیں جو عدل کے ساتھ حکم کرتے ہیں گو اہل و عیال کا معاملہ ہو یا زیر دستوں کا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ [صحیح مسلم:1827] پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ممانعت تو ان لوگوں کی دوستی سے ہے جو تمہاری عداوت سے تمہارے مقابل نکل کھڑے ہوئے، تم سے صرف تمہارے مذہب کی وجہ سے لڑے جھگڑے، تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا، تمہارے دشمنوں کی مدد کی۔ پھر مشرکین سے اتحاد و اتفاق، دوستی، یکجہتی رکھنے والے کو دھمکاتا ہے اور اس کا گناہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے والے ظالم گناہ گار ہیں اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [5-المائدہ:51] یہودیوں نصرانیوں سے دوستی کرنے والا ہمارے نزدیک انہی جیسا ہے۔
9۔ 1 یعنی ارشاد الٰہی اور امر ربانی سے اعراض کرتے ہوئے۔ 9۔ 2 کیونکہ انہوں نے ایسے لوگوں سے محبت کی ہے جو محبت کے اہل نہیں تھے، یوں انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انہیں اللہ کے عذاب کے لئے پیش کردیا۔
(آیت 9){ اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ …:} ان لوگوں سے مراد وہ کفار ہیں جن کا تذکرہ شروع سورت سے آ رہا ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کر لو، اور ان کے ایمان کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے پھر جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال ان کے کافر شوہروں نے جو مہر اُن کو دیے تھے وہ انہیں پھیر دو اور ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ تم اُن کے مہر اُن کو ادا کر دو اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان لو۔ دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے واﻻ تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وه تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وه ان کے لیے حلال ہیں، اور جو خرچ ان کافروں کا ہوا ہو وه انہیں ادا کردو، ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناه نہیں اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو، مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو وه بھی مانگ لیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ بڑے علم (اور) حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں کفرستان سے اپنے گھر چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرو اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے، پھر اگر تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں کافروں کو واپس نہ دو، نہ یہ انہیں حلال نہ وہ انہیں حلال اور ان کے کافر شوہروں کو دے دو جو ان کا خرچ ہوا اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو جب ان کے مہر انہیں دو اور کافرنیوں کے نکاح پر جمے نہ رہو اور مانگ لو جو تمہارا خرچ ہوا اور کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تم میں فیصلہ فرماتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جب مؤمن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان لے لیا کرو اللہ ان کے ایمان کی (اصلیت) کو بہتر جانتا ہے پس اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مؤمن ہیں تو پھر انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ (مؤمن عورتیں) ان (کافروں) کیلئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان عورتوں کیلئے حلال ہیں اور ان (کافر شوہروں) نے (حق مہر وغیرہ کے سلسلہ میں) جو کچھ خرچ کیا ہے وہ انہیں ادا کر دو اور تمہارے لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان سے نکاح کرو جبکہ تم ان کے مہر ان کو ادا کر دو اور تم (بھی) کافر عورتوں کو (اپنے نکاح میں) روکے نہ رکھو اور تم نے (ان پر جو مہر) خرچ کیا ہے وہ (ان سے) واپس مانگ لو اورکافر بھی (مسلمان بیویوں سے مہر واپس) مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا ہے یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو، اللہ ان کے ایمان کو زیادہ جاننے والا ہے ۔پھر اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، نہ یہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہوں گے۔ اور انھیں دے دو جو انھوں نے خرچ کیا ہے اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کر لو، جب انھیں ان کے مہر دے دو۔ اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہے اور وہ (کفار) مانگ لیں جو انھوں نے خرچ کیا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہ تمھارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہاجر خواتین کے حوالے سے بعض ہدایات ٭٭
سورۃ الفتح کی تفسیر میں صلح حدیبیہ کا واقعہ مفصل بیان ہو چکا ہے، اس صلح کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان جو شرائط ہوئی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا جائے آپ اسے اہل مکہ کو واپس کر دیں، لیکن قرآن کریم نے ان میں سے ان عورتوں کو مخصوص کر دیا کہ جو عورت ایمان قبول کر کے آئے اور فی الواقع ہو بھی وہ سچی ایماندار تو مسلمان اسے کافروں کو واپس نہ دیں، حدیث شریف کی تخصیص قرآن کریم سے ہونے کی یہ ایک بہترین مثال ہے اور بعض سلف کے نزدیک یہ آیت اس حدیث کی ناسخ ہے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومیط رضی اللہ عنہا مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ چلی آئیں، ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید ان کے واپس لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا سنا، پس یہ آیت امتحان نازل ہوئی اور مومنہ عورتوں کو واپس لوٹانے سے ممانعت کر دی گئی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کا امتحان کس طرح لیتے تھے؟ فرمایا: اس طرح کہ اللہ کی قسم کھا کر سچ سچ کہے کہ وہ اپنے خاوند کی ناچاقی کی وجہ سے نہیں چلی آئی، صرف آب و ہوا اور زمین کی تبدیلی کرنے کے لیے بطور سیر و سیاحت نہیں آئی، کسی دنیا طلبی کے لیے نہیں آئی بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اسلام کی خاطر ترک وطن کیا ہے اور کوئی غرض نہیں، قسم دے کر ان سوالات کا کرنا اور خوب آزما لینا یہ کام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33958:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امتحان اس طرح ہوتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے معبود برحق اور لاشریک ہونے کی گواہی دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ہونے کی شہادت دیں، اگر آزمائش میں کسی غرض دنیوی کا پتہ چل جاتا تو انہیں واپس لوٹا دینے کا حکم تھا۔ مثلاً یہ معلوم ہو جائے کہ میاں بیوی کی ان بن کی وجہ سے یا کسی اور شخص کی محبت میں چلی آئی ہے وغیرہ۔ اس آیت کے اس جملہ سے کہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ باایمان عورت ہے تو پھر اسے کافروں کی طرف مت لوٹاؤ، ثابت ہوتا ہے کہ ایمان پر بھی یقینی طور پر مطلع ہو جانا ممکن امر ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں کافروں پر اور کافر مرد مسلمان عورتوں کے لیے حلال نہیں، اس آیت نے اس رشتہ کو حرام کر دیا ورنہ اس سے پہلے مومنہ عورتوں کا نکاح کافر مردوں سے جائز تھا، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا تھا حالانکہ یہ اس وقت کافر تھے اور بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمہ تھیں، بدر کی لڑائی میں یہ بھی کافروں کے ساتھ تھے اور جو کافر زندہ پکڑے گئے تھے ان میں یہ بھی گرفتار ہو کر آئے تھے زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار ان کے فدیئے میں بھیجا تھا کہ یہ آزاد ہو کر آئیں جسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی رقت طاری ہوئی اور آپ نے مسلمانوں سے فرمایا: ”اگر میری بیٹی کے قیدی کو چھوڑ دینا تم پسند کرتے ہو تو اسے رہا کر دو“، مسلمانوں نے بہ خوشی بغیر فدیہ کے انہیں چھوڑ دینا منظور کیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور فرما دیا کہ آپ کی صاحبزادی کو آپ کے پاس مدینہ میں بھیج دیں انہوں نے اسے منظور کر لیا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیج بھی دیا۔ [سنن ابوداود:2692،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ واقعہ سنہ 2 ہجری کا ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے مدینہ میں ہی اقامت فرمائی اور یونہی بیٹھی رہیں یہاں تک کہ سنہ ۸ ہجری میں ان کے خاوند ابوالعاص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق اسلام دی اور وہ مسلمان ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی اگلے نکاح بغیر نئے مہر کے اپنی صاحبزادی کو ان کے پاس رخصت کر دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:154/3] اور روایت میں ہے کہ دو سال کے بعد ابوالعاص رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلے نکاح پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو لوٹا دیا تھا یہی صحیح حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:1143،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس لیے کہ مسلمان عورتوں کے مشرک مردوں پر حرام ہونے کے دو سال بعد یہ مسلمان ہو گئے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان کے اسلام کے بعد نئے سرے سے نکاح ہوا اور نیا مہر بندھا۔ [مسند احمد:208/2:ضعیف]
امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یزید رحمہ اللہ نے فرمایا ہے پہلی روایت کے راوی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ روایت ازروئے اسناد کے بہت اعلیٰ اور دوسری روایت کے راوی عمرو بن شعیب رحمہ اللہ ہیں اور عمل اسی پر ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ والی روایت کے ایک راوی حجاج بن ارطاۃ کو امام احمد رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ ضعیف بتاتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث کا جواب جمہور دیتے ہیں کہ یہ شخصی واقعہ ہے ممکن ہے کہ ان کی عدت ختم ہی نہ ہوئی ہو، اکثر حضرات کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت میں جب عورت نے عدت کے دن پورے کر لیے اور اب تک اس کا کافر خاوند مسلمان نہیں ہوا تو وہ نکاح فسخ ہو جاتا ہے، ہاں بعض حضرات کا مذہب یہ بھی ہے کہ عدت پوری کر لینے کے بعد عورت کو اختیار ہے اگر چاہے اپنے اس نکاح کو باقی رکھے اگر چاہے فسخ کر کے دوسرا نکاح کر لے اور اسی پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت کو محمول کرتے ہیں۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مہاجر عورتوں کے کافر خاوندوں کو ان کے خرچ اخراجات جو ہوئے ہیں وہ ادا کر دو جیسے کہ مہر۔ پھر فرمان ہے کہ اب انہیں ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی حرج نہیں، عدت کا گزر جانا ولی کا مقرر کرنا وغیرہ جو امور نکاح میں ضروری ہیں ان شرائط کو پورا کر کے ان مہاجرہ عورتوں سے جو مسلمان نکاح کرنا چاہے کر سکتا ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تم پر بھی اے مسلمانو ان عورتوں کا اپنے نکاح میں باقی رکھنا حرام ہے جو کافرہ ہیں، اسی طرح کافر عورتوں سے نکاح کرنا بھی حرام ہے اس حکم کے نازل ہوتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو کافرہ بیویوں کو فوراً طلاق دے دی جن میں سے ایک نے تو معاویہ بن سفیان سے نکاح کر لیا اور دوسری نے صفوان بن امیہ سے۔ [مسند احمد:328/4:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں سے صلح کی اور ابھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے نیچے کے حصے میں ہی تھے کہ یہ آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ» [الممتحنہ:10] الخ، نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہہ دیا گیا کہ جو عورت مہاجرہ آئے اس کا باایمان ہونا اور خلوص نیت سے ہجرت کرنا بھی معلوم ہو جائے تو اس کے کافر خاوندوں کو ان کے دیئے ہوئے مہر واپس کر دو، اسی طرح کافروں کو بھی یہ حکم سنا دیا گیا، اس حکم کی وجہ وہ عہد نامہ تھا جو ابھی ابھی مرتب ہوا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی جن دو کافرہ بیویوں کو طلاق دی ان میں سے پہلی کا نام قریبہ تھا یہ ابوامیہ بن مغیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری کا نام ام کلثوم تھا جو عمرو بن حرول خزاعی کی لڑکی تھی سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی والدہ یہ ہی تھیں، اس سے ابوجہم بن حذیفہ بن غانم خزاعی نے نکاح کر لیا یہ بھی مشرک تھا، اسی طرح اس حکم کے ماتحت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کافرہ بیوی ارویٰ بنت ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کو طلاق دے دی، اس سے خالد بن سعید بن عاص نے نکاح کر لیا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے تمہاری بیویوں پر جو تم نے خرچ کیا ہے اسے کافروں سے لے لو جبکہ وہ ان میں چلی جائیں اور کافروں کی عورتیں جو مسلمان ہو کر تم میں آ جائیں انہیں تم ان کا کیا ہوا خرچ دے دو۔ صلح کے بارے میں اور عورتوں کے بارے میں اللہ کا فیصلہ بیان ہو چکا جو اس نے اپنی مخلوق میں کر دیا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے باخبر ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لیے کہ «علی الاطلاق حکیم» وہی ہے۔
اس کے بعد کی آیت «وَإِن فاتَكُم شَيءٌ مِن أَزواجِكُم إِلَى الكُفّارِ فَعاقَبتُم فَآتُوا الَّذينَ ذَهَبَت أَزواجُهُم مِثلَ ما أَنفَقوا وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذي أَنتُم بِهِ مُؤمِنونَ» [الممتحنہ:11] ، کا مطلب قتادہ رحمتہ اللہ علیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ جن کفار سے تمہارا عہد و پیمان صلح و صفائی نہیں، اگر کوئی عورت کسی مسلمان کے گھر سے جا کر ان میں جا ملے تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے خاوند کا کیا ہوا خرچ نہیں دیں گے تو اس کے بدلے تمہیں بھی اجازت دی جاتی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی عورت مسلمان ہو کر تم میں چلی آئے تو تم بھی اس کے خاوند کو کچھ نہ دو جب تک وہ نہ دیں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مسلمانوں نے تو اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی اور کافروں کی جو عورتیں مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آئیں ان کے لیے ہوئے مہر ان کے خاوندوں کو واپس کئے لیکن مشرکوں نے اس حکم کے ماننے سے انکار کر دیا اس پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ اگر تم میں سے کوئی عورت ان کے ہاں چلی گئی ہے اور انہوں نے تمہاری خرچ کی ہوئی رقم ادا نہیں کی تو جب ان میں سے کوئی عورت تمہارے ہاں آ جائے تو تم اپنا وہ خرچ نکال کر باقی اگر کچھ بچے تو دے دو ورنہ معاملہ ختم ہوا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا یہ مطلب مروی ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو مسلمان عورت کافروں میں جا ملے اور کافر اس کے خاوند کو اس کا کیا ہوا خرچ ادا نہ کریں تو مال غنیمت میں سے آپ اس مسلمان کو بقدر اس کے خرچ کے دے دیں، پس «فَعَاقَبْتُمْ» کے معنی یہ ہوئے کہ پھر تمہیں قریش یا کسی اور جماعت کفار سے مال غنیمت ہاتھ لگے تو ان مردوں کو جن کی عورتیں کافروں میں چلی گئی ہیں ان کا کیا ہوا خرچ ادا کر دو، یعنی مہر مثل، ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں اور خلاف نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی صورت اگر ناممکن ہو تو وہ سہی ورنہ مال غنیمت میں سے اسے اس کا حق دے دیا جائے دونوں باتوں میں اختیار ہے اور حکم میں وسعت ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس تطبیق کو پسند فرماتے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10۔ 1 معاہدہ حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکہ سے کوئی مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا تو اس کو واپس کرنا پڑے گا لیکن اس میں مرد و عورت کی صراحت نہیں تھی بظاہر کوئی احد میں دونوں ہی شامل تھے چناچہ بعد میں بعض عورتیں مکہ سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس چلی گئیں تو کفار نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جس پر اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور یہ حکم دیا امتحان لینے کا مطلب ہے اس امر کی تحقیق کرو کہ ہجرت کر کے آنے والی عورت جو ایمان کا اظہار کر رہی ہے اپنے کافر خاوند سے ناراض ہو کر یا کسی مسلمان کے عشق میں یا کسی اور غرض سے تو نہیں آئی ہے اور صرف یہاں پناہ لینے کی خاطر ایمان کا دعوی کر رہی ہے۔ 10۔ 2 یعنی تم اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچو اور تمہیں گمان غالب حاصل ہوجائے کہ یہ واقعی مومنہ ہیں۔ 10۔ 3 یہ انہیں ان کے کافر خاوندوں کے پاس واپس نہ کرنے کی علت ہے کہ اب کوئی مومن عورت کسی کافر کے لیے حلال نہیں جیسا کہ ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کا نکاح ابو العاص ابن ربیع کے ساتھ ہوا تھا جب کہ وہ مسلمان نہیں تھے لیکن اس آیت نے آئندہ کے لیے ایسا کرنے سے منع کردیا اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں اس لیے انہیں کافروں کے پاس مت لوٹاؤ ہاں اگر شوہر بھی مسلمان ہوجائے تو پھر ان کا نکاح برقرار رہ سکتا ہے چاہے خاوند عورت کے بعد ہجرت کر کے آئے۔ 10۔ 4 یعنی ان کے کافر خاوندوں نے ان کو جو مہر ادا کیا ہے، وہ تم انہیں ادا کردو۔ 10۔ 5 یہ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ یہ عورتیں جو ایمان کی خاطر اپنے کافر خاوندوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آگئی ہیں تم ان سے نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کا حق مہر تم ادا کرو تاہم یہ نکاح مسنون طریقے سے ہی ہوگا یعنی ایک تو انقضائے عدت (استبراء رحم) کے بعد ہوگا دوسرے اس میں ولی کی اجازت اور دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے البتہ عورت مدخول بہا نہیں ہے تو پھر بلا عدت فوری نکاح جائز ہے 10۔ 6 عصم عصمۃ کی جمع ہے یہاں اس سے مراد عصمت عقد نکاح ہے مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند مسلمان ہوجائے اور بیوی بدستور کافر اور مشرک رہے تو ایسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے اسے فورا طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کردیا جائے چناچہ اس حکم کے بعد حضرت عمر ؓ نے اپنی دو مشرک بیویوں کو اور حضرت طلحہ ابن عبید اللہ ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ابن کثیر۔ البتہ اگر بیوی کتابیہ ہو تو اسے طلاق دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے اس لیے اگر وہ پہلے سے ہی بیوی کی حثییت سے تمہارے پاس موجود ہے تو قبول اسلام کے بعد اسے علیحدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 10۔ 7 یعنی ان عورتوں پر جو کفر پر برقرا رہنے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں 10۔ 8 یعنی ان عورتوں پر جو مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینے آگئی ہیں۔ 10۔ 9 یعنی یہ حکم مذکور کہ دونوں ایک دوسرے کو حق مہر ادا کریں بلکہ مانگ کرلیں اللہ کا حکم ہے امام قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس دور کے ساتھ ہی خاص تھا اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے فتح القدیر۔ اس کی وجہ وہ معاہدہ ہے جو اس وقت فریقین کے درمیان تھا اس قسم کے معاہدے کی صورت میں آئندہ بھی اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا بصورت دیگر نہیں۔
(آیت 10) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ …:} ان آیات میں مشرکین سے قطع تعلق کی وجہ سے پیش آنے والے کئی معاملات کا حکم بیان فرمایا، مثلاً کفار کی بیویاں جو مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس آ جائیں، انھیں واپس کیا جائے گا یا نہیں اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کے مسلمان ہو جانے سے ان کا باہمی نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں وغیرہ۔ ➋ حدیبیہ کے موقع پر کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے صلح کی جو شرائط طے کی تھیں ان میں سے ایک شرط جو مسلمانوں کو منظور نہ تھی مگر سہیل نے اس کے بغیر صلح کرنے سے انکار کر دیا، یہ تھی: [ لاَ يَأْتِيْكَ مِنَّا أَحَدٌ وَ إِنْ كَانَ عَلٰی دِيْنِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۸۰،۴۱۸۱ ] ”ہم میں سے جو بھی آپ کے پاس آئے گا خواہ وہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہماری طرف واپس کریں گے اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دیں گے۔“ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف دیکھیے کہ سہیل اس میں یہ صراحت نہ لکھوا سکا کہ اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: [ فَقَالَ سُهَيْلٌ وَ عَلٰی أَنَّهُ لاَ يَأْتِيْكَ مِنَّا رَجُلٌ وَ إِنْ كَانَ عَلٰی دِيْنِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا ] [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ …: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲ ] ”سہیل نے کہا، یہ شرط بھی کہ ہماری طرف سے جو آدمی بھی آپ کے پاس جائے گا، چاہے وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو، آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔“ اب اس کے بعد کفار یہ کہہ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ مسلمان ہونے والی عورتوں کو واپس کیوں نہیں کرتے۔ جب معاہدہ طے ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو قربانی کرنے اور سر منڈوانے کے ساتھ احرام کھولنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر سہیل کا بیٹا ابو جندل رضی اللہ عنہ مسلمان ہو کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کے مطالبے پر اسے واپس کر دیا، اس کے علاوہ بھی صلح کی اس مدت میں آپ کے پاس مکہ سے جو مرد آیا آپ نے اسے واپس کر دیا خواہ وہ مسلمان ہی تھا۔ اب کئی عورتیں جو ایمان لے آئی تھیں ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں، ان میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی تھیں۔ اس وقت وہ جوان تھیں، ان کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھیں واپس کر دینے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہدایات نازل فرمائیں۔ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۸۰،۴۱۸۱ ] ➌ { فَامْتَحِنُوْهُنَّ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِهِنَّ …:} ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو کہ وہ ایمان ہی کی وجہ سے ہجرت کر کے آئی ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ اس جانچ پڑتال میں تم اس بات کے مکلف نہیں کہ ان کے دل میں چھپی ہوئی بات معلوم کرو، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، تمھارا کام یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں جو اگلی آیت (۱۲) میں آ رہی ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس مت کرو۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کر کے آنے والے کسی مرد کے امتحان کا حکم نہیں دیا، کیونکہ ان کے امتحان کے لیے ہجرت اور جہاد کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مہاجرین کے صادق الایمان ہونے کی شہادت دی ہے۔ (دیکھیے حشر: ۸) جب کہ عورتوں پر جہاد فرض نہیں جس سے کھرے کھوٹے کی تمیز ہوتی ہے۔ (شنقیطی) ➍ { لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ:} اس میں انھیں واپس نہ کرنے کی علت بیان فرمائی ہے کہ نہ مومن عورتیں کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ ہی کافر مرد مومن عورتوں کے لیے حلال ہیں، اس لیے اگر کوئی عورت مسلمان ہو جائے تو اسے اس کے کافر خاوند سے جدا کر لیا جائے گا۔ پھر اگر وہ اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار کرے اور خاوند مسلمان ہو جائے تو نکاح برقرار رہے گا، خواہ عورت پہلے ہجرت کر کے آئی ہو اور خاوند بعد میں ہجرت کرے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: [ رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلٰی أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيْعِ، بَعْدَ سِتِّ سِنِيْنَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا ] [ترمذي، النکاح، باب ما جاء في الزوجین المشرکین یسلم أحدھما: ۱۱۴۳، وقال الألباني صحیح ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ سال کے بعد پہلے نکاح ہی میں واپس بھیج دیا اور نیا نکاح نہیں کیا۔“ اور اگر عورت اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار نہ کرے تو اسے اجازت ہے کہ کسی مسلمان کے ساتھ نکاح کر لے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ ➎ { وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا:} یعنی ہجرت کر کے آنے والی مسلم عورتوں کے مشرک خاوندوں نے ان کے نکاح پر جو خرچ کیا ہے وہ انھیں واپس کر دو۔ یاد رہے کہ یہ احکام ان مشرکین کی عورتوں کے بارے میں ہیں جن کی مسلمانوں کے ساتھ صلح ہو۔ ➏ {وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} یعنی اگر وہ اپنے خاوندوں کے مسلمان ہو کر آنے کا انتظار نہ کریں اور نکاح کرنا چاہیں تو مسلمانوں کو ان سے نکاح کرنے کی اجازت ہے، جب ان شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے جو نکاح کے لیے ضروری ہیں، مثلاً ولی کی اجازت، عدت پوری ہونا، مہر کی ادائیگی وغیرہ۔ ➐ {وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ: ”عِصَمٌ“ ”عِصْمَةٌ“} کی جمع ہے، مراد نکاح ہے اور {” الْكَوَافِرِ “ ”كَافِرَةٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”ضَارِبَةٌ“} کی جمع {”ضَوَارِبُ“} ہے، کافر عورتیں۔ یعنی جو مرد مسلمان ہو جائیں اور ان کی بیویاں کفر پر قائم رہیں ان کے لیے انھیں اپنے نکاح میں باقی رکھنا جائز نہیں، بلکہ طلاق دے دینا لازم ہے۔ چنانچہ مسور اور مروان بن حکم سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن کفار قریش سے معاہدہ کیا تو آپ کے پاس کچھ مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ … وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ» [ الممتحنۃ: ۱۰ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں…اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو۔“ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنی دو (مشرک) عورتوں کو طلاق دے دی، جن میں سے ایک کے ساتھ معاویہ بن ابو سفیان نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا (جو اس وقت مشرک تھے)۔ [ بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد…: ۲۷۳۱،۲۷۳۲ ] ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، انھوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے معاویہ بن ابو سفیان نے نکاح کر لیا اور ام حکم بنت ابو سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھی، انھوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے عبداللہ بن عثمان ثقفی نے نکاح کر لیا۔ [ بخاري، الطلاق، باب نکاح من أسلم من المشرکات و عدتہن: ۵۲۸۷ ] ➑ {وَ سْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْيَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا …:} اس کا عطف {” وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا “} پر ہے۔ ہجرت کر کے آنے والی عورتیں یا تو ان مشرکین میں سے ہوتی تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تھی، ان کے متعلق عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”مشرکین کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دو طرح کا تھا، ایک اہلِ حرب (لڑائی والے) مشرک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لڑتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے تھے اور ایک اہل عہد (معاہدے والے) مشرک۔ اہل حرب مشرکین میں سے کوئی عورت جب ہجرت کر کے آتی تو اسے اس وقت تک نکاح کا پیغام نہیں دیا جاتا تھا جب تک وہ حیض آنے کے بعد پاک نہیں ہوتی تھی۔ جب پاک ہو جاتی تو اس کے لیے نکاح حلال ہو جاتا، پھر اگر اس کا خاوند اس کے نکاح کرنے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتا تو وہ اسے واپس کر دی جاتی اور اگر ان کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو دونوں آزاد ہو جاتے اور انھیں وہ حقوق حاصل ہو جاتے جو دوسرے مہاجرین کو حاصل تھے۔ (پھر معاہدے والوں کے متعلق مجاہد کی حدیث کی طرح ذکر کیا) اور اگر معاہدے والے مشرکین کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو انھیں واپس نہیں کیا جاتا تھا اور ان کی قیمتیں دے دی جاتی تھیں۔“ [ بخاري، الطلاق، باب نکاح من أسلم من المشرکات وعدتھن: ۵۲۸۶ ] ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں کی دوسری قسم ان مشرکین کی بیویاں تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدۂ صلح تھا۔ اس آیت میں ان کا حکم بیان ہوا ہے کہ انھیں مشرکین کی طرف واپس مت کرو، بلکہ انھوں نے ان کے نکاح پر جو کچھ خرچ کیا ہے وہ انھیں دے دو اور کافر عورتوں کو بھی روک کر مت رکھو، بلکہ انھیں طلاق دے دو اور چونکہ تمھاری آپس میں صلح ہے اس لیے جن مشرک عورتوں کو تم نے چھوڑا ہے ان پر کیا ہوا خرچ تم مشرکین سے مانگ لو اور وہ ان عورتوں پر کیا ہوا خرچ تم سے مانگ لیں جو ہجرت کر کے تمھارے پاس آئی ہیں۔
اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں اُن کو اتنی رقم ادا کر دو جو اُن کے دیے ہوئے مہروں کے برابر ہو اور اُس خدا سے ڈر تے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تمہاری کوئی بیوی تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور کافروں کے پاس چلی جائے پھر تمہیں اس کے بدلے کا وقت مل جائے تو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں انہیں ان کے اخراجات کے برابر ادا کر دو، اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ عورتیں کافروں کی طرف نکل جائیں پھر تم کافروں کو سزا دو تو جن کی عورتیں جاتی رہی تھیں غنیمت میں سے انہیں اتنا دیدو جو ان کا خرچ ہوا تھا اور اللہ سے ڈرو جس پر تمہیں ایمان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی (کفر یا ارتداد کی وجہ سے) کافروں کے پاس چلی جائے پھر تم ظفریاب ہو جاؤ (تو مالِ غنیمت میں سے) ان لوگوں کو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں اتنا مال دو جتنا انہوں نے خرچ کیا ہو اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تمھاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کی طرف چلی جائے، پھر تم بدلہ حاصل کرو توجن لوگوں کی بیویاں چلی گئی ہیں انھیں اتنا دے دو جتنا انھوں نے خرچ کیا ہے اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہاجر خواتین کے حوالے سے بعض ہدایات ٭٭
سورۃ الفتح کی تفسیر میں صلح حدیبیہ کا واقعہ مفصل بیان ہو چکا ہے، اس صلح کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان جو شرائط ہوئی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا جائے آپ اسے اہل مکہ کو واپس کر دیں، لیکن قرآن کریم نے ان میں سے ان عورتوں کو مخصوص کر دیا کہ جو عورت ایمان قبول کر کے آئے اور فی الواقع ہو بھی وہ سچی ایماندار تو مسلمان اسے کافروں کو واپس نہ دیں، حدیث شریف کی تخصیص قرآن کریم سے ہونے کی یہ ایک بہترین مثال ہے اور بعض سلف کے نزدیک یہ آیت اس حدیث کی ناسخ ہے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومیط رضی اللہ عنہا مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ چلی آئیں، ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید ان کے واپس لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا سنا، پس یہ آیت امتحان نازل ہوئی اور مومنہ عورتوں کو واپس لوٹانے سے ممانعت کر دی گئی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کا امتحان کس طرح لیتے تھے؟ فرمایا: اس طرح کہ اللہ کی قسم کھا کر سچ سچ کہے کہ وہ اپنے خاوند کی ناچاقی کی وجہ سے نہیں چلی آئی، صرف آب و ہوا اور زمین کی تبدیلی کرنے کے لیے بطور سیر و سیاحت نہیں آئی، کسی دنیا طلبی کے لیے نہیں آئی بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اسلام کی خاطر ترک وطن کیا ہے اور کوئی غرض نہیں، قسم دے کر ان سوالات کا کرنا اور خوب آزما لینا یہ کام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33958:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امتحان اس طرح ہوتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے معبود برحق اور لاشریک ہونے کی گواہی دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ہونے کی شہادت دیں، اگر آزمائش میں کسی غرض دنیوی کا پتہ چل جاتا تو انہیں واپس لوٹا دینے کا حکم تھا۔ مثلاً یہ معلوم ہو جائے کہ میاں بیوی کی ان بن کی وجہ سے یا کسی اور شخص کی محبت میں چلی آئی ہے وغیرہ۔ اس آیت کے اس جملہ سے کہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ باایمان عورت ہے تو پھر اسے کافروں کی طرف مت لوٹاؤ، ثابت ہوتا ہے کہ ایمان پر بھی یقینی طور پر مطلع ہو جانا ممکن امر ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں کافروں پر اور کافر مرد مسلمان عورتوں کے لیے حلال نہیں، اس آیت نے اس رشتہ کو حرام کر دیا ورنہ اس سے پہلے مومنہ عورتوں کا نکاح کافر مردوں سے جائز تھا، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا تھا حالانکہ یہ اس وقت کافر تھے اور بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمہ تھیں، بدر کی لڑائی میں یہ بھی کافروں کے ساتھ تھے اور جو کافر زندہ پکڑے گئے تھے ان میں یہ بھی گرفتار ہو کر آئے تھے زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار ان کے فدیئے میں بھیجا تھا کہ یہ آزاد ہو کر آئیں جسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی رقت طاری ہوئی اور آپ نے مسلمانوں سے فرمایا: ”اگر میری بیٹی کے قیدی کو چھوڑ دینا تم پسند کرتے ہو تو اسے رہا کر دو“، مسلمانوں نے بہ خوشی بغیر فدیہ کے انہیں چھوڑ دینا منظور کیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور فرما دیا کہ آپ کی صاحبزادی کو آپ کے پاس مدینہ میں بھیج دیں انہوں نے اسے منظور کر لیا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیج بھی دیا۔ [سنن ابوداود:2692،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ واقعہ سنہ 2 ہجری کا ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے مدینہ میں ہی اقامت فرمائی اور یونہی بیٹھی رہیں یہاں تک کہ سنہ ۸ ہجری میں ان کے خاوند ابوالعاص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق اسلام دی اور وہ مسلمان ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی اگلے نکاح بغیر نئے مہر کے اپنی صاحبزادی کو ان کے پاس رخصت کر دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:154/3] اور روایت میں ہے کہ دو سال کے بعد ابوالعاص رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلے نکاح پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو لوٹا دیا تھا یہی صحیح حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:1143،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس لیے کہ مسلمان عورتوں کے مشرک مردوں پر حرام ہونے کے دو سال بعد یہ مسلمان ہو گئے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان کے اسلام کے بعد نئے سرے سے نکاح ہوا اور نیا مہر بندھا۔ [مسند احمد:208/2:ضعیف]
امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یزید رحمہ اللہ نے فرمایا ہے پہلی روایت کے راوی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ روایت ازروئے اسناد کے بہت اعلیٰ اور دوسری روایت کے راوی عمرو بن شعیب رحمہ اللہ ہیں اور عمل اسی پر ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ والی روایت کے ایک راوی حجاج بن ارطاۃ کو امام احمد رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ ضعیف بتاتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث کا جواب جمہور دیتے ہیں کہ یہ شخصی واقعہ ہے ممکن ہے کہ ان کی عدت ختم ہی نہ ہوئی ہو، اکثر حضرات کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت میں جب عورت نے عدت کے دن پورے کر لیے اور اب تک اس کا کافر خاوند مسلمان نہیں ہوا تو وہ نکاح فسخ ہو جاتا ہے، ہاں بعض حضرات کا مذہب یہ بھی ہے کہ عدت پوری کر لینے کے بعد عورت کو اختیار ہے اگر چاہے اپنے اس نکاح کو باقی رکھے اگر چاہے فسخ کر کے دوسرا نکاح کر لے اور اسی پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت کو محمول کرتے ہیں۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مہاجر عورتوں کے کافر خاوندوں کو ان کے خرچ اخراجات جو ہوئے ہیں وہ ادا کر دو جیسے کہ مہر۔ پھر فرمان ہے کہ اب انہیں ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی حرج نہیں، عدت کا گزر جانا ولی کا مقرر کرنا وغیرہ جو امور نکاح میں ضروری ہیں ان شرائط کو پورا کر کے ان مہاجرہ عورتوں سے جو مسلمان نکاح کرنا چاہے کر سکتا ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تم پر بھی اے مسلمانو ان عورتوں کا اپنے نکاح میں باقی رکھنا حرام ہے جو کافرہ ہیں، اسی طرح کافر عورتوں سے نکاح کرنا بھی حرام ہے اس حکم کے نازل ہوتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو کافرہ بیویوں کو فوراً طلاق دے دی جن میں سے ایک نے تو معاویہ بن سفیان سے نکاح کر لیا اور دوسری نے صفوان بن امیہ سے۔ [مسند احمد:328/4:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں سے صلح کی اور ابھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے نیچے کے حصے میں ہی تھے کہ یہ آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ» [الممتحنہ:10] الخ، نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہہ دیا گیا کہ جو عورت مہاجرہ آئے اس کا باایمان ہونا اور خلوص نیت سے ہجرت کرنا بھی معلوم ہو جائے تو اس کے کافر خاوندوں کو ان کے دیئے ہوئے مہر واپس کر دو، اسی طرح کافروں کو بھی یہ حکم سنا دیا گیا، اس حکم کی وجہ وہ عہد نامہ تھا جو ابھی ابھی مرتب ہوا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی جن دو کافرہ بیویوں کو طلاق دی ان میں سے پہلی کا نام قریبہ تھا یہ ابوامیہ بن مغیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری کا نام ام کلثوم تھا جو عمرو بن حرول خزاعی کی لڑکی تھی سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی والدہ یہ ہی تھیں، اس سے ابوجہم بن حذیفہ بن غانم خزاعی نے نکاح کر لیا یہ بھی مشرک تھا، اسی طرح اس حکم کے ماتحت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کافرہ بیوی ارویٰ بنت ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کو طلاق دے دی، اس سے خالد بن سعید بن عاص نے نکاح کر لیا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے تمہاری بیویوں پر جو تم نے خرچ کیا ہے اسے کافروں سے لے لو جبکہ وہ ان میں چلی جائیں اور کافروں کی عورتیں جو مسلمان ہو کر تم میں آ جائیں انہیں تم ان کا کیا ہوا خرچ دے دو۔ صلح کے بارے میں اور عورتوں کے بارے میں اللہ کا فیصلہ بیان ہو چکا جو اس نے اپنی مخلوق میں کر دیا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے باخبر ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لیے کہ «علی الاطلاق حکیم» وہی ہے۔
اس کے بعد کی آیت «وَإِن فاتَكُم شَيءٌ مِن أَزواجِكُم إِلَى الكُفّارِ فَعاقَبتُم فَآتُوا الَّذينَ ذَهَبَت أَزواجُهُم مِثلَ ما أَنفَقوا وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذي أَنتُم بِهِ مُؤمِنونَ» [الممتحنہ:11] ، کا مطلب قتادہ رحمتہ اللہ علیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ جن کفار سے تمہارا عہد و پیمان صلح و صفائی نہیں، اگر کوئی عورت کسی مسلمان کے گھر سے جا کر ان میں جا ملے تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے خاوند کا کیا ہوا خرچ نہیں دیں گے تو اس کے بدلے تمہیں بھی اجازت دی جاتی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی عورت مسلمان ہو کر تم میں چلی آئے تو تم بھی اس کے خاوند کو کچھ نہ دو جب تک وہ نہ دیں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مسلمانوں نے تو اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی اور کافروں کی جو عورتیں مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آئیں ان کے لیے ہوئے مہر ان کے خاوندوں کو واپس کئے لیکن مشرکوں نے اس حکم کے ماننے سے انکار کر دیا اس پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ اگر تم میں سے کوئی عورت ان کے ہاں چلی گئی ہے اور انہوں نے تمہاری خرچ کی ہوئی رقم ادا نہیں کی تو جب ان میں سے کوئی عورت تمہارے ہاں آ جائے تو تم اپنا وہ خرچ نکال کر باقی اگر کچھ بچے تو دے دو ورنہ معاملہ ختم ہوا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا یہ مطلب مروی ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو مسلمان عورت کافروں میں جا ملے اور کافر اس کے خاوند کو اس کا کیا ہوا خرچ ادا نہ کریں تو مال غنیمت میں سے آپ اس مسلمان کو بقدر اس کے خرچ کے دے دیں، پس «فَعَاقَبْتُمْ» کے معنی یہ ہوئے کہ پھر تمہیں قریش یا کسی اور جماعت کفار سے مال غنیمت ہاتھ لگے تو ان مردوں کو جن کی عورتیں کافروں میں چلی گئی ہیں ان کا کیا ہوا خرچ ادا کر دو، یعنی مہر مثل، ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں اور خلاف نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی صورت اگر ناممکن ہو تو وہ سہی ورنہ مال غنیمت میں سے اسے اس کا حق دے دیا جائے دونوں باتوں میں اختیار ہے اور حکم میں وسعت ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس تطبیق کو پسند فرماتے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
11۔ 1 فعاقبتم۔ پس تم سزا دو یا بدلہ لو۔ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ مسلمان ہو کر آنے والی عورتوں کے حق مہر، جو تمہیں ان کے کافر شوہروں کو ادا کرنے تھے، وہ تم ان مسلمانوں کو دے دو، جن کی عورتیں کافر ہونے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو مہر ادا نہیں کیا (یعنی یہ بھی سزا کی ایک صورت ہے) دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تم کافروں سے جہاد کرو اور جو مال غنیمت حاصل ہو اس میں تقسیم سے پہلے ان مسلمانوں کو، جن کی بیویاں دارالکفر چلی گئی ہیں، ان کے خرچ کے بقدر ادا کردو، گویا مال غنیمت سے مسلمانوں کے نقصان کا (ازالہ) یہ بھی سزا ہے (ایسر التفاسیر و ابن کثیر) اگر مال غنیمت سے بھی ازالہ کی صورت نہ ہو تو بیت المال سے تعاون کیا جائے۔
(آیت 11) {وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ …:} یعنی اگر کافر ان عورتوں کا مہر مسلمانوں کو واپس نہ کریں جو کافر ہو کر یا کافر رہ کر دارالاسلام سے کفار کے ہاں چلی جائیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ کافروں کا جو مال لوٹیں اس میں سے ان مسلمان شوہروں کا خرچ ادا کریں جن کی بیویاں دارالکفر کو بھاگ جائیں، یا دار الکفر سے جو عورتیں مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آ جائیں ان کے مہر کافروں کو واپس کرنے کے بجائے ان مسلمان شوہروں کو ادا کریں جن کی بیویاں دار الکفر کو بھاگ جائیں۔ {” فَعَاقَبْتُمْ “} (پھر تم بدلا حاصل کرو) کے مفہوم میں دونوں چیزیں شامل ہیں، یعنی لڑائی میں مال غنیمت حاصل کرنا یا مقابلہ میں ان کی عورتوں کا مہر ادا کرنا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں، اس {” فَعَاقَبْتُمْ “} کے مفہوم میں وسعت ہے، اگر کفار کا مہر ادا کرنا باقی ہو تو مسلمانوں کو وہ دے دیا جائے، ورنہ مال غنیمت سے اس کے نقصان کی تلافی کر دی جائے۔ ابنِ جریر نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ (اشرف الحواشی)
اے نبیؐ، جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی، اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی، تو ان سے بیعت لے لو اور اُن کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کرو، یقیناً اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے پیغمبر! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وه اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالیں گی اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی(ص)! جب مؤمن عورتیں بیعت کرنے کیلئے آپ کے پاس آئیں تو ان سے ان شرائط پر لو کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر (اپنے شوہروں پر) نہیں باندھیں گی (کسی غیر کے بچے کو شوہر کا بچہ قرار نہیں دیں گی)، اور نہ ہی کسی نیکی کے کام میں آپ(ص) کی نافرمانی کریں گی ان سے بیعت لے لیجئے اور اللہ سے ان کیلئے دعائے مغفرت کیجئے۔ بےشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! جب تیرے پاس مومن عورتیں آئیں، تجھ سے بیعت کرتی ہوں کہ وہ نہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ کوئی بہتان لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہی ہوں اور نہ کسی نیک کام میں تیری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کر۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خواتین کا طریقہ بیعت ٭٭
صحیح بخاری میں ہے { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو مسلمان عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتی تھیں ان کا امتحان اسی آیت سے ہوتا تھا، جو عورت ان تمام باتوں کا اقرار کر لیتی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زبانی فرما دیتے کہ میں نے تم سے بیعت کی یہ نہیں کہ آپ ان کے ہاتھ سے ہاتھ ملاتے ہوں اللہ کی قسم آپ نے کبھی بیعت کرتے ہوئے کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ نہیں لگایا صرف زبانی فرما دیتے کہ ان باتوں پر میں نے تیری بیعت لی }۔ [صحیح بخاری:4891]
ترمذی، نسائی ابن ماجہ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کئی ایک عورتوں کے ساتھ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوئی تو قرآن کی اس آیت کے مطابق آپ نے ہم سے عہد و پیمان لیا اور ہم بھلی باتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں گی کے اقرار کے وقت فرمایا یہ بھی کہہ لو کہ جہاں تک تمہاری طاقت ہے، ہم نے کہا: اللہ کو اور اس کے رسول کو ہمارا خیال ہم سے بہت زیادہ ہے اور ان کی مہربانی بھی ہم پر خود ہماری مہربانی سے بڑھ چڑھ کر ہے، پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہم سے مصافحہ نہیں کرتے؟ فرمایا: ”نہیں، میں غیر عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتا میرا ایک عورت سے کہہ دینا سو عورتوں کی بیعت کے لیے کافی ہے، بس بیعت ہو چکی“، امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن صحیح کہتے ہیں، مسند احمد میں اتنی زیادتی اور بھی ہے کہ ہم میں سے کسی عورت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصافحہ نہیں کیا، [سنن ترمذي:1598،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ سیدہ امیمہ، خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خالہ ہیں، مسند احمد میں سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ تھیں اور دونوں قبلوں کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی تھی، جو بنو عدی بن نجار کے قبیلہ میں سے تھیں، فرماتی ہیں: انصار کی عورتوں کے ساتھ خدمت نبوی میں بیعت کرنے کے لیے میں بھی آئی تھی اور اس آیت میں جن باتوں کا ذکر ہے ان کا ہم نے اقرار کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کا بھی اقرار کرو کہ اپنے خاوندوں کی خیانت اور ان کے ساتھ دھوکہ نہ کرو گی“، ہم نے اس کا بھی اقرار کیا بیعت کی اور جانے لگیں پھر مجھے خیال آیا اور ایک عورت کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ دریافت کر لیں کہ خیانت و دھوکہ نہ کرنے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ اس کا مال چپکے سے کسی اور کو نہ دو۔“ [مسند احمد:6/379ضعیف] مسند کی حدیث میں ہے { سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنی والدہ رایطہ بنت سفیان نزاعیہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں پر بیعت لے رہے تھے اور عورتیں ان کا اقرار کرتی تھیں میری والدہ کے فرمان سے میں نے بھی اقرار کیا اور بیعت والیوں میں شامل ہوئی }، [صحیح بخاری:4892] صحیح بخاری میں { سیدہ ام عطیہ سے منقول ہے کہ ہم نے ان باتوں پر اور اس امر پر کہ ہم کسی مرے پر نوحہ نہ کریں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، اسی اثناء میں ایک عورت نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور کہا میں نوحہ کرنے سے باز رہنے پر بیعت نہیں کرتی اس لیے کہ فلاں عورت نے میرے فلاں مرے پر نوحہ کرنے میں میری مدد کی ہے تو میں اس کا بدلہ ضرور اتاروں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر خاموش ہو رہے اور کچھ نہ فرمایا وہ چلی گئیں لیکن پھر تھوڑی ہی دیر میں واپس آئیں اور بیعت کر لی۔
مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے اور اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس شرط کو صرف اس عورت نے اور سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے ہی پورا کیا، [صحیح بخاری:4892] بخاری کی اور روایت میں ہے کہ { پانچ عورتوں نے اس عہد کو پورا کیا، ام سلیم، ام علام، ابوسبرہ کی بیٹی جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور دو عورتیں اور یا ابوسبرہ کی بیٹی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ایک عورت اور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید والے دن بھی عورتوں سے اس بیعت کا معاہدہ لیا کرتے تھے }، [صحیح بخاری:1306] صحیح بخاری میں ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رمضان کی عید کی نماز میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑھی ہے سب کے سب خطبے سے پہلے نماز پڑھتے تھے، پھر نماز کے بعد خطبہ کہتے تھے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبے سے اترے گویا وہ نقشہ میری نگاہ کے سامنے ہے کہ لوگوں کو بٹھایا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے تشریف لا رہے تھے، یہاں تک کہ عورتوں کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے یہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [الممتحنہ:12] کی تلاوت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم اپنے اس اقرار پر ثابت قدم ہو ایک عورت نے کھڑے ہو کر جواب دیا کہ ہاں، اے اللہ کے رسول! اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں کسی اور نے جواب نہیں دیا، راوی حدیث حسن رحمہ اللہ کو یہ معلوم نہیں کہ یہ جواب دینے والی کون سی عورت تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا خیرات کرو“ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا چنانچہ عورتوں نے اس پر بےنگینہ کی اور نگینہ دار انگوٹھیاں راہ اللہ ڈال دیں }۔ [صحیح بخاری:4895]
مسند احمد کی روایت میں { سیدہ امیمہ رضی اللہ عنہا کی بیعت کے ذکر میں آیت کے علاوہ اتنا اور بھی ہے کہ نوحہ کرنا اور جاہلیت کے زمانہ کی طرح اپنا بناؤ سنگھار غیر مردوں کو نہ دکھانا }، [مسند احمد:196/2:صحیح] بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے بھی ایک مجلس میں فرمایا کہ مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرو جو اس آیت میں ہیں، جو شخص اس بیعت کو نبھا دے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو اس کے خلاف کر گزرے اور وہ مسلم حکومت سے پوشیدہ رہے اس کا حساب اللہ کے پاس ہے اگر چاہے بخش دے اور اگر چاہے عذاب کرے }۔ [صحیح بخاری:18]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عقبہ اولیٰ میں ہم بارہ شخصوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور انہی باتوں پر جو اس آیت میں مذکور ہیں آپ نے ہم سے بیعت لی اور فرمایا: ”اگر تم اس پر پورے اترے تو یقیناً تمہارے لیے جنت ہے“، یہ واقعہ جہاد کی فرضیت سے پہلے کا ہے۔ ابن جریر کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عورتوں سے کہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے اس بات پر بیعت لیتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، ان کی بیعت کے لیے آنے والیوں میں سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا تھیں، عقبہ بن ربیعہ کی بیٹی اور سفیان کی بیوی یہی تھیں جنہوں نے اپنے کفر کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چیر دیا تھا اس وجہ سے یہ ان عورتوں میں ایسی حالت سے آئی تھیں کہ کوئی انہیں پہچان نہ سکے اس نے جب فرمان سنا تو کہنے لگی میں کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن اگر بولوں گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہچان لیں گے اور اگر پہچان لیں گے تو میرے قتل کا حکم دے دیں گے، میں اسی وجہ سے اس طرح آئی ہوں کہ نہ پہچانی جاؤں، مگر اور عورتیں سب خاموش رہیں اور ان کی بات اپنی زبان سے کہنے سے انکار کر دیا، آخر ان ہی کو کہنا پڑا کہ یہ ٹھیک ہے جب شرک کی ممانعت مردوں کو ہے تو عورتوں کو کیوں نہ ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ان سے کہہ دو کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہ چوری نہ کریں، اس پر ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں ابوسفیان کی معمولی سی چیز کبھی کبھی لے لیا کرتی ہوں کیا یہ بھی چوری میں دخل ہے یا نہیں؟ اور میرے لیے یہ حلال بھی ہے یا نہیں؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بھی اسی مجلس میں موجود تھے، یہ سنتے ہی کہنے لگے، میرے گھر میں جو کچھ بھی تو نے لیا ہو خواہ وہ خرچ میں آ گیا ہو یا اب بھی باقی ہو وہ سب میں تیرے لیے حلال کرتا ہوں، اب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف پہچان لیا کہ یہ میرے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قاتلہ اور اس کے کلیجے کو چیرنے والی پھر اسے چبانے والی عورت ہندہ رضی اللہ عنہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہچان کر اور ان کی یہ گفتگو دیکھ کر مسکرا دیئے اور انہیں اپنے پاس بلایا انہوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام کر معافی مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی ہندہ ہو؟“ انہوں نے کہا: گزشتہ گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے اور بیعت کے سلسلہ میں پھر لگ گئے اور فرمایا: ”تیسری بات یہ ہے کہ ان عورتوں میں سے کوئی بدکاری نہ کرے“، اس پر سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا کوئی آزاد عورت بھی بدکاری کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، اللہ کی قسم آزاد عورتیں اس برے کام سے ہرگز آلود نہیں ہوتیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”چوتھی بات یہ ہے کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں“ ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے انہیں بدر کے دن قتل کیا ہے، آپ جانیں اور وہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچویں بات یہ ہے کہ خود اپنی ہی طرف سے جوڑ کر بےسر پیر کا کوئی خاص بہتان نہ تراش لیں اور چھٹی بات یہ ہے کہ میری شرعی باتوں میں میری نافرمانی نہ کریں“ اور ساتواں عہد آپ نے ان سے یہ بھی لیا کہ وہ نوحہ نہ کریں اہل جاہلیت اپنے کسی کے مر جانے پر کپڑے پھاڑ ڈالتے تھے منہ نوچ لیتے تھے بال کٹوا دیتے تھے اور ہائے وائے کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34013:ضعیف] یہ اثر غریب ہے اور اس کے بعض حصے میں نکارت بھی ہے اس لیے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا کے اسلام کے وقت انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی اندیشہ نہ تھا بلکہ اس سے بھی آپ نے صفائی اور محبت کا اظہار کر دیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ایک اور روایت میں ہے کہ فتح مکہ والے دن بیعت والی یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پر مردوں سے بیعت لی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں سے بیعت لی اس میں اتنا اور بھی ہے کہ اولاد کے قتل کی ممانعت سن کر ہندہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے تو انہیں چھٹپنے پال پوس کر بڑا کیا لیکن ان بڑوں کو تم نے قتل کیا، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مارے ہنسی کے لوٹ لوٹ گئے۔ ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ جب سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا بیعت کرنے آئیں تو ان کے ہاتھ مردوں کی طرح سفید تھے، آپ نے فرمایا: ”جاؤ ان کا رنگ بدل لو“ چنانچہ وہ مہندی لگا کر حاضر ہوئیں، ان کے ہاتھ میں دو سونے کے کڑے تھے انہوں نے پوچھا کہ ان کی نسبت کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”جہنم کی آگ کے دو انگارے ہیں“، [مسند ابویعلیٰ194/8:ضعیف] (یہ حکم اس وقت ہے جب ان کی زکوٰۃ نہ ادا کی جائے) اس بیعت کے لینے کے وقت آپ کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا، جب اولادوں کے قتل کی ممانعت پر ان سے عہد لیا گیا تو ایک عورت نے کہا، ان کے باپ دادوں کو تو قتل کیا اور ان کی اولاد کی وصیت ہمیں ہو رہی ہے، یہ شروع شروع میں صورت بیعت کی تھی لیکن پھر اس کے بعد آپ نے یہ دستور کر رکھا تھا کہ جب بیعت کرنے کے لیے عورتیں جمع ہو جاتیں تو آپ یہ سب باتیں ان پر پیش فرماتے، وہ ان کا اقرار کرتیں اور واپس لوٹ جاتیں۔ پس فرمان اللہ ہے کہ جو عورت ان امور پر بیعت کرنے کے لیے آئے تو اس سے بیعت لے لو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، غیر لوگوں کے مال نہ چرانا، ہاں اس عورت کو جس کا خاوند اپنی طاقت کے مطابق کھانے پینے پہننے اوڑھنے کو نہ دیتا ہو جائز ہے کہ اپنے خاند کے مال سے مطابق دستور اور بقدر اپنی حاجت کے لے گو خاوند کو اس کا علم نہ ہو اس کی دلیل ہندہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے خاوند ابوسفیان بخیل آدمی ہیں وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولادوں کو کافی ہو سکے تو کیا میں اگر ان کی بےخبری میں اور ان کے مال میں لے لوں تو مجھے جائز ہے؟ آپ نے فرمایا بطریق معروف اس کے مال سے اتنا لے لے جو تجھے اور تیرے بال بچوں کو کفایت کرے۔ [صحیح بخاری:2211]
اور زناکاری نہ کریں، جیسے اور جگہ ہے «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا» [17-الاسراء:32] کے قریب نہ جاؤ وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے، سیدہ سمرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں زنا کی سزا اور درد ناک عذاب جہنم بیان کیا گیا ہے، [صحیح بخاری:7047] مسند احمد میں ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت عقبہ رضی اللہ عنہا جب بیعت کے لیے آئیں اور اس آیت کی تلاوت ان کے سامنے کی گئی تو انہوں نے شرم سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا آپ کو ان کی یہ حیاء اچھی معلوم ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا انہی شرطوں پر ہم سب نے بیعت کی ہے یہ سن کر انہوں نے بھی بیعت کر لی، [مسند احمد:151/6:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے طریقے اوپر بیان ہو چکے ہیں، اولاد کو قتل نہ کرنے کا حکم عام ہے، پیدا شدہ اولاد کو مار ڈالنا بھی اسی ممانعت میں ہے جیسے کہ جاہلیت کے زمانے والے اس خوف سے کرتے تھے کہ انہیں کہاں سے کھلائیں گے پلائیں گے، اور حمل کا گرا دینا بھی اسی ممانعت میں ہے خواہ اس طرح ہو کہ ایسے علاج کئے جائیں جس سے حمل ٹھہرے ہی نہیں یا ٹھہرے ہوئے حمل کو کسی طرح گرا دیا جائے۔
بری غرض وغیرہ سے، بہتان نہ باندھنے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بیان فرمایا ہے کہ دوسرے کی اولاد کو اپنے خاوند کے سر چپکا دینا۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ «ملاعنہ» کی آیت کے نازل ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت کسی قوم میں اسے داخل کرے جو اس قوم کا نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی گنتی شمار میں نہیں اور جو شخص اپنی اولاد سے انکار کر جائے حالانکہ وہ اس کے سامنے موجود ہو اللہ تعالیٰ اس سے آڑ کر لے گا اور تمام اگلوں پچھلوں کے سامنے اسے رسوا و ذلیل کرے گا“، [سنن ابوداود:2263،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں یعنی آپ کے احکام بجا لائیں اور آپ کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک جایا کریں، یہ شرط یعنی معروف ہونے کی عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے لگا دی ہے، میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اطاعت بھی فقط معروف میں رکھی ہے اور معروف ہی طاعت ہے۔ سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دیکھ لو کہ بہترین خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کا حکم بھی معروف میں ہی ہے، اس بیعت والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کا اقرار بھی لیا تھا جیسے سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں پہلے گزر چکا، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس بیعت میں یہ بھی تھا کہ عورتیں غیر محرموں سے بات چیت نہ کریں، اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم گھر پر موجود نہیں ہوتے اور مہمان آ جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میری مراد ان سے بات چیت کرنے کی ممانعت سے نہیں، میں ان سے کام کی بات کرنے سے نہیں روکتا“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34014:مرسل] ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیعت کے موقعہ پر عورتوں کو نامحرم مردوں سے باتیں کرنے سے منع فرمایا [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] اور فرمایا بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں کہ پرائی عورتوں سے باتیں کرنے میں ہی مزہ لیا کرتے ہیں یہاں تک کہ مذی نکل جاتی ہے۔ اوپر حدیث بیان ہو چکی ہے کہ نوحہ نہ کرنے کی شرط پر ایک عورت نے کہا فلاں قبیلے کی عورتوں نے میرا ساتھ دیا ہے تو ان کے نوحے میں میں بھی ان کا ساتھ دے کر بدلہ ضرور اتاروں گی چنانچہ وہ گئیں بدلہ اتارا پھر آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جن کا نام ان عورتوں میں ہے جنہوں نے نوحہ نہ کرنے کی بیعت کو پورا کیا یہ ملحان کی بیٹی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ [صحیح بخاری:4892] اور روایت میں ہے کہ جس عورت نے بدلے کے نوحے کی اجازت مانگی تھی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی تھی یہی وہ معروف ہے جس میں نافرمانی منع ہے، بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک کا بیان ہے کہ معروف میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں اس سے مطلب یہ ہے کہ مصیبت کے وقت منہ نہ نوچیں، بال نہ منڈوائیں، کپڑے نہ پھاڑیں، ہائے وائے نہ کریں۔
ابن جریر میں سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مدینہ میں تشریف لائے تو ایک دن آپ نے حکم دیا کہ سب انصاریہ عورتیں فلاں گھر میں جمع ہوں، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجا آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کیا ہم نے آپ کے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ہم نے کہا: رسول اللہ کو بھی مرحبا ہو اور آپ کے قاصد کو بھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں حکم کروں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ کرنے پر، چوری اور زناکاری سے بچنے پر بیعت کرو، ہم نے کہا ہم سب حاضر ہیں اور اقرار کرتی ہیں، چنانچہ آپ نے وہیں باہر کھڑے کھڑے اپنا ہاتھ اندر کی طرف بڑھا دیا اور ہم نے اپنے ہاتھ اندر سے اندر ہی اندر بڑھائے، پھر آپ نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہے۔ پھر حکم ہوا کہ دونوں عیدوں میں ہم اپنی خانضہ عورتوں اور جوان کنواری لڑکیوں کو لے جایا کریں، ہم پر جمعہ فرض نہیں، ہمیں جنازوں کے ساتھ نہ جانا چاہیئے۔ اسماعیل راوی حدیث فرماتے ہیں میں نے اپنی دادی صاحبہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ عورتیں معروف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں اس سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا یہ کہ نوحہ نہ کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34029:ضعیف]
بخاری و مسلم میں ہے کہ { جو کوئی مصیبت کے وقت اپنے گالوں پر تھپڑ مارے، دامن چاک کرے اور جاہلیت کے وقت کی ہائی دہائی مچائے، وہ ہم میں سے نہیں } [صحیح بخاری:1294] اور روایت میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں، جو گلا پھاڑ پھاڑ کر ہائے وائے کرے، بال نوچے یا منڈوائے اور کپڑے پھاڑے یا دامن چیرے }۔ [صحیح مسلم:104] ابویعلی میں ہے کہ { میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جنہیں وہ نہ چھوڑیں گے، حسب نسب پر فخر کرنا، انسان کو اس کے نسب کا طعنہ دینا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا اور فرمایا: ”نوحہ کرنے والی عورت اگر بغیر توبہ کئے مر جائے تو اسے قیامت کے دن گندھک کا پیراہن پہنایا جائے گا اور کھجلی کی چادر اڑھائی جائے گی“ }۔ [صحیح مسلم:934] ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والیوں پر اور نوحے کو کان لگا کر سننے والیوں پر لعنت فرمائی }، [سنن ابوداود:3128،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { معروف میں نافرمانی نہ کرنے سے مراد نوحہ کو کان لگا کر سننے والیوں پر لعنت فرمائی }، ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { معروف میں نافرمانی نہ کرنے سے مراد نوحہ نہ کرنا ہے، یہ حدیث ترمذی کی کتاب التفسیر میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں }۔ [سنن ابن ماجہ:1579،قال الشيخ الألباني:حسن]
12۔ 1 یہ بیعت اس وقت لیتے جب عورتیں ہجرت کرکے آتیں جیسا کہ صحیح بخاری تفسیر سورة ممتحنہ میں ہے علاوہ ازیں فتح مکہ والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی عورتوں سے بیعت لی بیعت لیتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے عہد لیتے کسی عورت کے ہاتھ کو آپ نہیں چھوتے تھے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں اللہ کی قسم بیعت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا بیعت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ فرماتے کہ میں نے ان باتوں پر تجھ سے بیعت لے لی۔ صحیح بخاری۔ بیعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ عہد بھی عورتوں سے لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی گریبان چاک نہیں کریں گی سر کے بال نہیں نوچیں گی اور جاہلیت کی طرح بین نہیں کریں گی۔ صحیح بخاری۔ اس بیعت میں نماز روزہ حج اور زکوٰۃ وغیرہ کا ذکر نہیں ہے اس لیے کہ یہ ارکان دین اور شعائراسلام ہونے کے اعتبار سے محتاج وضاحت نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص ان چیزوں کی بیعت لی جن کا عام ارتکاب عورتوں سے ہوتا تھا تاکہ وہ ارکان دین کی پابندی کے ساتھ ان چیزوں سے بھی اجتناب کریں اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ علماودعاۃ اور واعظین حضرات اپنا زور خطابت ارکان دین کے بیان کرنے میں ہی صرف نہ کریں جو پہلے ہی واضح ہیں بلکہ ان خرابیوں اور رسموں کی بھی پر زور انداز میں تردید کیا کریں جو معاشرے میں عام ہیں اور نماز روزے کے پابند حضرات بھی ان سے اجتناب نہیں کرتے۔
(آیت 12) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ …:} عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان کیا کہ جو مومن عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آتیں آپ ان کا امتحان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ لیتے تھے: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ … غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» تو ان مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرماتے: [ قَدْ بَايَعْتُكِ ] ”میں نے تم سے بیعت لے لی۔“ صرف کلام کے ساتھ اور اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے بیعت لیتے وقت کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، آپ ان سے صرف ان الفاظ کے ساتھ بیعت لیتے تھے: [ قَدْ بَايَعْتُكِ عَلٰی ذٰلِكَ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ الممتحنۃ، باب: «إذا جاء کم المؤمنات مھاجرات» : ۴۸۹۱ ] ”میں نے ان باتوں پر تم سے بیعت لے لی۔“ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں چند عورتوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے بیعت کرنے کے لیے آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے قرآن کی اس آیت کے مطابق بیعت لی: «عَلٰۤى اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْـًٔا …» اور فرمایا: [ فِيْمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ ] ”جتنی تم استطاعت اور طاقت رکھو۔“ ہم نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والے ہیں۔“ ہم نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ ہم سے مصافحہ نہیں کرتے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنِّيْ لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِيْ لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ كَقَوْلِيْ لِمِائَةِ امْرَأَةٍ ] [ مسند أحمد: 357/6، ح: ۲۷۰۰۹۔ ترمذي، السیر، باب ما جاء في بیعۃ النساء: ۱۵۹۷، وصححہ الترمذي والألباني ] ”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میری بات ایک عورت سے اسی طرح ہے جیسے ایک سو عورتوں سے ہو۔“ ➋ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت جیسے اہم موقع پر کسی عورت سے مصافحہ نہیں کیا تو کسی اور کے لیے غیر محرم عورت سے مصافحہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ کفار کی تقلید میں غیر محرم عورتوں سے مصافحے کا رواج اور تقدس کے پردے میں پیروں کا اجنبی عورتوں سے مصافحہ دونوں حرام ہیں، کیونکہ نیت کے خلل کے ساتھ وہ زنا کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں اور سد ذرائع (گناہ کے ذریعوں سے روکنا) شریعت کا مسلّم اصول ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الْاِسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوٰی وَيَتَمَنّٰی وَيُصَدِّقُ ذٰلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ ] [ مسلم، القدر، باب قدر علی ابن آدم حظہ من الزنی وغیرہ: ۲۱ /۲۶۵۷ ] ”پس آنکھیں، ان کا زنا دیکھنا ہے اور کان، ان کا زنا توجہ سے سننا ہے اور زبان، اس کا زنا کلام ہے اور ہاتھ، اس کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں، اس کا زنا چلنا ہے اور دل خواہش کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اس کی تکذیب کر دیتی ہے۔“ ➌ جاہلی معاشرے میں اللہ کے ساتھ شرک، چوری، زنا، قتل اولاد اور بہتان کا رواج عام تھا، اس لیے ان کا خاص طور پر ذکر کر کے ان سے منع فرمایا، جیسا کہ وفد عبدالقیس کو خاص طور پر ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا جن میں شراب بنائی جاتی تھی، کیونکہ وہ مسلمان ہو چکے تھے مگر ابھی تک ان میں شراب نوشی کا رواج باقی تھا۔ رہی دوسری منع کردہ چیزیں یا وہ چیزیں جن پر عمل کا حکم دیا ہے، تو وہ سب {” وَ لَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ “} میں آگئی ہیں۔ یہاں چونکہ عورتوں کی آمد کا ذکر ہے اس لیے ان کا نام لیا، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں سے بھی انھی باتوں پر بیعت لیتے تھے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر جب آپ کے گرد آپ کے اصحاب کی ایک جماعت موجود تھی فرمایا: [ بَايِعُوْنِيْ عَلٰی أَنْ لاَ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوْا، وَلاَ تَزْنُوْا، وَلاَ تَقْتُلُوْا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُوْا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُوْا فِيْ مَعْرُوْفٍ، فَمَنْ وَفٰی مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَی اللّٰهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا فَعُوْقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللّٰهُ فَهُوَ إِلَی اللّٰهِ، إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَ إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ، فَبَايَعْنَاهُ عَلٰی ذٰلِكَ ] [بخاري، الإیمان، باب علامۃ الإیمان حب الأنصار: ۱۸ ] ”مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور زنا نہیں کرو گے اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور کوئی بہتان نہیں لاؤ گے جسے تم اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ کر لا رہے ہو گے اور کسی نیک کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ پھر تم میں سے جس نے اس عہد کو پورا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کر لیا، پھر اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے گناہ دور کرنے کا باعث ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کیا، پھر اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ کے سپرد ہے، اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے سزا دے۔“ تو ہم نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔“ حدیبیہ اور فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے ان باتوں پر بیعت لی ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقع پر مردوں کو خطبہ دینے کے بعد عورتوں کی طرف آئے اور فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ …» پھر جب آپ آیت کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا: [ آنْتُنَّ عَلٰی ذٰلِكَ؟ ] ”کیا تم اس پر قائم ہو؟“ ان میں سے ایک عورت نے کہا، جس کے سوا کسی نے جواب نہیں دیا: [ نَعَمْ ] ”جی ہاں!“ [ بخاري، العیدین، باب موعظۃ الإمام النساء یوم العید: ۹۷۹] ➍ { وَ لَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ:} اس میں حمل گرانا بھی شامل ہے، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔ ➎ { وَ لَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ: ”بُهْتَانٌ“} کسی کے ذمے گھڑ کر لگایا ہوا جھوٹ جسے سن کر وہ مبہوت اور ششدر رہ جائے۔ اکثر مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کا بچہ لا کر خاوند اور دوسرے لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرے کہ اس کی ولادت اس کے شکم سے ہوئی ہے، خواہ وہ کوئی گرا ہوا بچہ اٹھا کر لے آئی ہو یا کسی اور طرح سے لے آئی ہو۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب خاوند مدت تک غائب رہا ہو، یا خاوند کے بجائے کسی اور سے بچے کو جنم دے کر اسے خاوند کا بچہ ظاہر کرے۔ {” بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ “} (ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان) کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ولادت عورت کے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان ہوتی ہے۔ مگر ”بہتان“ کو انھی صورتوں کے ساتھ خاص کرنا مشکل ہے، کیونکہ ایک تو بہتان کا لفظ عام ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے بیعت لی تو ان کے لیے بھی یہ الفاظ استعمال فرمائے: [ وَلاَ تَأْتُوْا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ ] [ بخاري: ۱۸ ] ”اور نہ تم کوئی بہتان لاؤ گے جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہے ہوں۔“ جیسا کہ پچھلے فائدے میں یہ حدیث گزری ہے۔ ظاہر ہے بہتان کی یہ صورتیں مردوں سے متعلق تصور نہیں کی جا سکتیں۔ عربی زبان میں {”بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ“} کا معنی ”سامنے“ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ» [ البقرۃ: ۲۵۵ ] ”وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے۔“ {” وَأَرْجُلِهِمْ“} کا لفظ اس کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے اس کا سادہ مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس بات کا وجود ہی نہیں اسے گھڑ کر پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے سامنے لا کر پیش نہ کر دیا کریں۔ اور یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ اس بات کی پروا نہ کرتے ہوئے کہ قیامت کے دن ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف شہادت دیں گے، وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے کسی پر بہتان نہ لگا دیا کریں، بلکہ انھیں چاہیے کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ چار گواہوں کی موجودگی میں بہتان لگا رہی ہیں۔ اس مطلب کی تائید دوسری جگہ بہتان باندھنے والوں کے ملعون ہونے کے سلسلے میں ہاتھوں اور پاؤں کی شہادت کے ذکر سے ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (23) يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (24) يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ وَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ» [ النور: ۲۳ تا ۲۵ ] ”بے شک وہ لوگ جو پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اس دن اللہ انھیں ان کا صحیح بدلا پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے، جو ظاہر کرنے والا ہے۔“ الغرض آیت میں بہتان کی ایک صورت نہیں بلکہ ہر قسم کے بہتان سے اجتناب کا عہد لیا گیا ہے۔ ➏ { وَ لَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ:} اس جملے میں پوری شریعت پر عمل کا اقرار آگیا۔ اس اقرار میں {” فِيْ مَعْرُوْفٍ “} کی شرط لگانے کی کئی توجیہیں ہیں، ایک یہ کہ اس سے اس بات کی صراحت مقصود ہے کہ رسول حکم ہی معروف کا دیتا ہے، پھر اس کی معصیت کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔ دوسری یہ کہ اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم معروف کے سوا ہو ہی نہیں سکتا، مگر اس کے ساتھ {” مَعْرُوْفٍ “} (نیک) ہونے کی قید اس لیے لگائی تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ مخلوق کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام میں جائز نہیں، یہاں تک کہ رسول کی اطاعت بھی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ تیسری یہ کہ یہاں معاملہ عورتوں کا ہے، ان کو مطلق اطاعت کے حکم سے کہ وہ آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کریں گی، شیطان کسی کے دل میں گمراہی کا وسوسہ پیدا کر سکتا تھا، اس کا راستہ روکنے کے لیے یہ قید لگا دی۔ ➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کئی صورتیں مروی ہیں، جن میں سے ایک اسلام کی بیعت ہے، ایک جہاد کی، ایک بعض باتوں کی پابندی کی، مثلاً یہ کہ وہ کسی سے سوال نہیں کریں گے اور ایک کبائر سے توبہ اور اطاعت کے عہد کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام سے یہ تو ثابت ہے کہ انھوں نے لوگوں سے اسلام لانے کی بیعت لی اور امراء سے اطاعت کی بیعت کی، مگر خلیفہ یا امیر کے علاوہ کسی اور شخص کا لوگوں سے اپنا مرید بنانے کی بیعت لینا، جیسا کہ صوفیہ کا طریقہ ہے، صحابہ کرام کے دور بلکہ پورے خیر القرون میں ثابت نہیں، کیونکہ اس سے مسلمانوں میں فرقے اور گروہ پیدا ہوتے ہیں۔ پھر یہ معاملہ نقشبندی، سہروردی، چشتی اور قادری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہر ایک اپنی الگ گدی اور الگ حلقہ قائم کر لیتا ہے جو صرف اس کے حکم کا پابند ہوتا ہے اور ہر پیر و مرشد کا تقاضا ہوتا ہے کہ مرید کا علم چونکہ ناقص ہے اس لیے اگر اس کا مرشد اسے شریعت کے صریح خلاف حکم دے تو وہ بھی اس کے لیے ماننا ضروری ہے، کیونکہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان حضرات نے {” فِيْ مَعْرُوْفٍ “} کی قید بھی اڑا دی، چنانچہ ان کے لسان الغیب حافظ شیرازی کہہ گئے ہیں: بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بے خبر نبود زراہ و رسم منزلہا ”اگر پیر مغاں تمھیں حکم دیتا ہے تو مصلے کو شراب سے رنگ لو، کیونکہ سالک منزلوں کے راہ و رسم سے بے خبر نہیں ہوتا۔“ حقیقت یہ ہے کہ پیری مریدی کا یہ سلسلہ امت کے کتاب و سنت سے دوری اور اس کے باہمی افتراق کا خوف ناک باعث ہے۔ آپ لاکھ قرآن و سنت سنائیں، پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا یہی کہے گا کہ کیا ہمارے پیر کو یہ معلوم نہیں۔ رہی یہ بات کہ ہم بطور استاذ اور ہادی پیر کی بیعت کرتے ہیں، تو ایک تو اس کے لیے بیعت کی ضرورت نہیں، پھر اپنے آپ کو ایک ہی استاذ اور ہادی کے حکم کا پابند بنانا کہاں سے ثابت ہوا؟ آپ متعدد اساتذہ اور رہنماؤں سے تعلیم اور رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں اور کرنی چاہیے۔ ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہر صورت ہی درست تھی، کیونکہ وہ نبی تھے، ان کے ہوتے کسی اور کی بیعت نہ تھی اور نہ ہی اس سے افتراق یا انتشار پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ پھر خلیفہ اور امیر کی بیعت درست ہے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے اور ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی بیعت جائز نہیں۔ ➑ { فَبَايِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں تو آپ ان کی بیعت قبول کر لیں اور اس سے پہلے ان سے جو لغزشیں ہوئیں یا آئندہ بشری کمزوری کی بنا پر ہوں گی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اُن لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے مسلمانو! تم اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے جو آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں جیسے کہ مرده اہل قبر سے کافر ناامید ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہے وہ آخرت سے آس توڑ بیٹھے ہیں جیسے کافر آس توڑ بیٹھے قبر والوں سے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ نے اپنا غضب نازل کیا ہے وہ آخرت سے اس طرح ناامید ہیں جس طرح کافر لوگ قبروں میں گڑے ہوئے مردوں (کے دوبارہ زندہ ہونے) سے ناامید ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ غصے ہو گیا، جو آخرت سے اسی طرح ناامید ہو چکے ہیں جس طرح وہ کافر ناامید ہو چکے ہیں جو قبروں والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار سے دلی دوستی کی ممانعت ٭٭
اس سورت کی ابتداء میں جو حکم تھا وہی انتہا میں بیان ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے جن پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اتر چکی ہے اور اللہ کی رحمت اور اس کی شفاعت سے دور ہو چکے ہیں تم ان سے دوستانہ اور میل ملاپ نہ رکھو، وہ آخرت کے ثواب سے اور وہاں کی نعمتوں سے ایسے ناامید ہو چکے ہیں جیسے قبروں والے کافر، اس پچھلے جملے کے دو معنی کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ جیسے زندہ کافر اپنے مردہ کافروں کے دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہو چکے ہیں، دوسرے یہ کہ جس طرح مردہ کافر ہر بھلائی سے ناامید ہو چکے ہیں وہ مر کر آخرت کے احوال دیکھ چکے اور اب انہیں کسی قسم کی بھلائی کی توقع نہیں رہی۔ «الحمداللہ» سورۃ الممتحنہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
13۔ 1 اس سے بعض یہود، بعض منافقین اور بعض نے تمام کافر مراد لئے ہیں۔ یہ آخری قول ہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اس میں یہود و منافقین بھی آجاتے ہیں، علاوہ ازیں سارے کفار ہی غضب الٰہی کے مستحق ہیں، اس لئے مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی کافر سے دوستانہ تعلق مت رکھو، جیسا کہ یہ مضمون قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ 13۔ 2 آخرت سے مایوس ہونے کا مطلب، قیامت کے برپا ہونے سے انکار ہے۔ ایک دوسرے معنی اس کے یہ کئے گئے ہیں کہ قبروں میں مدفون کافر، ہر قسم کی خیر سے مایوس ہوگئے۔ کیونکہ مر کر انہوں نے اپنے کفر کا انجام دیکھ لیا، اب وہ خیر کی کیا توقع کرسکتے ہیں (ابن جریر طبری)۔
(آیت 13) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ:} سورت کے شروع میں {” لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ “} میں مشرکین کی دوستی سے منع فرمایا تھا، آخر میں یہود کی دوستی سے منع فرمایا۔ قرآن مجید میں {”مغضوب عليهم“} عموماً یہود کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ فاتحہ میں {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} کی تفسیر۔ ➋ {قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ:} اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ {” مِنْ “} بیانیہ ہے اور {” اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ “ ” الْكُفَّارُ “} کا بیان ہے۔ یعنی ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہو گیا، (کیونکہ انھوں نے حق کو جانتے ہوئے اور یہ پہچانتے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی ہیں، آپ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا، اس لیے) وہ آخرت (کی ہر خیر) سے نا امید ہو چکے، جس طرح وہ کافر آخرت (کی ہر خیر) سے ناامید ہو چکے جو قبروں والوں میں سے ہیں، یعنی وہ کافر جو فوت ہو چکے اور اپنی آنکھوں سے اپنے عذاب کو دیکھ کر ہر خیر سے مایوس ہو چکے، ان کی طرح یہ یہودی بھی جان بوجھ کر حق کو جھٹلانے کی وجہ سے آخرت (کی ہر بھلائی) سے مایوس ہیں، سو انھیں دوست مت بناؤ۔ متن میں ترجمہ اسی مفہوم کے مطابق کیا گیا ہے اور طبری نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” مِنْ “} ابتدائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوا، جو آخرت کے واقع ہونے سے اسی طرح ناامید ہیں جس طرح کفار قبروں والوں کے واپس آنے سے ناامید ہو چکے ہیں۔ یہ دونوں تفسیریں درست ہیں۔ ➌ بعض اہلِ علم نے {”مغضوب عليهم“} کو عام رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ جس طرح {” عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ “} کے الفاظ عام ہیں، اسی طرح {”مغضوب عليهم“} کے الفاظ بھی عام ہیں، ان میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین و منافقین سبھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے سبھی کی دوستی سے منع فرمایا ہے اور ان سب پر اللہ کا غضب بھی ہے۔ سبھی آخرت میں کسی بھی خیر کی توقع سے محروم ہیں اور سب کافر اس بات سے بھی ناامید ہو چکے ہیں کہ مرنے والے ان کے پاس دوبارہ آئیں گے۔ قرآن مجید میں یہود کے علاوہ دوسرے کفار کے لیے بھی ”غضب“ کا لفظ آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۷۱)، نحل (۱۰۶)، شوریٰ (۱۶) اور سورۂ فتح (۶)۔