بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 116
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 116
آیت نمبر: 116 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
فَتَعٰلَی اللّٰہُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡکَرِیۡمِ ﴿۱۱۶﴾
پس بالا و برتر ہے اللہ، پادشاہ حقیقی، کوئی خدا اُس کے سوا نہیں، مالک ہے عرش بزرگ کا
اللہ تعالیٰ سچا بادشاه ہے وه بڑی بلندی واﻻ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے
تو بہت بلندی والا ہے اللہ سچا بادشاہ کوئی معبود نہیں سوا اس کے عزت والے عرش کا مالک،
اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے (ایسی بات سے) بلند و برتر ہے اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ وہ عزت و عظمت والے عرش کا مالک ہے۔
پس بہت بلند ہے اللہ، جو سچا بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، عزت والے عرش کا رب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مختصر زندگی طویل گناہ ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہو گئے اگر نیکو کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہو گا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس سے بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کر لیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کر کے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کر دیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الٰہی میں بسر کر دیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی خوشی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی دوزخی اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے تو جناب باری عزوجل مومنوں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے یہی کوئی ایک آدھ دن اللہ فرمائے گا پھر تو بہت ہی اچھے رہے کہ اتنی سی دیر کی نیکیوں کا یہ بدلہ پایا کہ میری رحمت رضا مندی اور جنت حاصل کر لی۔ جہاں ہمیشگی ہے پھر جہنمیوں سے یہ سوال ہو گا وہ بھی اتنی ہی مدت بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری تجارت بڑی گھاٹے والی ہوئی کہ اتنی سی مدت میں تم نے میری ناراضگی غصہ اور جہنم خرید لیا، جہاں تم ہمیشہ پڑے رہو گے کیا تم لوگ یہ سمجھے ہوئے ہو کہ تم بے کار بے مقصد و ارادہ پیدا کئے گے ہو؟ کوئی حکمت تمہاری پیدائش میں نہیں؟ محض کھیل کے طور پر تمہیں پیدا کر دیا گیا ہے؟ کہ مثل جانوروں کے تم اچھل کودتے پھرو ثواب عذاب کے مستحق ہو یہ گمان غلط ہے تم عبادت کے لیے اللہ کے حکموں کی بجا آوری کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ کیا تم یہ خیال کر کے نچنت ہو گے ہو گئے ہو کہ تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں؟ یہ بھی غلط خیال ہے جیسے فرمایا «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى» [ 75- القيامة: 36 ] ‏‏‏‏ کیا لوگ یہ گماں کرتے ہیں کہ وہ مہمل چھوڑ دئیے جائیں گے اللہ کی بات اس سے بلندوبرتر ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے بے کار بنائے، بگاڑے وہ سچا بادشاہ اس سے پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے وہ بہت بھلا اور عمدہ ہے خوش شکل اور نیک منظر ہے جیسے فرمان ہے ”زمین میں ہم نے ہرجوڑا عمدہ پیدا کر دیا ہے۔‏‏‏‏“

خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن العزیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آخری خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو! تم بے کار اور عبث پیدا نہیں کئے گئے اور تم مہمل چھوڑ نہیں دیئے گئے یاد رکھو کہ وعدے کا ایک دن ہے جس میں خود اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے اور حکم فرمانے کیلئے نازل ہو گا۔ وہ نقصان میں پڑا اس نے خسارہ اٹھایا وہ بے نصیب اور بدبخت ہو گیا، وہ محروم اور خالی ہاتھ رہا، جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا اور جنت سے روک دیا گیا، جس کی چوڑائی مثل کل زمینوں اور آسمانوں کے ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کل قیامت کے دن عذاب الٰہی سے وہ بچ جائے گا، جس کے دل میں اس دن کا خوف آج ہے اور جو اس فانی دنیا کو اس باقی آخرت پر قربان کر رہا ہے، اس تھوڑے کو اس بہت کے حاصل کرنے کیلئے بے تکان خرچ کر رہا ہے اور اپنے اس خوف کو امن سے بدلنے کے اسباب مہیا کر رہا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے گزشتہ لوگ ہلاک ہوئے، جن کے قائم مقام اب تم ہو۔ اسی طرح تم بھی مٹا دیئے جاؤ گے اور تمہارے بدلے آئندہ آنے والے آئیں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا سمٹ کر اس خیرالوراثین کے دربار میں حاضری دے گی۔

لوگو خیال تو کرو کہ تم دن رات اپنی موت سے قریب ہو رہے ہو اور اپنے قدموں سے اپنی گور کی طرف جا رہے ہو، تمہارے پھل پک رہے ہیں، تمہاری امیدیں ختم ہو رہی ہیں، تمہاریں عمریں پوری ہو رہی ہیں۔ تمہاری اجل نزدیک آ گئی ہے، تم زمین کے گڑھوں میں دفن کر دیئے جاؤ گے، جہاں نہ کوئی بستر ہو گا، نہ تکیہ، دوست احباب چھوٹ جائیں گے، حساب کتاب شروع ہو جائے گا، اعمال سامنے آ جائیں گے، جو چھوڑ آئے وہ دوسروں کا ہو جائے گا۔ جو آگے بھیج چکے، اسے سامنے پاؤ گے، نیکیوں کے محتاج ہو گے، بدیوں کی سزائیں بھگتو گے۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اس کی باتیں سامنے آ جائیں اس سے پہلے موت تم کو اچک لے جائے۔ اس سے پہلے جواب دہی کیلئے تیار ہو جاؤ، اتنا کہا تھا کہ رونے کے غلبہ نے آواز بلند کر دی۔ منہ پر چادر کا کونہ ڈال کر رونے لگے اور حاضرین کی بھی آہ و زاری شروع ہو گئی۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک بیمار شخص جسے کوئی جن ستا رہا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے «اَفَحَسِبْتُمْ» سے سورت کے ختم تک کی آیتیں اس کے کان میں تلاوت فرمائیں وہ اچھا ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہما تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا؟ ”آپ رضی اللہ عنہما نے بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے یہ آیتیں اس کے کان میں پڑھ کر اسے جلا دیا۔ واللہ ان آیتوں کو اگر کوئی باایمان اور بایقین شخص کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے۔‏‏‏‏“ [ابو نعیم فی الحلیة 70/1:مرفوع] ‏‏‏‏ ابونعیم نے روایت کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں بھیجا اور حکم فرمایا کہ ہم صبح شام «اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 115 ] ‏‏‏‏ پڑھتے رہیں ہم نے برابر اس کی تلاوت دونوں وقت جاری رکھی۔ الحمدللہ ہم سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے۔ [الدر المنثور للسیوطی،34/5] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کا ڈوبنے سے بچاؤ کشتیوں میں سوار ہونے کے وقت یہ کہنا ہے۔ [طبرانی کبیر:124/12:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [ 39-الزمر: 67 ] ‏‏‏‏ «بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11- هود: 41 ] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

116-1یعنی وہ اس سے بہت بلند کہ وہ تمہیں بغیر کسی مقصد کے یوں ہی ایک کھیل کے طور پر بےکار پیدا کیا اور وہ ہے اس کی عبادت کرنا۔ اسی لئے آگے فرمایا وہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ 116-2عرش کی صفت کریم بیان فرمائی کہ وہاں سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 116) ➊ { فَتَعٰلَى اللّٰهُ …: ” تَعَالٰي“ ”عَلَا يَعْلُوْ“} (ن) سے باب تفاعل ہے، جس میں مبالغہ ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”پس بہت بلند ہے اللہ“ یعنی اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ تمھیں بے کار اور بے مقصد پیدا کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان فرمائیں، جن میں سے ہر صفت کا تقاضا ہے کہ وہ کوئی کام عبث اور بے مقصد نہ کرے۔ ➋ { الْمَلِكُ الْحَقُّ:} پہلی صفت یہ ہے کہ وہ سچا بادشاہ ہے، اس کی بادشاہی حق اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ دوسرے بادشاہ نہ اپنی بادشاہی کے حقیقی مالک ہیں اور نہ ان کی بادشاہی حق اور باقی رہنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ» [ آل عمران: ۲۶ ] ”کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔“ جب کوئی عقل مند آدمی بے مقصد کام نہیں کرتا تو سچا بادشاہ جو ساری کائنات کا اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے، اس کے متعلق تم نے کیسے گمان کر لیا کہ اس نے تمھیں عبث اور بے مقصد پیدا کر دیا ہے؟ ➌ { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} یہ دوسری صفت ہے، جس میں پیدا کرنے کی حکمت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ بادشاہی میں یکتا ہے، بلکہ اس کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں، عبادت صرف اسی کا حق ہے، کس قدر نادان ہو کہ اس وحدہ لا شریک لہ معبود نے تمھیں اپنی توحید اور عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور تم نے گمان کر لیا کہ ہمیں پیدا کرنے کا کوئی مقصد ہی نہیں۔ ➍ { رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ:} عرش کا معنی تخت ہے۔ کسی چیز کے کریم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اس کی جنس کی اشیاء کی تمام خوبیاں اور کمالات موجود ہوں اور وہ ان سب سے بلند اور باشرف ہو، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏اِنِّيْۤ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ النمل: ۲۹ ] ”بے شک میری طرف ایک عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِيْمٍ» ‏‏‏‏ [ الدخان: ۲۶ ] ”اور کھیتیاں اور عمدہ مقام۔“ اور فرمایا: «كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ» ‏‏‏‏ [ الشعراء: ۷ ] ”ہم نے اس میں کتنی چیزیں ہرعمدہ قسم میں سے اگائی ہیں۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۲۳ ] ”اور ان سے بہت کرم والی بات کہہ۔“ (ابن عاشور و راغب) اس آیت میں یہ اللہ تعالیٰ کی تیسری صفت ہے کہ وہ کائنات کی سب سے بڑی مخلوق عرشِ الٰہی کا مالک ہے، جو زمین و آسمان اور اس میں موجود ساری مخلوق کو محیط ہے اور سب سے بلند ہے، تو وہ باقی مخلوقات کا مالک کیوں نہ ہو گا۔ ➎ عرش الٰہی کو کریم (عزت و شرف والا) اس لیے فرمایا کہ کسی جگہ کی عزت اس کے رہنے والے کی وجہ سے ہوتی ہے، جیسے کہتے ہیں {”فُلَانٌ مِنْ بَيْتٍ كَرِيْمٍ“} کہ فلاں شخص باعزت گھر کا فرد ہے۔ کیونکہ اس گھر کے رہنے والے معزز ہوتے ہیں۔ عرش کی سب سے بڑی عزت اور اس کا سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اس پر رب کریم مستوی ہے اور اس عرش ہی سے تمام احکامات اور ساری رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ ➏ پورے قرآن مجید میں {” رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ “} اسی مقام پر آیا ہے۔ {” رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ“} دو جگہ آیا ہے، سورۂ توبہ (۱۲۹) اور نمل (۲۶) میں۔ یہاں عرش کی صفت کریم اس لیے آئی ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے عیب سے منزہ ہونے اور دنیا اور آخرت میں اس کی صفت عدل کا بیان مقصود ہے، جب کہ سورۂ توبہ اور نمل میں اس کی صفت قہر و جبروت کا بیان مقصود ہے۔ (بقاعی)
← پچھلی آیت (115) پوری سورۃ اگلی آیت (117) →