بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 111
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 111
آیت نمبر: 111 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
اِنِّیۡ جَزَیۡتُہُمُ الۡیَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ۙ اَنَّہُمۡ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
آج اُن کے اُس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں"
میں نے آج انہیں ان کے اس صبر کا بدلہ دے دیا ہے کہ وه خاطر خواه اپنی مراد کو پہنچ چکے ہیں
بیشک آج میں نے ان کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں،
(دیکھو) آج میں نے انہیں ان کے صبر کی جزا دی ہے۔ وہی کامران ہیں۔
بے شک میں نے انھیں آج اس کے بدلے جو انھوں نے صبر کیا، یہ جزا دی ہے کہ بے شک وہی کامیاب ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ناکام آرزو ٭٭

کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہو گا جو دوزخیوں کو ہرکھیل سے مایوس کر دے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہو گی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ ہم اپنی بدبختی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہم اپنی گمراہی میں ڈوب گئے اے اللہ اب تو ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم یہی برے کام کریں تو جو چاہے سزا کرنا اس کا جواب انہیں دنیا کی دگنی عمر تک نہ دیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا کہ رحمت سے دور ہو کر ذلیل وخوار ہو کر اسی دوزخ میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو اب یہ محض مایوس ہو جائیں گے اور گدھوں کی طرح چلاتے اور شور مچاتے جلتے اور بھنتے رہیں گے۔

اس وقت ان کے چہرے بدل جائیں گے صورتیں مسخ ہو جائیں گی یہاں تک کہ بعض مومن شفاعت کی اجازت لے کر آئیں گے لیکن یہاں کسی کو نہیں پہچانیں گے جہنمی انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں لیکن یہ جواب دیں گے کہ غلط ہے ہم تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ اب دوزخی لوگ اللہ کو پکاریں گے اور وہ جواب پائیں گے جو اوپر مذکور ہوا ہے پھر دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور یہ وہی سڑتے رہیں گے۔ انہیں شرمندہ اور پشیمان کرنے کے لیے ان کا ایک زبردست گناہ پیش کیا جائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے بندوں کا مذاق اڑتے تھے اور ان کی دعاؤں پر دل لگی کرتے تھے وہ مومن اپنے رب سے بخشش و رحمت طلب کرتے تھے اسے ارحم الراحمین کہہ کر پکارتے تھے لیکن یہ اسے ہنسی میں اڑاتے تھے اور ان کے بغض میں ذکر رب چھوڑ بیٹھتے تھے اور ان کی عبادتوں اور دعاؤں پر ہنستے تھے جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ» [83-المطففين:29،30] ‏‏‏‏، یعنی گنہگار ایمانداروں سے ہنستے تھے اور انہیں مذاق میں اڑاتے تھے۔ اب ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اپنے ایماندار صبر گزار بندوں کو بدلہ دے دیا ہے وہ سعادت سلامت نجات وفلاح پا چکے ہیں اور پورے کامیاب ہو چکے ہیں۔

📖 احسن البیان

111-1دنیا میں اہل ایمان کے لئے ایک صبر آزما مرحلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب دین و ایمان پر عمل کرتے ہیں تو دین سے ناآشنا اور ایمان سے بیخبر لوگ انھیں ہنسی مذاق و ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں کہ وہ ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام اللہ پر عمل کرنے سے کرتے ہیں، جیسے ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ کی ہندوانہ رسومات سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ و رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھیں کامیابی سے سرفراز کرے گا۔ جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔ اللَّھُمَّ! اَجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 111){ اِنِّيْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ …:} دنیا میں اہل ایمان کے لیے ایک صبر آزما مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ دین پر عمل کرتے ہیں تو دین سے جاہل اور ایمان سے بے خبر لوگ انھیں ہنسی مذاق اور ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں جو ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام الٰہی پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں، جیسے مشرکانہ رسوم سے کنارہ کشی اور ان کا رد ہے، ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ اور موت وغیرہ کی ہندوانہ رسوم سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھی کو کامیابی سے سرفراز فرمائے گا۔ یا اللہ! تو ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما۔ (آمین) سورۂ مطففین کی آیات (۲۹ تا ۳۶) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (110) پوری سورۃ اگلی آیت (112) →