بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 108
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 108
آیت نمبر: 108 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾
اللہ تعالیٰ جواب دے گا "دور ہو میرے سامنے سے، پڑے رہو اسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو
اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھٹکارے ہوئے یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو
رب فرمائے گا دھتکارے (خائب و خاسر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو
ارشاد ہوگا اور مجھ سے کوئی بات نہ کرو۔
فرمائے گا اس میں دور دفع رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ناکام آرزو ٭٭

کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہو گا جو دوزخیوں کو ہرکھیل سے مایوس کر دے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہو گی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ ہم اپنی بدبختی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہم اپنی گمراہی میں ڈوب گئے اے اللہ اب تو ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم یہی برے کام کریں تو جو چاہے سزا کرنا اس کا جواب انہیں دنیا کی دگنی عمر تک نہ دیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا کہ رحمت سے دور ہو کر ذلیل وخوار ہو کر اسی دوزخ میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو اب یہ محض مایوس ہو جائیں گے اور گدھوں کی طرح چلاتے اور شور مچاتے جلتے اور بھنتے رہیں گے۔

اس وقت ان کے چہرے بدل جائیں گے صورتیں مسخ ہو جائیں گی یہاں تک کہ بعض مومن شفاعت کی اجازت لے کر آئیں گے لیکن یہاں کسی کو نہیں پہچانیں گے جہنمی انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں لیکن یہ جواب دیں گے کہ غلط ہے ہم تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ اب دوزخی لوگ اللہ کو پکاریں گے اور وہ جواب پائیں گے جو اوپر مذکور ہوا ہے پھر دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور یہ وہی سڑتے رہیں گے۔ انہیں شرمندہ اور پشیمان کرنے کے لیے ان کا ایک زبردست گناہ پیش کیا جائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے بندوں کا مذاق اڑتے تھے اور ان کی دعاؤں پر دل لگی کرتے تھے وہ مومن اپنے رب سے بخشش و رحمت طلب کرتے تھے اسے ارحم الراحمین کہہ کر پکارتے تھے لیکن یہ اسے ہنسی میں اڑاتے تھے اور ان کے بغض میں ذکر رب چھوڑ بیٹھتے تھے اور ان کی عبادتوں اور دعاؤں پر ہنستے تھے جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ» [83-المطففين:29،30] ‏‏‏‏، یعنی گنہگار ایمانداروں سے ہنستے تھے اور انہیں مذاق میں اڑاتے تھے۔ اب ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اپنے ایماندار صبر گزار بندوں کو بدلہ دے دیا ہے وہ سعادت سلامت نجات وفلاح پا چکے ہیں اور پورے کامیاب ہو چکے ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 108) {قَالَ اخْسَـُٔوْا فِيْهَا …:” خَسَأَ يَخْسَأُ} (منع) {أَيْ ذَلَّ۔“ ” اخْسَـُٔوْا “} ذلیل رہو، دفع دور رہو۔ یہ لفظ کتے وغیرہ کو دھتکارنے کے لیے بولا جاتا ہے، پھر اس کا استعمال ہر اس شخص کے لیے بھی ہونے لگا جسے حقیر اور ذلیل قرار دے کر دور دفع ہونے کے لیے کہا جائے، یعنی اللہ تعالیٰ انھیں دھتکارتے ہوئے فرمائیں گے کہ اسی جہنم میں ذلیل اور دور دفع رہو اور مجھ سے بات مت کرو۔ بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد ان کی زبانیں بند ہو جائیں گی اور یہ ان کا آخری کلام ہو گا، مگر انھی آیات میں آگے ان کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو آ رہی ہے: «‏‏‏‏قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ (112) قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ» ‏‏‏‏ [ المؤمنون: ۱۱۲، ۱۱۳ ] ”فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ایسی کوئی روایت صحیح نہیں۔ البتہ آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کی درخواست حقارت کے ساتھ رد کر دی جائے گی۔
← پچھلی آیت (107) پوری سورۃ اگلی آیت (109) →