بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 112
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 112
آیت نمبر: 112 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾
(حواریوں کے سلسلہ میں) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے؟ تو عیسیٰؑ نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو
وه وقت یاد کے قابل ہے جب کہ حواریوں نے عرض کیا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان ﴿دسترخوان﴾ نازل فرما دے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو
جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو! اگر ایمان رکھتے ہو
(حواریوں) کے بارے میں یہ قصہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ انہوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم(ع) کیا آپ کا پروردگار اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتارے عیسیٰ نے کہا اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اگر تم مؤمن ہو؟ ۔
جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتارے؟ اس نے کہا: اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی ٭٭

یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ المائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح علیہ السلام کی نبوت کی ایک زبردست دلیل اور آپ علیہ السلام کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ علیہ السلام کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے آپ علیہ السلام سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت «‏‏‏‏ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:112] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا آپ سے یہ ہو سکتا ہے؟ کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کریں؟ ‘۔ مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ ”اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہو جائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہو گئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہو جائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ علیہ السلام پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ علیہ السلام کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ علیہ السلام کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ علیہ السلام کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی۔

📖 احسن البیان

112۔ 1 مَائِدَۃً ایسے برتن (سینی پلیٹ یا ٹرے وغیرہ) کو کہتے ہیں جس میں کھانا ہو۔ اسی لئے دسترخواں بھی اس کا ترجمہ کرلیا جاتا ہے کیونکہ اس پر بھی کھانا چنا ہوتا ہے۔ سورت کا نام بھی اسی مناسبت سے ہے کہ اس میں اس کا ذکر ہے۔ حواریین نے مزید اطمینان قلب کے لیے یہ مطالبہ کیا جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے احیائے موتی کے مشاہدے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی۔ 212۔ 2 یعنی یہ سوال مت کرو، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش کا سبب بن جائے کیونکہ حسب طلب معجزہ دکھائے جانے کے بعد اس قوم کی طرف سے ایمان میں کمزوری عذاب کا بن سکتی ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ ؑ نے انہیں اس مطالبے سے روکا اور انہیں اللہ سے ڈرایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے وحی کے لفظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ اور حضرت مریم نبی تھیں اس لئے کہ ان پر بھی اللہ کی طرف سے وحی آ‏ئی تھی صحیح نہیں۔ اس لئے کہ یہ وحی، وحی الہام ہی تھی جیسے یہاں اوحیت الی الحوارین میں ہے یہ وحی رسالت نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 112) ➊ {اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ …:} حواری اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں مذکور ہے، اس لیے ان کا یہ سوال اللہ کی قدرت پر شک و شبہ کے طور پر نہ تھا، بلکہ دلی اطمینان حاصل کرنے کے لیے تھا، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مردوں کو زندہ کرنے کے متعلق سوال کیا تھا۔ (ابن کثیر) اور یہ الفاظ کہ کیا تیرا رب یہ کر سکتا ہے، ان کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے، بلکہ مطلب یہ پوچھنا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تو نہیں، یا اس میں کوئی مانع تو نہیں؟ ”مائدہ“ وہ بڑا تھال جس پر کھانا رکھا ہو۔ اب اس تھال اور کھانے دونوں پر مائدہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ (راغب) ➋ {قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ …:} کیونکہ ایسے معجزات معین کر کے طلب کرنا حکم چلانے اور سرکشی کرنے کا معنی رکھتا ہے، اس لیے اللہ سے ڈرو اور ایسا سوال نہ کرو۔ (کبیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” ڈرو اللہ سے“ یعنی بندے کو چاہیے کہ اللہ کو نہ آزمائے کہ میرا کہا مانتا ہے یا نہیں، اگرچہ مالک بہت زیادہ مہربانی کرے۔“(موضح) ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرو اور اسے مائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ بناؤ، جیسے فرمایا: «وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا(3) وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» ‏‏‏‏ [ الطلاق: ۲، ۳ ] ”اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔“ (ابن کثیر)
← پچھلی آیت (111) پوری سورۃ اگلی آیت (113) →