بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 96
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 96
آیت نمبر: 96 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا سَاوٰی بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ قَالَ انۡفُخُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا ۙ قَالَ اٰتُوۡنِیۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَیۡہِ قِطۡرًا ﴿ؕ۹۶﴾
مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو" آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سُرخ ہو گئی تو اس نے کہا "لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا"
میں تم میں اور ان میں مضبوط حجاب بنا دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں ﻻ دو۔ یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر کر دی تو حکم دیا کہ آگ تیز جلاؤ تاوقتیکہ لوہے کی ان چادروں کو بالکل آگ کر دیا، تو فرمایا میرے پاس ﻻؤ اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دوں
میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ یہاں تک کہ وہ جب دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں سے برابر کردی، کہا دھونکو، یہاں تک کہ جب اُسے آگ کردیا کہا لاؤ، میں اس پر گلا ہوا تانبہ اُنڈیل دوں،
میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ (چنانچہ وہ لائے) یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے (درمیانی خلا کو پُر کرکے) دونوں کے سروں کے درمیان کو برابر کر دیا۔ تو کہا آگ پھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس (آہنی دیوار) کو بالکل آگ بنا دیا تو کہا اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ تاکہ اس پر انڈیل دوں۔
تم میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لائو، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کا درمیانی حصہ برابر کر دیا تو کہا ’’دھونکو‘‘ یہاں تک کہ جب اس نے اسے آگ بنا دیا تو کہا لائو میرے پاس کہ میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیل دوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یاجوج ماجوج ٭٭

اپنے شرقی سفر کو ختم کر کے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے۔ دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد برپا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ عزوجل آدم علیہ السلام سے فرمائے گا کہ اے آدم! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہو گا آگ کا حصہ الگ کر، پوچھیں گے کتنا حصہ؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا تم میں دو امتیں ہیں کہ وہ جن میں ہوں انہیں کثرت کو پہنچا دیتی ہیں یعنی یاجوج ماجوج۔ [صحیح بخاری:6530] ‏‏‏‏

امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ایک عجیب بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے خاص پانی کے چند قطرے جو مٹی میں گرے تھے، انہی سے یاجوج ماجوج پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا وہ حواء اور آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں بلکہ صرف نسل آدم علیہ السلام سے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قول بالکل ہی غریب ہے نہ اس پر عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور ایسی باتیں جو اہل کتاب سے پہنچتی ہیں، وہ ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے ہاں کے ایسے قصے ملاوٹی اور بناوٹی ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین لڑکے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی نسل سے کل عرب ہیں اور حام کی نسل سے کل حبشی ہیں اور یافث کی نسل سے کل ترک ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج ترکوں کے اس جد اعلیٰ یافث کی ہی اولاد ہیں، انہیں ترک اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی دیگر آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ذوالقرنین کے سفر کے متعلق اور اس دیوار کے بنانے کے متعلق اور یاجوج ماجوج کے جسموں، ان کی شکلوں اور ان کے کانوں وغیرہ کے متعلق وہب بن منبہ سے ایک بہت لمبا چوڑا واقعہ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے جو علاوہ عجیب و غریب ہونے کے صحت سے دور ہے۔ ابن ابی حاتم میں بھی ایسے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن سب غریب اور غیر صحیح ہیں۔ ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو بوجہ دنیا کے دیگر لوگوں سے دوری کے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت، عقل و ہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضا مند ہوں تو ہم آپ کے لیے بہت سا مال جمع کر دیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کر دیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں۔ اس کے جواب میں ذوالقرنین نے فرمایا، مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے۔ یہی جواب سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا «أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ» [ 27-النمل: 36 ] ‏‏‏‏۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں۔ زبر جمع ہے زبرۃ کی۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہو گئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی۔ اس کے طول و عرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔

جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طرف آگ بھڑکاؤ۔ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہو گئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا۔ پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت ہی مضبوط اور پختہ ہو گئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے وہ دیوار دیکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا دھاری دار چادر جیسی، جس میں سرخ و سیاہ دھاریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:23340:مرسل] ‏‏‏‏ لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت سا سامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں۔ یہ لشکر دو سال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا، دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے، وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے۔ دیوار بے حد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے۔ اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آ کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔

📖 احسن البیان

96۔ 1 یعنی دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان جو خلا تھا، اسے لوہے کی چھوٹی چھوٹی چادروں سے پر کردیا۔ 96۔ 2 پگھلا ہوا سیسہ، یا لوہا یا تانبا۔ یعنی لوہے کی چادروں کو خوب گرم کر کے ان پر پگھلا ہوا لوہا، تانبا یا سیسہ ڈالنے سے وہ پہاڑی درہ یا راستہ ایسا مضبوط ہوگیا کہ اسے عبور کر کے یا توڑ کر یاجوج ماجوج کا ادھر دوسری طرف انسانی آبادیوں میں آنا ناممکن ہوگیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 96){ اٰتُوْنِيْ زُبَرَ الْحَدِيْدِ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى …: ” زُبَرَ “ ” زُبْرَةٌ “} کی جمع ہے، جیسا کہ {” غُرْفَةٌ “} کی جمع {”غُرَفٌ“} ہے، معنی ہے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے۔ پہاڑوں کے درمیان ان کی بلندی کے برابر لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے مہیا کرنا، انھیں اوپر پہنچانا اور جوڑنا ہمارے اس ترقی یافتہ دور میں بھی امر محال نظر آتا ہے، مگر اہرام مصر کو دیکھیں تو ماننا پڑتا ہے کہ ہم سے ہزاروں سال پہلے جر ثقیل (وزنی اشیاء کو کھینچنے اور اوپر لے جانے) کا علم آج سے بہت آگے تھا۔ چنانچہ ذوالقرنین نے پہاڑوں کے دونوں کناروں کے برابر لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے جوڑنے کے بعد یک جان کرنے کے لیے انھیں آگ سے سرخ کرنے کا حکم دیا، ادھر تانبے کو پگھلانے کا بندوبست کیا۔ جب لوہے کی اینٹیں اور تختے سراسر آگ بن گئے تو اس نے کہا، اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ، تاکہ میں اس پر ڈالوں۔ اس طرح وہ لوہے اور تانبے کی بہت موٹی، مضبوط اور پہاڑوں کے برابر بلند اور چکنی دیوار بن گئی، جس پر نہ یاجوج ماجوج چڑھ سکتے تھے، نہ اس میں سوراخ کر سکتے تھے۔ ہزاروں فٹ اونچی اس دیوار کو بنانے میں سائنس کے کیا کیا علوم استعمال ہوئے، لوہے اور تانبے کی کتنی مقدار صرف ہوئی، اتنی بلندی پر لوہے کو کیسے سرخ کیا گیا اور تانبے کی اتنی مقدار اس قدر بلندی پر پہنچانے تک کیسے پگھلی ہوئی حالت میں رکھی گئی اور اتنی موٹی دیوار جب سرخ ہوئی ہو گی تو اس کے پاس کھڑا ہو کر پگھلا ہوا تانبا کیسے ڈالا گیا ہو گا، پھر یہ کام کتنی مدت میں مکمل ہوا، یہ سب کچھ اب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اس سارے عمل میں ذوالقرنین بہ نفس نفیس کام میں شریک رہے، بلکہ اپنے ہاتھوں سے کام کرتے رہے۔ یہی سنت ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کہ آپ کعبہ کی تعمیر میں، مسجد نبوی بنانے اور خندق کھودنے میں بہ نفس نفیس برابر شریک رہے۔
← پچھلی آیت (95) پوری سورۃ اگلی آیت (97) →