بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 91
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 91
آیت نمبر: 91 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
کَذٰلِکَ ؕ وَ قَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَیۡہِ خُبۡرًا ﴿۹۱﴾
یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے
واقعہ ایسا ہی ہے اور ہم نے اس کے پاس کی کل خبروں کا احاطہ کر رکھا ہے
بات یہی ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے
یہاں تک کہ (چلتے چلتے) وہ طلوعِ آفتاب کی جگہ پہنچا۔ تو اسے ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتا ہوا پایا کہ جس کیلئے ہم نے سورج کے سامنے کوئی پردہ نہیں رکھا ہے۔
ایسے ہی تھا اور یقینا ہم نے جو کچھ اس کے پاس تھا اس کا علم کی رو سے احاطہ کر رکھا تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک وحشی بستی ٭٭

ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں، اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کر لیتے تو بہت اچھا، ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے۔ آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الٰہی کی تبلیغ میں رہے، ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہی۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے، سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظر نہ آئی۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی۔

حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہو جایا کرتے تھے۔ [ ابو شیخ فی العظمة989-978] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہاں تو کچھ اگتا نہ تھا، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جاتے اور زوال کے بعد دوردراز اپنی کھیتیوں وغیرہ میں مشغول ہو جاتے۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے، ایک بچھا لیتے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ وہاں کبھی کوئی مکان یا دیوار یا احاطہٰ نہیں بنا، سورج کے نکلنے کے وقت یہ لوگ پانی میں گھس جاتے۔ وہاں کوئی پہاڑ بھی نہیں۔ پہلے کسی وقت ان کے پاس ایک لشکر پہنچا تو انہوں نے ان سے کہا کہ دیکھو سورج نکلتے وقت باہر نہ ٹھہرنا۔ انہوں نے کہا نہیں ہم تو رات ہی رات یہاں سے چلے جائیں گے لیکن یہ تو بتاؤ کہ یہ ہڈیوں کے چمکیلے ڈھیر کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا یہاں پہلے ایک لشکر آیا تھا۔ سورج کے نکلنے کے وقت وہ یہیں ٹھہرا رہا، سب مر گئے، یہ ان کی ہڈیاں ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ وہاں سے واپس ہو گئے۔ پھر فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کی، اس کے ساتھیوں کی کوئی حرکت کوئی گفتار اور رفتار ہم پر پوشیدہ نہ تھی۔ گو اس کا لاؤ لشکر بہت تھا زمین کے ہر حصے پر پھیلا ہوا تھا۔ «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ» [ 3-آل عمران: 5 ] ‏‏‏‏ لیکن ہمارا علم زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ ہم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔

📖 احسن البیان

91۔ 1 یعنی ذوالقرنین کی بابت ہم نے جو بیان کیا ہے وہ اسی طرح ہے کہ پہلے وہ انتہائی مغرب اور پھر انتہائی مشرق میں پہنچا اور ہمیں اس کی تمام صلاحیتوں، اسباب و وسائل اور دیگر تمام باتوں کا پورا علم ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 91) ➊ {كَذٰلِكَ وَ قَدْ اَحَطْنَا …:} یعنی اہلِ مشرق سے اس کا سلوک بھی اہلِ مغرب جیسا تھا، یا مطلب یہ ہے کہ کوئی اس کے مغرب و مشرق اور اس کے درمیان تمام علاقوں کے پامال کرنے کو ناممکن نہ سمجھے، یقینا ایسے ہی ہوا اور اس مقصد کے لیے اس نے جو افواج اور سازو سامان مہیا کیا اور اپنا عیش و آرام ترک کرکے مسلسل سفر اور جنگوں کی جو تکالیف برداشت کیں اس کی پوری خبر ہم ہی کو ہے، کسی دوسرے کو کیا خبر؟ ➋ ذوالقرنین کی زندگی سے جو سبق حاصل ہوتے ہیں ان میں سے پہلا سبق یہ ہے کہ اقتدار حاصل ہوتے ہی بلند ہمت مسلم حکمران نو عمری ہی میں تمام دنیا کو فتح کرنے کا عزم کر لیتے ہیں، کیونکہ ذوالقرنین کے اتنی بے پناہ افواج کو لے کر اتنے طویل اور دشوار گزار سفر اور پیش آنے والے معرکوں کے لیے طویل عرصے کی بھی ضرورت تھی۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اگرچہ شاہی محلات، طاؤس و رباب، قالین و کمخواب، حسیناؤں اور حاشیہ نشینوں کے جھرمٹ میں زندگی گزارنے میں بھی لذت اور لطف ہے، مگر گھوڑے کی پشت پر پہاڑوں، صحراؤں، جنگلوں اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے اور زخم کھانے کے بعد فتح میں جو سرور اور اسلام کو سربلند کرنے میں جو لذت ہے عیش پرستی کی لذت کو اس سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ ➌ اقتدار حاصل ہونے کے بعد ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کا مشن بھی مسلسل جہاد کے ذریعے سے مشرق سے مغرب تک اسلام پھیلانا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک تمام دنیا کے لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا جب تک وہ اسلام قبول نہ کریں، یا جزیہ دے کر محکوم و مقہور نہ بن جائیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے تمام مشارق و مغارب دکھا دیے اور بتا دیا کہ آپ کی امت کی سلطنت یہاں تک پہنچے گی۔ [ ابن ماجہ، الفتن، باب ما یکون من الفتن: ۳۹۵۲ ] اور فی الواقع چند ہی سال میں مشرق کے آخر تک قتیبہ بن مسلم رحمہ اللہ پہنچ چکے تھے اور مغرب کے آخر تک عقبہ بن نافع رحمہ اللہ۔ جنوب و شمال کی طرف جو علاقے رہ گئے ان کے متعلق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ يَبْقٰی عَلٰی ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللّٰهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِيْزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيْلٍ إِمَّا يُعِزُّهُمُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِيْنُوْنَ لَهَا ] [ مسند أحمد: 4/6، ح: ۲۳۸۷۶، عن المقداد و عائشۃ علیھا السلام ] ”زمین کی پشت پر اینٹوں یا بالوں کا بنا ہوا کوئی گھر (یا خیمہ) باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت بخش کر اور ذلیل کو ذلت دے کر، یا تو انھیں عزت دے گا اور انھیں یہ کلمہ پڑھنے والوں میں داخل کر دے گا یا انھیں ذلیل کرے گا اور وہ اس کے محکوم بن جائیں گے۔“ اب دیکھیے وہ محمدی ذوالقرنین کب اٹھتا ہے جو یہ کارنامہ سرانجام دے گا؟ بہرحال ہم سب کو کسی ذوالقرنین کا انتظار کرنے کے بجائے جتنا ہو سکے خود ہی اسلام کی سربلندی اور کفر کو مٹانے کے لیے جہاد کی ضروریات مہیا کرنے اور دشمنوں کو زیر کرنے کے لیے مسلسل جہاد میں مصروف رہنا لازم ہے، کیا خبر اللہ کس کو یہ سعادت بخش دے!! یہی ذوالقرنین کا مشن اور عمل تھا اور یہی ہمارے پیارے پیغمبر اور آپ کے خلفاء کا مشن اور عمل تھا اور یہی کام ہمارے ذمے ہے۔ ➍ جیسا کہ شروع سورت کی تفسیر میں گزرا کہ اس سورت کی ابتدائی یا آخری آیات کا حفظ کرنا دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ اِلٰی قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ ] [ مسلم، الفتن، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال: ۲۹۴۶، عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ] ”آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت قائم ہونے تک کوئی مخلوق دجال سے بڑی نہیں ہوئی۔“ پھر جو شخص اس سے محفوظ رہا وہ دوسرے فتنوں سے تو بالاولیٰ محفوظ رہے گا۔ اصحابِ کہف اور ذوالقرنین دونوں کے قصوں کا خلاصہ یہ ہے کہ فتنے میں مبتلا کرنے والے کفار کے ساتھ مومن گزارا نہیں کر سکتا۔ اگر اس کے پاس اقتدار نہیں تو وہ ایمان بچانے کے لیے غاروں اور پہاڑوں میں چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی جان و ایمان دونوں کی حفاظت فرماتا ہے اور اگر صاحب اقتدار ہے تو پوری عمر کفر اور کفار کی کمر توڑنے میں مصروف رہتا ہے، تاکہ وہ غالب آکر اس کے ایمان کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف اس سورت یا اس کی چند آیات کا پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے تقاضوں پر عمل بھی فتنوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ سے دوستی گانٹھ لے، اپنی ایمانی غیرت کو تھپکیاں دے کر سلا دے، کفر و شرک پر زبان بند رکھ کر کافر معاشرے میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا رہے اور ہر جمعہ کو سورۂ کہف کی تلاوت کر لیا کرے، بلکہ حفظ آیات میں ان پر عمل بھی شامل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۲ تا ۱۰۴)۔
← پچھلی آیت (90) پوری سورۃ اگلی آیت (92) →