بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 74
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 74
آیت نمبر: 74 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفۡسٍ ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا نُّکۡرًا ﴿۷۴﴾
پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کر دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا"
پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا، اس نے اسے مار ڈاﻻ، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈاﻻ؟ بےشک آپ نے تو بڑی ناپسندیده حرکت کی
پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا اس بندہ نے اسے قتل کردیا، موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان بے کسی جان کے بدلے قتل کردی، بیشک تم نے بہت بری بات کی،
چنانچہ پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ایک لڑکے سے ملے تو اس بندہ نے اسے قتل کر دیا۔ موسیٰ نے کہا آپ نے ایک پاکیزہ نفس (بے گناہ) کو قصاص کے بغیر قتل کر دیا۔ یہ تو آپ نے سخت برا کام کیا۔
پھر وہ دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ ایک لڑکے سے ملے تو اس نے اسے قتل کر دیا۔ کہا کیا تو نے ایک بے گناہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کردیا، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت برے کام کو آیا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حکمت الہی کے مظاہر ٭٭

فرمان ہے کہ اس واقعہ کے بعد دونوں صاحب ایک ساتھ چلے، ایک بستی میں چند بچے کھیلتے ہوئے ملے۔ ان میں سے ایک بہت ہی تیز طرار، نہایت خوبصورت، چالاک اور بھلا لڑکا تھا۔ اس کو پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس کا سر توڑ دیا یا تو پتھر سے یا ہاتھ سے ہی گردن مروڑ دی بچہ اسی وقت مر گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے اور بڑے سخت لہجے میں کہا، یہ کیا واہیات ہے؟ چھوٹے بےگناہ بچے کو بغیر کسی شرعی سبب کے مار ڈالنا یہ کون سی بھلائی ہے؟ بیشک تم نہایت منکر کام کرتے ہو۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» تفسیر محمدی کا پندرھواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

📖 احسن البیان

74۔ 1 غلام سے مراد بالغ جوان بھی ہوسکتا ہے اور نابالغ بچہ بھی۔ 74۔ 2 نکرا، فظیعامنکرا لا یعرف فی الشرع،، ایسا بڑا برا کام جس کی شریعت میں گنجائش نہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی ہیں انکر من الامر الاول پہلے کام (کشتی کے تختے توڑنے) سے زیادہ برا کام۔ اس لئے کہ قتل، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ ممکن نہیں۔ جبکہ کشتی کے تختے اکھیڑ دینا، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ کیا جاسکتا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ کو جو علم شریعت حاصل تھا، اس کی رو سے حضرت خضر کا یہ کام بہرحال خلاف شرع تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اعتراض کیا اور اسے نہایت برا کام قرار دیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 74) ➊ { حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ:} اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکا جوان تھا، اگرچہ وہ اپنے جیسے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ کیونکہ گزشتہ حدیث میں ہے کہ وہ کافر تھا جب کہ اس کے والدین مومن تھے، اگر وہ بچہ ہوتا تو اسے کافر نہ کہا جاتا، کیونکہ مومنوں کی اولاد کو بچپن میں کافر نہیں کہا جاتا۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اسے کسی کو قتل نہ کرنے کی وجہ سے بے گناہ کہا ہے، بچہ ہونے کی وجہ سے نہیں۔ اس لیے خضر علیہ السلام کا اللہ کے حکم سے ایک کافر کو قتل کرنا کوئی جائے اعتراض نہیں۔ ”غلام“ کا لفظ بچے کے علاوہ جوان اور ادھیڑ عمر پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث معراج میں موسیٰ علیہ السلام نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو {”هٰذَا الْغُلَامُ“} کہا ہے۔ [ بخاری: ۳۲۰۷ ] ➋ بعض حضرات نے اس سوال کے جواب میں کہ خضر علیہ السلام کے لیے اس لڑکے کا قتل کیونکر جائز تھا، خضر علیہ السلام کو فرشتوں میں سے قرار دیا ہے جو اللہ کے حکم سے تکوینی امور سرانجام دیتے ہیں، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ کارکنانِ قضا و قدرنہ کھاتے ہیں، نہ مہمان نوازی کے طور پر کھانے کا سوال کرتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا بھنا ہوا بچھڑا پیش کرنے کا واقعہ اس کی دلیل ہے۔
← پچھلی آیت (73) پوری سورۃ اگلی آیت (75) →