بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 71
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 71
آیت نمبر: 71 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا ﴿۷۱﴾
اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے تو اس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی"
پھر وه دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے، تو اس نے کشتی کے تختے توڑ دیئے، موسیٰ نے کہا کیا آپ اسے توڑ رہے ہیں تاکہ کشتی والوں کو ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑی (خطرناک) بات کردی
اب دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے اس بندہ نے اسے چیر ڈالا موسیٰ نے کہا کیا تم نے اسے اس لیے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بری بات کی،
اس کے بعد دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوگئے تو خضر (ع) نے اس میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰ نے کہا۔ آپ نے اس لئے کشتی میں سوراخ کیا ہے کہ سب کشتی والوں کو غرق کر دیں؟ آپ نے بڑی عجیب حرکت کی ہے۔
سو دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے اسے پھاڑ دیا۔ کہا کیا تو نے اسے اس لیے پھاڑ دیا ہے کہ اس کے سواروں کو غرق کر دے، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت بڑے کام کو آیا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شرائط طے ہو گئیں ٭٭

دونوں میں جب شرط طے ہو گئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے۔ پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لیے سوار کر لیا تھا۔ جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو خضر علیہ السلام نے ایک تختہ اکھیڑ ڈالا پھر اسے اوپر سے ہی جوڑ دیا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، شرط کو بھول گئے اور جھٹ سے کہنے لگے کہ یہ کیا واہیات ہے؟ [لِتُغْرِقَ] ‏‏‏‏ کا لام لام عاقبت ہے، لام تعلیل نہیں ہے، جیسے شاعر کے اس قول میں [لدوا للموت وبنوا للحزاب] ‏‏‏‏ یعنی ہر پیدا شدہ جان دار کا انجام موت ہے اور ہر بنائی ہوئی عمارت کا انجام اجڑنا ہے۔ امرا کے معنی منکر اور عجیب کے ہیں۔ یہ سن کر خضر علیہ السلام نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا کہ تم نے اپنی شرط کا خلاف کیا۔ میں تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ تمہیں ان باتوں کا علم نہیں، تم خاموش رہنا، مجھ سے نہ کچھ کہنا نہ سوال کرنا۔ ان کاموں کی مصلحت و حکمت اللہ مجھے معلوم کراتا ہے اور تم سے یہ چیزیں مخفی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کی کہ اس بھول کو معاف کرو اور مجھ پر سختی نہ کرو، پہلے جو لمبی حدیث مفصل واقعہ کی بیان ہوئی ہے، اس میں ہے کہ یہ پہلا سوال فی الواقع بھول چوک سے ہی تھا۔

📖 احسن البیان

71۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کو چونکہ اس علم خاص کی خبر نہیں تھی جس کی بنا پر خضر نے کشتی کے تختے توڑ دیئے تھے، اس لئے صبر نہ کرسکے اور اپنے علم و فہم کے مطابق اسے نہایت ہولناک کام قرارا دیا۔ امرا کے معنی ہیں الداھیۃ العظیمۃ، بڑا ہیبت ناک کام۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 71تا73) ان آیات سے اولو العزم پیغمبروں سے بھول کا صادر ہونا ثابت ہوتا ہے اور کامل استاذ کا شاگرد کی غلطی پر مؤاخذہ، پہلی غلطی پر مؤاخذہ میں نسبتاً نرمی کرنے ({” اَلَمْ اَقُلْ “ ” اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ “} سے نرم ہے) اور بھول کے عذر پر درگزر کرنے کا سبق حاصل ہوتا ہے۔
← پچھلی آیت (70) پوری سورۃ اگلی آیت (72) →