بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجمعة — Surah Jumuah
آیت نمبر 9
کل آیات: 11
قرآن کریم الجمعة آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ الجمعة islamicurdubooks.com ↗
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو،
اے ایمان والو! جب تمہیں جمعہ کے دن والی نمازکے لئے پکارا جائے (اس کی اذان دی جائے) تو اللہ کے ذکر (نمازِ جمعہ) کی طرف تیز چل کر جاؤ اورخرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جمعہ کا دن کیا ہے ، اس کی اہمیت کیوں ہے؟ ٭٭

«جمعہ» کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی، چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے، چھٹا دن جمعہ کا ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہو گی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی دن تیرے ماں باپ [ یعنی آدم و حواء ] ‏‏‏‏ کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا“، یا یوں فرمایا: کہ تمہارے باپ کو جمع کیا۔ اسی طرح ایک موقوف حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ «فاللہ اعلم» پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] ‏‏‏‏ مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856] ‏‏‏‏ یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] ‏‏‏‏ یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔

یہ یاد رہے کہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا منع ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { جب تم اقامت سنو تو نماز کیلئے سکینت اور وقار کے ساتھ چلو، دوڑو نہیں، جو پاؤ پڑھ لو، جو فوت ہو ادا کر لو۔ } [صحیح بخاری:636] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے کہ لوگوں کے پاؤں کی آہٹ زور زور سے سنی، فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم جلدی جلدی نماز میں شامل ہوئے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو نماز کو اطمینان کے ساتھ چل کر آؤ جو پاؤ پڑھ لو جو چھوٹ جائے پوری کر لو“ }۔ [صحیح مسلم:603] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ‏‏‏‏ ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔

غسلِ جمعہ اور آداب جمعہ ٭٭

جمعہ کے لیے آنے والے کو غسل بھی کرنا چاہیئے، بخاری مسلم میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز کے لیے جانے کا ارادہ کرے وہ غسل کر لیا کرے۔ } [صحیح بخاری:877] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ } [صحیح بخاری:858] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ } [صحیح مسلم:849] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ } [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سنن اربعہ میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ } [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

بخاری مسلم میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے، اول ساعت میں جائے، اس نے گویا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، دوسری ساعت میں جانے والا مثل گائے کی قربانی کرنے والے کے ہے، تیسری ساعت میں جانے والا مثل بھیڑ کی قربانی کرنے والے کے ہے، چوتھی ساعت میں جانے والا مرغ راہ اللہ میں تصدق کرنے والے کی طرح ہے، پانچویں ساعت میں جانے والا انڈا راہ اللہ دینے والے جیسا ہے، پھر جب امام آئے فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ } [صحیح بخاری:881] ‏‏‏‏ مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (‏‏‏‏یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ } [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ } [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔

جمعہ کی پہلی آذان ٭٭

جس اذان کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی اذان تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لاتے منبر پر جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اذان ہوتی تھی، اس سے پہلے کی اذان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی اسے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صرف لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر زیادہ کیا۔ صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912] ‏‏‏‏ مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔

جمعہ کے وقت خرید و فروخت حرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ دو یعنی ذکر اللہ کے لیے چل پڑو تجارت کو ترک کر دو، جب نماز جمعہ کی اذان ہو جائے، علماء کرام رحمہ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ اذان کے بعد خرید و فروخت حرام ہے، اس میں اختلاف ہے کہ دینے والا اگر دے تو وہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ ظاہر آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی صحیح نہ ٹھہرے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔

📖 احسن البیان

9۔ 1 یہ اذان کس طرح دی جائے، اس کے الفاظ کیا ہوں؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا ہی۔ جمعہ کو، جمعہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر چیز کی پیدائش سے فارغ ہوگیا تھا، یوں گویا تمام مخلوقات کا اس دن اجتماع ہوگیا، یا نماز کے لئے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس بنا پر کہتے ہیں (فتح القدیر) فَاَسْعَوْا کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آؤ، بلکہ یہ ہے کہ اذان کے بعد فوراً کاروبار بند کر کے آجاؤ۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے، وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (صحیح بخاری) بعض حضرات نے ذروا البیع (خریدو فروخت) چھوڑ دو سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ صرف شہروں میں فرض ہے اہل دیہات پر نہیں۔ کیونکہ کاروبار اور خریدوفروخت شہروں میں ہی ہوتی ہے دیہاتوں میں نہیں۔ حالانکہ اول تو دنیا میں کوئی ایسا گاؤں نہیں جہاں خریدو فروخت اور کاروبار نہ ہوتا ہو اس لیے یہ دعوٰی خلاف واقعہ دوسرا بیع اور کاروبار سے مطلب دنیا کے مشاغل ہیں وہ جیسے بھی اور جس قسم کے بھی ہوں۔ اذان جمعہ کے بعد انہیں ترک کردیا جائے۔ کیا اہل دیہات کے مشاغل دنیا نہیں ہوتے؟ کیا کیھتی باڑی کاروبار اور مشاغل دنیا سے مخلتف چیز ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ …:} اہلِ کتاب کی شقاوت اور امیین کی سعادت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہود و نصاریٰ پر جمعہ کا دن فرض کیا گیا تو انھوں نے اسے قبول کرنے میں اختلاف کیا۔ یہود نے اپنے لیے ہفتے کا د ن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن عبادت کے لیے مقرر کر لیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو جمعہ کے دن کی ہدایت عطا فرما دی، جس سے انھیں یہودو نصاریٰ دونوں پر سبقت حاصل ہو گئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۱۲۴): «‏‏‏‏اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ ➋ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا …:} یہ آیت واضح دلیل ہے کہ جمعہ ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو ایمان لا چکے ہیں، خواہ وہ شہر میں رہتے ہوں یا کسی بستی یا بادیہ میں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا ہے: {”بَابُ الْجُمُعَةِ فِي الْقُرٰي وَالْمُدُنِ “} (بستیوں اور شہروں میں جمعہ کا باب) اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث لائے ہیں، انھوں نے فرمایا: [ إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِيْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثٰٰی مِنَ الْبَحْرَيْنِ ] [ بخاري، الجمعۃ، باب الجمعۃ في القری والمدن: ۸۹۲ ] ”پہلا جمعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جمعہ کے بعد ادا کیا گیا عبد القیس قبیلے کی مسجد میں ہوا جو بحرین کے جواثی ٰمقام پر تھی۔“ ابو داؤد میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: [ بِجُوَاثَاءَ قَرْيَةٍ مِّنْ قُرَی الْبَحْرَيْنِ ] [ أبو داوٗد، الصلاۃ، باب الجمعۃ فی القرٰی: ۱۰۶۸ ] ”جواثا بحرین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے۔“ آیت میں جمعہ کے دن صلاۃ کی ندا پر اللہ کے ذکر کی طرف سعی کا حکم ہے اور باجماعت صلاۃ ادا کرنا صرف شہر میں نہیں بلکہ ہر بستی اور بادیہ میں فرض ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: [ مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب في التشدید في ترک الجماعۃ: ۵۴۷ ] ”کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی یا بادیہ میں ہوں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر ان پر شیطان غالب آچکا ہوتا ہے۔ سو جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اس بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور ہو۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے عمر(بن خطاب رضی اللہ عنہ) کو خط لکھ کر جمعہ کے متعلق سوال کیا، انھوں نے لکھا: [ جَمِّعُوْا حَيْثُمَا كُنْتُمْ ] [ مصنف ابن أبي شیبۃ: 101/2، ح: ۵۱۰۸ ] ”تم جہا ں بھی ہو جمعہ ادا کرو۔ “ اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔ جن لوگوں نے جمعہ کے لیے شہر یا حاکم وغیرہ کی شرط لگائی ہے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل نہیں اور مشہور روایت {” لَاجُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيْقَ إِلَّا فِيْ مِصْرٍ جَامِعٍ“} (جمعہ اور عید جامع شہر کے سوا نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ یہ علی رضی اللہ عنہ کا قول مشہور ہے، جو عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح سند کے ساتھ مروی قول کے خلاف ہے، جب صحابہ میں اختلاف ہو تو اصل کتاب و سنت کی طرف رجوع واجب ہے (دیکھیے نساء: ۵۹) اور کتاب و سنت کے مطابق تمام مسلمانوں پر ہر جگہ جمعہ فرض ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، البتہ چند لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی كُلِّ مُسْلِمٍ فِيْ جَمَاعَةٍ إِلاَّ أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوْكٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيْضٌ ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ: ۱۰۶۷، قال الألباني صحیح ] ”جمعہ ہر مسلم پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب حق ہے سوائے چار کے، غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو یا عورت یا بچہ یا مریض۔ “ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ عَلٰی مُسَافِرٍ جُمُعَةٌ ] [ المعجم الأوسط للطبراني: 249/1، ح: ۸۱۸، وقال الألباني صحیح۔ دیکھیے الجامع الصغیر: ۵۴۰۵ ] ”مسافر پر جمعہ نہیں ہے۔“ جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ کے لیے آئیں تو اجر کا باعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں بھی جمعہ کے لیے آتی تھیں، اس سے اجر کے علاوہ قرآن کی آیات سن کر انھیں یاد کرنے کا موقع ملتا، قرآن و سنت سن کر علم میں اضافہ ہو تا اور نصیحت سن کر اصلاح ہوتی تھی۔ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ مَا أَخَذْتُ «‏‏‏‏قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» ‏‏‏‏ إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَی الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ ] [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ: ۵۲ /۸۷۳ ] ”میں نے سورۂ «‏‏‏‏قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے منبر پر پڑھا کرتے تھے۔“ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت (۸۷۳) میں ام ہشام رضی اللہ عنھا ہی کے الفاظ ہیں: [ مَا حَفِظْتُ «‏‏‏‏قٓ» ‏‏‏‏ إِلَّا مِنْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ ] مطلب اوپر گزر چکا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو منع فرمایا کہ وہ عورتوں کو اس بات سے روکیں کہ وہ مسجد میں آکر اجر اور قرآن و سنت کے علم سے اپنا حصہ حاصل کریں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوَظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنُوْكُمْ ] [ مسلم، الصلاۃ، باب خروج النساء إلی المساجد …: ۱۴۰ /۴۴۲ ] ”عورتوں کو مساجد میں سے ان کے حصے میں آنے والی چیزوں سے مت روکو، جب وہ تم سے اجازت مانگیں۔“ جمعہ کے دن کی بدعات میں سے ایک بدعت ظہر احتیاطی ہے۔ کچھ لوگ جن کا خیال ہے کہ اسلامی حاکم کے بغیر جمعہ نہیں ہوتا اور دیہات میں بھی جمعہ نہیں ہوتا، شہروں اور گاؤں میں جمعہ کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد احتیاطاً ظہر کی چار رکعتیں بھی پڑھتے ہیں، یہ بد ترین بدعت ہے، کیونکہ اس کی بنیاد شک پر ہے جو کفار کا معمول ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ» [ الدخان: ۹ ] ”بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔“ ➌ { اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ:اَلصَّلاَةُ “} پر ”الف لام“ عہد کا ہے، مراد وہ نماز ہے جو جمعہ کے دن کے ساتھ خاص ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ نماز جمعہ ہے جو اس دن ظہر کی جگہ ادا کی جاتی ہے اور نداسے مراد اذان ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ کی آیت (۵۸) کی تفسیر۔ آج کل عام طور پر جمعہ کے دن خطبے سے پہلے دو اذانیں کہی جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے زمانے میں یہ دو اذانیں نہیں بلکہ ایک ہی اذان تھی۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: [ كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الإِْمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَلٰی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَاءِ ] [ بخاري، الجمعۃ، باب الأذان یوم الجمعۃ: ۹۱۲ ] ”جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے عہد میں یہی معمول تھا۔ پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہو گئے تو انھوں نے (بازار میں ایک مقام) زَوراء پر تیسری اذان کا اضافہ کر دیا۔“ یاد رہے کہ اس تیسری اذان سے مراد وہ اذان ہے جو آج کل خطبے سے پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ پہلے کہی جاتی ہے، اس کے بعد کی دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ یہ تیسری اذان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے دور میں نہیں کہی جاتی تھی، عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی کثرت کے پیشِ نظر اس کا اضافہ کیا، مگر ان کے زمانے میں یہ اذان مسجد میں نہیں کہی جاتی تھی بلکہ بازار میں کہی جاتی تھی، تاکہ لوگوں کو اطلاع ہو جائے۔ آج کل نہ اس اذان کا اہتمام مسجد سے الگ بازار میں کیا جاتا ہے، نہ لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی ہے اور نہ ہی مسجد میں خطبے سے پہلے دو اذانیں عثمان رضی اللہ عنہ کا طریقہ ہے۔ اس لیے خطبے سے پہلے مسجد میں ایک ہی اذان کہی جانی چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کا طریقہ ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل بھی یہی ہے۔ ➍ { فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ: ”سَعٰي يَسْعٰي سَعْيًا“} (ف) کا معنی دوڑنا بھی ہے اور کوشش کرنا بھی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى» ‏‏‏‏ [ النجم:۳۹ ] ”اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔“ یہاں دوسرا معنی مراد ہے، یعنی نہایت کوشش اور اہتمام کے ساتھ آؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے دوڑ کر آنے سے منع فرمایا ہے۔ ➎ { وَ ذَرُوا الْبَيْعَ:} اگرچہ جمعہ کے لیے پہلے آنا بہت فضیلت کا باعث ہے اور اس کے متعلق احادیث مشہور و معروف ہیں، مگر آخری حد جس کے بعد جمعہ کی طرف روانگی یا اس کے لیے درکار کام کے سوا ہر کام حرام ہو جاتاہے وہ جمعہ کی اذان ہے۔ یہاں {” الْبَيْعَ “} کا ذکر اس خاص واقعہ کے پیش نظر آیا ہے جو اگلی آیت میں آ رہا ہے، ورنہ اللہ کے ذکر کی طرف سعی جس طرح بیع ترک کرنے کے سوا نہیں ہو سکتی دوسرے تمام کام ترک کرنے کے بغیر بھی نہیں ہو سکتی اور ظاہر ہے کہ جب سعی فرض ہے تو ہر وہ کام حرام ہے جو اس سے روکنے والا ہے۔ ➏ {ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ:} ظاہر ہے آخرت کے ثواب کے مقابلے میں دنیا کے فائدوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ ➐ جمعہ کے دن غسل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، پہلے آنا، خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا اور دوسرے متعلقہ احکام و فضائل کتب احادیث میں تفصیل سے مذکور ہیں۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →