بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الجمعة
سورۃ الجمعة — 11 آیات
قرآن کریم Surah 62
یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ الۡمَلِکِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے بادشاہ ہے، قدوس ہے، زبردست اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(ساری چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاه نہایت پاک (ہے) غالب وباحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت والا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ سب چیزیں جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اس اللہ کی تسبیح کرتی ہیں جو بادشاہ ہے (اور نقائص سے) پاک ہے زبردست ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کا پاک ہونا بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ، (جو) بادشاہ ہے، بہت پاک ہے، سب پر غالب ہے، کمال حکمت والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے ٭٭

ہر بے زبان اور ناطق چیز اللہ تعالیٰ عزوجل کی پاکیزگی بیان کرتی رہتی ہے جیسے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ’ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو ‘، [17-الاسراء:44] ‏‏‏‏ تمام مخلوق خواہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے۔ «الْأُمِّيُّونَ» سے مراد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَاب وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدْ اِهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْك الْبَلَاغ وَاَللَّه بَصِير بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] ‏‏‏‏، یعنی ’ تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ ‘ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لیے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لیے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنَّهُ لَذِكْر لَك وَلِقَوْمِك» [43-الزخرف:44] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ تیرے لیے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لیے بھی ‘، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ اسی طرح اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتك الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ ’ اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے ‘، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے «قُلْ يَا أَيّهَا النَّاس إِنِّي رَسُول اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ اور جگہ فرمان ہے «لِأُنْذِركُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے ‘، اسی طرح قرآن کی بابت فرمایا «وَمَنْ يَكْفُر بِهِ مِنْ الْأَحْزَاب فَالنَّار مَوْعِده» [11-ھود:17] ‏‏‏‏ ’ تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے ‘، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ «صَلَوَات اللَّه وَسَلَامه عَلَيْهِ» سورۃ الانعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

میں دعائے ابراہیمی بن کر آیا ٭٭

یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لیے ہے کہ خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے، آپ نے اہل مکہ کے لیے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیج جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں پاکیزگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی مرضی کے خلاف کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان اَن پڑھوں کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئیے عرب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل و تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا، ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروع سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور ایسے دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند و بالا خدمت کے لیے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں، نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین!

اہل فارس کی عظمت ٭٭

دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ» سے کیا مراد ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، تب آپ نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:4898] ‏‏‏‏

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لیے مخصوص نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی عرب کے سوا کے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «إِنَّ فِي أَصْلَاب أَصْلَاب أَصْلَاب رِجَال وَنِسَاء مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب» اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے [ طبرانی:6005] ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [الجمعہ:3] ‏‏‏‏۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے۔ پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا، اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔
ساری چیزیں) جو آسمان اور زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاہ نہایت پاک (ہے) غالب و با حکمت ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ [ مسلم، الجمعۃ، باب ما یقرأ في صلاۃ الجمعۃ: ۸۷۷ ] (آیت 1) ➊ {يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ …: } اس آیت کے معانی سورۂ حدید(۱) اور سورۂ حشر (۱، ۲۴) میں گزر چکے ہیں۔ اس سے پہلے تمام سورتوں کی ابتدا میں {” سَبَّحَ “} ماضی کے صیغے کے ساتھ آ یا ہے، یہاںمضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو حال اور استقبال کے لیے ہے، جس میں تجدد اور استمرار پایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز ہر عیب اور کمی سے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے اور ہمیشہ دیتی رہے گی۔ ➋ اس آیت میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا آئندہ آیت کے ساتھ تعلق اسی کی تفسیر میں آ رہا ہے۔
ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جس نے ناخوانده لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اُمّی قوم میں انہیں میں سے ایک رسول(ص) بھیجا جو ان کو اس (اللہ) کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے ٭٭

ہر بے زبان اور ناطق چیز اللہ تعالیٰ عزوجل کی پاکیزگی بیان کرتی رہتی ہے جیسے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ’ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو ‘، [17-الاسراء:44] ‏‏‏‏ تمام مخلوق خواہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے۔ «الْأُمِّيُّونَ» سے مراد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَاب وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدْ اِهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْك الْبَلَاغ وَاَللَّه بَصِير بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] ‏‏‏‏، یعنی ’ تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ ‘ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لیے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لیے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنَّهُ لَذِكْر لَك وَلِقَوْمِك» [43-الزخرف:44] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ تیرے لیے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لیے بھی ‘، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ اسی طرح اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتك الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ ’ اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے ‘، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے «قُلْ يَا أَيّهَا النَّاس إِنِّي رَسُول اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ اور جگہ فرمان ہے «لِأُنْذِركُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے ‘، اسی طرح قرآن کی بابت فرمایا «وَمَنْ يَكْفُر بِهِ مِنْ الْأَحْزَاب فَالنَّار مَوْعِده» [11-ھود:17] ‏‏‏‏ ’ تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے ‘، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ «صَلَوَات اللَّه وَسَلَامه عَلَيْهِ» سورۃ الانعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

میں دعائے ابراہیمی بن کر آیا ٭٭

یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لیے ہے کہ خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے، آپ نے اہل مکہ کے لیے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیج جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں پاکیزگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی مرضی کے خلاف کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان اَن پڑھوں کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئیے عرب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل و تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا، ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروع سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور ایسے دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند و بالا خدمت کے لیے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں، نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین!

اہل فارس کی عظمت ٭٭

دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ» سے کیا مراد ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، تب آپ نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:4898] ‏‏‏‏

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لیے مخصوص نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی عرب کے سوا کے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «إِنَّ فِي أَصْلَاب أَصْلَاب أَصْلَاب رِجَال وَنِسَاء مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب» اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے [ طبرانی:6005] ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [الجمعہ:3] ‏‏‏‏۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے۔ پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا، اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔
2۔ 1 اُ مِّیِّینَ سے مراد عرب ہیں جن کی اکثریت ان پڑھ تھی۔ ان کے خصوصی ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت دوسروں کے کے لئے نہیں تھی، لیکن چونکہ اولین مخاطب وہ تھے اس لئے اللہ کا ان پر زیادہ احسان تھا۔
(آیت 2) ➊ { هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ:} اس آیت کو دلیل بنا کر بعض اہل کتاب کہتے ہیں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف عربوں کے لیے رسول تھے، کیونکہ {” الْاُمِّيّٖنَ “} عرب قوم کو کہتے ہیں، لہٰذا آپ غیر عرب لوگوں اور یہود و نصاریٰ کے لیے رسول نہیں تھے۔ لیکن ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ قرآن مجید میں{” الْاُمِّيّٖنَ “} کا لفظ ایک معنی میں نہیں بلکہ مختلف مواقع پر مختلف معانی کے لیے آیا ہے۔ کہیں وہ اہلِ کتاب کے مقابلے میں ان لوگوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ قُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ» [ آل عمران: ۲۰ ] ”اور ان لوگوں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے اور اُمیوں (ان پڑھ لوگوں) سے کہہ دے کیا تم تابع ہو گئے؟ “ یہاں اُمیوں سے مراد مشرکینِ عرب ہیں، انھیں اہل کتاب (یہودو نصاریٰ) سے الگ گروہ قرار دیا گیاہے۔کہیں یہ لفظ خود اہلِ کتاب کے ان پڑھ لوگوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسے فرمایا: «وَ مِنْهُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۷۸ ] ”اور ان میں سے کچھ اُمی (ان پڑھ) ہیں، جو کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے چند آرزوؤں کے۔“ اور کسی جگہ یہ لفظ خالص یہودی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے مطابق اس سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو یہودی نہیں ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ» [ آل عمران: ۷۵ ] ”یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا ہم پر اَن پڑھوں کے بارے میں (گرفت کا) کوئی راستہ نہیں۔“ یعنی ان کے اندر غیر یہود کا مال مار کھانے کی بد دیانتی پیدا ہونے کاسبب یہ ہے کہ انھوں نے کہا کہ اُمیوں کے بار ے میں ہم پر گرفت کا کوئی راستہ نہیں۔ یہود کی اس اصطلاح کا پس منظر یہ ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کے متعلق تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہ تھے کہ ان میں کوئی نبی مبعوث ہو سکتا ہے، یا انھیں آسمانی کتاب مل سکتی ہے۔ (دیکھیے آل عمران: ۷۳) وہ اپنے سوا تمام اقوام کو ناشائستہ، بد مذہب اور حقیر و ذلیل سمجھتے تھے۔ زیر تفسیر آیات میں {” الْاُمِّيّٖنَ “} سے مراد صرف عرب نہیں، یہودی اصطلاح کے مطابق وہ سب لوگ ہیں جو یہودی نہیں، کیونکہ یہاں {” الْاُمِّيّٖنَ “} کے تحت دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہے، یعنی {” هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ “} میں عرب ”امیین“ کا ذکر ہے، جنھیں یہ شرف حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نسباً ان میں سے تھے اور اس سے اگلی آیت میں غیر عرب امیین کا ذکر ہے جو بعد میں اسلام لانے والے تھے، اس میں فرمایا: «‏‏‏‏وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ”اور ان (امیین) میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (اس رسول کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ اس کی دلیل کہ ان امیین سے مراد غیر عرب ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں: [ كُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ: «‏‏‏‏وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ» قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ!؟ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ حَتّٰی سَأَلَ ثَلاَثًا، وَفِيْنَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، وَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلٰی سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هٰؤُلاَءِ ] [بخاري، التفسیر، سورۃ الجمعۃ: ۴۸۹۷ ] ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے توآپ پر سورۂ جمعہ نازل ہوئی: «‏‏‏‏وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ» ‏‏‏‏ میں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟“ آپ نے جواب نہ دیا، یہاں تک کہ میں نے تین مرتبہ سوال کیا۔ ہم میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھا، پھر فرمایا:”اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوتا تو ان لوگوں میں سے کچھ آدمی یا (فرمایا) ایک آدمی اسے ضرور حاصل کر لیتا۔“ دراصل اس سورت میں یہود پر چوٹ ہے کہ وہ لوگ جنھیں تم اُمی کہتے ہو اور اپنے مقابلے میں ذلیل اور حقیر سمجھتے ہو انھی میں اس اللہ نے ایک رسول مبعوث کیا ہے جو {” الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ “} اور {” الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ “} ہے اور یہ اللہ کا فضل ہے، جسے وہ چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ تمھیں اس کا ٹھیکیدار کس نے اور کب بنایاہے کہ جسے تم چاہو اسی کو یہ فضل عطا ہو، دوسرے کو عطا نہ ہو؟ رہی یہ بات کہ اگرمان بھی لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب و عجم کے امیین کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، تو اس سے آپ کا یہود و نصاریٰ کی طرف مبعوث ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت کے الفاظ سے یہ ظاہر ہے کہ آپ یہود کے سوا سب لوگوں کی طرف رسول ہیں، مگر اس میں یہ صراحت نہیں کہ آپ یہود و نصاریٰ کی طرف رسول نہیں۔ یہ مطلب اس آیت کا مفہوم مخالف ہے جو حجت نہیں ہوتا، مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ» ‏‏‏‏ [ العنکبوت: ۴۸ ] ”اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا۔“ اب اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ سے نہیں لکھتے بلکہ بائیں ہاتھ سے لکھتے تھے تو یہ غلط ہے۔ خصوصاً یہاں تو مفہوم مخالف مراد لیا ہی نہیں جا سکتا، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر اس بات کی صراحت فرما دی ہے کہ آپ کو تمام لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ سبا: ۲۸ ] ”اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے اس حال میں کہ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ اور فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا» [ الأعراف: ۱۵۸ ] ”کہہ دے اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔“ ان دونوں آیات کی تفسیر میں مزید دلائل ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ سورت کی پہلی آیت {” يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ “} میں مذکور اللہ تعالیٰ کی صفات کی اس آیت میں مذکور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور اس کے ہر عیب اور کمی سے پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے جو {” الْمَلِكِ “} (بادشاہ) ہے۔ (دیکھیے حشر: ۲۳) اپنی سلطنت کا انتظام کرنے والا، اس میں اپنے احکام بھیجنے والاہے اور اپنے احکام پہنچانے کے لیے جسے چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے۔ اس نے اپنے شہنشاہی اختیار کے تحت ان لوگوں میں سے رسول بھیجنے کے بجائے جو اپنے آپ کو اہلِ کتا ب، پڑھے لکھے اور مہذب سمجھتے تھے اور دوسروں کو حقیر جانتے تھے، اُمی لوگوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیج دیا۔ {” يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ “} جو اس کے احکام پر مشتمل آیات انھیں مسلسل پڑھ کر سناتا ہے۔ {” الْقُدُّوْسِ “} وہ بادشاہ قدوس ہے (دیکھیے حشر: ۲۳) اس نے ان میں ایسا رسول بھیجا جو انھیں ہر قسم کے کفر و شرک اور تمام قباحتوں اور آلودگیوں سے پاک کرتا ہے۔ {” الْعَزِيْزِ “} (سب پر غالب) ہے، اس کا رسول انھیں اس کی کتاب کی تعلیم دیتا ہے جو اس کے کامل غلبے کی دلیل اور ترجمان ہے۔ {” الْحَكِيْمِ “} (کمال حکمت والا) ہے، اس کا رسول انھیں اس کی عطا کردہ حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ ➌ قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفات چار مقامات پر آئی ہیں، سورۂ بقرہ کی آیت (۱۲۹) میں اہلِ عرب کو اپنا احسان یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ ان صفات والا پیغمبر وہ ہے جس کے لیے ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے کہ وہ اسے ان کی اولاد میں مبعوث فرمائے، سوتمھیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ سورۂ بقرہ ہی کی آیت (۱۵۱) میں فرمایا کہ ان اوصاف والا پیغمبر عطا کرنے پر میری نعمت کو پہچانو، مجھے یاد رکھو، میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری مت کرو۔ سورۂ آلِ عمران(۱۶۴) میں یہ احسان یاد دلایا کہ اتنی اعلیٰ صفات کا رسول اس نے خود ان میں مبعوث فرمایا، جس پر وہ سب احوال گزرتے ہیں جو بطورِ انسان ان سب پر گزرتے ہیں۔ اُحد اور دوسرے مقامات پر دوسروں کی طرح اسے بھی زخم کھانا پڑتے ہیں، سو وہ ان کے لیے ایک کامل نمونہ ہے۔ چوتھا مقام یہ آیت ہے جس میں یہود کے زعم کو باطل کرنا مقصود ہے، اس لیے بعد میں {” مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ “} سے ان کی نالائقیوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ➍ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام انسانوں کے لیے ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب امیین میں پیدا کرنے اور انھیں اسلام کی دعوت کے اوّلین مخاطب بنانے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ کار فرما تھی۔ تفسیر قاسمی میں یہ بات نہایت خوبصورت اور جامع الفاظ میں بیان کی گئی ہے، وہ لکھتے ہیں: {” وَ إِنَّمَا أُوْثِرَتْ بِعْثَتُهُ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِ فِي الْأُمِّيِّيْنَ، لِأَنَّهُمْ أَحَدُّ النَّاسِ أَذْهَانًا، وَأَقْوَاهُمْ جَنَانًا، وَ أَصْفَاهُمْ فِطْرَةً، وَأَفْصَحُهُمْ بَيَانًا، لَمْ تَفْسُدْ فِطْرَتُهُمْ بِغَوَاشِي الْمُتَحَضِّرِيْنَ وَلَا بِأَفَانِيْنِ تَلَاعُبِ اُولٰئِكَ الْمُتَمَدِّنِيْنَ، وَلِذَا اِنْقَلَبُوْا إِلٰي النَّاسِ بَعْدَ الإِْسْلَامِ بِعِلْمٍ عَظِيْمٍ وَحِكْمَةٍ بَاهِرَةٍ، وَسِيَاسَةٍ عَادِلَةٍ، قَادُوْا بِهَا مُعَظَّمَ الْاُمَمِ وَدَوَّخُوْا بِهَا أَعْظَمَ الْمَمَالِكِ “} ”اُمی لوگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو اس لیے ترجیح دی گئی کہ وہ ذہن کے لحاظ سے سب لوگوں سے تیز، دل کے لحاظ سے سب سے قوی، فطرت کے لحاظ سے سب سے صاف اور بیان میں سب سے زیادہ فصیح تھے۔ ان کی فطرت شہری لوگوں کی آلودگیوں سے بگڑی نہیں تھی اور نہ ہی ان نام نہاد تمدن و تہذیب والوں کے مختلف کھیل تماشوں سے فاسد ہوئی تھی۔ اسی لیے اسلام لانے کے بعد وہ لوگوں کے پاس ایسا عظیم علم، حیران کن حکمت و دانائی اور عدل پر مبنی سیاست لے کر آئے جس کے ساتھ انھوں نے دنیا کی بڑی بڑی اقوام کی قیادت کی اور عظیم ترین ممالک کو اپنا زیر ِفرمان بنا کر چھوڑا۔“ ➍ { وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ:” اِنْ “} اصل میں {”إِنَّهُمْ“} ہے، تخفیف کے لیے {”إِنَّ“} کو {”إِنْ“} کر دیا اور اس کے اسم {”هُمْ“} ضمیر کو حذف کر دیا اور اس بات کی دلیل کہ یہ {” اِنْ “} نافیہ یا شرطیہ نہیں وہ ” لام“ ہے جو {” لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ “} پر آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اُمی لوگ کس طرح کی کھلی گمراہی میں تھے اس کا حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نجاشی کے دربار میں بیان کیا، جب اس بادشاہ نے کفار قریش کے وفد کی شکایت پر انھیں ساتھیوں سمیت بلا کر حقیقت حال دریافت کی۔ انھوں نے فرمایا: [ أَيُّهَا الْمَلِكُ! كُنَّا قَوْمًا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ، وَنَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَنَأْتِي الْفَوَاحِشَ، وَنَقْطَعُ الأَرْحَامَ، وَنُسِيْءُ الْجِوَارَ، يَأْكُلُ الْقَوِيُّ مِنَّا الضَّعِيْفَ، فَكُنَّا عَلٰی ذٰلِكَ حَتّٰی بَعَثَ اللّٰهُ إِلَيْنَا رَسُوْلاً مِّنَّا نَعْرِفُ نَسَبَهُ، وَصِدْقَهُ، وَأَمَانَتَهُ، وَعَفَافَهُ، فَدَعَانَا إِلَی اللّٰهِ لِنُوَحِّدَهُ، وَنَعْبُدَهُ، وَنَخْلَعَ مَا كُنَّا نَعْبُدُ نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ دُوْنِهِ مِنَ الْحِجَارَةِ وَالْأَوْثَانِ ] [مسند أحمد: 202/1، ح: ۱۷۴۰، قال المحقق إسنادہ حسن ] ”اے بادشاہ! ہم جاہلیت والے لوگ تھے، بتوں کی عبادت کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، فواحش کا ارتکاب کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسیوں سے بدسلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے قوت والا کمزور کو کھا جاتا تھا۔ ہم اسی حال میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول بھیجا جس کے نسب، صدق، امانت اور پاک دامنی کو ہم جانتے تھے۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف دعوت دی کہ ہم اسے ایک مانیں، اس کی عبادت کریں اور ان پتھروں اور تھانوں سے یکسر علیحدگی اختیار کریں جن کی عبادت اللہ کو چھوڑ کر ہمارے آباواجداد کرتے تھے (اس کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ نے انھیں اسلام کے احکام بیان فرمائے)۔“
وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (اس رسول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دوسروں کے لیے بھی انہیں میں سے جو اب تک ان سے نہیں ملے۔ اور وہی غالب باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں سے اوروں کو پاک کرتے اور علم عطا فرماتے ہیں، جو ان اگلوں سے نہ ملے اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (آپ(ص) کو) ان لوگوں میں سے دوسروں کی طرف بھی بھیجا جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں اور وہ زبردست (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (آپ کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے ٭٭

ہر بے زبان اور ناطق چیز اللہ تعالیٰ عزوجل کی پاکیزگی بیان کرتی رہتی ہے جیسے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ’ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو ‘، [17-الاسراء:44] ‏‏‏‏ تمام مخلوق خواہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے۔ «الْأُمِّيُّونَ» سے مراد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَاب وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدْ اِهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْك الْبَلَاغ وَاَللَّه بَصِير بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] ‏‏‏‏، یعنی ’ تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ ‘ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لیے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لیے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنَّهُ لَذِكْر لَك وَلِقَوْمِك» [43-الزخرف:44] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ تیرے لیے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لیے بھی ‘، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ اسی طرح اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتك الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ ’ اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے ‘، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے «قُلْ يَا أَيّهَا النَّاس إِنِّي رَسُول اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ اور جگہ فرمان ہے «لِأُنْذِركُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے ‘، اسی طرح قرآن کی بابت فرمایا «وَمَنْ يَكْفُر بِهِ مِنْ الْأَحْزَاب فَالنَّار مَوْعِده» [11-ھود:17] ‏‏‏‏ ’ تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے ‘، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ «صَلَوَات اللَّه وَسَلَامه عَلَيْهِ» سورۃ الانعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

میں دعائے ابراہیمی بن کر آیا ٭٭

یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لیے ہے کہ خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے، آپ نے اہل مکہ کے لیے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیج جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں پاکیزگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی مرضی کے خلاف کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان اَن پڑھوں کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئیے عرب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل و تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا، ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروع سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور ایسے دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند و بالا خدمت کے لیے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں، نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین!

اہل فارس کی عظمت ٭٭

دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ» سے کیا مراد ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، تب آپ نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:4898] ‏‏‏‏

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لیے مخصوص نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی عرب کے سوا کے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «إِنَّ فِي أَصْلَاب أَصْلَاب أَصْلَاب رِجَال وَنِسَاء مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب» اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے [ طبرانی:6005] ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [الجمعہ:3] ‏‏‏‏۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے۔ پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا، اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔
3۔ 1 یہ امیین پر عطف ہے یعنی بَعَثَ فِیْ اَ خِرِ یْنَ مِنْھُمْ اَخَرِ یْنَ سے فارس اور دیگر غیر عرب لوگ ہیں جو قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے ہونگے، بعض کہتے ہیں کہ عرب و عجم کے وہ تمام لوگ ہیں جو عہد صحابہ کرام کے بعد قیامت تک ہوں گے چناچہ اس میں فارس، روم، بربر، سوڈان، ترک، مغول، کرد، چینی اور اہل ہند وغیرہ سب آجاتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہم کی نبوت سب کے لیے ہے چناچہ یہ سب ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ اور اسلام لانے کے بعد یہ بھی منہم کا مصداق یعنی اولین اسلام لانے والے امیین میں سے ہوگئے کیونکہ تمام مسلمان امت واحدہ ہیں۔ اسی ضمیر کی وجہ سے بعض کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد بعد میں ہونے والے عرب ہیں کیونکہ منہم کی ضمیر کا مرجع امیین ہیں۔
(آیت 3) {وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ …: ” اٰخَرِيْنَ “} کا عطف {” فِي الْاُمِّيّٖنَ “} پر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کو عرب اُمیوں میں بھیجا جن کی وہ نسل میں سے ہے اور اسے غیر عرب اُمیوں میں بھی بھیجا جو ابھی مسلمان ہو کر عربوں کے ساتھ نہیں ملے، مگر آئندہ مسلمان ہو کر ان کے ساتھ ملنے والے ہیں۔ تفصیل کے لیے اسی سورت کی آیت(۲) کی تفسیر کا پہلا فائدہ ملاحظہ فرمائیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں:” یعنی یہی رسول دوسرے اَن پڑھوں کے واسطے بھی ہے، وہ فارس کے لوگ (ہیں)، وہ بھی نبی کی کتاب نہ رکھتے تھے۔ حق تعالیٰ نے اوّل عرب پیدا کیے اس دین کو تھامنے والے، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے۔“(موضح)
ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ زبردست اور حکیم ہے یہ اس کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے اپنا فضل دے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اللہ کا فضل و کرم ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے ٭٭

ہر بے زبان اور ناطق چیز اللہ تعالیٰ عزوجل کی پاکیزگی بیان کرتی رہتی ہے جیسے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ’ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو ‘، [17-الاسراء:44] ‏‏‏‏ تمام مخلوق خواہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے۔ «الْأُمِّيُّونَ» سے مراد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَاب وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدْ اِهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْك الْبَلَاغ وَاَللَّه بَصِير بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] ‏‏‏‏، یعنی ’ تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ ‘ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لیے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لیے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنَّهُ لَذِكْر لَك وَلِقَوْمِك» [43-الزخرف:44] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ تیرے لیے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لیے بھی ‘، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ اسی طرح اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتك الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ ’ اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے ‘، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے «قُلْ يَا أَيّهَا النَّاس إِنِّي رَسُول اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ اور جگہ فرمان ہے «لِأُنْذِركُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے ‘، اسی طرح قرآن کی بابت فرمایا «وَمَنْ يَكْفُر بِهِ مِنْ الْأَحْزَاب فَالنَّار مَوْعِده» [11-ھود:17] ‏‏‏‏ ’ تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے ‘، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ «صَلَوَات اللَّه وَسَلَامه عَلَيْهِ» سورۃ الانعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

میں دعائے ابراہیمی بن کر آیا ٭٭

یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لیے ہے کہ خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے، آپ نے اہل مکہ کے لیے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیج جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں پاکیزگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی مرضی کے خلاف کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان اَن پڑھوں کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئیے عرب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل و تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا، ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروع سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور ایسے دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند و بالا خدمت کے لیے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں، نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین!

اہل فارس کی عظمت ٭٭

دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ» سے کیا مراد ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، تب آپ نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:4898] ‏‏‏‏

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لیے مخصوص نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی عرب کے سوا کے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «إِنَّ فِي أَصْلَاب أَصْلَاب أَصْلَاب رِجَال وَنِسَاء مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب» اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے [ طبرانی:6005] ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [الجمعہ:3] ‏‏‏‏۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے۔ پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا، اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔
4۔ 1 یہ اشارہ نبوت محمدی کی طرف ہوسکتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی طرف بھی۔
(آیت 4){ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ …:} یعنی اُمیوں میں نبی مبعوث کرنا اور اسے بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے رسول بنانا اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، وہ یہود یا کسی اور کی خواہش کا پابند نہیں کہ اسی کو اپنے فضل سے نوازے جسے وہ چاہیں اور نہ ہی یہ کسی کی محنت و کوشش پر موقوف ہے کہ کوئی ریاضت اور محنت کے ساتھ نبوت کا منصب حاصل کر لے، بلکہ یہ سراسر اللہ کے انتخاب اور اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۷۵ ] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۱۲۴ ] ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۰۵ ] ”اور اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔“
مَثَلُ الَّذِیۡنَ حُمِّلُوا التَّوۡرٰىۃَ ثُمَّ لَمۡ یَحۡمِلُوۡہَا کَمَثَلِ الۡحِمَارِ یَحۡمِلُ اَسۡفَارًا ؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں کو توراۃ کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھا یا، اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اِس سے بھی زیادہ بری مثال ہے اُن لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا ہے ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں ﻻدے ہو۔ اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسے) ﻇالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں (یہود) کو توراۃ کا حامل بنایا گیا مگر انہوں نے اسکو نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے بڑی بڑی کتابیں اٹھائی ہوئی ہوں اور کیا بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا (انہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کا بوجھ رکھا گیا، پھر انھوں نے اسے نہیں اٹھایا، گدھے کی مثال کی سی ہے جو کئی کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ان لوگوں کی مثال بری ہے جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتابوں کا بوجھ لادا گدھا اور بےعمل عالم ٭٭

ان آیتوں میں یہودیوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے کہ انہیں تورات دی گئی اور عمل کرنے کے لیے انہوں نے اسے لیا پھر عمل نہ کیا، فرمایا جاتا ہے کہ ان کی مثال گدھے کی سی ہے کہ اگر اس پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے تو اسے یہ تو معلوم ہے کہ اس پر کوئی بوجھ ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے؟ اسی طرح یہ یہود ہیں کہ ظاہری الفاظ تو خوب رٹے ہوئے ہیں لیکن نہ تو یہ معلوم ہے کہ مطلب کیا ہے؟ نہ اس پر ان کا عمل ہے بلکہ اور تبدیل و تحریف کرتے رہتے ہیں، پس دراصل یہ اس بےسمجھ جانور سے بھی بدترین ہیں، کیونکہ اسے تو قدرت نے سمجھ ہی نہیں دی لیکن یہ سمجھ رکھتے ہوئے پھر بھی اس کا استعمال نہیں کرتے۔ اسی لیے دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [7-الاعراف:179] ‏‏‏‏ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے، یہ غافل لوگ ہیں۔ یہاں فرمایا اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والوں کی بری مثال ہے، ایسے ظالم اللہ کی رہنمائی سے محروم رہتے ہیں۔

«وَقَالَ الْإِمَام أَحْمَد رَحِمَهُ اللَّه حَدَّثَنَا اِبْن نُمَيْر عَنْ مُجَالِد عَنْ الشَّعْبِيّ عَنْ اِبْن عَبَّاس قَالَ: قَالَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ تَكَلَّمَ يَوْم الْجُمُعَة وَالْإِمَام يَخْطُب فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَار يَحْمِل أَسْفَارًا وَاَلَّذِي يَقُول لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمْعَة“» مسند احمد میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن امام کے خطبہ کی حالت میں بات کرے، وہ مثل گدھے کے ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو اور جو اسے کہے کہ چپ رہ اس کا بھی جمعہ جاتا رہا۔ } [مسند احمد:230/1:ضعیف] ‏‏‏‏
5۔ 1 اَ سْفَار سَفْر کی جمع ہے، معنی ہیں بڑی کتاب۔ کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو انسان اس کے معنوں میں سفر کرتا ہے اس لئے کتاب کو سفر کہا جاتا ہے (فتح القدیر) یہ بےعمل یہودیوں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ جس طرح گدھے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی کمر پر جو کتابیں لدی ہیں، ان میں کیا لکھا ہوا ہے۔ یا اس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں یا کوڑا کرکٹ۔ اسی طرح یہ یہودی ہیں یہ تورات کو تو اٹھائے پھرتے ہیں، بلکہ اس میں تاویل و تحریف اور تغیر وتبدل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے یہ حقیقت میں گدھے سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ گدھا تو پیدائشی طور پر فہم وشعور سے ہی عاری ہوتا ہے، جب کہ ان کے اندر فہم و شعور ہے لیکن یہ اسے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے۔ اسی لیے آگے فرمایا کہ ان کی بڑی بری مثال ہے۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا " ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ 179؁" 7۔ الاعراف:179) یہ چوپائے کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں، یہی مثال مسلمانوں کی اور بالخصوص علماء کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں اسے یاد کرتے ہیں اور اس کے معانی ومطالب کو سمجھتے ہیں لیکن اس کے مقتضی پر عمل نہیں کرتے۔
(آیت 5) ➊ {مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا …:” اَسْفَارًا”سِفْرٌ“} کی جمع ہے، بڑی کتاب۔ {”سَفَرَ يَسْفُرُ“ (ن) ”اَلْكِتَابَ“} لکھنا۔ {”اَلسَّافِرُ أَيْ اَلْكَاتِبُ“} جمع اس کی {”سَفَرَةٌ“} ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ (15) كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ [ عبس: ۱۵،۱۶ ] ”ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔جو معزز ہیں، نیک ہیں۔“ ➋ بعض اہلِ علم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تین باتوں میں یہود کا ردّ فرمایا، انھوں نے فخر کیا کہ وہ اہلِ کتاب ہیں جب کہ عرب اُمی ہیں، تو اس کی تردید کرتے ہوئے انھیں اس گدھے کے ساتھ تشبیہ دی جو بڑی بڑی کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔ انھوں نے فخر کیا کہ وہ اللہ کے دوست اور محبوب ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ» [ الجمعۃ: ۶ ] ”(اگر ایسا ہے) تو موت کی تمنا کرو۔ “ تیسرا یہ کہ ان کے ہاں ”سبت“ (ہفتے کا دن)ہے جو مسلمانوں کے پاس نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یوم جمعہ کی صورت میں مسلمانوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا، جس سے یہود اپنی نادانی کی وجہسے محروم رہ گئے۔ (الکشاف) ➌ تورات کا بوجھ رکھا جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر عمل کی ذمہ داری ڈالی گئی، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ» [ الأحزاب:۷۲ ] ”بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔“ {” ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا “} پھر انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا،یعنی جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے، اسی طرح وہ لوگ ہیں جن پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا کہ اس پر عمل کریں، مگر انھوں نے پروا ہی نہیں کی کہ اس میں کیا ہے اور وہ ان سے کیا چاہتی ہے۔ ➍ {بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ:} اللہ کی آیات کو جھٹلانے سے مراد ان بشارتوں کو جھٹلانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازل فرمائیں۔ (دیکھیے اعراف: ۱۵۷) {” بِئْسَ “} فعل ذم ہے، {” مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ “} اس کا فاعل ہے اور اس کا مخصوص بالذم محذوف ہے، یعنی {”هٰذَا الْمَثَلُ۔“} یعنی ان لوگوں کی یہ مثال جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا بری مثال ہے، جس کا مصداق ایمان والوں کو نہیں بننا چاہیے۔ جیسا کہ کسی مسلمان کو کتے کی مثال کا مصداق بھی نہیں بننا چاہیے کہ اس پر کتے کی مثال صادق آئے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الَّذِيْ يَعُوْدُ فِيْ هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِيْ قَيْهٖ ] [ بخاري، الھبۃ و فضلھا، باب لا یحل لأحد أن یرجع في ھبتہ وصدقتہ: ۲۶۲۲ ] ”یہ بری مثال ہمارے لیے نہیں ہے، وہ شخص جو اپنے ہبہ میں لوٹتا ہے اس کتے کی ما نند ہے جو اپنی قے میں لوٹتا ہے۔“ ➎ استاد محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”کیا وجہ ہے کہ ان علماء کا حال اس سے مختلف ہو جو قرآن و حدیث کا علم رکھتے ہیں لیکن اس پرعمل نہیں کرتے، یا یہودیوں کی طرح ان کی من مانی تاویلیں کرتے ہیں۔“ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہود کے عالم ایسے تھے کتاب پڑھی اور دل میں کچھ اثر نہ ہوا، اللہ ہم کو پناہ دے۔ “(موضح) ➏ {وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی جاننے کے باوجود نہ ماننا صریح ظلم ہے اور ایسے ظالموں کو اللہ بھی راہِ راست پر چلنے کی توفیق نہیں دیتا، کیونکہ نہ چاہنے والوں کو زبر دستی راہِ راست پر چلانا اس کا دستور نہیں۔
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ ہَادُوۡۤا اِنۡ زَعَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ اَوۡلِیَآءُ لِلّٰہِ مِنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو، "اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو، اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اِس زعم میں سچے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے سوا تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے یہودیو! اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو اور لوگ نہیں تو مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہیے! اے یہودیو! اگر تمہارا خیال ہے کہ سب لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے دوست ہو تو پھر موت کی تمنا کرو اگر تم (اپنے دعویٰ میں) سچے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو! اگر تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم ہی اللہ کے دوست ہو (دوسرے) لوگوں کے سوا تو موت کی تمنا کرو، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کو دعوت مباہلہ ٭٭

پھر فرماتا ہے، اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم حق پر ہو اور نبی اور آپ کے اصحاب حق پر نہیں تو آؤ اور دعا مانگو کہ ہم دونوں میں سے جو حق پر نہ ہو اللہ اسے موت دے، پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیج رکھے ہیں وہ ان کے سامنے ہیں مثلاً کفر، فجور، ظلم، نافرمانی وغیرہ اس وجہ سے ہماری پیشین گوئی ہے کہ وہ اس پر آمادگی نہیں کریں گے، ان ظالموں کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت «قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّـهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» [2-البقرہ:94-96] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں یہودیوں کے اس مباہلے کا پورا ذکر ہم کر چکے ہیں اور وہیں یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اپنے اوپر اگر خود گمراہ ہوں تو ان پر تو یا اپنے مقابل پر اگر وہ گمراہ ہوں موت کی بد دعا کریں، جیسے کہ نصرانیوں کے مباہلہ کا ذکر سورۃ آل عمران میں گزر چکا ہے، ملاحظہ ہو تفسیر «فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:61] ‏‏‏‏، مشرکین سے بھی مباہلہ کا اعلان کیا گیا ملاحظہ ہو تفسیر سورۃ مریم آیت «قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا» [19-مريم:75] ‏‏‏‏، یعنی ’ اے نبی! ان سے کہہ دے کہ جو گمراہی میں ہو رحمٰن اسے اور بڑھا دے ‘۔ مسند احمد میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل لعنتہ اللہ علیہ نے کہا کہ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے پاس دیکھوں گا تو اس کی گردن ناپوں گا جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ایسا کرتا تو سب کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اگر یہود میرے مقابلہ پر آ کر موت طلب کرتے تو یقیناً وہ مر جاتے اور اپنی جگہ جہنم میں دیکھ لیتے اور اگر مباہلہ کے لیے لوگ نکلتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و مال کو ہرگز نہ پاتے“ }۔ یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏
6۔ 1 جیسے وہ کہا کرتے تھے کہ ' ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے چہیتے ہیں (وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ۭقُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۡ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 5۔ المائدہ:18) اور دعویٰ کرتے تھے کہ ' جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی یا نصرانی ہوگا ' (وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 111۔) 2۔ البقرۃ:111) 6۔ 2 تاکہ تمہیں وہ اعزازو اکرام حاصل ہو جو تمہارے غرور کے مطابق تمہارے لئے ہونا چاہیئے، 6۔ 3 اس لیے کہ جس کو یہ علم ہو کہ مرنے کے بعد اس کے لیے جنت ہے وہ تو وہاں جلد پہنچنے کا خواہش مند ہوتا ہے حافظ ابن کثیر نے اس کی تفسیر دعوت مباہلہ سے کی ہے۔ یعنی اس میں ان سے کہا گیا ہے کہ اگر تم نبوت محمدیہ کے انکار اور اپنے دعوائے ولایت و محبوبیت میں سچے ہو تو مسلمانوں کے ساتھ مباہلہ کرلو۔ یعنی مسلمان اور یہودی دونوں مل کر بارگاہ الہی میں دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے اسے موت سے ہمکنار فرما دے۔
(آیت 6تا8) {قُلْ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ(۹۴ تا ۹۶) کی تفسیر۔
وَ لَا یَتَمَنَّوۡنَہٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کر چکے ہیں، اور اللہ اِن ظالموں کو خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہ کریں گے بوجہ ان اعمال کے جو اپنے آگے اپنے ہاتھوں بھیج رکھے ہیں اور اللہ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان کوتکوں کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ ہرگز اس کی تمنا نہیں کریں گے اپنے ان (برے) اعمال کی وجہ سے جو وہ آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کبھی اس کی تمنا نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کو دعوت مباہلہ ٭٭

پھر فرماتا ہے، اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم حق پر ہو اور نبی اور آپ کے اصحاب حق پر نہیں تو آؤ اور دعا مانگو کہ ہم دونوں میں سے جو حق پر نہ ہو اللہ اسے موت دے، پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیج رکھے ہیں وہ ان کے سامنے ہیں مثلاً کفر، فجور، ظلم، نافرمانی وغیرہ اس وجہ سے ہماری پیشین گوئی ہے کہ وہ اس پر آمادگی نہیں کریں گے، ان ظالموں کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت «قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّـهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» [2-البقرہ:94-96] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں یہودیوں کے اس مباہلے کا پورا ذکر ہم کر چکے ہیں اور وہیں یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اپنے اوپر اگر خود گمراہ ہوں تو ان پر تو یا اپنے مقابل پر اگر وہ گمراہ ہوں موت کی بد دعا کریں، جیسے کہ نصرانیوں کے مباہلہ کا ذکر سورۃ آل عمران میں گزر چکا ہے، ملاحظہ ہو تفسیر «فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:61] ‏‏‏‏، مشرکین سے بھی مباہلہ کا اعلان کیا گیا ملاحظہ ہو تفسیر سورۃ مریم آیت «قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا» [19-مريم:75] ‏‏‏‏، یعنی ’ اے نبی! ان سے کہہ دے کہ جو گمراہی میں ہو رحمٰن اسے اور بڑھا دے ‘۔ مسند احمد میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل لعنتہ اللہ علیہ نے کہا کہ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے پاس دیکھوں گا تو اس کی گردن ناپوں گا جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ایسا کرتا تو سب کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اگر یہود میرے مقابلہ پر آ کر موت طلب کرتے تو یقیناً وہ مر جاتے اور اپنی جگہ جہنم میں دیکھ لیتے اور اگر مباہلہ کے لیے لوگ نکلتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و مال کو ہرگز نہ پاتے“ }۔ یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏
7۔ 1 یعنی کفر و معاصی اور کتاب الٰہی میں تحریف و تغیر کا جو ارتکاب یہ کرتے رہے ہیں، ان کے باعث کبھی بھی یہ موت کی آرزو نہیں کریں گے
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قُلۡ اِنَّ الۡمَوۡتَ الَّذِیۡ تَفِرُّوۡنَ مِنۡہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیۡکُمۡ ثُمَّ تُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ٪﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو، "جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آ کر رہے گی پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو پوشیدہ و ظاہر کا جاننے والا ہے، اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وه تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وه تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے پھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو تم نے کیا تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ بہرحال تم سے مل کر رہے گی پھر تم اس (خدا) کی بارگاہ میں لوٹائے جاؤ گے جو غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، سو یقینا وہ تم سے ملنے والی ہے، پھر تم ہر پوشیدہ اورظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت سے مضر نہیں ٭٭

پھر فرماتا ہے موت سے تو کوئی بچ ہی نہیں سکتا، جیسے سورۃ نساء میں ہے «أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ» [4-النساء:78] ‏‏‏‏ یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو وہاں تمہیں موت پا ہی لے گی گو مضبوط محلوں میں ہو، معجم طبرانی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے { موت سے بھاگنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک لومڑی ہو جس پر زمین کا کچھ قرض ہو وہ اس خوف سے کہ کہیں یہ مجھ سے مانگ نہ بیٹھے، بھاگے، بھاگتے بھاگتے جب تھک جائے تب اپنے بھٹ میں گھس جائے، جہاں گھسی اور زمین نے پھر اس سے تقاضا کیا کہ لومڑی میرا قرض ادا کر دو پھر وہاں سے دم دبائے ہوئے تیزی سے بھاگی آخر یونہی بھاگتے بھاگتے ہلاک ہو گئی۔ } [طبرانی6922ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جب تمہیں جمعہ کے دن والی نمازکے لئے پکارا جائے (اس کی اذان دی جائے) تو اللہ کے ذکر (نمازِ جمعہ) کی طرف تیز چل کر جاؤ اورخرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جمعہ کا دن کیا ہے ، اس کی اہمیت کیوں ہے؟ ٭٭

«جمعہ» کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی، چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے، چھٹا دن جمعہ کا ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہو گی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی دن تیرے ماں باپ [ یعنی آدم و حواء ] ‏‏‏‏ کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا“، یا یوں فرمایا: کہ تمہارے باپ کو جمع کیا۔ اسی طرح ایک موقوف حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ «فاللہ اعلم» پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] ‏‏‏‏ مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856] ‏‏‏‏ یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] ‏‏‏‏ یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔

یہ یاد رہے کہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا منع ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { جب تم اقامت سنو تو نماز کیلئے سکینت اور وقار کے ساتھ چلو، دوڑو نہیں، جو پاؤ پڑھ لو، جو فوت ہو ادا کر لو۔ } [صحیح بخاری:636] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے کہ لوگوں کے پاؤں کی آہٹ زور زور سے سنی، فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم جلدی جلدی نماز میں شامل ہوئے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو نماز کو اطمینان کے ساتھ چل کر آؤ جو پاؤ پڑھ لو جو چھوٹ جائے پوری کر لو“ }۔ [صحیح مسلم:603] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ‏‏‏‏ ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔

غسلِ جمعہ اور آداب جمعہ ٭٭

جمعہ کے لیے آنے والے کو غسل بھی کرنا چاہیئے، بخاری مسلم میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز کے لیے جانے کا ارادہ کرے وہ غسل کر لیا کرے۔ } [صحیح بخاری:877] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ } [صحیح بخاری:858] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ } [صحیح مسلم:849] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ } [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سنن اربعہ میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ } [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

بخاری مسلم میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے، اول ساعت میں جائے، اس نے گویا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، دوسری ساعت میں جانے والا مثل گائے کی قربانی کرنے والے کے ہے، تیسری ساعت میں جانے والا مثل بھیڑ کی قربانی کرنے والے کے ہے، چوتھی ساعت میں جانے والا مرغ راہ اللہ میں تصدق کرنے والے کی طرح ہے، پانچویں ساعت میں جانے والا انڈا راہ اللہ دینے والے جیسا ہے، پھر جب امام آئے فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ } [صحیح بخاری:881] ‏‏‏‏ مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (‏‏‏‏یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ } [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ } [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔

جمعہ کی پہلی آذان ٭٭

جس اذان کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی اذان تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لاتے منبر پر جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اذان ہوتی تھی، اس سے پہلے کی اذان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی اسے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صرف لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر زیادہ کیا۔ صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912] ‏‏‏‏ مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔

جمعہ کے وقت خرید و فروخت حرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ دو یعنی ذکر اللہ کے لیے چل پڑو تجارت کو ترک کر دو، جب نماز جمعہ کی اذان ہو جائے، علماء کرام رحمہ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ اذان کے بعد خرید و فروخت حرام ہے، اس میں اختلاف ہے کہ دینے والا اگر دے تو وہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ ظاہر آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی صحیح نہ ٹھہرے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔
9۔ 1 یہ اذان کس طرح دی جائے، اس کے الفاظ کیا ہوں؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا ہی۔ جمعہ کو، جمعہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر چیز کی پیدائش سے فارغ ہوگیا تھا، یوں گویا تمام مخلوقات کا اس دن اجتماع ہوگیا، یا نماز کے لئے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس بنا پر کہتے ہیں (فتح القدیر) فَاَسْعَوْا کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آؤ، بلکہ یہ ہے کہ اذان کے بعد فوراً کاروبار بند کر کے آجاؤ۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے، وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (صحیح بخاری) بعض حضرات نے ذروا البیع (خریدو فروخت) چھوڑ دو سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ صرف شہروں میں فرض ہے اہل دیہات پر نہیں۔ کیونکہ کاروبار اور خریدوفروخت شہروں میں ہی ہوتی ہے دیہاتوں میں نہیں۔ حالانکہ اول تو دنیا میں کوئی ایسا گاؤں نہیں جہاں خریدو فروخت اور کاروبار نہ ہوتا ہو اس لیے یہ دعوٰی خلاف واقعہ دوسرا بیع اور کاروبار سے مطلب دنیا کے مشاغل ہیں وہ جیسے بھی اور جس قسم کے بھی ہوں۔ اذان جمعہ کے بعد انہیں ترک کردیا جائے۔ کیا اہل دیہات کے مشاغل دنیا نہیں ہوتے؟ کیا کیھتی باڑی کاروبار اور مشاغل دنیا سے مخلتف چیز ہے۔
(آیت 9) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ …:} اہلِ کتاب کی شقاوت اور امیین کی سعادت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہود و نصاریٰ پر جمعہ کا دن فرض کیا گیا تو انھوں نے اسے قبول کرنے میں اختلاف کیا۔ یہود نے اپنے لیے ہفتے کا د ن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن عبادت کے لیے مقرر کر لیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو جمعہ کے دن کی ہدایت عطا فرما دی، جس سے انھیں یہودو نصاریٰ دونوں پر سبقت حاصل ہو گئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۱۲۴): «‏‏‏‏اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ ➋ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا …:} یہ آیت واضح دلیل ہے کہ جمعہ ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو ایمان لا چکے ہیں، خواہ وہ شہر میں رہتے ہوں یا کسی بستی یا بادیہ میں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا ہے: {”بَابُ الْجُمُعَةِ فِي الْقُرٰي وَالْمُدُنِ “} (بستیوں اور شہروں میں جمعہ کا باب) اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث لائے ہیں، انھوں نے فرمایا: [ إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِيْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثٰٰی مِنَ الْبَحْرَيْنِ ] [ بخاري، الجمعۃ، باب الجمعۃ في القری والمدن: ۸۹۲ ] ”پہلا جمعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جمعہ کے بعد ادا کیا گیا عبد القیس قبیلے کی مسجد میں ہوا جو بحرین کے جواثی ٰمقام پر تھی۔“ ابو داؤد میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: [ بِجُوَاثَاءَ قَرْيَةٍ مِّنْ قُرَی الْبَحْرَيْنِ ] [ أبو داوٗد، الصلاۃ، باب الجمعۃ فی القرٰی: ۱۰۶۸ ] ”جواثا بحرین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے۔“ آیت میں جمعہ کے دن صلاۃ کی ندا پر اللہ کے ذکر کی طرف سعی کا حکم ہے اور باجماعت صلاۃ ادا کرنا صرف شہر میں نہیں بلکہ ہر بستی اور بادیہ میں فرض ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: [ مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب في التشدید في ترک الجماعۃ: ۵۴۷ ] ”کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی یا بادیہ میں ہوں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر ان پر شیطان غالب آچکا ہوتا ہے۔ سو جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اس بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور ہو۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے عمر(بن خطاب رضی اللہ عنہ) کو خط لکھ کر جمعہ کے متعلق سوال کیا، انھوں نے لکھا: [ جَمِّعُوْا حَيْثُمَا كُنْتُمْ ] [ مصنف ابن أبي شیبۃ: 101/2، ح: ۵۱۰۸ ] ”تم جہا ں بھی ہو جمعہ ادا کرو۔ “ اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔ جن لوگوں نے جمعہ کے لیے شہر یا حاکم وغیرہ کی شرط لگائی ہے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل نہیں اور مشہور روایت {” لَاجُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيْقَ إِلَّا فِيْ مِصْرٍ جَامِعٍ“} (جمعہ اور عید جامع شہر کے سوا نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ یہ علی رضی اللہ عنہ کا قول مشہور ہے، جو عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح سند کے ساتھ مروی قول کے خلاف ہے، جب صحابہ میں اختلاف ہو تو اصل کتاب و سنت کی طرف رجوع واجب ہے (دیکھیے نساء: ۵۹) اور کتاب و سنت کے مطابق تمام مسلمانوں پر ہر جگہ جمعہ فرض ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، البتہ چند لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی كُلِّ مُسْلِمٍ فِيْ جَمَاعَةٍ إِلاَّ أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوْكٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيْضٌ ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ: ۱۰۶۷، قال الألباني صحیح ] ”جمعہ ہر مسلم پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب حق ہے سوائے چار کے، غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو یا عورت یا بچہ یا مریض۔ “ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ عَلٰی مُسَافِرٍ جُمُعَةٌ ] [ المعجم الأوسط للطبراني: 249/1، ح: ۸۱۸، وقال الألباني صحیح۔ دیکھیے الجامع الصغیر: ۵۴۰۵ ] ”مسافر پر جمعہ نہیں ہے۔“ جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ کے لیے آئیں تو اجر کا باعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں بھی جمعہ کے لیے آتی تھیں، اس سے اجر کے علاوہ قرآن کی آیات سن کر انھیں یاد کرنے کا موقع ملتا، قرآن و سنت سن کر علم میں اضافہ ہو تا اور نصیحت سن کر اصلاح ہوتی تھی۔ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ مَا أَخَذْتُ «‏‏‏‏قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» ‏‏‏‏ إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَی الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ ] [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ: ۵۲ /۸۷۳ ] ”میں نے سورۂ «‏‏‏‏قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے منبر پر پڑھا کرتے تھے۔“ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت (۸۷۳) میں ام ہشام رضی اللہ عنھا ہی کے الفاظ ہیں: [ مَا حَفِظْتُ «‏‏‏‏قٓ» ‏‏‏‏ إِلَّا مِنْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ ] مطلب اوپر گزر چکا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو منع فرمایا کہ وہ عورتوں کو اس بات سے روکیں کہ وہ مسجد میں آکر اجر اور قرآن و سنت کے علم سے اپنا حصہ حاصل کریں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوَظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنُوْكُمْ ] [ مسلم، الصلاۃ، باب خروج النساء إلی المساجد …: ۱۴۰ /۴۴۲ ] ”عورتوں کو مساجد میں سے ان کے حصے میں آنے والی چیزوں سے مت روکو، جب وہ تم سے اجازت مانگیں۔“ جمعہ کے دن کی بدعات میں سے ایک بدعت ظہر احتیاطی ہے۔ کچھ لوگ جن کا خیال ہے کہ اسلامی حاکم کے بغیر جمعہ نہیں ہوتا اور دیہات میں بھی جمعہ نہیں ہوتا، شہروں اور گاؤں میں جمعہ کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد احتیاطاً ظہر کی چار رکعتیں بھی پڑھتے ہیں، یہ بد ترین بدعت ہے، کیونکہ اس کی بنیاد شک پر ہے جو کفار کا معمول ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ» [ الدخان: ۹ ] ”بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔“ ➌ { اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ:اَلصَّلاَةُ “} پر ”الف لام“ عہد کا ہے، مراد وہ نماز ہے جو جمعہ کے دن کے ساتھ خاص ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ نماز جمعہ ہے جو اس دن ظہر کی جگہ ادا کی جاتی ہے اور نداسے مراد اذان ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ کی آیت (۵۸) کی تفسیر۔ آج کل عام طور پر جمعہ کے دن خطبے سے پہلے دو اذانیں کہی جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے زمانے میں یہ دو اذانیں نہیں بلکہ ایک ہی اذان تھی۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: [ كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الإِْمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَلٰی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَاءِ ] [ بخاري، الجمعۃ، باب الأذان یوم الجمعۃ: ۹۱۲ ] ”جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے عہد میں یہی معمول تھا۔ پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہو گئے تو انھوں نے (بازار میں ایک مقام) زَوراء پر تیسری اذان کا اضافہ کر دیا۔“ یاد رہے کہ اس تیسری اذان سے مراد وہ اذان ہے جو آج کل خطبے سے پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ پہلے کہی جاتی ہے، اس کے بعد کی دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ یہ تیسری اذان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے دور میں نہیں کہی جاتی تھی، عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی کثرت کے پیشِ نظر اس کا اضافہ کیا، مگر ان کے زمانے میں یہ اذان مسجد میں نہیں کہی جاتی تھی بلکہ بازار میں کہی جاتی تھی، تاکہ لوگوں کو اطلاع ہو جائے۔ آج کل نہ اس اذان کا اہتمام مسجد سے الگ بازار میں کیا جاتا ہے، نہ لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی ہے اور نہ ہی مسجد میں خطبے سے پہلے دو اذانیں عثمان رضی اللہ عنہ کا طریقہ ہے۔ اس لیے خطبے سے پہلے مسجد میں ایک ہی اذان کہی جانی چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کا طریقہ ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل بھی یہی ہے۔ ➍ { فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ: ”سَعٰي يَسْعٰي سَعْيًا“} (ف) کا معنی دوڑنا بھی ہے اور کوشش کرنا بھی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى» ‏‏‏‏ [ النجم:۳۹ ] ”اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔“ یہاں دوسرا معنی مراد ہے، یعنی نہایت کوشش اور اہتمام کے ساتھ آؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے دوڑ کر آنے سے منع فرمایا ہے۔ ➎ { وَ ذَرُوا الْبَيْعَ:} اگرچہ جمعہ کے لیے پہلے آنا بہت فضیلت کا باعث ہے اور اس کے متعلق احادیث مشہور و معروف ہیں، مگر آخری حد جس کے بعد جمعہ کی طرف روانگی یا اس کے لیے درکار کام کے سوا ہر کام حرام ہو جاتاہے وہ جمعہ کی اذان ہے۔ یہاں {” الْبَيْعَ “} کا ذکر اس خاص واقعہ کے پیش نظر آیا ہے جو اگلی آیت میں آ رہا ہے، ورنہ اللہ کے ذکر کی طرف سعی جس طرح بیع ترک کرنے کے سوا نہیں ہو سکتی دوسرے تمام کام ترک کرنے کے بغیر بھی نہیں ہو سکتی اور ظاہر ہے کہ جب سعی فرض ہے تو ہر وہ کام حرام ہے جو اس سے روکنے والا ہے۔ ➏ {ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ:} ظاہر ہے آخرت کے ثواب کے مقابلے میں دنیا کے فائدوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ ➐ جمعہ کے دن غسل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، پہلے آنا، خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا اور دوسرے متعلقہ احکام و فضائل کتب احادیث میں تفصیل سے مذکور ہیں۔
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانۡتَشِرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ ابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب نماز تمام ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب نماز پوری کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے (حصہ) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جمعہ کا دن کیا ہے ، اس کی اہمیت کیوں ہے؟ ٭٭

«جمعہ» کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی، چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے، چھٹا دن جمعہ کا ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہو گی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی دن تیرے ماں باپ [ یعنی آدم و حواء ] ‏‏‏‏ کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا“، یا یوں فرمایا: کہ تمہارے باپ کو جمع کیا۔ اسی طرح ایک موقوف حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ «فاللہ اعلم» پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] ‏‏‏‏ مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856] ‏‏‏‏ یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] ‏‏‏‏ یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔

یہ یاد رہے کہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا منع ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { جب تم اقامت سنو تو نماز کیلئے سکینت اور وقار کے ساتھ چلو، دوڑو نہیں، جو پاؤ پڑھ لو، جو فوت ہو ادا کر لو۔ } [صحیح بخاری:636] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے کہ لوگوں کے پاؤں کی آہٹ زور زور سے سنی، فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم جلدی جلدی نماز میں شامل ہوئے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو نماز کو اطمینان کے ساتھ چل کر آؤ جو پاؤ پڑھ لو جو چھوٹ جائے پوری کر لو“ }۔ [صحیح مسلم:603] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ‏‏‏‏ ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔

غسلِ جمعہ اور آداب جمعہ ٭٭

جمعہ کے لیے آنے والے کو غسل بھی کرنا چاہیئے، بخاری مسلم میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز کے لیے جانے کا ارادہ کرے وہ غسل کر لیا کرے۔ } [صحیح بخاری:877] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ } [صحیح بخاری:858] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ } [صحیح مسلم:849] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ } [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سنن اربعہ میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ } [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

بخاری مسلم میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے، اول ساعت میں جائے، اس نے گویا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، دوسری ساعت میں جانے والا مثل گائے کی قربانی کرنے والے کے ہے، تیسری ساعت میں جانے والا مثل بھیڑ کی قربانی کرنے والے کے ہے، چوتھی ساعت میں جانے والا مرغ راہ اللہ میں تصدق کرنے والے کی طرح ہے، پانچویں ساعت میں جانے والا انڈا راہ اللہ دینے والے جیسا ہے، پھر جب امام آئے فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ } [صحیح بخاری:881] ‏‏‏‏ مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (‏‏‏‏یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ } [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ } [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔

جمعہ کی پہلی آذان ٭٭

جس اذان کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی اذان تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لاتے منبر پر جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اذان ہوتی تھی، اس سے پہلے کی اذان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی اسے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صرف لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر زیادہ کیا۔ صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912] ‏‏‏‏ مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔

جمعہ کے وقت خرید و فروخت حرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ دو یعنی ذکر اللہ کے لیے چل پڑو تجارت کو ترک کر دو، جب نماز جمعہ کی اذان ہو جائے، علماء کرام رحمہ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ اذان کے بعد خرید و فروخت حرام ہے، اس میں اختلاف ہے کہ دینے والا اگر دے تو وہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ ظاہر آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی صحیح نہ ٹھہرے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔
10۔ 1 اس سے مراد کاروبار اور تجارت ہے۔ یعنی نماز جمعہ سے فارغ ہو کر تم اپنے اپنے کاروبار اور دنیا کے مشاغل میں مصروف ہوجاؤ۔ مقصد اس امر کی وضاحت ہے کہ جمعہ کے دن کاروبار بند رکھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف نماز کے وقت ایسا کرنا ضروری ہے۔
(آیت 10) ➊ { فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، تو کیا نماز کے بعد مسجد سے نکلنا ضروری ہے اور کیا کاروبار بھی ضروری ہے یا گھر میں آرام بھی کیا جا سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اگرچہ اصل یہی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے وہ فرض ہوتا ہے، مگر قرینہ موجود ہو تو امر استحباب کے لیے بھی ہو تا ہے اور بیانِ جواز کے لیے بھی۔ یہاں اذان کے بعد بیع سے منع فرمایا تھا، اب اس ممانعت کی حد بیان فرما دی کہ یہ ممانعت نماز پوری ہونے تک ہے، اس کے بعدبیع کی اجازت ہے اور تمھیں اختیار ہے کہ مسجد سے نکل کر کاروبار میں مصروف ہو جاؤ، لیکن اگر کوئی مسجد میں رہے یا گھر چلا جائے، کاروبار نہ کرے تو مضائقہ نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اللہ نے احرام کی حالت میں شکار سے منع فرمایا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۹۵ ] ”شکار کو مت قتل کرو، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو۔“ پھر فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۲ ] ”اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرو۔“یہاں شکار کا حکم دینے کا یہ مطلب نہیں کہ احرام کھولنے والے شخص پر شکار کرنا فرض ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ احرام کھولنے کے بعد شکار کی اجازت ہے۔ ➋ { وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ:} اللہ کے فضل سے مراد یہاں روزی تلاش کرنا ہے، یعنی جس طرح یہود کے لیے یوم السبت (ہفتہ) کو سارا دن شکار منع تھا تم پر ایسی کوئی پابندی نہیں، صرف اذان سے لے کر نماز سے فراغت تک خطبہ اور نماز میں حاضری کے سوا ہر کام منع ہے، اس کے بعد جس حلال طریقے سے روزی کما سکتے ہو کماؤ۔ ➌ {وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} یعنی روزی کی تلاش میں مصروفیت کے دوران بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو جاؤ، بلکہ اسے بہت زیادہ یاد کرتے رہو۔ اللہ کی یاد دل سے بھی ہوتی ہے، زبان سے بھی اور ہر کام اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق ادا کرنے کے ساتھ بھی۔ مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۴۱، ۴۲) کی تفسیر۔
وَ اِذَا رَاَوۡا تِجَارَۃً اَوۡ لَہۡوَۨا انۡفَضُّوۡۤا اِلَیۡہَا وَ تَرَکُوۡکَ قَآئِمًا ؕ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ مِّنَ اللَّہۡوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿٪۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا ان سے کہو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس جو ہے وه کھیل اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دیے اور تمہیں خطبے میں کھڑا چھوڑ گئے تم فرماؤ وہ جو اللہ کے پاس ہے کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے، اور اللہ کا رزق سب سے اچھا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (کئی لوگوں کی حالت یہ ہے کہ) جب کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ(ص) کو کھڑا ہوا چھوڑ دیتے ہیں آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ جو کچھ (اجر و ثوا ب) اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشہ اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں، کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشے سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تجارت عبادت اور صلوۃ جمعہ ٭٭

مدینہ میں جمعہ والے دن تجارتی مال کے آ جانے کی وجہ سے جو حضرات خطبہ چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ عتاب کر رہا ہے کہ یہ لوگ جب کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھ لیتے ہیں تو اس کی طرف چل کھڑے ہوتے ہیں اور تجھے خطبہ میں ہی کھڑا چھوڑ دیتے ہیں، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مال تجارت دحیہ بن خلیفہ کا تھا جمعہ والے دن آیا اور شہر میں خبر کے لیے طبل بجنے لگا، دحیہ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے، طبل کی آواز سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے صرف چند آدمی رہ گئے، مسند احمد میں ہے صرف بارہ آدمی رہ گئے باقی لوگ اس تجارتی قافلہ کی طرف چل دیئے جس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4899] ‏‏‏‏ مسند ابو یعلیٰ میں اتنا اور بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ بھی باقی نہ رہتے اور سب اٹھ کر چلے جاتے تو تم سب پر یہ وادی آگ بن کر بھڑک اٹھتی“، جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہیں گئے تھے، ان میں سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ } [مسند ابویعلیٰ1979] ‏‏‏‏ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا چاہیئے، صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے پڑھتے تھے درمیان میں بیٹھ جاتے تھے قرآن شریف پڑھتے تھے اور لوگوں کو تذکیر و نصیحت فرماتے تھے۔ } [صحیح مسلم:862] ‏‏‏‏ یہاں یہ بات بھی معلوم رہنی چاہیئے کہ یہ واقعہ بقول بعض کے اس وقت کا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ پڑھا کرتے تھے۔ مراسیل ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھا کرتے تھے جیسے عیدین میں ہوتا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ آپ خطبہ سنا رہے تھے کہ ایک شخص نے آن کر کہا: دحیہ بن خلیفہ مال تجارت لے کر آ گیا ہے، یہ سن کر سوائے چند لوگوں کے اور سب اٹھ کھڑے ہو گئے۔ } [ابوداؤد فی المراسیل:59ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اے نبی! انہیں خبر سنا دو کہ دار آخرت کا ثواب عند اللہ ہے وہ کھیل تماشوں سے خرید و فروخت سے بہت ہی بہتر ہے، اللہ پر توکل رکھ کر، طلب رزق اوقات اجازت میں جو کرے اللہ اسے بہترین طریق پر روزیاں دے گا۔ «الحمداللہ» سورۃ الجمعہ کی تفسیر پوری ہوئی۔
11۔ 1 ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک قافلہ آگیا، لوگوں کو پتہ چلا تو خطبہ چھوڑ کر باہر خریدو فروخت کے لئے چلے گئے کہ کہیں سامان فروخت ختم نہ ہوجائے صرف 12 آدمی مسجد میں رہ گئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی (صحیح بخاری)۔ انفضاض کے معنی ہیں مائل اور متوجہ ہونا دوڑ کر منتشر ہوجانا۔ الیھا میں ضمیر کا مرجع تجارۃ ہے یہاں صرف ضمیر تجارت پر اکتفا کیا اس لیے کہ جب تجارت بھی باوجود جائز اور ضروری ہونے کے دوران خطبہ مذموم ہے تو کھیل وغیرہ کے مذموم ہونے کیا شک ہوسکتا ہے؟ علاوہ ازیں قائما سے معلوم ہوا کہ خطبہ جمعہ کھڑے ہو کردینا سنت ہے۔ چناچہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے، جن کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے تھے، قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے۔ (صحیح مسلم) 11۔ 2 یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت کی جو جزائے عظیم ہے۔ 11۔ 3 جس کی طرف تم دوڑ کر گئے اور مسجد سے نکل گئے اور خطبہ جمعہ کی سماعت بھی نہیں کی۔ 11۔ 4 پس اسی سے روزی طلب کرو اور اطاعت کے ذریعے سے اسی کی طرف وسیلہ پکڑو۔ اس کی اطاعت اور اس کی طرف رزق حاصل کرنے کا بہت بڑا سبب ہے۔
(آیت 11) ➊ {وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا اِلَيْهَا …:} اس سے پہلے عام تراجم کے مطابق اس آیت کا ترجمہ ” اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں“ کیا گیا تھا۔ اس ترجمہ کی وجہ یہ ہے کہ لفظ {”إِذَا “} عموماً مستقبل کے لیے آتا ہے، حالانکہ اس مقام پر یہ لفظ مستقبل نہیں بلکہ ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے، لہٰذا آیت کا مذکورہ بالا ترجمہ درست نہیں، بلکہ درست ترجمہ یہ ہے: ”اور جب انھوں نے کوئی تجارت دیکھی یا تماشا تو اٹھ کر اس کی طرف چلے گئے اور انھوں نے تجھے کھڑا چھوڑ دیا۔“ قرینہ اس کا یہ ہے کہ یہ فعل صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے صرف ایک دفعہ سر زد ہوا ہے، اس کے بعد انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا، اس لیے یہ کہنا کہ وہ جب بھی کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے تھے تو اٹھ کر چلے جاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ جاتے تھے، ہر گز درست نہیں، بلکہ یہاں ماضی میں ہونے والے معاملے کا ذکر ہے جو صرف ایک دفعہ واقع ہوا ہے۔ مفسر ابراہیم میر سیالکوٹی نے ”شہادۃ القرآن“ (جلد دوم) میں اس کے متعلق بہت عمدہ بحث لکھی ہے، وہ فرماتے ہیں: {” إِذْ “} اور {”إِذَا “} دو کلمے ظروف زمانیہ میں سے ہیں۔ {” إِذْ “} ماضی کے لیے آتاہے اور کبھی بمعنی مستقبل بھی ہوتا ہے، جیسا کہ {” إِذَا “} مستقبل کے لیے اور کبھی ماضی کے لیے بھی آتا ہے، چنانچہ مغنی (مغنی اللبیب) میں {” إِذَا “} کی بحث میں لکھا ہے: {” أَحَدُهُمَا أَنْ تَجِيْءَ لِلْمَاضِيْ كَمَا تَجِيْءُ إِذْ لِلْمُسْتَقْبَلِ۔ “ ” إِذَا “} بمعنی {” إِذْ “} کی مثال یہ آیت ہے: «وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوًا انْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآىِٕمًا» [ الجمعۃ: ۱۱ ] ”اور جس وقت انھوں نے تجارت یا کھیل کا سامان دیکھا تو اس کی طرف اٹھ گئے اور تجھے کھڑا چھوڑ دیا۔ “ اور یہ آیت: «حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَيْهِمْ اَنْفُسُهُمْ» [ التوبۃ: ۱۱۸ ] ”یہاں تک کہ جس وقت زمین ان پر باوجود فراخ ہونے کے تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں بھی ان کو گراں معلوم ہوئیں۔“ اور {”إِذْ “} بمعنی {” إِذَا “} یعنی مستقبل کی مثال یہ آیت ہے: «فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ (70) اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ» [ المؤمن: ۷۰، ۷۱ ] ”پس یہ لوگ اس وقت ضرور جان لیں گے، جب ان کی گردنوں میں طوق پڑیں گے۔“ کیونکہ {” سَوْفَ “} جو خاص استقبال کے لیے موضوع ہے، قرینہ موجود ہے۔“ اس کے بعد مولانا میر سیالکوٹی نے اشعار عرب سے اس کی مثالیں ذکر فرمائی ہیں۔ ➋ {وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوًا انْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا …: ” فَضَّ يَفُضُّ فَضًّا “ (ن) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو توڑکر ریزہ ریزہ کر دینا۔ {” اِنْفَضَّ “} (انفعال) بکھر جانا، منتشر ہو جانا۔ مدینہ میں ایک تجارتی قافلے کی آمد پر صحابہ کے اٹھ کر چلے جانے پر ناراضی کا اظہار ہو رہا ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن ایک قافلہ آیا جب کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو بارہ آدمیوں کے سوا سب اس کی طرف اٹھ کر چلے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوًا انْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا» ‏‏‏‏ [ بخاري، التفسیر، باب: {و إذا رأوا تجارأو لھوا}: ۴۸۹۹ ] جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما ہی سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اس دوران مدینہ میں ایک قافلہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جلدی سے اٹھ کر چلے گئے، حتیٰ کہ آپ کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَوْ تَتَابَعْتُمْ حَتّٰی لاَ يَبْقٰی مِنْكُمْ أَحَدٌ لَسَالَ بِكُمُ الْوَادِی النَّارَ، فَنَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ: «‏‏‏‏وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوًا انْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا» ‏‏‏‏ وَ قَالَ فِي الاِْثْنَيْ عَشَرَ الَّذِيْنَ ثَبَتُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ ] [ مسند أبي یعلٰی: ۳؍۴۶۸، ح: ۱۹۷۹، قال المحقق حسین سلیم أسد إسنادہ صحیح ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم سب ایک دوسرے کے پیچھے چلے جاتے، حتیٰ کہ تم میں سے ایک بھی باقی نہ رہتا تو یہ وادی تمھیں آگ کے ساتھ بہا کر لے جاتی۔“ اس پر یہ آیت اتری: «‏‏‏‏وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوًا انْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآىِٕمًا» جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان باقی رہنے والے بارہ آدمیوں میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما بھی تھے۔“ ➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، اس لیے عذر کے بغیر بیٹھ کر خطبہ نہیں دینا چاہیے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہوکر خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو جاتے، جیسا کہ آج کل کرتے ہیں۔“ [ مسلم، الجمعۃ، باب ذکر الخطبتین قبل الصلاۃ و ما فیھما من الجلسۃ: ۸۶۱ ] ➍ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَ يُذَكِّرُ النَّاسَ ] [ مسلم، الجمعۃ، باب ذکر الخطبتین قبل الصلاۃ و ما فیھما من الجلسۃ: ۸۶۲ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے دیا کرتے تھے، ان دونوں کے درمیان بیٹھتے تھے، آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے۔“ اس حدیث سے کئی باتیں ثابت ہوئیں، ایک یہ کہ جمعہ کے دو خطبے ہیں، جو کھڑے ہو کر دیے جاتے ہیں اور ان کے درمیان بیٹھا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ جمعہ کے خطبے میں یہ دوچیزیں ہوں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا خطبہ ہے ورنہ نہیں، ایک یہ کہ اس میں قرآن مجید ضرور پڑھا جائے خواہ ایک آیت ہی ہو اور دوسری یہ کہ اس میں نصیحت کی جائے، اگر کسی خطبے میں تذکیر (نصیحت) نہیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا خطبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ نصیحت کا مقصد یہی ہے کہ لوگ اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں اور یہ مقصد تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب لوگوں کو ان کی زبان میں سمجھایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمعہ مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی حمدو ثنا، قرآن و سنت کی تعلیم اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا اہتمام ہوتا ہے اور وہ آئندہ سات دنوں کے لیے نئے سرے سے مصروف عمل ہو جاتے ہیں۔ چو نکہ یہ مذہبی شعار ہے اس لیے کوئی حکومت بھی اس اجتماع کو ختم نہیں کر سکتی۔ مسلمانوں کو عمل کے اندر کوتاہی یا دینِ حق سے انحراف یا کفار سے جہاد میں غفلت کی صورت میں ان کے علماء انھیں ان کا فریضہ یاد دلاتے ہیں، مگر جس طرح دوسرے کئی شعار کا حال خراب ہوا جمعہ کے متعلق بھی بعض لوگوں نے اپنے پاس سے ایسی کئی پابندیاں لگا دیں جن کی وجہ سے مسلمان عملاً اس کے فوائد سے محروم ہو گئے۔ ہر جمعہ کو تمام مسلمان قرآن و سنت کا جو علم حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے آگاہ ہوتے تھے، اب اپنے مسائل کے لیے ان علماء کے محتاج ہو گئے جو قرآن و حدیث سے مسائل لینے کے بجائے کسی ایک فقہی مکتب کے مقلد تھے، ان علماء کے مطابق قرآن مجید کا ترجمہ عام آدمی کے لیے پڑھنا ہی درست نہ تھا۔ مدت تک برصغیر میں قرآن مجید کے فارسی یا اردو ترجمے کی کسی کو جرأت ہی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق عام مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ خود قرآن یا حدیث دیکھنے کے بجائے عالم سے مسئلہ پوچھے اور اس عالم کا کام یہ ہے کہ قرآن یا حدیث میں سے مسئلہ بتانے کے بجائے اپنے امام کا قول بیان کرے۔ اس جمعہ میں قرآن یا حدیث کے بیان کا جو امکان تھا وہ انھوں نے اس طرح ختم کیا کہ اس کے لیے شہر اور حاکم کی شرط لگا دی، تو چند مقامات کے سوا باقی ہر جگہ جمعہ ویسے ہی بند ہو گیا، جبکہ عورتوں کے لیے مسجد میں آنا سرے سے ممنوع قرار دیا۔ پھر یہ شرط لگائی کہ جمعہ کا خطبہ صرف عربی میں ہو گا، تاکہ کوئی شخص قرآن و سنت سے واقف نہ ہو سکے، حالانکہ جس امام کے وہ مقلد ہیں ان کے نزدیک نماز میں بھی قرآن کی تلاوت فارسی یا کسی اور زبان میں کی جا سکتی ہے۔ بر صغیر پاک و ہند میں مدتوں یہی سلسلہ جاری رہا،آخر کار جب عمل بالحدیث کا غلغلہ بلند ہوا اور تقلید کی پابندیوں سے آزاد علماء نے اردو میں خطبہ شروع کیا اور لوگوں کو اصل قرآن و سنت سننے کا موقع ملا تو بجائے اس کے کہ وہ حضرات بھی اردو خطبہ دیتے، انھوں نے اذان کے بعد والے دو خطبے عربی میں ضروری قرار دینے پر اصرار جاری رکھا، مگر اس کے ساتھ اپنے مذہب کے دفاع کے لیے اردو میں ایک خطبے کا اضافہ کر دیا اور اس کا نام تقریر رکھ دیا، حالانکہ خطبہ ہو یا خطاب یا تقریر، ایک ہی چیزہے۔ ان حضرات نے یہ خیال نہیں فرمایا کہ اس طرح انھوں نے اردو میں خطبہ دے کر ایک تو وہی کام کیاجس سے وہ دوسروں کو روکتے تھے اور ایک یہ کہ انھوں نے دو خطبوں کے بجائے تیسرے خطبے کی بدعت ایجاد کر لی۔ یاد رکھیں کہ اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا خطبہ جمعہ دینا چاہتے ہیں تو اس میں تذکیر (نصیحت) ضروری جز ہے، بلکہ یہ خطبے کا اصل مقصود ہے اور وہ لوگوں کو ان کی زبان میں سمجھائے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے خطبے صرف دو ہونے چاہییں اور عربی کے ساتھ ساتھ اسے مخاطب لوگوں کی زبان میں بھی سمجھانے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ➎ {قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ …:} یعنی اللہ کی خاطر تم جس لہو (کھیل تماشے) اور تجارت کو چھوڑو گے اللہ کے پاس اس سے کہیں بہتر بدلا دنیا اور آخرت دونوں میں موجود ہے۔ ➏ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے نادانی میں یہ عمل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ فرمائی، اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جس طرح اللہ کے ذکر اور نماز کو تجارت وغیرہ پر ترجیح دی اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور (۳۶، ۳۷) میں فرمایا ہے۔