بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجن — Surah Jinn
آیت نمبر 12
کل آیات: 28
قرآن کریم الجن آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ الجن islamicurdubooks.com ↗
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ نُّعۡجِزَ اللّٰہَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَنۡ نُّعۡجِزَہٗ ہَرَبًا ﴿ۙ۱۲﴾
اور یہ کہ "ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں"
اور ہم نے سمجھ لیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں
اور یہ کہ ہم کو یقین ہوا کہ ہر گز زمین اللہ کے قابو سے نہ نکل سکیں گے اور نہ بھاگ کر اس کے قبضہ سے باہر ہوں،
اور یہ کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور نہ ہی بھاگ کر اسے بےبس کر سکتے ہیں۔
اور یہ کہ ہم نے یقین کر لیا کہ بے شک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کر سکیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں ٭٭

جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔‏‏‏‏“ اعمش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا، میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کون سا کھانا پسند ہے؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کر دیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں؟ کہا بدترین۔ حافظ ابوالحجاج مذنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔ ابن عساکر میں ہے عباس بن احمد دمشقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں جو ان کا رب ہے انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لیے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہو چکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کر سکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہی اس پر ایمان لا چکے ہیں، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہو سکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 13،12) {وَ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ …:} مشرک قومیں جنوں کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھتی ہیں اور انھیں غیب دان جانتی ہیں مگر جن خود اقرار کر رہے ہیں کہ ہم نے سمجھ لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں پکڑنا چاہے تو نہ ہم زمین میں کہیں چھپ کر اسے عاجز کرسکتے ہیں کہ وہ ہمیں پکڑ نہ سکے اور نہ کہیں بھاگ کر، غرض پھر کسی صورت ہم اس سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے بالکل بے بس ہونے کے اسی عقیدے کا نتیجہ ہے کہ جونہی ہم نے ہدایت کی بات سنی تو فوراً ایمان لے آئے۔ {” بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًا “} نقصان یہ کہ جو نیکیاں کی ہیں ان میں کمی کر دی جائے اور زیادتی یہ کہ جو گناہ نہیں کیے وہ تھوپ دیے جائیں۔ ان آیات میں بھی مومن جن اپنے بھائیوں کو نصیحت کر رہے ہیں کہ جس ذات عالی سے نہ بھاگ سکتے ہو اور نہ چھپ سکتے ہو اس پر ایمان لے آؤ، اسی میں تمھاری خیریت ہے، پھر وہ ایسا مہربان ہے کہ جو اس پر ایمان لے آئے اسے نہ نقصان کا خوف ہے نہ زیادتی کا۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →