بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجن — Surah Jinn
آیت نمبر 11
کل آیات: 28
قرآن کریم الجن آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ الجن islamicurdubooks.com ↗
وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنَّا دُوۡنَ ذٰلِکَ ؕ کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا ﴿ۙ۱۱﴾
اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں"
اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں
اور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے ہیں، ہم کئی راہیں پھٹے ہوئے ہیں
اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح اور ہم مختلف الرّائے لوگ تھے۔
اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور ہم میں کچھ اس کے علاوہ ہیں، ہم مختلف گروہ چلے آئے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں ٭٭

جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔‏‏‏‏“ اعمش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا، میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کون سا کھانا پسند ہے؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کر دیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں؟ کہا بدترین۔ حافظ ابوالحجاج مذنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔ ابن عساکر میں ہے عباس بن احمد دمشقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں جو ان کا رب ہے انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لیے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہو چکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کر سکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہی اس پر ایمان لا چکے ہیں، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہو سکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے۔

📖 احسن البیان

11۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہم مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں مطلب یہ کہ جنات میں بھی مسلمان، کافر، یہودی، عیسائی، مجوسی وغیرہ ہیں، بعض کہتے ہیں ان میں بھی مسلمانوں کی طرح قدریہ، مرحبئہ اور رافضہ وغیرہ ہیں (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 11){ وَ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ …:” طَرَآىِٕقَ “ ” طَرِيْقَةٌ “} کی جمع اور {” قِدَدًا “ ” قِدَّةٌ “} بروزن {”قِطْعَةٌ“} کی جمع ہے، ٹکڑے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنوں میں صالح اور غیر صالح ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ان میں اچھے عقائد، اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کے لوگ بھی ہیں اور اس کے برعکس بھی، ان میں موحد بھی ہیں اور مشرک بھی، متبع سنت بھی ہیں اور بدعتی بھی، خوش اخلاق بھی ہیں اور بد اخلاق بھی، وہ بھی ہیں جو آسمان سے کوئی خبر سن کر اس میں سو جھوٹ ملاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔ مومن جنوں کا اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب کے سب راہِ راست پر نہیں بلکہ ہم میں بھی غیر صالح لوگ موجود ہیں، جنھیں حق بات سمجھانا اور ان کا اسے قبول کرنا ضروری ہے۔
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت (12) →