بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 12
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
اَللّٰہُ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَکُمُ الۡبَحۡرَ لِتَجۡرِیَ الۡفُلۡکُ فِیۡہِ بِاَمۡرِہٖ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا کو تابع بنادیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجاﻻؤ
اللہ ہے جس نے تمہارے بس میں دریا کردیا کہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو اور اس لیے کہ حق مانو
اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کومسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو۔ اور تاکہ تم شکر کرو۔
اللہ وہ ہے جس نے تمھاری خاطر سمندر کو مسخر کر دیا، تاکہ جہاز اس میںاس کے حکم سے چلیں اور تا کہ تم اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی کے ابن آدم پر احسانات ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ، نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو، پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج، چاند، ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ، نہریں اور تمہارے فائدے کی بےشمار چیزیں تمہارے لیے مسخر کر دی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے۔ جیسے ارشاد ہے «وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:53] ‏‏‏‏، یعنی ’ تمہارے پاس جو نعمتیں ہیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اور ابھی بھی سختی کے وقت تم اسی کی طرف گڑگڑاتے ہو ‘۔ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ نام اس میں نام ہے اس کے ناموں میں سے، پس یہ سب اس کی جانب سے ہے کوئی نہیں جو اس سے چھینا چھپٹی یا جھگڑا کر سکے ہر ایک اس یقین پر ہے کہ وہ اسی طرح ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:255/11:] ‏‏‏‏ { ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ”مخلوق کس چیز سے بنائی گئی ہے؟“ آپ نے فرمایا ”نور سے اور آگ سے اور اندھیرے سے اور مٹی سے اور کہا جاؤ! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اگر دیکھو تو ان سے بھی دریافت کر لو۔‏‏‏‏“ اس نے آپ سے بھی پوچھا: یہی جواب پایا، پھر فرمایا: ”واپس ان کے پاس جاؤ اور پوچھا کہ یہ سب کس چیز سے پیدا کئے گئے؟“، وہ لوٹا اور سوال کیا تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی }۔ یہ اثر غریب ہے۔ اور ساتھ ہی منکر بھی ہے۔ غور و فکر کی عادت رکھنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت نشانیاں ہیں پھر فرماتا ہے کہ صبر و تحمل کی عادت ڈالو منکرین قیامت کی کڑوی کسیلی سن لیا کرو، مشرک اور اہل کتاب کی ایذاؤں کو برداشت کر لیا کرو۔ یہ حکم شروع اسلام میں تھا لیکن بعد میں جہاد اور جلا وطنی کے احکام نازل ہوئے۔ اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے، یعنی اللہ کی نعمتوں کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ پھر فرمایا کہ ان سے تم چشم پوشی کرو، ان کے اعمال کی سزا خود ہم انہیں دیں گے، اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر نیکی بدی کی جزا سزا پاؤ گے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

2۔ 1 یہ فواتح سورة ان متشابہات میں سے ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہے اس لیے ان کے معانی و مطالب میں پڑنے کی ضرورت نہیں تاہم ان کے دو فائدے بعض مفسرین نے بیان کیے ہیں جنہیں ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 12) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ …:} اس سے پہلی آیات میں کائنات کی تخلیق اور اس میں موجود بہت سی چیزوں کا ذکر اس لحاظ سے ہوا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور قیامت پر دلالت کرتی ہیں۔ یہاں سے سمندر کی تسخیر اور دوسری چیزوں کا اس لحاظ سے ذکر شروع ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، جن کا شکر اس پر واجب ہے، مگر انھوں نے اسے چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو اپنا داتا و دستگیر، مشکل کشا اور حاجت روا بنا رکھا ہے جن کا ان نعمتوں میں کوئی دخل نہیں اور اس طرح وہ یہ تمام نعمتیں عطا کرنے والے کے شکر کے بجائے اس کی نعمتوں کا صاف انکار اور ناشکری کر رہے ہیں۔ ➋ لفظ {” اَللّٰهُ “} مبتدا اور{” الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ …“} اس کی خبر ہے، جو معرفہ ہے، اس سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمھاری خاطر سمندر کو مسخر کر رکھا ہے۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۱۴) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →