بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الجاثيه — Surah Jathiyah
آیت نمبر 11
کل آیات: 37
قرآن کریم الجاثيه آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ الجاثيه islamicurdubooks.com ↗
ہٰذَا ہُدًی ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿٪۱۱﴾
یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا
یہ (سر تاپا) ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے بہت سخت دردناک عذاب ہے
یہ راہ دکھانا ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے دردناک عذاب میں سے سخت تر عذاب ہے،
یہ ہدایت ہے (اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے پرودرگار کی آیتوں کا انکار کیا ان کیلئے) سخت قِسم کا دردناک عذاب ہے۔
یہ سراسر ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے عذاب میں سے دردناک عذاب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں، نہ عمل کرتے ہیں، تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے؟ ان کے لیے «ویل» ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے، کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں، اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر، انکار اور بدباطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں، انہیں سنا دو کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے، قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ { قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بے قدری کریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2990] ‏‏‏‏ پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے۔ پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لیے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

11، 1 یعنی قرآن! کیونکہ اس کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لایا جائے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 11) ➊ {هٰذَا هُدًى:} یعنی یہ قرآن سراسر ہدایت ہے۔ {” هُدًى “} مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، جیسے {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} کا مطلب یہ ہے کہ زید اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے۔{ ” هٰذَا هُدًى “} کے معنی کی ایک تعبیر یہ ہے کہ ”یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے۔“ زمخشری نے فرمایا: {” هٰذَا هُدًى “} کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے، جیسے تم کہتے ہو {”زَيْدٌ رَجُلٌ“} یعنی ”زید رجولیت میں کامل ہے۔“ ➋ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ …: ” رِجْزٍ “} کا لفظ عذاب کی سخت ترین صورتوں پر بولا جاتا ہے۔
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت (12) →