بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 96
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 96
آیت نمبر: 96 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۹۶﴾
اے محمدؐ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے
کہہ دیجئیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کا گواه ہونا کافی ہے۔ وه اپنے بندوں سے خوب آگاه اور بخوبی دیکھنے واﻻ ہے
تم فرماؤ اللہ بس ہے گواہ میرے تمہارے درمیان (۲۰۰) بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا دیکھتا ہے،
(اے رسول(ص)!) کہہ دیئے! کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کیلئے اللہ ہی کافی ہے۔ بے شک وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ (اور) خوب دیکھتا ہے۔
کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کے طور پر اللہ کافی ہے، بے شک وہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭

اپنی سچائی پر میں اور گواہ کیوں ڈھونڈوں؟ اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ میں اگر اس کی پاک ذات پر تہمت باندھتا ہوں تو وہ خود مجھ سے انتقام لے گا۔ چنانچہ قرآن کی سورۃ الحاقہ میں بیان ہے کہ «‏‏‏‏وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ * لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ * ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ» [69-الحاقة:44-46] ‏‏‏‏ ’ یعنی اگر یہ پیغمبر زبردستی کوئی بات ہمارے سر چپکا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ تھام کر اس کی گردن اڑا دیتے اور ہمیں اس سے کوئی نہ روک سکتا۔ ‘ پھر فرمایا کہ کسی بندے کا حال اللہ سے مخفی نہیں، وہ انعام و احسان، ہدایت و لطف کے قابل لوگوں کو اور گمراہی اور بدبختی کے قابل لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔

📖 احسن البیان

96۔ 1 یعنی میرے ذمے جو تبلیغ و دعوت تھی، وہ میں نے پہنچا دی، اس بارے میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے، کیونکہ ہر چیز کا فیصلہ اسی کو کرنا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 96){قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ …: ” كَفٰى بِاللّٰهِ “} کی ترکیب اور تفسیر کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (۱۵) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو سارا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہوئے ان سے بحث اور جھگڑا ترک کرنے کا حکم دیا، یعنی آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے دعوائے نبوت میں جھوٹا ہوتا تو وہ میری سخت گرفت کرتا۔ (دیکھیے حاقہ: ۴۴ تا ۴۶) اور پھر اسے ہمیشہ سے خوب معلوم ہے کہ کون شخص انعام و احسان اور ہدایت پانے کے لائق ہے اور کون عقاب و عذاب اور گمراہی کے۔ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے اور کفار کے لیے وعید۔
← پچھلی آیت (95) پوری سورۃ اگلی آیت (97) →