بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 89
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 89
آیت نمبر: 89 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۸۹﴾
ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر انکار ہی پر جمے رہے
ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے ہر طرح سے تمام مثالیں بیان کردی ہیں، مگر اکثر لوگ انکار سے باز نہیں آتے
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہم قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی تو اکثر آدمیوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا
اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں (بار بار) ادل بدل کر بیان کی ہیں لوگوں کے لئے (تاکہ وہ سمجھیں) مگر اکثر لوگ انکار کئے بغیر نہ رہے۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال پھیر پھیر کر بیان کی مگر اکثر لوگوں نے کفر کے سوا (ہر چیز سے) انکار کردیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے زبردست احسان اور عظیم الشان نعمت کو بیان فرما رہا ہے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر انعام کی ہے یعنی آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی جس میں کہیں سے بھی کسی وقت باطل کی آمیزش ناممکن ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آخر زمانے میں ایک سرخ ہوا چلے گی شام کی طرف سے یہ اٹھے گی اس وقت قرآن کے ورقوں میں سے اور حافظوں کے دلوں میں سے قرآن سلب ہو جائے گا، ایک حرف بھی باقی نہیں رہے گا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ پھر اپنا فضل و کرم اور احسان بیان کرکے فرماتا ہے کہ اس قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوق اس کے مقابلے سے عاجز ہے۔ کسی کے بس میں اس جیسا کلام نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ بے مثل بے نظیر بے شریک ہے اسی طرح اس کا کلام مثال سے نظیر سے اپنے جیسے سے پاک ہے۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے وارد کیا ہے کہ یہودی آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم بھی اسی جیسا کلام بنا لاتے ہیں پس یہ آیت اتری لیکن ہمیں اس کے ماننے میں تامل ہے، اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور اس کا کل بیان قریشیوں سے ہے وہی مخاطب ہیں اور یہود کے ساتھ مکے میں آپ کا اجتماع نہیں ہوا مدینے میں ان سے میل ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ہم نے اس پاک کتاب میں ہر قسم کی دلیلیں بیان فرما کر حق کو واضح کر دیا ہے اور ہر بات کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا ہے، باوجود اس کے بھی اکثر لوگ حق کی مخالفت کر رہے ہیں اور حق کو دھکے دے رہے ہیں اور اللہ کی ناشکری میں لگے ہوئے ہیں۔

📖 احسن البیان

89۔ 1 یہ آیت اسی سورت کے شروع میں بھی گزر چکی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 89) ➊ {وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ …:} اس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے ہر طرح سے چیلنج کیا ہے اور یہ بھی کہ ہم نے توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے ہر قسم کے دلائل پیش کیے ہیں، یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتا چلا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (۴۱) اور کہف (۵۴)۔ ➋ {فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا:} یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔
← پچھلی آیت (88) پوری سورۃ اگلی آیت (90) →