بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 84
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 84
آیت نمبر: 84 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ فَرَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ہُوَ اَہۡدٰی سَبِیۡلًا ﴿٪۸۴﴾
اے نبیؐ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ "ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے"
کہہ دیجئیے! کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر عامل ہے جو پوری ہدایت کے راستے پر ہیں انہیں تمہارا رب ہی بخوبی جاننے واﻻ ہے
تم فرماؤ سب اپنے کینڈے (انداز) پر کام کرتے ہیں تو تمہارا رب خوب جانتا ہے کون زیادہ راہ پر ہے،
کہہ دیجیے! ہر شخص اپنے طریقہ پر عمل پیرا ہے۔ اب یہ تو تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ ٹھیک راہ پر کون ہے؟
کہہ دے ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے، سو تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسانی فطرت میں خیر و شر موجود ہے ٭٭

خیر و شر برائی بھلائی جو انسان کی فطرت میں ہیں، قرآن کریم ان کو بیان فرما رہا ہے۔ مال، عافیت، فتح، رزق، نصرت، تائید، کشادگی، آرام پاتے ہی نظریں پھیر لیتا ہے۔ اللہ سے دور ہو جاتا ہے گویا اسے کبھی برائی پہنچنے کی ہی نہیں۔ اللہ سے کروٹ بدل لیتا ہے گویا کبھی کی جان پہچان ہی نہیں اور جہاں مصیبت، تکلیف، دکھ، درد، آفت، حادثہ پہنچا اور یہ ناامید ہوا، سمجھ لیتا ہے کہ اب بھلائی، عافیت، راحت، آرام ملنے ہی کا نہیں۔

قرآن کریم اور جگہ ارشاد فرماتا ہے آیت «‏‏‏‏وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ * وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ * إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» [11-هود:9-11] ‏‏‏‏ ’ انسان کو راحتیں دے کر جہاں ہم نے واپس لے لیں کہ یہ محض مایوس اور ناشکرا بن گیا اور جہاں مصیبتوں کے بعد ہم نے عافیتیں دیں یہ پھول گیا، گھمنڈ میں آ گیا اور ہانک لگانے لگا کہ بس اب برائیاں مجھ سے دور ہو گئیں۔‘ فرماتا ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی طرز پر، اپنی طبیعت پر، اپنی نیت پر، اپنے دین اور طریقے پر عامل ہے تو لگے رہیں۔ اس کا علم کہ فی الواقع راہ راست پر کون ہے، صرف اللہ ہی کو ہے۔ اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے مسلک پر گو کار بند ہوں اور اچھا سمجھ رہے ہوں لیکن اللہ کے پاس جا کر کھلے گا کہ جس راہ پر وہ تھے وہ کیسی خطرناک تھی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ * وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» ۱؎ [11-هود:121-122] ‏‏‏‏ ’ بے ایمانوں سے کہہ دو کہ اچھا ہے اپنی جگہ اپنے کام کرتے جاؤ ‘ الخ، بدلے کا وقت یہ نہیں، قیامت کا دن ہے، نیکی بدی کی تمیز اس دن ہو گی، سب کو بدلے ملیں گے، اللہ پر کوئی امر پوشیدہ نہیں۔

📖 احسن البیان

84۔ 1 اس میں مشرکین کے لئے تہدید و وعید ہے اور اس کا وہی مفہوم ہے جو سورة ہود کی آیت 121۔ 122 کا ہے۔ وقل للذین لا یومنون اعملوا علی مکانتکم انا عملون۔ شاکلۃ کے معنی نیت دین طریقے اور مزاج و طبیعت کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس میں کافر کے لیے ذم اور مومن کے لیے مدح کا پہلو ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان ایسا عمل کرتا ہے جو اس کے اخلاق و کردار پر مبنی ہوتا ہے جو اس کی عادت و طبیعت ہوتی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 84) ➊ {قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ:شَاكِلَةٌ “} وہ طریقہ جو کسی کا ہم شکل اور حسبِ حال ہو، یعنی ہر شخص اپنے اس طریقہ پر عمل کرتا ہے جو ہدایت یا گمراہی میں سے اس کے مطابق اور حسب حال ہوتا ہے، کوئی نیک ہے، کوئی بد اور کوئی بین بین، سب ایک طریقے پر نہیں، نہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہے، کیونکہ پھر امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۸، ۱۱۹)۔ ➋ { فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا:} یعنی ہر شخص اسی طریقے پر خوش ہے جس پر چل رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المؤمنون: ۵۳ ] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔“ اور ہر شخص اپنے آپ کو سب سے زیادہ صحیح راستے پر سمجھتا ہے، مگر سب سے زیادہ صحیح راستے پر چلنے والوں کا علم صرف تیرے رب کو ہے جو قیامت کے درمیان اپنے بندوں کے تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۴۶)۔
← پچھلی آیت (83) پوری سورۃ اگلی آیت (85) →