بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 73
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 73
آیت نمبر: 73 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَفۡتِنُوۡنَکَ عَنِ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ لِتَفۡتَرِیَ عَلَیۡنَا غَیۡرَہٗ ٭ۖ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوۡکَ خَلِیۡلًا ﴿۷۳﴾
اے محمدؐ، ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنا لیتے
یہ لوگ آپ کو اس وحی سے جو ہم نے آپ پر اتاری ہے بہکانا چاہتے کہ آپ اس کے سوا کچھ اور ہی ہمارے نام سے گھڑ گھڑالیں، تب تو آپ کو یہ لوگ اپنا ولی دوست بنا لیتے
اور وہ تو قریب تھا کہ تمہیں کچھ لغزش دیتے ہماری وحی سے جو ہم نے تم کو بھیجی کہ تم ہماری طرف کچھ اور نسبت کردو، اور ایسا ہوتا تو وہ تم کو اپنا گہرا دو ست بنالیتے
(اے رسول(ص)) یہ (کافر) اس بات میں کوشاں تھے (اور اس کا ارادہ کر لیا تھا کہ) آپ کو اس (کتاب) سے پھیر دیں جو ہم نے آپ کی طرف بذریعۂ وحی بھیجی ہے تاکہ آپ اس کے خلاف کوئی بات گڑھ گھڑ کر ہماری طرف منسوب کریں اور اس صورت میں وہ ضرور آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے۔
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے اس سے ضرور ہی بہکا دیں جو ہم نے تیری طرف وحی کی، تاکہ تو ہم پر اس کے سوا جھوٹ باندھ دے اور اس وقت وہ ضرور تجھے دلی دوست بنا لیتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مکار و فجار کی چالاکیوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول کو بچاتا رہا، آپ کو معصوم اور ثابت قدم ہی رکھا، خود ہی آپ کا ولی و ناصر رہا، اپنی ہی حفاظت اور صیانت میں ہمیشہ آپ کو رکھا، آپ کی تائید اور نصرت برابر کرتا رہا، آپ کے دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دیا، آپ کے مخالفین کے بلند بانگ ارادوں کو پست کر دیا، مشرق سے مغرب تک آپ کا کلمہ پھیلا دیا، اسی کا بیان ان دونوں آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر قیامت تک بےشمار درود و سلام بھیجتا رہے۔ آمین۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 73) ➊ {وَ اِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ۠ عَنِ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ …:” وَ اِنْ كَادُوْا “} اصل میں {”وَاِنَّهُمْ كَادُوْا“} تھا، دلیل وہ لام ہے جو بعد میں آ رہا ہے۔ {”فَتَنَ يَفْتِنُ“} (ض) سونے کو کھرا کھوٹا معلوم کرنے کے لیے آگ میں ڈالنا، آزمائش۔ {”فَتَنَهُ عَنْ رَأْيِهِ “} کسی کو کسی کی رائے سے ہٹانا۔ کفار مکہ خود تو راہ پر کیا آتے ان کی برابر یہ کوشش رہی کہ کسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم خالص توحید پیش کرنے سے باز آ جائیں، یا ان احکام کا ایک حصہ چھوڑ دیں یا بدل دیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دیے جا رہے ہیں، یا قرآن سے وہ حصہ حذف کر دیں جس میں شرک اور بت پرستی کی مذمت ہے تو ہم ایمان لانے کے لیے تیار ہیں۔ آپ کو مقصد سے پھیرنے کے لیے کبھی فریب کاریوں سے، کبھی لالچ سے اور کبھی دھمکیوں سے انھوں نے بے شمار جتن کیے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ انھیں صاف کہہ دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ بات نہیں لگا سکتا جو اس نے میری طرف وحی نہ کی ہو۔ ان کے تقاضے اور آپ کے جواب کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۵ تا ۱۷)۔ ➋ { وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا:} کیونکہ توحید کی دعوت سے پہلے وہ آپ سے دلی محبت رکھتے تھے، آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ اب آپ ان کی طرف مائل ہونے کے تھوڑے سے بھی قریب ہو جائیں تو وہ آپ سے پھر وہی دلی دوستی رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ خلیل وہ دوست جس کی دوستی دل کے اندر ہو، جیسا کہ فرمایا: «وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۲۵ ] ”اور اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست بنا لیا۔“
← پچھلی آیت (72) پوری سورۃ اگلی آیت (74) →